امی جان ….ایک عظیم ماں

ماں وہ ہستی ہے جس کے قدموں تلے اللہ رب العزت نے جنت رکھ دی ہے ، ماں ہی وہ ذات ہے جس کے بارے میں رسول مکرم ﷺ نے مسلسل تین بار نیکی کرنے کاحکم ارشادفرمایا۔ماں وہ بہتی ندی ہے جس کے میٹھے پانی سے نہ صرف اس کی اپنی اولادسیراب ہوتی ہے بلکہ ہرانسان اس ندی کوآب حیات سمجھتاہے ۔ماں کی قدروقیمت صحیح معنوں میں وہی انسان جان سکتاہے جواس گھنے سائے سے محروم زمانے کی بے رحم تپش کاسامناکررہاہو۔ضیاء شاہدصاحب بھی ایسے لوگوں میں شامل ہیں جن کے سرسے ماں کاسایہ اٹھ چکاہے مگران کااپنی ماں سے محبت کامنہ بولتاثبوت ’’امی جان‘‘ کتاب کی صورت میں واردہواہے ۔امی جان ایک کتاب نہیں بلکہ محبت کاوہ مظہرہے جس نے کئی انسانوں کوماں کی محبت میں رُلادیا، وہ عقیدت ہے جوماؤں سے کی جانی چاہئے ، وہ باب ہے جوایسے گلشن کی طرف کھلتاہے جہاں مہکتے پھولوں کی سونی سونی سی خوشبوانسان کے نتھنوں سے ہوتی ہی دل میں اترجاتی ہے ،جہاں شاخ پہ بیٹھی محبت واپنائیت کی قمریاں چہچہاکرآغازِسحرکرتی ہیں، جہاں بادنسیم کے لطیف جھونکے بدن کوفرحت بخشتے ہیں۔اس میں ایک ایسی ماں کی داستان رقم کی گئی ہے جوماں اولادکے لئے غم وآلام کی تاریک رتوں میں حوادث سے ٹکرا گئی، جب اولادپربرق وباران کی گھٹائیں چھائیں، منہ زورآندھیوں کے جھکڑچلے ، سردی کی بے رحم لہریں ہڈیوں کے گودے تک سرایت کرگئیں توماں کی آغوش ان کے لئے ڈھال بنی، جہاں محبت کی گرمائش نے اولادکے کپکپاتے ہوئے جسم کوراحت وسکون دیا۔ایسی بہارہے جس سے خزاں رسیدہ چمن کے زردپتوں میں گلِ سرسبدکی نموکاآغازہوتاہے ۔
اس کے مطالعہ سے ہمت وجرأت کے روزن واہوکرامیدوں کی کرنیں پھوٹتی ہیں ، دلِ ویران میں ان گنت پھول کھلتے ہیں، یاس کی بدلیاں چھٹتی ہیں ،مچلتے جذبوں پراوس ڈالنے اوراداس کردینے والے واقعات کی منظرکشی ہوتی ہے ، ہاں! جہاں عقل بھی محوتماشائے لب بام کھڑی نظرآتی ہے ۔ میں اس کتاب سے قبل قدرت اللہ شہاب کی ماں جی سے بھی واقف ہوامگروہ ماں جی کے ہی گردگھومتے نظرآئے جبکہ یہ کتاب کئی چشم کشاحقائق سے پردہ اٹھاتی اور مسلمانوں کی غیرت وحمیت جگاتی نظرآئی، اس کتاب کے مطالعہ سے میں بھی اسی عہدمیں جی رہاتھاکہ جس عہدمیں ’’امی جان ‘‘راہ کی کٹھن منزلوں میں اپنوں اوربیگانوں کی مخالفتوں ، طعنوں اورپھبتیوں کے گھائل کردینے والے تیرسہتی ہوئی اپنی اولادکے لئے اپنی آرزؤں کاخون کررہی تھیں۔میں اس گاؤں میں زندگی بسرکررہاتھاکہ جس گاؤں میں بی بی جان کی دھاک اس قدربیٹھی ہوئی تھی کہ بڑے بڑے ان کاکہانہ ٹالتے ، جہاں اپنوں کے لئے توپیارتھاہی غیروں یہاں تک کہ دشمنوں کے لئے بھی محبتوں کے پھول نچھاور تھے۔
ماں کاوہ صبرواستقلال دیکھ رہاتھاجس نے دیہات میں رہنے والی ایک عورت کواس قدراولوالعزم بنادیاکہ وہ زمانے کے سامنے سینہ سپرہوگئیں، جس کاعزم اس قدرمصمم تھاکہ اس کی اولاداعلیٰ تعلیم کی حق دارٹھہری ۔ذہن میں تصوراوردل میں یہ شدیدخواہش انگڑائی لیتی کہ کاش میں بھی اس دورمیں پیداہواہوتاکہ جس دورمیں بی بی جی نے ہماری کئی مٹتی تہذیبوں کاخیرمقدم کیا، جن کے ہاتھوں کئی نسلیں پروان چڑھیں ، جن کے وسیلہ سے کئی نسلوں کے مستقبل سنورگئے، جن کے گھر کادرسالہاسال بننے والے مہمانوں کے لئے بھی کھلارہتا، جن کادل دوسروں کادردمحسوس کرتا، وہ بلاشبہ ایک عہداورتاریخ کاآئینہ تھیں۔ان کی سخاوت وفیاضی ، غریبوں سے ہمدردی ، دشمنوں سے درگزری، اپنوں کی غمگساری ،ان کی سادگی اورانکساری یہ سب اوصاف ان کوجیسے فرشتوں کی صف میں شامل کرتے ہوں ۔ وہ حوصلے، ہمت اورصبروتحمل کاپیکرمجسم تھیں ۔
اس کتاب میں اس دورکی ماؤں کے بے ساختہ جملے، پنچابی کی مٹھاس، ڈانٹ ڈپٹ کامحبت بھرااندازسب کچھ پھولوں کی پتیوں کی طرح جابجابکھراملے گا۔جوان بیٹوں کی موت ایک جوان کوبھی خمیدہ کمرکردیتی ہے مگروہ بی بی جان ہی تھیں جس نے بڑھاپے میں بھی بڑی ہمت وحوصلے سے بیٹوں کوسفرِ آخرت پرروانہ کیا، جورونے کی بجائے اوروں کوتسلیاں اوردلاسے دیتی رہیں ۔وہ ماں ایسی ماں تھیں جس کے رویے میں کوئی ابہام ، کوئی دوغلاپن نہ تھا، ان کے طبعی رجحانات ، مزاج ومذاق اورفکروسوچ میں بڑاتنوع تھا۔اس ماں کی آغوش میں اُس دورکی سسکتی انسانیت سکون پالیتی تھی، بھٹکتی ہوئی بے چین روحوں کویہاں آکرچین کاسرمایہ حیات مل جاتا، ان کاعزم جوان تھا، ان کاولولہ تازہ تھا،ان کاجذبہ لازوال تھابلاشک وشبہ وہ ایک عظیم ماں تھیں ۔ مجھے بھی اپنی وہ ماں یادآئی جوبفضل اللہ بقیدحیات ہے ، جن کی آہِ سحرگاہی ، دعائیں اورمحبتیں ہرلمحہ اورہرموڑپر میرے ساتھ ہونے کادل آفریں احسا س دلاتی ہیں ۔میری ماں جومجھے اکثریہ باورکرواتی ہیں کہ بیٹامیں ہرنمازکے بعدتیری کامیابی کے لئے دعائیں مانگتی ہوں ۔اس کتاب نے میری آنکھوں کوکئی بارآنسوؤں سے ترکیا، دل کورونے پرمجبورکیا، یہ سوچنے پراکسایاکہ اب وہ فکرکہاں سے لاؤں جوپاکیزہ ومعطرتھی ،آج کی فکرتومغربی سانچے میں رُل اورسوچ مغربی بھٹیوں میں ڈھل کرآلودہ ہوچکی ہے ۔
جوانسان چاہتاہے کہ ماں کی ممتااوراولادکے لئے جانثاری دیکھے ، گھنی چھاؤں میں بیٹھے ، گاؤں کے گلی کوچوں سے گزرے ، اپنوں سے محبت کی وارفتگیاں دیکھے تووہ صرف ایک بار،ہاں صرف ایک باراس کتاب کوپڑھ لے ۔میں دعوے سے کہتاہوں اس پریادوں کے بنددریچے کھلتے چلے جائیں گے اوروہ ان یادوں میں کھوکربمشکل اپنے آنسوضبط کرپائے گا۔ میں علامہ عبدالستارعاصم صاحب کاسپاس گزارہوں کہ جنہوں نے اس سمندرکوکوزے میں بندکرکے اپنے ادارے قلم فاؤنڈیشن کے ذریعے ہمارے دل ودماغ کوسیراب کیا۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں