آساں نہیں مٹانانام و نشاں ہمارا

ایک بزرگ عالم دین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے  ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ ’رخائن ‘ میانمار کا تجربہ دہرانے کا فیصلہ ہی نہیں اس کی تیاریاں بھی کر لی ہیں ۔ پولیس اور انتظامیہ کی اکثریت پہلے ہی  یرقانی حاکموں کے چشم و ابرو کے اشاروں پر قانون ،دستور اور انصاف کی کھلی یا چھپی خلاف ورزی میں مصروف ہیں ۔

ایک دوسرے عالم دین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت بے نمازی اور بے عمل ہے ۔مساجد میں پنج وقتہ ،جمعہ اور عیدین کے نمازیوں کی تعداد، دو، پانچ اور دس فیصد سے زائد نہیں .۔اور علم سے دوری تو عام بات ہے ۔قیادت بھی ویسی ہی ہے جیسے خود مسلمان ہیں ۔مفاد پرست اور بے فیض۔سو اُن کے ساتھ جو اندھیر نہ ہو سو کم ہے !

یہ تو ہندستان کا حال ہے اور عالم اسلام کہلانے والے ملکوں کا حال یہ ہے کہ وہ افغانستان و پاکستان سے عراق و سیریا اور یمن و الجیریا وغیرہ تک خود اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹنےاور  یہودیوں سے خریدے گئے اسلحوں ڈبلیو ایم ڈیز کے تجربے کرنے میں مصروف ہیں۔

!سعودی عرب اور ایران ،قطر اور لبنان سب کے سب خواہی نخواہی تیسری جنگ عظیم کو دستک دینے میں مصروف ہیں ۔

اور صہیونی عباقرہ (تھنک ٹینک ) میں سے ایک ہنری کسنجر  نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’’اگر آپ جنگ کے نقارے نہیں سن رہے ہیں تو آپ بہرے ہیں۔

www.dailysquib.co.uk

پر شایع خبر کے مطابق سابق وزیر خارجہ امریکہ نے”ڈیلی اسکیپ ” کو انٹر ویو دیتے ہوئے   اپنے تازہ ترین اور خطرناک ترین بیا ن میں کہا ہے کہ

 تیسری جنگ عظیم  بس شروع ہوا ہی چاہتی ہے ۔  جس کا آغاز ایران سے  ہوگا اور اسرائل زیادہ سے زیادہ ایرانیوں اور عربوں (یعنی مسلمانوں ) کو قتل کر کے آدھے سے زیادہ مشرق وسطیٰ (یعنی کم و بیش پوری عرب مسلم دنیا )پر  قابض ہو جائے گا ۔اسرائل نے امریکی فوج  سے‘‘ (جو دنیا میں سب سے زیادہ عرب اور مسلم ملکوں میں موجود ہے ) کہہ دیا ہے کہ’’ہمیں تیل  اور گیس پیدا کرنے  والے  کم از کم سات مسلم ملکوں پر کسی بھی حالت میں  قبضہ کرنا ہے اور اس کے لیے ایران پر حملہ ناگزیر ہے ! اور اگر چین اور روس نے اپنی حماقت سے اس میں کوئی اڑچن پیدا کرنے کی کوشش کی تو پھر ’’بگ بینگ ‘‘ جیسا ایک  دھماکہ ہوگا‘‘ ( یعنی ایٹم اور ہائڈروجن بموں کا استعمال ہوگا ) ’’اور جنگ میں فتح  با لآخر ،صرف اور صرف اسرائل اور امریکہ کے ہاتھ لگے گی! امریکی اور یورپی (یہودی اور عیسائی ) فوجی جوان پچھلے دس برسوں میں جنگ کا بھر پور تجربہ حاصل کر چکے ہیں اور وہ جنگ شروع ہوتے ہی مسلمانوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دینے کے لیے بالکل تیار بیٹھے ہیں۔ !‘‘(عراق سیریا اور یمن میں اسرائیل  نے دیکھ ہی  لیا ہے کہ مسلمان کتنے پانی میں ہیں )’’امریکہ اور اسرائل نے روس اور ایران دونوں کے تابوت تیار کر لیے  ہیں ،جس میں آخری کیل ایران کی تبا ہی ہو گی!‘‘

’’اور تب اسرائل اور امریکی صہیونی اور فری میسن ایک  نئی دنیا اور نئے عالمی نظام کی بنا رکھیں گے جس میں صرف ایک ہی حکومت ہوگی ، اور وہی دنیا کی واحد سُپر پاور بھی ہوگی ۔اور وہی میرے (کسنجر کے ) خوابوں کی تعبیر  ہوگی ۔

ہمارے ایک عزیز دوست نے ،جنہوں نے ہمیں ابھی کچھ دیر پہلے سوشل میڈیا پر کسنجر کے انٹرویو کا لنک بھیجا ہے ،ہم سے اس پر ہماری رائے مانگی ہے ۔ ہم نے انہیں جو جواب دیا ہے وہی ہم اپنے قارئین کے لیے یہاں بھی نقل کیے دے رہے ہیں کہ : مکرو ا ومکر اللہ واللہ خیر ا لماکرین ! وہ اپنی سازشوں میں تھے اور اللہ کااپنا منصوبہ ہے ،اور اللہ سے بڑھ کر (اور اللہ سے بہتر ) منصوبہ ساز اور کون ہو سکتا ہے

ان شا اللہ المستعان ۔ آخری ہنسی ’انصاف ‘ کی ہوگی ،ظلم کی نہیں ۔اور صحیح احادیث میں یہ الفاظ مشترک ہیں کہ ۔۔آخر زمانہ میں جب میرا ہم نام آئے گا تو دنیا کو عدل و قسط سے اُسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ اس وقت ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی ‘!رہا ایران ،اور عرب ممالک کی تباہی تو آخر زمانہ کی روایتوں میں اس کی نشاندہی بھی ملتی ہے لیکن یہی صہیونیت کے تابوت میں آخری کیل ہوگی ! واللہ اعلم  با لصواب

حصہ
mm
لکھنو کے رہنے والے عالم نقوی ہندوستان کے ایک کہنہ مشق صحافی،اور قلم کار ہیں وہ ہندوستان کے مختلف اخبارات و جرائد ور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں