بلوچستان کے مزدور 

تاریخ گواہ ہے کہ بلوچستان میں پتھروں کے دور سے بھی آبادی تھی اور بلوچستان کے لوگوں کی قدیم تاریخ کا اندازہ آثارِ قدیمہ کی دریافتوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ سات ہزار سال قبل مسیح کے زمانے کی آبادی اور ثقافت کے نشان بلوچستان میں مہرگڑھ سے ملے ہیں۔ سکندرِ اعظم سے پہلے اس خطے پر مکمل طور پر ایران کے حکمران قابض تھے اور ان کی سلطنت کے دوران بلوچستان کو ماکا کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ اسی ماکا کے دور سے بلوچستان میں جبری مشقت شروع ہوئی، جو آج تک جاری و ساری ہے۔

جبری مشقت بلوچستان میں عام سی بات ہے۔ جبری مشقت جدید دور کی غلامی ہے۔ اس وقت پورے ملک میں آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں سے جبری مشقت کے ساتھ کام لیا جاتا ہے۔ جن میں بھٹہ مزدور، نوکر، ہاری اور کسان جبری مشقت کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ جاگیرداروں، سرداروں اور وڈیرے کی آزادانہ حرکت، تعلیم اور صحت کی سہولیات جیسے حقوق سے بھی محروم لوگ ہیں۔اس وقت پاکستان میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے تین لاکھ کے قریب خاندان بھی اسی زمرے میں آتے ہیں، کیوں کہ ان کے بنیادی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں۔ سرکار کی جانب سے بھٹوں کو صنعت کا درجہ تو دے دیا گیا ہے لیکن ان کے مزدوروں کو صنعتی آجر کا درجہ نہیں دیا گیا۔ اس ملک میں جبری مشقت کا خاتمہ کرنے کے لیے موجودہ قوانین میں ترمیم کی اشد ضرورت ہے تاکہ غلام مزدور کے بچوں سے جبری مشقت اور دیگر صورتوں کو روکا جا سکے۔

بلوچستان کی مارکیٹ میں اس وقت بھٹہ مزدوروں کی سخت کمی کا سامنا ہے اور بھٹہ مالکان کو ہر وقت ایسے کاریگروں کی کمی کا سامنا رہتا ہے جو اچھی اینٹ بنا سکیں اور مارکیٹ میں اس اینٹ کا اچھا ریٹ بھی ملے۔ اس لیے بلوچستان کے بھٹہ مالکان کی طرف سے سندھ سے زرخرید بھٹہ مستری بھی بلوچستان بلا لیے جاتے ہیں، جن کو دو لاکھ سے تین لاکھ ایڈوانس دے کر بلوچستان کی سرزمین پہ کام کرنے کے لیے اتارا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے کام میں مہارت رکھتے ہیں اور اپنا کام احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہوئے اپنے اپنے قرضہ جات چھ ماہ سے ایک سال کے اندر اتار دیتے ہیں، پھر دیہاڑی کے حساب سے کام شروع کر دیتے ہیں۔

بھٹہ کے مالکان کو اس وقت بلوچستان میں فی ہزار پکی اینٹ کی قیمت پانچ ہزار سے دس تک مارکیٹ میں ملتی ہے، مگر مزدور کو فی ہزار کچی اینٹ کے چھ سو روپے سے آٹھ سو روپے بھٹہ مالکان کی طرف سے دیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ بھٹہ مالکان کا مزدور طبقہ پر قرضوں کا بوجھ بھی ہے، ایک ہزار اینٹ بنانے میں دو سے تین لوگ مدد کرتے ہیں۔ جب کہ بھٹہ مزدور کے بچے کی بالغ اور جوان ہونے کی نشانی یہی ہے کہ اس کے بیٹے نے اینٹ کا سانچہ چلانا سیکھ لیا ہے۔ جو بچہ سانچے میں خود اینٹ بنانے کے قابل ہو جائے اس کو جوان تصور کر لیا جاتا ہے اور اس کی فوراً شادی کر دی جاتی ہے۔ اس روز اس کا بھٹے پہ الگ سے اکاؤنٹ کھل جاتا ہے اور وہ برسرِ روزگار ہو جاتا ہے۔ اس طرح اینٹ بنانے کا سانچہ بھی اس بچے کو الگ سے دیا جاتا اور اس کو منزل بتائی جاتی ہے کہ آپ کم ازکم ایک ہزار اینٹ روز کی بنیاد پہ بنائیں۔ وہ اس فکر میں سویرے کام پہ چلا جاتا ہے اور اپنا ہدف پورا کرتا ہے۔

آج تک بلوچستان میں مزدوروں کو حکومت کی مقرر کردہ اجرت نہیں دی گئی ہے۔ حکومت بلوچستان نے بھٹہ پر کام کرنے والے بچوں کو سکول داخل کروانےکے لیے جو دو ہزار روپے فی بچہ دینے کا اعلان کیا ہے، وہ ایک کاغذی اعلان ہے جو باعثِ عبرت ہے۔ جب کہ بلوچستان میں بھٹہ پر کام کرنے کا پہلا اصول ہے کہ آپ جتنا کام کرو گے، آپ کو اتنی ہی زیادہ اجرت ملے گی۔

جس دن بھٹے میں آگ لگا دی جاتی ہے، اس روز بھٹہ مزدور سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ اس وقت ان کو پتا لگتا ہے کہ اب ہمارے گھر پیسے آئیں گے اور اچھا کھانا کھانے کو ملے گا اور گھر میں نئے کپڑے آئیں گے۔ گویا ان کے گھر خوشیاں آنے والی ہیں۔

حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ بھٹہ پر کام کرنے والے ان بچوں کی زندگی پہ خصوصی توجہ دے تاکہ ان بچوں کی زندگی بھٹے سے شروع ہو کر یہیں ختم نہ ہو جائے بلکہ باقی بچوں کی طرح ان کو بھی زندگی میں ترقی کرنے کے مواقع حا صل ہونے چاہئیں تا کہ ان میں سے بھی کوئی قوم کا روشن ستارہ بن سکے۔

 

حصہ

جواب چھوڑ دیں