بیرم خان۔۔سلطنتِ مغلیہ کا اصل معمار

تاریخ بڑی سفاک ہوتی ہے ۔ اس کی سفاکیت کا زور جب چلتا ہے تو بڑے بڑے جرنیل، راجے، مہا راجے، کمانڈر وقت کے دبیز پردے میں گم ہوجاتے ہیں اور یہی تاریخ جب کسی پر مہربان ہوتی ہے تو انار کلی جیسے کردار کہ جن کے وجود پر بھی اکثر تاریخ دانوں کو شک ہے وہ بھی امر ہوجاتے ہیں۔ ہم نے تاریخ کے ایسے ہی گم نام کرداروں سے گردہٹانے کی کوشش کی ہے کہ جنہوں نے اپنی فہم و فراست اور دلیری کے باعث اپنے اپنے دور میں ان مٹ نقوش چھوڑدئے ہیں۔سردار بیرم خان ہندوستان کی مغل سلطنت کا ایک ایسا ہی گم نام کردار ہے۔
ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد 1526 ؁ء میں پانی پت کے میدان میں ظہیر الدین بابر کے ہاتھوں ابراہیم لودھی کی شکست کے بعد پڑی تھی اور ظہیر الدین بابر ہی مغلیہ سلطنت کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے مگر مغلیہ سلطنت کی تاریخ میں ایک دور ایسا بھی آیا تھا جب اس کا وجود ہندوستان سے ختم ہوتا نظر آرہا تھا ۔ ایسے میں سردار بیرم خان وہ کردار ہے کہ جس کی دلیری، فہم و فراست اور سپہ سالارانہ صلاحیتوں نے مغلیہ سلطنت کو وہ مضبوط اور مستحکم بنیاد فراہم کی کہ آنے والے کئی صدیوں تک کیلئے مغلیہ سلطنت مامون اور محفوظ ہوگئی۔
ظہیر الدین بابر اس لحاظ سے بڑا بد قسمت تھا کہ ہندوستان کے تخت پر وہ صرف پانچ سال ہی حکومت کر سکا۔ اور1530 ؁ء میں ایک ڈرامائی انداز میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ نصیر الدین ہمایوں تخت نشین ہو اور مغل سلطنت میں برادرانہ کشمکش شروع ہوئی۔ نتیجتاً مغل تخت پر افغان سردار شیر شاہ سوری قابض ہوگیا۔ اور ہمایوں کو ہندوستان سے فرارہونا پڑا۔ شیر شاہ سوری کو بھی ہندوستان کا تخت چند سال کیلئے ہی نصیب ہوا اور چند سال ہی میں وہ وفات پاگیا۔ شیر شاہ سوری کے جانشین نا اہل ثابت ہوئے اور تخت کیلئے آپس میں لڑائیاں شروع کردیں۔جس سے ہندوستان دوبارہ فتح کرنے کا موقع ہمایوں کو مل گیا اور اس نے سوری خاندان سے ایک کے بعد ایک علاقے واپس لینے شروع کردئے ۔ سردار بیرم خان مغل فوج میں اسی دوران شامل ہوا۔ وہ ایک ایرانی طالع آزما تھا۔ میدان جنگ میں بیرم خان کی دلیری اور بہادری کو جلد ہی ہمایوں کی نگاہوں نے بھانپ لیا۔ بیرم خان ہمایوں کے مقربین میں شامل ہوگیا۔ اور پھر ایک دن ہمایوں نے بیرم خان کو شہزادہ اکبر کا اتالین مقرر کردیا۔ اب سردار بیرم خان ولی عہد شہزادہ اکبر کا نگران تھا۔ اس نے اکبر کو رموز سلطنت سمجھانے شروع کئے۔ ابھی بیرم خان کو اکبر کا اتالیق مقرر ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ہمایوں کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا۔ یہ وقت مغلیہ سلطنت کیلئے نہایت کڑا تھا۔ شیر شاہ سوری کے جانشین اگرچہ شکست خوردہ تھے مگر موجود تھے۔ بیرم خان نے ہمایوں کی وفات کی خبر ملتے ہی تیرہ سالہ مغل شہزادے کی تخت نشینی کا اعلان کردیا۔ یہ اقدام بلا شبہ بیرم خان کی مغلیہ خاندان سے وفاداری کا عین ثبوت تھا۔ مگر افسوس اس وفاداری کا صلہ اسے نہ مل سکا۔
بہر حال اکبر کے تخت نشین ہوتے ہی مغلیہ سلطنت کے دشمنوں نے کمر کس لی وہ سمجھ رہے تھے کہ مغلیہ سلطنت اب چراغ سحری ہے جسے باد مخالف کا ایک ہی جھونکا آسانی سے لے جا سکتا ہے۔ ہندوستان کے وہ شکست خوردہ حکمران جو کابل اور قندھار سے لے کر دہلی اور آگرہ تک ہمایوں سے مار کھا کر ہندوستان سے فرار کی راہیں تلاش کررہے تھے ان کی ہمتیں اچانک بڑھ گئیں۔ نو عمر اکبر کے بادشاہ بنتے ہی افغانستان اور ہندوستان میں ایک ساتھ بغاوتیں بر پا ہوگئیں۔سلیمان ، شاہ ابو المعالی، سکندر شاہ سوری، احمد شاہ عادل، غرض ہر طرف بغاوتیں اور شورشیں نظر آنے لگیں۔ ایسے میں عملی طور پر مغل سلطنت کی زمام اقتدار بیرم خان نے سنبھال لی۔ اب وہ وزیر اعظم، سپہ سالار، اتالیق سب کچھ تھا۔ نو عمر بادشاہ اکبر ہر معاملے میں بیرم خان کے مشورے کا محتاج تھا۔ وہ بیرم خان کو ’’خان بابا‘‘ کے نام سے یاد کرتا تھا۔ بیرم خان ایک لائق سپہ سالار اور مشیر تھا۔ اس نے اپنی دلیری اور تدبر کو کام میں لاتے ہوئے ایک ایک کرکے بغاوتوں پر قابو پانا شروع کیا۔ ان شورشوں اور بغاوتوں میں سب سے اہم اور خطرناک شورش ہیموں بقال کی تھی۔ ہیموں بقال سوری خاندان کے آخری حکمران احمد شاہ عادل کا وزیر اعظم اور سپہ سالار تھا۔ اس نے ایک ہزار ہاتھی اور پچاس ہزار گھڑ سوار کے لشکر جرار سے مغل سلطنت کے ایک اہم مرکز آگرہ پر حملہ کردیا ۔ آگرہ میں مغل پسپا ہوگئے اور مغل لشکر دہلی چلا گیا۔مغل لشکر کے تعاقب میں ہیموں بقال دہلی پہنچ گیا۔ مغل وہاں بھی پسپا ہوگئے۔ اب مغلوں کے تعاقب میں ہیموں بقال نے پنجاب کا رُخ کیا جہاں نو عمر اکبر مغل سلطنت کی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ ہیموں بقال کی آمد کی خبر سن کر اکبر گھبرا گیا۔ کئی امراء سلطنت نے اسے مشورہ دیا کہ اس وقت ہندوستان سے بھاگ کر کابل چلے جانا چاہیے اور پھر نئی تیاریاں کرکے ہندوستان واپس آئیں گے۔اگر اس وقت اکبر ہندوستان سے فرار ہوجاتا تو شاید ہندوستان میں مغل دوبارہ اقتدار حاصل نہ کر پاتے۔ اب ہمیں اس موقع پر بیرم خان کا دلیر اور جنگجو یانہ کردار نظر آتا ہے۔ اس نے فرار کی تجویز رد کردی اور کہا:
’’بادشاہ تو ابھی بچہ ہے، تاریخ اسے تو معاف کردے گی، مگر ہمارے منہ پر شکست کی سیاہی گر جائے گی۔ ہم مرجائیں گے یا فتح حاصل کرلیں گے۔‘‘
یہ سن کر اکبر نے اعلان کردیا کہ:
’’ہم لڑیں گے، مریں گے مگر ہندوستان سے واپس نہیں جائیں گے، خان بابا درست کہتے ہیں۔‘‘
پانی پت کے تاریخی میدان میں جہاں بابر نے ابراہیم لودھی کو شکست دے کرمغل سلطنت کی بنیاد رکھی تھی آج اسی میدان میں مغل سلطنت کی بقا کیلئے بیرم خان کی سربراہی میں مغل لشکرہیموں بقال سے بر سر بیکار تھا۔ بیرم خان نے کمال بہادری کے ساتھ میدان جنگ کے مروجہ اصولوں پر دلیرانہ انداز میں عمل کرتے ہوئے ہیموں بقال کو شکست سے دو چار کردیا۔ ہیموں بقال زخمی حالت میں مغل دربار میں پیش ہوا۔ بیرم خان نے اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ اس فتح کے اگلے دن اکبر فاتحا نہ انداز میں دہلی میں داخل ہوا۔ اکبر کی یہ فتح بلا شبہ بیرم خان کی قائدانہ صلاحیتیوں کی مرہون منت تھی اور اسی فتح سے بیرم خان ہندوستان میں مغل سلطنت کا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح آہستہ آہستہ بیرم خان نے بغاوتوں پر قابو پانا شروع کیا۔ پنجاب کے کئی علاقے، آگرہ، پشاور اور اودھ دوبارہ مغل راجہ میں شامل ہوگئے۔ اکبر نے آگرہ کو درالسلطنت قرار دیا اور بیرم خان کی مشاورت سے امرائے سلطنت کو ذمہ داریاں اور جاگیریں عطا کرنا شروع کیں۔ اب بیرم خان کو مغلیہ سلطنت میں اہم شخصیت سمجھا جانے لگا تھا۔ اکبر کیلئے بیشتر فیصلوں میں بیرم خان کی رضامندی شامل ہوتی تھی۔ بیرم خان کو مغل سلطنت میں غیر معمولی اختیارات حاصل ہوئے۔
اب جہاں بیرم خان کی طاقت میں اضافہ ہوا وہاں اس کے دشمنوں میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ یہ کوششیں شروع ہوگئیں کہ کسی طرح بیرم خان کو اکبر کی نظروں سے گرایا جاسکے۔ ان سازشی عناصر میں اہم نام ماھم انگہ کا آتا ہے۔ یہ عورت بچپن میں اکبر کی انّا کے فرائض انجام دیتی رہی تھی۔ اس لیے اکبر کو اس سے ایک خاص انسیت اور محبت تھی۔ ماھم انگہ کی خواہش تھی کہ اکبر کا نکاح مرزا کامران کے خاندان میں ہو۔ مرزا کامران، ہمایوں کا بھائی تھا اور بابر کے بعد تخت نشینی پر مرزا کامران اور ہمایوں کی کئی لڑائیاں ہوئی تھیں ۔ مرزا کامران پر قابو پانے کے بعد ہمایوں نے اسے اندھا کردیا تھا۔ بیرم خان دشمن خاندان میں نکاح کا شدید مخالف تھا۔ ماھم انگہ اکبر پر سے بیرم خان کے اثرات کم کرنا چاہتی تھی۔ ان دونوں میں کشمکش شروع ہوگئی اور نکاح کے معاملے میں ماھم انگہ کا پلڑا بھاری رہا اور بیرم خان کی مخالفت کے باوجود اکبر نے مرزا کامران کے خاندان میں نکاح کرلیا۔ اب ماھم انگہ نے کچھ امرائے سلطنت اپنے ساتھ ملا لئے اور آہستہ آہستہ انہوں نے مل کر اکبر کے کان بھرنے شروع کردئے ۔ انہوں نے اکبر کو یہ احساس دلانا شروع کردیا کہ بیرم خان کا اقتدار مغل دربار کیلئے خطرناک ہوتا جارہا ہے۔ اور یہ کہ بیرم خان کسی بھی وقت اکبر کو معزول کرکے مغل سلطنت پر قبضہ کرلے گا۔
اسی دوران بیرم خان کے حکم سے دو امرائے سلطنت مرزا تردی بیگ اور مصاحب بیگ کو قتل کردیا گیا۔بیرم خان کے اس اقدام سے اس کے مخالفین کو موقع مل گیا اور انہوں نے اکبر کو یہ باور کرایا کہ بیرم خان مغلیہ سلطنت کے وفادار امراء کو ختم کرکے اپنے اقتدار کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
اسی دوران ہاتھیوں والا واقعہ رونما ہوگیا۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ہاتھیوں کے تماشے میں کچھ ہاتھی بے قابو ہوگئے اور اس کیفیت میں انہوں نے بیرم خان کے خیموں کو نقصان پہنچا دیا۔ اس پر بیرم خان چراغ پا ہوگیا اور اس نے فیل بانوں کو قتل کروادیا۔ سازشی امراء نے بادشاہ سے کہا کہ شاہی فیل بانوں کو قتل کرکے بیرم خان نے دیدہ و دانستہ بادشاہ کی توہین کی ہے۔اسی طرح کے اور بھی کئی چھوٹے چھوٹے واقعات پیش آتے رہے اور بیرم خان کے مخالفین کہ جن میں ماھم انگہ سر فہرست تھی اکبر کو اس کے خلاف اکساتے رہے۔یہاں تک کہ اکبر بیرم خان سے متنفر ہوگیا اور اس سے گلو خلاصی پانے کے بارے میں سوچنے لگا اور پھر ایک دن جب بیرم خان دارالسلطنت سے دور تھا ،اکبر نے شاہی فرمان کے ذریعے اس معذول کرتے ہوئے امور سلطنت خود سنبھالنے کا اعلان کردیا ،ایک روایت کے مطابق اس وقت اکبر بادشاہ کی عمر اٹھارہ برس تھی ۔
بیرم خان کو اکبر کے اس شاہی فرمان کا علم ہوا تو وہ بڑا سٹپٹایااور اس نے اکبر کو ملاقات کا پیغام بھیجا۔ وہ چاہتا تھا کہ ملاقات کرکے اکبر کے دل کو اپنے لئے صاف کرنے کی کوشش کرے۔ اس موقع پر ماھم انگہ پھر سامنے آگئی اور اکبر کو بیرم خان سے ملنے سے روک دیا اور کہا کہ اس ملاقات میں اکبر کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ہر طرف سے مایوس ہوکر بیرم خان نے کچھ دوستوں سے مدد لینے کی خاطر پنجاب کا رخ کیا۔اکبر پہلے ہی محتاط تھا اس نے بیرم خان کو روکنے کیلئے ایک لشکر روانہ کردیا ۔گجرات کے مقام پر مغلیہ سلطنت کے اس عظیم معمار کا آخر کا ر مغل لشکر سے ٹکراؤ ہوگیا ۔اس معرکے میں بیرم خان نے شکست کھائی اور دربار اکبری میں پیش کیا گیا ۔دربار میں اکبر نے بیرم خان کو بڑی عزت دی اور اس طرح پیش آیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ آخر میں اکبر نے بیرم خان کو بغرض عبادت حجاز مقدس کا سفر کرنے کا مشورہ دیا ۔اس زمانے میں حجاز کا سفر نہایت دشوار اور طویل تھا۔اس سفر میں عازمین حج کو لوٹ مار اور قتل غارت گری کا بھی سامنا پیش آسکتا تھا ،عازمین، حج کا سفر حج سے پہلے کہا سنا معاف کروانے کا اسی زمانے میں پڑا ۔
بادشاہ وقت جب کسی امیر یا مصاحب سے حد درجہ ناراض ہوتا یا اس سے شدید خطرہ لاحق ہوتا تو بادشاہ اس امیر کو سفر حجاز پر جانے کا کہتا ۔اس کا مطلب یہ ہوتا کہ بادشاہ اس شخص کو اپنی سلطنت کے کسی گوشے میں بھی دیکھنا نہیں چاہتا ہے۔ اکثر اوقات ایسے شخص کو قتل کرکے کسی جنگل بیابان میں پھینک دیا جاتا اور وہ دوران سفر ہی لاپتہ ہوجاتا، ایسا کچھ بیرم خان کے ساتھ بھی ہوا۔سفر حجاز کے دوران ایک شخص مبارک خان اس کے تعاقب میں لگ گیا۔ ایک روایت کے مطابق بیرم خان نے پانی پت کی لڑائی میں مبارک خان کے باپ کو قتل کیا تھا ۔جب سے مبارک خان بیرم خان کا دشمن بن گیا تھا اب اسے موقع مل گیا اور راستے میں اس نے موقع پا کر بیرم خان کا قتل کرکے اس کے تمام اسباب اور مال و دولت لوٹ لی ۔
بیرم خان کے بیٹے عبدالرحیم خان اور بیوہ سلیمہ بیگم کو دربارِ اکبری میں پیش کیا گیا ۔اکبر نے سلیمہ بیگم سے نکاح کرلیا اور اس کے بیٹے کو زیر کفالت لے لیا ۔یوں مغل سلطنت کا یہ عظیم معمار ایک سازشی عورت اور چند امراء کی بھینٹ چڑھ کر ختم ہوگیا ۔

حصہ

7 تبصرے

  1. ماشاءاللہ نہائیت عمدہ کاوش ہے۔
    عدیل سلیم جملانہ کا تاریخ پر عبور قابل ستائش ہے۔ خاص کر تاریخ کی گمنام/غیر معروف شعبوں پر آپ نہایت عبور رکھتے ہیں۔

  2. مضمون کے آخر میں ۔۔ بیرم خان۔۔ کے ہونہار بیٹے ۔۔۔ عبدالرحیم خان ۔۔۔ کا ذکر سرسری انداز میں کیا ہے۔ جب کہ یہ بڑا نام چند مزید سطروں کا متقاضی تھا۔ یہی عبدالرحیم خان۔۔۔اپنی خداد صلاحتیوں کے سبب اکبر کے نورتوں میں ۔۔۔ عبدالرحیم خانِ خاناں ۔۔۔ کے نام سے مشہور ہوا۔
    اسی طرح خود بیرم خان کے انتقال کے بارے میں بھی کئی روایات ہیں۔ جن میں سے ایک ۔۔۔ ہیمو بقال ۔۔۔۔ کے ایک کمانڈر کی انتقامی کاروائی بھی بتائی جاتی ہے۔

    اس بات سے آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ اگرتاریخی مضامین کے آخر میں اگر واقعات کے علمی ماخذ شامل کر دیئے جائیں تو مضامین کا وزن کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

    اللہ کرے زورِ رقم اور زیادہ ۔۔۔
    (زورِ قلم ۔۔۔ درست نہیں ہے )

جواب چھوڑ دیں