کمرۂ جماعت کو کیسے موثر بنائیں

ایک منظم اور موثرکمرۂ جماعت کی آرزو اور تمنا ہر استاد کرتا ہے ۔ منظم اور موثر کلاس روم خود رو پودوں کی طرح از خو نہ تو اگتے ہیں اور نہ ہی نمو و پرورش پاتے ہیں۔بالکل اسی طرح منظم ،موثر اور مربوط کمرۂ جماعت بھی نہ تو اپنے آپ وجود میں آتے ہیں اور نہ ہی اساتذہ کی سعی و کوشش کے بغیر ان کا وجود ممکن ہے۔موثر اور منظم کمرۂ جماعت اساتذہ کی جفاکشی ، جانفشانی، منصوبہ بندی، غایت غور وخوض اور مسلسل جہد و عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔کمرۂ جماعت میں طلبہ کی مسلسل نگرانی و دیکھ بھال ،لگاتار حوصلہ افزائی،اکتسابی مہارتوں کے فروغ اورمنظم و مربوط کمرۂ جماعت کی منصوبہ بندی،اسکولز کو تحصیل علم کے حقیقی مراکز میں تبدیل کردیتے ہیں۔کمرۂ جماعت کی فضاء کو درس و تدریس اور اکتساب کے لئے ساز گار بنانے میں استاد کا کرداراہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ایک بھرے ہوئے برتن سے خالی برتن میں کسی شئے کی منتقلی کی طرح معلومات کی منتقلی کو درس وتدریس کا نام ہرگز نہیں دیا جاسکتا۔ تدریس صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے باصلاحیت ،حوصلہ مند اور علم و تربیت سے آراستہ باکمال و با ہنر افراد کی تیاری و فراہمی کا نام ہے۔اسکولز کو بجا طور پر مردم سازی کے کارخانوں سے معنون کیا جاسکتاہے۔مردم سازی کے ان کارخانوں میں جس جگہ انسانوں کو علم و ہنر اچھے برے کی تمیز،اخلاق و اطوار ،کھوٹے کھرے کی پہچان سے مزین کیا جاتا ہے اس مقام کو ہم کمرۂ جماعت کہتے ہیں۔کمرۂ جماعت کے انتظام و انصرام کی مکمل ذمہ داری اساتذہ کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ فن تعلیم و تربیت کے شعبے میں کمر ۂ جماعت کے انتظام و انصرام کے لئے کلاس روم مینجمنٹ کی اصطلاح عام طور پر مستعمل ہے۔کلا س روم مینجمنٹ درس و تدریس،تعلیم و تربیت اور اکتساب کے فروغ میں معاون وسائل کو منظم و مربوط کرنے کا دوسرا نام ہے ۔اساتذہ تعلیم و تربیت اور اکتساب کے فروغ میں معاون وسائل کو مربوط و منظماور موثر و بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اکتساب (پڑھنے اور سیکھنے ) کو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ اساتذہ کوپڑھنے اور سیکھنے میں معاون وسائل کے بروقت ، موزوں اور مناسب استعمال کا فن کلاس روم مینجمنٹ فراہم کرتا ہے۔کلاس روم مینجمنٹ کا علم نہ صرف کمرۂ جماعت میں استاد کے تدریسی عمل کو موثر بنانے میں معاون ہوتا ہے بلکہ طلبہ کے غیر پسندیدہ رویوں کو راہ راست پر لانے، مثبت رویوں کے فروغ اور اکتساب کی شرح اورنمو و فروغ میں بھی کلیدی کردار انجام دیتا ہے۔ہر کمرۂ جماعت میں مختلف النوع قسم کے طلبہ پائے جاتے ہیں ہر طالب علم کا رویہ ،استعداد اور قابلیت ہر لحاظ سے دیگر طلبہ سے جدا گانہ ہوتی ہے۔مختلف النوع و مختلف رویوں،استعداد اور قابلیت کے حامل طلبہ کومنظم کرنے ،ان میں جذبہ تعاون و عمل پیدا کرنے اور ان کی توانائی اور اکتساب کو کارآمد بنانے کے لئے اساتذہ کی جانب سے مثبت اقدامات کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ طلبہ میں اکتسابی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے ،اکتسابی مسائل کا سامنا کرنے اور پڑھنے اور سیکھنے کے عمل کو پر لطف وپر کیف بنانے میں طلبہ مرکوز(Student Centered) کمرۂ جماعت والا ماحول نہایت سود مند ثابت ہوتا ہے۔کمرۂ جماعت کا صحت مند ماحول طلبہ میں مسابقت ، دیانت اورسخت محنت کے جذبات کو فروغ دے کر انھیں بے مثال کامیابیوں سے ہمکنار کر تا ہے۔کمرۂ جماعت کے انتظام ،انصرام اور تزئین میں اساتذہ کو اپنی صلاحیتوں کے استعمال میں حددرجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اساتذہ مناسب حکمت عملیوں کو وضع اور ان پر عمل کرتے ہوئے ایک سازگار کمرۂ جماعت کے ماحول کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ کمرۂ جماعت کی تنظیم وترتیب کے علم سے عاری اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اپنی تدریسی خدمات کی انجام دہی میں کمرۂ جماعت میں سخت مسائل اورالجھنوں کا شکا ر جدو جہد کرتیدکھائی دیتی ہے۔ بہتر صلاحیتوں اور قابلیت کے باوجود بھی وہ اپنا بہتر کردار پیش کرنے سے چو ک جاتے ہیں ۔اساتذہ کی تدریسی ناکامی کے اسباب میں ایک سبب کمرۂ جماعت کی تنظیم و ترتیب سے عدم آگہی اور تدریسی وسائل کے بروقت استعما ل اور طلبہ کی تعلیمی ضروریات کے مطابق درس و تدریس کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی میں ناکامیہے۔کمرۂ جماعت کا ماحول بچوں کی تعلیم و تربیت میں اساسی کردار کا حامل ہوتا ہے۔ اساتذہ اپنی ادنیٰ سی کوشش سے کمرۂ جماعت میں ایک ایسا اکتسابی ماحول پروان چڑھا سکتے ہیں جہاں ایک طالب علم غیر محسوس انداز میں تعلیم و تربیتسے آراستہ ہوسکتا ہے۔ذیل میں ان اسباب وعلل کا ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کلاس روم کا ماحول اور فضاء متاثر و مجروح ہوجاتی ہے۔
۱۔طلبہ کی تعلیمی ضروریات کا خیال نہ رکھتے ہوئے اور طلبہ مرکوز تعلیمی ماحول کو فراہم کئے بغیر موثرکمرۂ جماعت کا تصور ایک ناممکن امرہے۔
۲۔غیر موزوں منصوبہ بندی اور نئے تعلیمی نظریات و رجحانات کو اپنانے میں اساتذہ کا تذبذب اور عدم دلچسپی کمرۂ جماعت کے انتظام و انصرام میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔
۳۔طلبہ اور اساتذہ کے درمیان بہتر تعلقات کافقدان اور اساتذہ تک طلبہ کی رسائی پر عائد پابندیا ں بھی کمرۂ جماعت کے ماحول کو ابترکردیتی ہیں۔
۴۔نظم و ضبط کی تعلیم اور طلبہ میں پسندیدہ رویوں کو فروغ نہ دینے سے بھی کمرۂ جماعت کا ماحول مکدرہوجاتا ہے۔
۵۔ اساتذہ کی جانب سے تدریسی اوقات کو اختراعی انداز میں استعمال نہ کر نا ،تعلیمی وسائل کا عدم استعمال اور طلبہ کی دلچسپی اور توجہ کو تحریک دینے والے تعلیمی سرگرمیوں سے اجتناب بھی موثر کمرۂ جماعت کی تشکیل میں مانع بن جاتے ہیں۔
۶۔جب اساتذہ میں درس و تدریس کا شوق و ذوق مفقود ہوجائے اور وہ تدریس کو صرف دولت بٹورنے یا روزی کمانے کا ایک ذریعہ سمجھنے لگ جائیں تب بکمرۂ جماعت کی فضاء تعلیمی عمل کے لئے سوہان روح ثابت ہوتی ہے۔
ایک منظم و موثر کمرۂ جماعت کے تما م تعلیمی افعال ایک دوسرے سے باہم مربوط و پیوست رہتے ہیں اور جوطلبہ کو غیر محسوس طریقے سے دعوت اکتساب دیتے رہتے ہیں۔ منظم کمرۂ جماعت کی خوبیوں میں استاد کا کمرۂ جماعت میں اپنے تدریسی فرائض ،منظم ،مربوط ،احسن ، موثراور دلکش انداز میں سر انجام دینا بھی ایک خوبی ہے۔ درس و تدریس تمام اساتذہ سے مبنی بر مقاصد ،طلبہ مرکوز اور نتیجہ خیز تدریسی افعال کا تقاضہ کرتی ہے۔اساتذہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف کمرۂ جماعت کی فضاء کو تبدیل کرنے کے بلکہ طلبہ کی زندگی اور مستقبل کو سمت اور رفتار فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔درس و تدریس کا ہرایک مرحلہ استاد کی موثر تدریس کے علاوہ کمرۂ جماعت کے منظم انتظام و انصرام سے جڑا ہوتاہے۔کمرۂ جماعت کے انتظام و انصرام میں کئی ایسے قابل ذکر عناصر و عوامل ہیں جن پر عمل آوری کے بغیر تعلیمی مقاصد کا حصول ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔کمرۂ جماعت کو منظم و مربوط کرنے والے عوامل و وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مدارس کو تحصیل علم کے دلکش اداروں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔کریمر اور ریزائیٹ نے 1999میں چار ایسے عوامل کی نشاندہی کی ہے جو کمرۂ جماعت کا ماحول تشکیل دینے اور طلبہ کے اکتساب کو پروان چڑھانے میں ذمہ دار گردانے گئے ہیں جوحسب ذیل ہیں۔
۱۔طلبہ سے وابستہ اکتسابی توقعات اور نتائج(Expectations of student’s learning outcome)
۲۔ کمرۂ جماعت کامنظم ا ور مربوط ماحول(Orderly Classroom environment)
۳۔استاد اور شاگردوں کے درمیان صحت مند تعلقات و برتاؤ ،جماعت کے طلبہ کا ایک دوسرے سے مثبت و محبت آمیز رویہ و سلوک۔
۴۔کمرۂ جماعت کا طبعی ماحول(Physical environment of the classroom)
متعد د محققین و ماہرین تعلیم کے نزدیک کمرۂ جماعت کے ماحول اور طلبہ کی تعلیمی ترقی کے درمیان ایک اٹوٹ وابستگی پائی جاتی ہے۔سنجید ہ غور و فکر، عمدہ منصوبہ بندی ،مبسوط لائحہ عمل،وقت کا بہتر اور تخلیقی استعمال،استاد کا مشفق و محبت آمیز رویہ طلبہ کے اکتساب اورتعلیمی مظاہروں میں بہتری پیدا کرنے والے وسائل اکتساب کے لئے ایک سازگار ماحول فراہم کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ایک منظم و مربوط کمرۂ جماعت طلبہ کو کبھی ا کتسابی (سیکھنے) دباؤ کا شکار نہیں ہونے دیتا ہے۔موثر و منظم کمرۂ جماعت کے زیر اثرطلبہ از خود اکتسا ب کی جانب مائل و راغب ہوتے ہیں۔کمرۂ جماعت کا ماحول طلبہ کی خاموش تعلیم و تربیت انجام دیتا ہے۔کمرۂ جماعت کی تنظیم و ترتیب سے استاد کا تدریسی وقت ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے۔ذیل میں ایسے عوامل و عناصر پر روشنی ڈالی گئی ہے جو کمرۂ جماعت کی فضاء اور ماحول کو اکتساب کے لئے ساز گار بنانے میں معاون و مددگارہوتے ہیں۔
کمرۂ جماعت کی تنظیم و ترتیب؛۔کمرۂ جماعت کی تنظیم و ترتیب طلبہ کو اکتسابی آمادگی پر مائل اور متحرک کرتی ہے۔کمرۂ جماعت کی تنظیم و ترتیب اکستابی عمل کو پروان چڑھانے میں ایک کارگر محرکہ کا کام انجام دیتی ہے۔کمرۂ جماعت کی تزئین و آرائش اور تنظیم و ترتیب کے اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کمرۂ جماعت کی فضاء کو اکتساب کے لئے ساز گار، متحرک ،فعال،آرام دہ اور طلبہ کے لئے مانوس بنایا جاسکتا ہے۔کمرۂ جماعت کی تنظیم وترتیب کمرۂ جماعت کو زندگی سے معمورکردیتی ہے۔کمرۂ جماعت کی تنظیم وترتیب سے ہمیں درکار جگہ کے موثراور مناسب استعمال کا علم حاصل ہوتا ہے۔کمرۂ جماعت کی ترتیب اور آرائش کو قابل اعتنا نہ سمجھ کر اساتذہ طلبہ کے خراب رویوں (برتاؤ) اور ان کی سرگرمیوں پر قابوپانے میں کئی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔کمرۂ جماعت میٖں ساز و سامان اور تدریسی و اکتسابی اشیاء کی موزوں و مناسب آرائش و ترتیب کے فن سے اساتذہ کا آراستہ ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ مائیک ہاپکنس (Mike Hopkins) کے مطابق کمرۂ جماعت کی تنظیم و ترتیب استاد کے تدریسی اسلوب و مطلوبہ تعلیمی ضروریات کے تابع ہوتی ہے.(Personal teaching style and specific educational needs should largely determine how you design your classroom)اساتذہ کمرۂ جماعت کی تنظیم ،ترتیب و آرائش کے وقت طلبہ سے تجاویز وآراء طلب کریں تاکہ ان میں تنظیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھایاجاسکے اور کمرۂ جماعت کے ماحول کو بہتر بنایا جاسکے۔ذیل میں چند ایسی تجاویز دی گئی ہیں جس کی مدد سے اساتذہ کمرۂ جماعت کی مناسب تنظیم اور اس کے طبعی ترتیب کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
۱۔کمرۂ جماعت میں نشتوں (بینچوں)کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ ہر طالب علم کو تختہ سیا ہ اور معلم کی تدریسی سرگرمیوں اور تاثرات کے مشاہدے کا راست موقع حاصل ہو۔بے ترتیب و بے ہنگم سٹنگ ارینجمنٹ(نشستوں کا نظم)طلبہ کی بے آرامی اور کمرۂ جماعت کی خوب صورتی کو متاثر کرنے کا سبب ہوتا ہے ۔کشش و جاذبیت سے عاری کمرۂ جماعت بھی طلبہ کی اکتسابی گراوٹ کا سبب ہوتے ہیں۔فرنیچر طلبہ کی ضرورتوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ فرینچر میں یکسانیت ہونی چاہئے۔کمزورسماعت و بصارت ،پست قد اور جسمانی طور پر معذور طلبہ کو سامنے کی بینچیں فراہم کریں۔اونچے اور بھاری جسامت کے بچوں کو پچھلی نشستیں فراہم کریں تاکہ ہر طالب علم استاد کی تدریسی سرگرمیوں کا بخوبی مشاہد ہ کر سکے۔طلبہ کو تختہ سیا ہ اور استاد کے تاثرات کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوں۔بہتر سٹنگ ارینجمنٹ طلبہ میں اطمینان ، آرام و سکون فراہم کرتے ہوئے ان میں اکتسابی محرکہ پیدا کرتا ہے۔کمرۂ جماعت میں نشتیں اور دیگر تعلیمی سامان کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ ہر طالب علم تک استاد کی رسائی ممکن ہوسکے اور طالب علم بھی استاد تک باآسانی پہنچ پائے۔ نشستوں کی ترتیب میں اگر بگاڑ ہوگا اور تختہ سیا ہ اور استاد کی تدریسی سرگرمیوں کے مشاہدے میں رکاوٹیں حائل ہوں گی تب طلبہ سے غیر پسندیدہ برتاؤ اور ڈسپلن شکنی کا اظہار یقینی امر ہے۔
۲۔نشستوں کی ترتیب اس طرح ہوکہ جماعت کا ہر طالب علم استاد کی نگاہ سے نہ بچ سکے۔اور ہر طالب علم کو احساس رہے کہ اس پر استاد کی نظر ہے اور استاد اس کی ہر سرگرمی سے باخبر ہے۔
۳۔اگر کوئی طالب علم سستی اور کاہلی سے کام لے رہا ہو اور کام سے دامن جھاڑنے کی کوشش کر رہا ہو تب نشستوں کی تبدیلی کے ذریعے (جہاں سے آپ ان پر نظر رکھ سکتے ہوں) طلبہ کو پھر اکتساب کی جانب راغب کیا جاسکتاہے۔ اگر استاد کو کمرۂ جماعت اپنے اسلوب تدریس کے مطابق نہ محسوس ہورہا ہو تب حسب ضرورت کمرۂ جماعت کے نقشے کو بھی بدلا جاسکتا ہے۔طلبہ کی گروہی سرگرمیوں کی انجام دہی کے وقت بھی کمرۂ جماعت کی ترتیب و تنظیم کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
۴۔ بلیک بورڈ اورچارٹس کو اتنی بلندی پر رکھا جائے کہ وہ سب کو آسانی سے نظر آئے ۔اتنا بھی اونچا نہ رکھا جائے کہ دیکھنے میں طلبہ کو دقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ دیگر بصری ٹیچنگ ایڈس(تدریسی معاون اشیاء) کو ایسی جگہ پر رکھا جائے جہاں سے تمام جماعت کے طلبہ آسانی سے ان کا نظارہ کر سکیں۔تعلیمی و تدریسی اشیاء کو اس طرح رکھا جائے کہ استاد اور طلبہ کی ان تک رسائی آسانی ہوسکے۔سامان فرینیچر وغیرہ رکھتے وقت خیال رہے کہ داخل ہونے اور نکلنے کے راستے میں رکاوٹ نہ پیدا ہو۔
۵۔طلبہ کے سینوں میں عزائم کو بیدار کرنے کے لئے ہر کمرۂ جماعت کا نام کسی عبقری شخصیت کے نام پر رکھا جائے جیسے ڈاکٹر علامہ اقبال،ڈاکٹر ذاکر حسین،وغیرہ۔کمرۂ جماعت کے باب الداخلہ پرعظیم شخصیات کا تعارف اور کارناموں کو وال پینٹگس یا چارٹ یا پھر بلٹین بورڈ کی شکل میں آویزاں کیا جائے ۔ان کی زندگی کے حالات اور کارناموں کو اجاگر کر کے پیش کیا جائے تاکہ طلبہ میں اعلیٰ مقاصد کو پیدا کیا جاسکے۔پورے اسکول کے لئے ایک سالانہ نصب العین (Motto of the year) اور ہر جماعت کے لئے الگ یا پھر وہی نصب العین کو مقرر کیا جاسکتا ہے۔سال کے لئے ایک نصب العین مقرر کرنے کے علاہ ہر ماہ کے لئے ایک علیحدہ نصب العین مقرر کیا جاسکتا ہے۔ اساتذہ طلبہ کو نصب العین کی تعلیمی اہمیت سے آگاہ کریں یہ نصب العین (theme)ایک آیت قرآنی ،حدیث،مصرعہ یا،قول کی شکل میں طئے کی جائے اور پورا مہینہ ماہانہ themeکے لئے اور پورا سال سالانہ themeکے لئے طلبہ کی رہبری و رہنمائی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے لئے نظام الاوقات و عمل تشکیل دیاجائے۔
۶۔بلیک بورڈ( تختہ سیا ہ )سے کسی قدر اوپر جماعت میں طلبہ کے لئے استقبالیہ کلمات ’’خوش آمدید‘‘(Welcome)پینٹ کروایں یا پھر بورڈ آویزاں کریں۔
۷۔جماعت کاٹائم ٹیبل ایک خوب صورت چارٹ پر تحریر کرکے آویزاں کریں۔ٹائم ٹیبل آویزاں کرنے کا صحیح مقام بلیک بورڈ کے دائیں یا بائیں ہوتا ہے۔تاکہ دن بھر کا شیڈول طلبہ کی نظروں کے سامنے رہے۔
۸۔کمرۂ جماعت کی دیواروں پر چارٹس اور دیگر تعلیمی و اکتسابی مواد کو چسپاں کرتے ہوئے کمرۂ جماعت کی جاذبیت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔یہ اشیاء طلبہ کی دلچسپی کو مبذول کرنے میں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔تعلیمی سال کے آغاز پر ہی طے کرلیں کہ پروجیکٹ میں کونسے خاکے ،نقشے ،جدول اور تصویریں دینی ہیں اور جو نصاب و موضوع سبق کے مناسب ہو جیسے سائنس روم کی تزئین و آرائش کے لئے سائنسی چارٹس ،پوسٹرس،ماڈلس وغیرہ۔چارٹس آویزاں کرنے سے قبل ان کی اونچائی کا تعین بھی کرلیں تاکہ تمام چارٹس اور ماڈلس کی بلندی ایک جیسی ہو اور وہ استاد کے قلم او ر پوئنٹر تک قابل رسائی ہو۔چارٹس ،تصاویر اور اشکال جاذب نظر اوراصل کے مماثل ہوں۔سیاہ رنگ کے استعمال سے حت الامکان گریز کریں کیونکہ کم روشنی والے کمروں میں سیاہ رنگ دیکھنے میں تکلیف و وقت ہوتی ہے۔کیل وغیر ہ کو بلیک بورڈ کی پیشانی پر لگایں تاکہ چارٹس پوسٹرس اور خاکوں کو لگانے اور طلبہ کو دکھانے میں آسانی ہو۔
۹۔طلبہ میں صفائی اور نظافت کے جذبے کو پروان چڑھائیں۔جماعت کو صاف ستھرا رکھنے کی تلقین کریں۔کلاس میں ردی کی ٹوکری(Dust Bins) رکھی جائے۔ ایک ٹوکری ٹٹیچرکی میز کے نیچے اور دوسری کمرۂ جماعت کے دروازے کے پیچھے یا کلاس کے آخر میں رکھی جائے ۔طلبہ کو تراشیدہ پنسل کے برادے سے لیکر کھانے پینے کی ناکارہ اشیاء اسی میں ڈالنے کی تلقین و ہدایت کریں۔
۱۰۔کمرۂ جماعت میں الماری وغیرہ کا اہتمام کرتے ہوئے طلبہ کے فن پاروں اور کارآمد تعلیمی و اکتسابی اشیاء وغیرہ کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔کمرۂ جماعت کی دیواروں اور فرنیچر پر لکھنے اور تصویریں بنانے سے طلبہ کو باز رکھیں۔
۱۱۔طلبہ میں ذوق مطالعے کو پروان چڑھانے ،تعلیمی حو ا لہ جات اور تصوراتی تشکیل کے لئے کمرۂ جماعت میں ایک مختصر لائبریری(کتب خانے) کا اہتمام کمرۂ جماعت کے ماحول اور تاثیر کو چارچاند لگا دیتا ہے۔استاد کی غیر حاضری کے موقع پر یہ لائبریر ی طلبہ کو مصروف رکھنے میں بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔
۱۲۔کمرۂ جماعت میں ایل سی ڈی ،ٹی وی،پروجیکٹر یا پھر کمپیوٹر نصب کرنے سے کمرۂ جماعت کی افادیت کو پروان چڑھانے کے علاوہ اکتسابی فضاء کوفروغ دیا جاسکتا ہے۔کمپیوٹر ،پروجیکٹر کے ذریعے اکتساب کو پروان چڑھانے میں بہت زیادہ مدد ملتی ہے۔
مذکورہ بالا ہدایات پر عمل پیرا ہوکر کمرۂ جماعت کے ماحول کو موثر ،درس و تدریس اور اکتساب کو پرکیف اور دلچسپ بنایا جاسکتا ہے۔

حصہ
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

جواب چھوڑ دیں