ذیابیطس کے بارے میں غلط فہمیاں

خطرناک بیماری کو معمولی نہ لیں،سمجھداری کا مظاہرہ کر کے پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے

کینسر کا نام آتے ہی جھرجھری سی آجاتی ہے،فوراً دل سے دعا نکلتی ہے اللہ کسی کو اس مرض میں مبتلاء نہ کرے،ایڈزبھی خدا کی پناہ ، اس کا تو علاج ہی دریافت نہیں ہوا اس میں مبتلاء انسان سسک سسک کر آخر کار موت کے منہ میں چلا جاتا ہے لیکن حیران اور پریشان ہونے کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ان خطرناک امراض سے ہونے والی اموات مل کر بھی ذیابیطس کی وجہ سے مرنے والوں سے کم ہو تی ہے۔ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلاء افراد کی بڑی تعداد کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں ا ور اس لا علمی کے دوران ہی کئی برس گذار دیتے ہیں ۔اب اگر بار بار واش روم جانے کی ضرورت پڑے ،اسی وجہ سے راتوں کو بھی اٹھنا پڑے ، شدید پیاس لگنے لگے، تھکن میں اضافہ ہو، نظر دھندلی ہوتو وقت ضائع نہ کریں اپنے فیملی ڈاکٹر سے مشورہ کریں ا ور اپنا ذیابیطس کا ٹیسٹ کرا لیں۔
اب ذرا بات کر لیں ان غلط فہمیوں کی جو اس خطرناک مرض کے حوالے سے معاشرے میں پائی جاتی ہیں ، ٹوٹکا ہو یا دیسی علاج،اگر مسلسل مانیٹرنگ کرتے رہیں گے تو اس مرض کی پیچیدگیوں سے خود کو بچانا ممکن ہے۔درج ذیل غلط فہمیوں نے ذیابیطس کے حوالے سے ہمارے ذہنوں میں از خود جگہ بنا لیں ہیں۔
ذیابیطس خطرناک مرض نہیں:
ذیابیطس کے مرض میں مبتلاء افرادا ور ان کے متعلقین اکثر و بیشتر اس خام خیالی میں رہتے ہیں کہ یہ مرض سنگین نوعیت کا نہیں اور یہی وہ غلطی ہے جو اس مرض میں مبتلاء افراد اس مرض سے منسلک دیگر پیچیدگیوں میں مبتلاء ہو جاتے ہیں ، اپنے معالج کے پاس مسلسل جاتے رہیں، ادویات باقاعدگی سے لیں،کھانے پینے میں احتیاط برتیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے خون میں شکر کی مقدار مانیٹر کرتے رہیں ۔
زیادہ میٹھا کھانا ذیابیطس کا باعث بنتا ہے:
ٹائپ ون ذیابیطس کی سب سے بڑی وجہ والدین کی جانب سے یہ بیماری وراثت میں ملنا ہے، جبکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی وجہ کھانے نہیں بلکہ زیادہ کیلیوریز والی غذائیں ہیں جن کی وجہ سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ ذیابیطس کا سبب بنتا ہے لیکن یہ بھی کوئی حتمی بات نہیں کیوں کہ متناسب جسمانی ساخت کے افراد بھی ذیابیطس میں مبتلاء ہو جاتے ہیں ، بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ ذیابیطس (شوگر)میٹھی اشیاء کھانے کی وجہ سے نہیں ہوتی ۔
ذیابیطس قابل علاج ہے :
طبی سائنس میں اب تک ہی ہونے والی تحقیق میں ابھی تک کچھ بھی ایسا سامنے نہیں آیا ہے جس میں ذیابیطس کے علاج کا کوئی سرا ملا ہو، ایک بار اس مرض میں مبتلاء ہونے والا قبر تک اس مرض کو ساتھ لے کر جاتا ہے لیکن یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ غذا پر قابو رکھ کر اور ورزش کی مدد سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر کی ہدایات پر مکمل طور پر عمل کر کے اور اس کے مشورے ذیابیطس کے مریض اس مرض کی لازمی ادویات سے بھی چھٹکارا پا سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ذیابیطس کی مکمل مانیٹرنگ انتہائی ضروری ہے۔
ذیابیطس کے مریض میٹھا نہیں کھا سکتے:
انسانی جسم کو نشاستے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی حال ذیابیطس میں مبتلا افراد کا بھی ہوتا ہے، ہمارے جسم میں موجود تمام اعضاء گلوگوز کو توانائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ذیابیطس میں مبتلاء افراد جب کبھی بھی نشاستے والے غذائیں اور خصوصاً میٹھی اشیاء کھائیں تو ہر ممکن کوشش کریں کہ وہ معالج کے تجویز کردہ ذیابیطس مینجمنٹ پلان سے تجاوز نہ کرے۔
ذیابیطس کے مریض خون عطیہ نہیں کر سکتے:
ذیابیطس میں مبتلاء افراد کی اکثریت خون عطیہ کر سکتی ہے ، صرف ایک خاص قسم کی انسولین استعمال کرنے والے مریض خون عطیہ نہیں کر سکتے، جبکہ ان مریضو ں میں سے وہ جو صحت مند ہیں ا ور ان کا وزن کم نہ ہو تو وہ خون عطیہ کر سکتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں کو پھل نہیں کھانا چاہیے :
پھل ہماری غذا میں خصوصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن پھل کھاتے وقت مقدار پر توجہ رہنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو بہت زیادہ پھل کھا لیا جائے اور شوگر لیول بڑھ جائے۔
ذیابیطس کا مرض لاحق ہو گیاانسولین لینا ہوگی :
ذیابیطس کا بہترین علاج انسولین ہی ہے لیکن یہ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلاء مریضوں کے لئے ہے جبکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریض مناسب غذا، ورزش اور دیگر ادویات سے کنٹرول کی جا سکتی ہے۔سب سے اہم ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلی لائی جائے یعنی تمباکو نوشی کرتے ہیں تو اسے ترک کردیا جائے اور باقاعدہ ورزش کو معمول بنا لیں۔
ذیابیطس صرف بوڑھوں کا مرض ہے:
یہ بات ماضی میں ایک حد تک درست تھی لیکن اب تو 5سال سے کم عمر بچے بھی ٹائپ ٹوذیابیطس میں مبتلاء ہو رہے ہیں، اب سے دو دہائی قبل تک اگر کسی نابالغ فردمیں اس مرض کی تخیص ہوتی تھی تو یہی خیال کیا جاتا تھا کہ اس کو ٹائپ ون ذیابیطس ہے جس کا علاج انسولین کے سوا کچھ ہی نہیں۔لیکن یہ بیماری اب بچوں میں بھی عام ہوتی جا رہی ہے اور اس سے بچوں کو بچانا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ان میں بلکہ اپنی بھی کھانے پینے کی اچھی عادات پروان چڑھائیں ، یعنی کمپیوٹر اور ٹی وی کے سامنے کم وقت ، فاسٹ فوڈ میں حتی الامکان کمی اور جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے۔
اوپر بیان کی گئی علامات جب مجھ میں ظاہر ہوئیں ساتھ میں وزن میں بھی تیزی سے کمی ہونے لگی، بہت زیادہ خوشی ہوئی وزن پر قابو پانے کے لئے کئی جتن کئے تھے لیکن اب تو بنا کسی مشقت وزن از خود کم ہورہا ہے ، کئی دوستوں نے ٹوکا کہ کیا ہوگیا وزن کیوں کم ہو رہا ہے پھر بھی احساس نہیں ہوا کہ خطرے کی کوئی بات ہے اور جب یہ باتیں تواتر کے ساتھ ہونے لگیں تو خطرے کی گھنٹی بجی اور ٹیسٹ کرایا۔ لیبارٹری ٹیسٹ نے ثابت کردیا کہ میں ذیابیطس میں مبتلاء ہو گیا ہوں۔رپورٹس ہاتھ میں تھیں لیکن یقین نہیں آرہا تھا تو فوراً اپنے والد کا خیال آیا جب ان کو ڈاکٹر نے ذیابیطس کے خطرے سے آگاہ کیا تھا تو انہوں نے اس ڈاکٹر کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ بہرحال خود کو یقین دلایا کہ میں اس مرض میں مبتلاء ہو گیا ہوں۔اب جب کسی کے ذیابیطس میں مبتلاء ہونے کا سنتا ہوں تواپنی ذہنی کیفیت یاد آجاتی ہے۔
جس کسی نے بھی میری اس بیماری کے بارے میں سنا اس نے حیرت اور افسوس کا ملا جلا اظہار کیا ، میرا صرف ایک ہی جواب تھا الحمداللہ بیمارہوں،کیوں کہ بیماری تو زندہ لوگوں کو ہوتی ہے مردہ کسی مرض میں مبتلاء نہیں ہواکرتا۔جب بیماری کا یقین ہوگیا تو سوچااب اس کے ساتھ گزارا کرنا ہے تو کیوں نہ اس سے دوستی بھی کر لی جائے ۔ ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی ان کو رپورٹ دکھائی تو انہوں نے کہا کہ آپ کی عمر ایسی نہیں کہ آپ کو لازماً ادویات کی ضرورت پڑے ،آپ لائف اسٹائل اور کھانے پینے کی عادات و اطوار میں تبدیلی لا کر اس پر قابو پا سکتے ہیں اور اللہ کا فضل ہے صحت بہت بہتر ہے۔
اب ذرااس بیماری کے فائدے بھی بتا دوں ،اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اس بیماری میں مبتلاء ہونا اچھی بات ہے بلکہ اچھائیوں پر نظر ڈالیں تو مایوسی اور پریشانی باقی نہیں رہتی کیوں کہ یہ بالکل واضح ہے کہ اس بیماری سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔ڈاکٹر نے ایک بات کہی تھی کہ آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو اب آپ صرف اچھا اچھا ہی کھائیں گے ۔زندگی میں جو الا بلا کھانا تھا کھا لیا لیکن مجھے یقین ہے اب آپ صحت بخش غذائیں کھایا کریں گے اور واقعی ہوا بھی کچھ ایسا ہی ۔چائے پینے کا شروع ہی سے شوق نہیں تو ساری توجہ سافٹ ڈرنکس پر مرکوز رہتی تھی لیکن اب اس پر 95فی صد تک کمی آ چکی ہے۔اس بیماری کا دوسرا مثبت پہلو یہ ہے دوست احباب ہر موقع پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس توجہ میں ترس کا عنصر نہیں ہوتا ۔عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ بڑے لوگوں کی بیماری ہے تو پھر سمجھ لیں آپ بیٹھے بٹھائے ’بڑے ‘ہو گئے۔

حصہ
mm
عبد الولی خان روزنامہ جنگ سمیت متعدد اخبارات و جرائد میں اپنے صحافیانہ ذوق کی تسکین کے بعد ان دنوں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چلا رہے ہیں۔انشاء پردازی اور فیچر رپورٹنگ ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے۔

جواب چھوڑ دیں