ڈپریشن سے نجات پائیے

حالات کی خرابی اورزندگی کے بعض معاملات میں ناکامی ایک فطری بات ہے،مگر کوئی شخص مستقل افسردہ ،مایوس اور زندگی سے بیزاری محسوس کرتا ہوں تو یقیناً یہ ایک تشویش ناک بات ہے کیوں کہ ایسی صورت حال کو ڈپریشن کہاجاتا ہے،اگر بروقت اس صورتحال کا نوٹس نہ لیا جائے تو یہ ڈپریشن دیگر نفسیاتی امراض پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔وقتاً فوقتا ہم سب اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہو تے ہیں۔ عمو ماً یہ علامات ایک یا دو ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتی ہیں،اگر اس عرصے میں یہ ٹھیک نہ ہو اور روز مرہ کی زندگی متاثر ہونے لگے اور عام تدابیر سے افاقہ نہ آئے تو یہ ڈپریشن کہلاتا ہے۔
درج ذیلً علامات ڈپریشن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ ایک مریض میں تمام علامات موجود ہوں۔ عمومی طور پر ۵۔۶ علامات کا ہونا ڈپریشن کی تشخیص کرتا ہے۔
1۔ اکثر اوقات اداسی ۲۔ دل برداشتہ ہونا اور تفریح میں کمی ۳۔ فیصلے کرنے میں مشکلات ۴۔ جسمانی تھکن ۵۔ بے چینی اور چڑچڑاپن ۶۔ بھوک میں کمی اور وزن کا گھٹنا (بعض افراد میں بھوک اور وزن کا اضافہ) ۷۔ نیند میں کمی ۸۔ جنسی دلچسپی میں کمی ۹۔ خود اعتمادی کی قلت ۱۰۔ خودکش خیالات
یہاں ہم آپ کے لیے پانچ طریقے درج کر رہے ہیں۔ یہ طریقے ڈپریشن کی بیماری کے ممتاز ماہرین کے تجویز کردہ ہیں۔
کوئی مثبت کام کریں


پہلی بات تو یاد رکھیں کہ ڈپریشن کاہلی اور بے کاری سے پیدا ہوتا ہے۔ جن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا یا جو کچھ کرنا نہیں چاہتے ، وہ ڈپریشن کی گود میں جا گرتے ہیں۔لہذا عمل اس کا تریاق ہے۔ہوتا یہ ہے کہ آپ جس قدر کام سے دور بھاگیں ، اسی قدر کام سے بے زاری بڑھتی جاتی ہے۔ لہذا نفسیاتی طب کے ایک ماہر ڈیوڈ برنر نے ڈپریشن کے علاج کا ایک طریقہ یہ تجویز کر رکھا ہے کہ ہر روز کا ایکشن پلان لکھ کر تیار کیا کریں۔ اس میں صبح جاگنے سے رات سونے تک کے تمام پروگرام ہونے چاہییں۔ نہانے ، صبح کی سیر کرنے اورناشتہ کرنے جیسے روزمرہ کے معمولات بھی نظر انداز نہیں ہونے چاہییں۔ وجہ یہ ہے کہ ڈپریشن کی حالت میں چھوٹے چھوٹے کام بھی بڑے لگتے ہیں۔ جو کام مشکل اور پیچیدہ ہیں ، ان کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ لیں۔ یوں وہ زیادہ آسان ہوجائیں گے۔
دوسروں کی مدد کریں


بہت سے ڈاکٹراپنے مریضوں کو یہ مشورہ دینے لگے ہیں کہ ایثار ، دوسروں کی مدد، بہتر صحت کا ایک راز ہے۔ رضاکارانہ سرگرمیوں ، سماجی خدمت اور دوسروں کے کام آنے سے آپ صرف ان کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوتے بلکہ اس سے آپ کی اپنی جسمانی ،جذباتی اور ذہنی صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے۔لوگوں سے دوری اور بے نیازی ڈپریشن کا ایک اہم سبب ہے۔لہذا دوسروں کے ساتھ تعلقات بنانے ، ان کے کام آنے اور ان کی مدد کرنے سے آپ اس روگ پر قابو پاسکتے ہیں۔
خوشیاں ڈھونڈئیے


ڈپریشن کا شکار ہونے والے اکثر لوگ ان مشغلوں سے بھی بے زار ہوجاتے ہیں۔ جن سے ماضی سے وہ لطف اٹھاتے رہے ہیں۔ یوں ان کی کیفیت زیادہ تاریک ہوجاتی ہے۔ ڈپریشن کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے روزانہ کے ایجنڈے میں ایسی سرگرمیاں شامل کریں جو آپ کو اچھی لگتی ہیں اورجن سے آپ لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔یہ طریقہ کار یوجین کے اور گون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر نفسیات پیٹر ایم لیون سوہن کا تجویز کردہ ہے۔ سوہن صاحب کہتے ہیں کہ ڈپریشن سے محفوظ رہنے کے لیے میل جول بڑھائیں۔ سماجی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ دوستوں اور عزیزوں سے ملیں۔ ایسے کام شروع کریں جن سے آپ کو اپنی صلاحیتوں کا احساس ہو ،مثلا کوئی نیا کام سیکھیں۔ نئے دوست بنائیں۔ کھیل اور دوسری دلچسپیوں میں حصہ لیں۔
مسکرائیے


اور ہاں ‘ مسکرایا بھی کیجئے۔ماہرین نے بہت سی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہمارے جذبے ہمارے طرز عمل سے مرتب ہوتے ہیں۔امریکا کی کلارک یونیورسٹی کے نفسیات کے استاد جیمز ڈی لیرڈ کا مشورہ اس سلسلے میںیہ ہے کہ جب کبھی آپ پر اداسی کا دورہ پڑے تو خود کو کمرے میں بند مت کریں۔ باہر نکلئے ، دوستوں سے ملیئے ،چہل قدمی کیجئے۔ کسی پارک کا رخ کیجئے۔منہ مت لٹکائیے۔ مسکرائیے۔محض اتنی سی کوشش سے آپ کا موڈ بدل جائے گا۔ اس کے برخلاف آپ تیوری چڑھائے ،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنے کمرے میں بند رہے تو ڈپریشن کم نہ ہوگا بلکہ بڑھتا جائے گا۔
روزانہ ورزش کریں


فوزیہ دو بچوں کی ماں ہے۔ ڈپریشن سے بھاگنے کے لیے وہ روزانہ جاگنگ کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے ’’ جب میں دوڑتی ہوں تو بہتر محسوس کرنے لگتی ہوں۔اس تبدیلی کی کوئی اور وجہ نہ ہو تو بھی یہ بات تو ہے کہ مجھے کچھ کرنے کا احساس ہوتا ہے۔ جاگنگ سے پہلے چاہے جتنی بھی افسردگی چھائی ہو ، پارک میں جاکر دوڑنے سے میرا موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے۔سائنس دان فوزیہ کے اس قول کی تائید کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ سیر ، جاگنگ ، پیراکی اور سائیکل چلانے جیسے جسمانی کاموں سے مثبت اثرات نمودارہوتے ہیں اور نفسیاتی صحت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔وہ ہمیں خوداعتمادی دیتے ہیں۔خوش گوار تاثر پیدا کرتے ہیں اور ہماری توانائی بڑھاتے ہیں۔ ان سے ڈپریشن بڑھانے والے تناؤ اور تشویش کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔
اپنے د ن کو روشن کریں


نائلہ کامیاب مصنفہ ہے۔ وہ رہائش کے لیے ہمیشہ روشن جگہیں تلاش کرتی ہے۔ تاہم ایک موسم سرما میں اس کو رنجیدہ کرنے والی نیم تاریک جگہ پر ملازمت کرنی پڑی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گہری یاسیت نے اس کا دامن پکڑ لیا اور وہ وقت پر اپنا ناول مکمل نہ کر سکی۔ اس کا موڈ خراب رہنے لگا اور اس کی صلاحیتیں پہلی جیسی درخشندہ نہ رہیں۔نائلہ عارضی ڈپریشن کی زد میں آگئی۔تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ اس قسم کے عارضی ڈپریشن سے بچنے کے لیے روشنی بہت مددگار ہوتی ہے۔روشنی چاہے فطری ہو یا مصنوعی ، دونوں صورتوں میں وہ ہماری نفسیاتی حالت پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔ آپ بھی اس تحقیق سے فائدہ اٹھائیں۔ اپنے گھروں میں روشنی کا بہتر انتظام کریں۔ اپنے کمروں میں ،روشنی اور کشادگی کا تاثر دینے والے پردے ، فرنیچر اور دوسرا سازوسامان رکھیں۔واکنگ اور جاگنگ جیسی صحت مند سرگرمیاں اپنائیں جو آپ کو روشنی میں رکھتی ہیں

حصہ
mm
سلمان علی، یوں تو ابلاغ عامہ میں ڈاکٹریٹ کی کوششوں میں مصروف ہیں،تاہم اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے کچھ وقت مشقِ سخن کےلیے بھی نکال لیتے ہیں،سہ ماہی جہان اعصاب،ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل، سنڈے میگزین و دیگر جرائد میں لکھتے رہتے ہیں،سوشل میڈیا اورصحت عامہ سے متعلق موضوعات کے گرد رہنا پسند کرتے ہیں۔...

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں