ایسے تھے ہمارے نبیؐ

یہ منظر بھی بڑا دلچسپ تھا۔ ایک دیہاتی آدمی کچھ عجیب سے حلیئے میں مسجد میں گھس آیا تھا اور کھڑے کھڑے بغیر کسی سے کچھ کہے صحنِ مسجد میں پیشاب کرنا شروع کردیا۔ دو آدمی چیختے چلاتے ہوئے اس کی طرف بھاگے ارے او دشمنِ خدا! قبل اس کے کہ وہ کچھ کہتے، آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی ارے خدا کے بندوں اس کو فارغ تو ہولینے دو۔ پھر اس نے اطمینان سے صحنِ مسجد میں پیشاب کیا۔ کہنے والے نے ان ہی دو آدمیوں کو اس کا پیشاب صاف کرنے کوکہا اور مسکراتے ہوئے دیہاتی کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے بندے! یہ مسجد ہے،اللہ کا گھر ہے یہاں عبادت کی جاتی ہے گندگی نہیں۔ وہ دونوں کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم نے کبھی اتنے پیار سے سمجھانے والا نہیں دیکھا۔حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نو سال تک دن اور رات اللہ کے نبیﷺ کی خدمت کی لیکن کبھی آپﷺ نے مجھ سے یہ نہیں کہا کہ’’ انسؓ! تم نے یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا؟‘{‘{ کبھی آپﷺ کے ماتھے پر شکن نہیں آئی۔ ابو تراب، فاتح خیبر، دامادِ رسولﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا کہنا ہے کہ میں نے اللہ کے نبیﷺ سے زیادہ مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ آپﷺ ہر کسی سے مسکرا کر بات کرتے اور چہرے پر ہمیشہ میٹھی سی مسکراہٹ رہتی۔ جب میں ’’ دیندار‘‘ لوگوں کے چہرے پر حد درجہ مصنوعی سنجیدگی اور کرختگی دیکھتا ہوں تو حیرت میں پڑ جاتا ہوں۔ صحابہؓ فرماتے تھے کہ ہم میں سے ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ رسول خداﷺ کو سب سے زیادہ محبت بس اسی سے ہے۔ جو شخص بھی آپﷺ کی محفل میں کچھ دیر بیٹھ جاتا وہ آپؐ کا دیوانہ ہوجاتا۔ دیکھنے والے اسے’’مجنوں‘‘ خیال کرتے جو آپﷺ سے ایک دفعہ مل لیتا پھر آپؐ سے دور جانا اس کے لیے محال تھا۔ اور جو کچھ دیر کے لیے علیحدہ ہوتا آپؐ سے ملنے کی تڑپ میں رہتا۔ ہم کیسے لوگ ہیں کہ جب دین کی بات کرتے ہیں، دین کا کا م کرنے لگتے ہیں لوگ ہم سے کٹنے لگتے ہیں۔ کیوں؟ یہ کیا منظر ہے کہ نبی مہربانﷺ نماز میں ہیں حسنؓ اور حسینؓ ننھے منے دونوں بچے کوئی آپ کے کندھے پر چڑھ گیا ہے اور کبھی کوئی آپ کی کمر پر ، آپ کبھی اپنا سجدہ طویل کرتے ہیں اور کبھی اپنا رکوع، نہ بچوں کو ڈانٹتے ہیں نہ ہی خشوع خضوع میں فرق آتا ہے۔ خود نماز پڑھا رہے ہوتے تو رکعات چھوٹی کر دیتے اور فرماتے بچوں کے رونے کی آواز آ رہی تھی اسلیے مختصر کردی۔ کبھی نواسوں کو کندھوں پر بٹھا لیتے ان کندھوں پر جن پر ساری امت کی ذمہ داری تھی اور بازار میں نکل جاتے دیکھنے والے دیکھتے تو بولتے واہ کیا اچھی سواری ہے تو فرماتے سوار بھی تو کتنا شاندار ہے۔ یہاں مساجد میں بچوں کے ساتھ نمازی تو چھوڑیں ائمہ مساجد جو ’’ اچھوتوں‘‘ والا سلوک کرتے ہیں، میں حیران ہوتا ہوں کہ کیا ان تک یہ احادیث نہیں پہنچیں؟ صبح سے شام تک اور شام سے رات تک بس ایک ہی فکر اور ایک ہی غم کہ لوگ اللہ کے فرمانبردار بن جائیں لیکن آپ کمال ملاحظہ کریں اپنی بیوی کے لیے خود آٹا گوندھ کر رکھتے ہیں، اپنے کپڑے بھی خود دھو لیتے ہیں اور کبھی سیر کے لیے باہر لے جاتے ہیں، کبھی میلہ دکھاتے ہیں، اپنے کندھے پر امی عائشہؓ کی ٹھوڑی رکھوا کر کرتب دکھاتے ہیں اور یہ نہیں فرماتے کہ مجھے جانا ہے، کام ہے، بہت دیکھ لیا اب اندر جاؤ لوگ کیا کہیں گے۔ نبی کی بیوی کرتب دیکھ رہی ہے؟ بلکہ فرماتے ہیں کیا تھک گئی ہو عائشہ؟ قربان جاؤں میں اپنے نبیﷺ پر کیا اخلاق اور کردار تھا۔حضرت حفصہؓ کسی بات پر آپ سے اونچی آواز میں بات کر رہی ہیں شاید نا راض ہیں۔ حضرت عمرؓ حجرے کے پاس سے گذرتے ہوئے بیٹی کی آواز سن لیتے ہیں غصہ سے اندر آتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ سے اس لہجے میں بات؟ آپ حضرت حفصہؓ کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں اور فرماتے ہیں عمر یہ میاں بیوی کا معاملہ ہے۔ سبحان اللہ آپ کمال تو دیکھیے گھر میں چالیس دن سے فاقے ہیں اور بیویاں آپ کو چھوڑ کر جانے کا تصور بھی نہیں کرتی ہیں، خوشی خوشی سب برداشت ہے۔ فتح مکہ کا دن ہے۔ فاتح بن کر شہر میں داخل ہوئے ہیں۔ نہ کوئی کر و فر ہے اور نہ ہی قتل و غارت اس حد تک عاجزی ہے کہ ماتھا اونٹ کے کوہان سے لگ رہا ہے۔ عبداللہ بن ابی کا جنازہ تیار رکھا ہے۔ اسکا بیٹا عبداللہؓ اللہ کے نبی سے درخواست گذار ہیں کہ اے اللہ کے رسولﷺ! آپ سے تین گذارشات ہیں۔ میرے باپ کے لیے آپؐ اپنا کرتا دے دیں۔
میرے باپ کا جنازہ آپؐ پڑھائیں۔ میرے باپ کو قبر میں بھی آپؐ اتاریں۔
شاید اللہ تعالی میرے باپ کی مغفرت فرما دے۔ آپؐ نے تینوں شرائط پوری کردیں۔ حضرت عمرؓ سامنے آ کر کھڑے ہوگئے اللہ کے رسولﷺ یہ منافق اعظم ہے۔ آپ نے فرمایا عمرؓ میرے رب نے مجھے منع نہیں کیا آپ کون ہوتے ہیں منع کرنے والے؟ جی ہاں یہ وہی عبد اللہ بن ابی ہے جس نے احد جیسے موقع پر تین سو لوگوں کو لشکر سے علیحدہ کرلیا۔ جس نے رسول اللہﷺ کو نعوذ باللہ بدترین الفاظ سے پکارا۔ جس نے نبی ﷺکے پانی کے گلاس تک کو ہاتھ لگانے سے منع کردیا۔ اور یہاں کفر کی فیکٹریاں ہیں جو ہر مسجد سے نکلتی ہیں۔ وہ آلودہ اور بے ہودہ زبانیں ہیں کہ جن کو دیکھ اور سن کر شیطان بھی شرماجائے۔ طائف میں جہاں پہاڑوں کا فرشتہ اپنے جذبات قابو نہ کرسکا میرے نبیؐ نے ہاتھ اٹھا کر دعائیں دیں۔ میدان احد میں دندان مبارک شہید کردیئے، ماتھے سے خون کا فوارہ پھوٹ نکلا لیکن ان کے لیے بھی سوائے کلمۂ خیر کے کے کچھ نہیں نکلا۔ حضرت امام جعفر صادقؒ کے ایک شاگرد نے تبلیغ دین پر جانے کا ارادہ کیا تو کہا کہ حضرت کچھ نصیحت کیجیے تبلیغ پر جا رہا ہوں تو آپ نے فرمایا ’’ کوشش کرنا کہ زبان کا استعمال کم سے کم کرو ‘‘۔ حضرت بلال حبشیؓ نے آپ کی مسکراہٹ پر اسلام قبول کرلیا۔ چالیس سال تک دن اور رات اپنے اخلاق اور کردار کو پیش کیا پھر کہیں جاکر دین کی دعوت پیش کی۔ حتیٰ کہ آپ کا دشمن بھی پکار اٹھا کہ پورے معاشرے میں آپ سے زیادہ’’ صادق اور امین‘‘ کوئی نہیں ہو سکتا۔ آپ شریف باپ کے شریف بیٹے ہیں۔ ہم نے کبھی آپ کو کسی غلط کام میں نہیں دیکھا ، غلط بات کرتے نہیں دیکھا۔ آپ اللہ کے رسولﷺ کی ’’ کریڈیبلیٹی‘‘ کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ حجر اسود نصب کروانے تک کے لیے قریش کے لوگوں کو آپ سے زیادہ معتبر آدمی کوئی نہیں ملا۔ ہم وعدہ کرتے ہیں تو خلاف کرتے ہیں عام محاورہ ہے ’’ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے ‘‘ ہم جھوٹ بولنا فخر سمجھتے ہیں، بے ایمانی کرنا کاروبار کا حصہ سمجھتے ہیں، کام چوری کرنا ہماری عادت کا حصہ بن گیا ہے، گندگی اور غلاظت معمول کی بات سمجھتے ہیں اور صفائی کو نصف ایمان بولتے ہیں اور پھر بھی دوسروں کو ہی منافق سمجھتے ہیں۔کافروں کے جسموں میں کیڑے پڑنے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ عربی کے مشکل مشکل الفاظ حلق سے نکال کر سمجھتے ہیں کہ اب یورپ کی تباہی سر پر آن پہنچی ہے۔ ہم نہیں جانتے اللہ کو عمل درکار ہے۔ دعا تو عمل کو تقویت دینے کا کام کرتی ہے۔ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ آپ جشن ولادت ضرور منائیں۔ گلیاں بھی ضرور سجائیں۔ نعرے بھی لگائیں لیکن جائزہ بھی ضرور لے لیں۔ محبت کا بے جا اظہار بھی عام طور پر عمل سے فرار کا نتیجہ ہوتا ہے۔
تیرے حسن خلق کی ایک رمق میری زندگی مین نہ مل سکی
میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کہ در وبام کو تو سجا دیا

حصہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں