لبرل ازم کیا ہے ؟

یورپ کی نشاتِ ثانیہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے افکارو نظریات میں بہت زبردست انقلاب رونما ہوا۔ یہ انقلاب اس قدر ہمہ گیر اور ہمہ جہت تھا، جس نے انسانیت کوہراعتبارسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگاکہ اس فکری و عملی انقلاب کا دائرہ اور اثرات انقلاب فرانس اور انقلاب امریکا کا بھی سبب بنے۔ اس طرح مذہب ، سیاست، معیشت، معاشرت پر نئے افکارونظریات نے تبدیلیوں کے راستے کھولے۔ یہ تبدیلیاں تعمیر و تخریب کی دُہری صفات کی حامل تھیں۔ فرد کی سطح پر تعلیم، تربیت، شخصیت اور کردار متاثر ہوئے تو رویوں میں بھی کش مکش ، نئے پن اور پرانے پن میں فاصلوں، مخالفت، حتیٰ کہ نفرت نے بھی جگہ بنائی۔

ان ہمہ گیر تبدیلیوں کو جس انقلاب نے جنم دیا، صورت دی یا وہ ان تبدیلیوں کا جواز ٹھیرا، وہ ’لبرل ازم‘ کا ابھرنا اور براہ راست مذہب و معاشرت کو چیلنج کرنا تھا۔ ’لبرل ازم‘ نے بادشاہت اور پاپائیت کی جنگ سے جنم لیا تھا۔ اس طرح جنگ ، کش مکش، تصادم اور تبدیلی اس کی پیدایشی صفات تھیں۔ سب کچھ تبدیل کرنے والا ’لبرل ازم‘ اپنی ان صفات سے کبھی بھی پیچھا نہیں چھڑا سکا۔ آج بھی لبرل حکومتوں کا ریکارڈ انھی صفات سے بھرا پڑا ہے۔

’لبرل ازم‘ نے ان صفات میں سے تبدیلی کی صفت سے انسانیت اور معاشرے کو ہمہ گیر طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ اعتراف کرنا ناانصافی ہوگی کہ ’لبرل ازم‘ نے یورپ کو تاریک دور سے نکالا اور اس کے دور خوش حالی اور روشن خیالی کا ایک نیا باب تحریر کیا۔

لبرل ازم:’لبرل ازم‘ کیاہے؟ یہ بہت آسان سوال ہے۔ ابتدا ہی میں یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ ’لبرل ازم‘، سیکولرازم نہیں ہے۔ سیکولرازم منزل ہے،جب کہ ’لبرل ازم‘ راستہ ہے۔
’لبرل ازم‘ ایک سیاسی نظریہ ہے۔ یہ مذہب، اعتقاد یا ایمان سے مختلف ہے۔ اس نظریے یا فلسفے کی بنیاد دو اصولوں پر رکھی گئی ہے: پہلا اصول آزادی ہے اور دوسرا اصول مساوات۔ جس کام، کردار، عمل، رویے، فکر یا عقیدے میں یہ دو اصول موجود نہیں، یا ایک ہے اور دوسرا نہیں، اسے ’لبرل ازم‘ نہیں کہا جاسکتا۔ ان اصولوں سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کیا فرق ہے جو انسانی زندگی پر مرتب ہوتا ہے، اسے ذیل میں آسان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔
ہم پہلے ’آزادی‘ کے اصول کو لیتے ہیں۔ ’آزادی‘ سے سادہ الفاظ میں مراد یہ ہے کہ انسان ایک فرد کی حیثیت سے ہر طرح سے آزاد ہے۔ اس پر کسی قدغن، پابندی، ضابطے ، اخلاق، قید یا سزا کے اطلاق سے اسے انسانی فطرت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کوئی مذہب، الہامی، روحانی ہدایت یا فلسفہ اسے اس کی آزادیوں سے محروم نہیں کر سکتا۔ انسان کی حیثیت برتر ہے۔ کسی کی حاکمیت، خواہ وہ اللہ، خداوند ، رام، دیوتا ہی کیوں نہ ہو، وہ حاکمیت اعلیٰ نہیں۔ اس لیے معاشروں میں انسان کے سوا کسی کی حاکمیت اعلیٰ تسلیم نہیں کی جاسکتی ۔ اسی اصول کی رو سے ریاست اور حکومت کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہوتا۔ ریاست سیکولر ہوتی ہے اور حکومت اپنے کام، کردار اور پالیسی میں سیکولر ہوتی ہے۔

آزادی کی حدود لامحدود ہیں، تاہم کچھ ناموں یا اصطلاحات سے اس کوبیان کیا جاتا ہے:
آزادی سے مراد آزادیِ اظہار، صحافت، مذہب، خیال وغیرہ ہیں۔ شہری آزادیاں، انسانی حقوق، قانونی حقوق، سب اس میں شامل ہیں۔ کوئی لبرل حکومت یا ریاست ان کو کسی صورت میں سلب نہیں کر سکتی، ان کو محدود نہیں کر سکتی۔
سیکولر ریاست اور جمہوریت میں ووٹ کا حق، نمایندگی لینے اور دینے کا حق فرد کو حاصل ہے۔ ایک فرد ایک ووٹ سے انحراف نہیں کیا جاسکتا۔
آزاد مارکیٹ، سرمایہ داری، آزاد تجارت، اجارہ داری سے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون ہرریاست، حکومت اور ملک کی صواب دید ہے۔ سرمایہ داری اور معاشی اصلاحات کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
اب آئیے مساوات کے اصول کی بات کرتے ہیں۔ جس قدر آزادی کا اصول ہمہ گیر سمجھا جاتا ہے مساوات کا اصول بھی اتنا ہی اہم ہے۔ تاہم اس کی اطلاقی حیثیت اور عملی کیفیت ابھی تک وہ نہیں ہے جو آزادی کے اصول کو حاصل ہو چکی یا دی جا چکی ہے۔ اسے یوں بیان کیا جاسکتاہے:
شخصی مساوات جس میں صنف، ذات، رنگ، نسل، علاقہ، زبان، مذہب، عقیدہ یا خیال کی وجہ سے کسی مرد یا عورت کو دوسروں سے کم تر یا برتر قرار دیا یا سمجھا نہیں جاسکتا۔
صنفی آزادی ہمہ گیر ہے اور صنفی مساوات بھی ہمہ گیر ۔ کسی مرد یا عورت کو اس کی صنف کی بنیاد پر حقوق، مراعات، کردار، کام، مواقع اور امکانات سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
طلاق، نکاح، ازدواجی تعلق کی بناپر مرد اور عورت کو اکٹھے رہنے، الگ ہو جانے، جنسی تعلق قائم کرنے یا نہ کرنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا۔ اسقاطِ حمل، ہم جنس شادی کا حق سلب نہیں کیا جاسکتا۔

آزادی اور مساوات کے ان دو اصولوں کو تسلیم کرنا ’لبرل ازم‘ کا اولین تقاضا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ دو اصول مختلف اور متنوع اطلاق رکھتے ہیں۔ ان کا اظہار اور استعمال فرد، گروہ ، معاشرت، قوم اور ملک میں مختلف ہے۔ ان کی تشریحات مذہب، عقیدے، نظریے کی رُو سے یکساں نہیں ہیں۔ مغربی معاشروں میں آزادیِ اظہار مذہبی شخصیات کے بارے میں جو کچھ نتائج پیدا کرتی ہے، مسلم معاشروں میں اس سے مزاحمت، نفرت، جارحیت، بے بسی اور مایوسی کے رویے اور جذبات پیداہوتے ہیں۔ ان کیفیات میں ’لبرل ازم‘ ان دونوں اصولوں کو ہی مقدم رکھتا ہے۔

لبرل کون؟
اب ایک اور سوال اہم تر ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ لبرل کون ہے؟
بظاہر تو سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ’لبرل ازم‘ کا پیروکار، اس کا ماننے اور اس پر عمل پیراہی لبرل ہے، تاہم اس سوال کا نہایت آسان جواب یوں دیا جاسکتاہے کہ لبرل وہ ہے جو:
اپنی شخصیت، راے، خواہ وہ کچھ بھی ہو ، مذہب ، عقیدہ، خیال ، تعلیم، کچھ بھی ہو، اس کے خلاف یا علی الرغم دوسری راے کا احترام کرتا ہو۔ مثال کے طور پر وہ توحید پر ایمان رکھتا ہے تو کسی کو یہ نہ کہے کہ تم مشرک ہو، کافر ہو وغیرہ۔
وہ وقت کے ساتھ ساتھ سائنس اور استدلال ،منطق و فلسفہ اور دیگر دنیاوی تعامل میں سے ابھرنے والے نئے تصورات، نظریات، عقائد، روحانیات کا احترام کرے۔
وہ کسی فرد کی طرف سے شادی کی کسی بھی صورت اختیار کرنے پر اس کی مذمت نہ کرے، نفرت کا اظہار نہ کرے، خواہ مرد مرد سے یا عورت عورت سے شادی کرے۔ کوئی مرد یا عورت ازدواجی تعلق کے بغیر جنسی تعلق قائم کریں تو اس پر گرفت نہ کرے، مذمت یا نفرت نہ کرے۔ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان اعمال، رویوں اور کاموں کو برا سمجھے لیکن دوسروں کے حق کے طور پر ان کا احترام کرے۔
وہ کسی مذہبی، اعتقادی یا روحانی اخلاقیات کا ذاتی حیثیت میں پابند ہو سکتا ہے، لیکن دوسروں کو ایسی اخلاقیات کا پابند بنا سکتا ہے اور نہ ایسا کر سکتا ہے۔ وہ اس کا اظہار اور پرچار یوں کر سکتا ہے کہ جو لوگ اس سے متفق نہ ہوں، ان کی دل آزاری نہ ہو۔
* وہ فرد کی حیثیت سے لبرل تعلیم کا حامی ہو، اس کے لیے کسی مذہبی یا اعتقادی تربیت کو لازمی نہ سمجھے۔
اُوپر بیان کردہ کیفیات اور شرائط کسی بھی لبرل کی ذات یا شخصیت کا احاطہ کرتی ہیں۔ معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے لبرل کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے:
لبرل یہ تسلیم کرتا ہے کہ حکومت کا کام کاروبار سنبھالنا ہر گز نہیں ہے، اس کا کام یہ ہے کہ وہ معاشرت اور سیاست میں آنے والی تبدیلیوں کا احترام کرے، استبداد کی ہر ممکن صورت کو ختم کرے۔ اضافی اور غیر ضروری قوانین، جیسا کہ اسلامی قوانین ہیں ، کا خاتمہ کرے۔ وہ سیاسی جماعت کی مدد سے برسر اقتدار آئے لیکن ریاست کو مقدم رکھے۔ ریاست کو کسی الہامی نظریے، عقیدے کا پابند نہ کرے اور کسی مذہب کو سرکاری نہ بنائے۔
معاشرے اور ریاست کو قدامت پرستی کی جانب جانے سے بچائے، آمرانہ حاکمیت قائم نہ کرے۔ حاکمیت اعلیٰ کے طور پر غیر انسانی ، الہامی اتھارٹی کو مقرر نہ کرے۔
انفرادی و سیاسی آزادیوں کی ضمانت دے، معاشی آزادی بحال کرے، حکومت میں عام آدمی کی شرکت کو یقینی بنائے، سیاسی و انتظامی اصلاحات کرے، آئین اور قانون کی عمل داری قائم کرے۔

قدامت پرست کون؟
اب ہم دیکھیں گے کہ قدامت پرست کون ہے؟ قدامت پرست کو لبرل کا متضاد کہا جاتا ہے۔ جو فرد لبرل نہیں وہ اس اعتبار سے قدامت پرست ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہے، اس کا مذہب کچھ بھی ہے، وہ قدامت پرست ہے۔ تاہم قدامت پرست کا متضاد ہرحال میں لبرل نہیں ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ قدامت پرست کون ہے اور لبرل کون؟ عام طور پر جب کسی کو ’قدامت پرست‘ کہا جاتا ہے تو اسے یوں لگتا ہے کہ کسی نے اسے گالی دی ہے۔ اس سے جارحیت ابھرتی اور اشتعال پیدا ہوتا ہے۔

یہ بالکل فطری سوال ہے کہ قدامت پرست کون ہے؟ پہلا جواب تو یہی ہے کہ یہ لبرل کا متضاد ہے۔ یہ معاشرت کے طے شدہ اصولوں اور مروجہ نظام کا دفاع کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے۔ یہاں یہ خلط مبحث بھی ہو جاتا ہے کہ ایک طرف قدامت پرست ہے یا روایت پرست ہے تو اس کے مقابل دوسرا فرد روشن خیال ہے، سیکولر ہے یا لبرل ہے یا پھر جدیدیت پرست، جسے انگریزی زبان میں ماڈرن کہا جاتا ہے۔

سب سے پہلے دیکھیے کہ قدامت پرست کون ہے؟
کسی بھی مذہب کا پیروکار، خواہ مسلم ہو یا مسیحی، یہودی ہو یا ہندو یا کسی روحانی سلسلے پر کاربند ہو، جیسا کہ بدھ مت، جین مت، کسی فکر کا پابند ہو، جیسے کنفیوشس ازم وغیرہ۔ ان سب میں سے وہ قدامت پرست قرار دیا جاتا ہے جو اپنے عقیدے یا نظریے کی روایات کا پابند ہو، اگر الہامی کتاب ہے تو اس کی لبرل تعبیر پر اعتراض کرتا ہو۔
مذہبی تعلیمات اور ایمانیات سے انحراف گناہ تصور کرتا ہو، حق اور باطل میں فرق کرتا ہو، اچھے اور بُرے کی تمیز کرتا ہو، حلال و حرام کا پابند ہو، اس میں نوعیت، شدت اور درجے کا فرق ہو سکتا ہے۔
اپنے مذہبی، روحانی، اعتقادی یا نظری رویوں، اعتقادات اور اظہار میں وقت کے ساتھ تبدیلی نہ لاتا ہو۔ مثال کے طور پر ایک مسلمان صریح شرعی نصوص پر ایمان رکھتا ہے۔ انھیں مسترد کرنے کا، تحریف یا تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتا، وہ قدامت پرست ہے جس میں نئے خیالات کی گنجایش نہیں ہے۔
دنیا کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر یہ ہو کہ اسے صرف ایمان یا نظریے سے ہی دیکھا اور برتا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک مخصوص انجام ہونا ہے۔ اس میں بھی کمی بیشی اور ردوبدل کی گنجایش نہیں ہے۔
کسی مذہب یا اعتقاد کی قدامت پرستی کا انحصار اس پر نہیں کہ زمانی اعتبار سے وہ کتنا پرانا ہے، جیسا کہ مسیحیت کی مثال ہے۔ یہ اسلام سے صدیوں پرانا مذہب ہے۔اسلام کو قدامت پرست مذہب کہا جاتا ہے۔

لبرل ازم اور قدامت پرستی کا فرق:
ان اصولوں اور کیفیات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں بھی بڑے خلط مبحث کا خطرہ ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہم ایک مختصر سا موازنہ و تقابل یہاں پیش کر رہے ہیں جس سے واضح طور پر یہ فرق اور قدامت پرستی کا مفہوم سامنے آجائیں گے۔

* مثال کے طور پر ہمارے معاشروں میں اہل دین کو ’دائیں بازو‘ والے کہتے ہیں۔ جب یہ معاملہ عالم گیر سطح پر آتا ہے تو لبرل طبقات کو ’دائیں بازو‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہاںیہ خلط مبحث پھر پیدا ہوتا ہے کہ ’لبرل‘ اور’ اہل دین‘ تو ایک ہو سکتے ہیں،جب کہ دوسروں سے اہل دین قریب نہیں ہو سکتے۔ یہ شدید مغالطہ ہے۔ اہل دین کوتوسب کے قر یب ہونا ہے کیونکہ وہ تو داعی ہیں۔ انھیں معاشرے کے صالح اور باکردار افراد کو منظم قوت میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس طرح ضرورت پڑنے پرلبرل طبقات اہل دین کی قوت اور صلاحیت استعمال کر جاتے ہیں۔ اسلامی جمہوری اتحاد اس کی مثال ہے۔ متحدہ مجلس عمل بظاہر دینی اتحاد تھا۔ لیکن جمعیت العلماے اسلام لبرل سیاست کی جماعت ہے۔ اس لیے خلط مبحث اس قدر بڑھا کہ قابو میں نہ آسکا اور نتائج سب کے سامنے ہیں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اہل دین کو لبرل طبقات کی حمایت اور قوت میسر نہیں آتی۔ یہ معاملہ تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) سمیت اس کے دیگر گروہوں کی سیاست سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ ان کی قوت دینی نظریات کو تقویت نہیں دے سکتی۔ دائیں اور بائیں جانے سے احتیاط ضروری ہے۔
لبرل تصورات میں پہلے پہل یہ نظریہ تھا کہ حکومت چھوٹی ہو۔ اب یہ طبقہ لبرل نہیں کہلاتا بلکہ اسے Libertarianکہا جاتا ہے۔ قدامت پرست حکومت کو عام طور پر بائیں بازو کی حکومت کہا جاتا ہے ۔ فیڈل کاسترو کا کیوبا قدامت پرست اور بائیں بازو کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ صدر قذافی کا لیبیا سجدہ سہو کرنے سے پہلے اسی زمرے میں آتا تھا۔ صدام حسین کا عراق بہت دل چسپ مثال ہے۔ یہ پہلے ’دائیں بازو‘ کا ملک تھا۔ ایران پر حملہ کیا تو دائیں بازو، یعنی امریکا، برطانیہ نے اس کی پیٹھ خوب ٹھونکی۔ جب یہ ناپسندیدہ ہو گیا تو بائیں بازو کا قرار دے دیا گیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجاد ی گئی۔ بہرحال قدامت پرست حکومت اپنے عوام پر بہت سے قوانین نافذ کرتی ہے۔ ریاست پولیس سٹیٹ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ یہ بات یاد رہے کہ ہر حکومت ریاست کو پولیس سٹیٹ ہی بناتی ہے۔ لبرل سٹیٹ کا انداز شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کا راستہ اختیار کر کے ترتیب پاتا ہے۔ نعرہ کچھ لگتا ہے اور عمل اس کے برعکس کیا جاتا ہے۔
قدامت پرست حکومت کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ تعلیم، علاج، روزگار، امن اور شہری آزادیاں ضروری حد تک حکومت کی ذمہ داری ہیں۔ لبرل حکومت کہتی ہے کہ یہ پرائیویٹ سیکٹر کے کرنے کے کام ہیں۔ حکومت کا کام اخراجات میں کمی کرنا ، بجٹ متوازن رکھنا، ٹیکسوں میں کمی کرنا، زیادہ آمدنی والوں کو ترغیبات دینا اور کم آمدنی والوں سے ٹیکس وصول کرنا ہے۔
لبرل طبقات معاشرت میں ہم جنس پرستی، آزاد خیالی اور اسقاط حمل کی حمایت کرتے ہیں۔ مرد اور عورت کی روایتی شادی کے ساتھ ساتھ عورت اور عورت،جب کہ مرد اور مرد کی شادی، یعنی ہم جنس پرستوں کی شادی کی اجازت دیتے ہیں۔ سزاے موت کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسلحہ رکھنے کی آزادی دیتے ہیں۔ قدامت پرست طبقات روایتی شادی پر زور دیتے ہیں۔ یہ طبقات طلاق سے نفرت کرتے ہیں۔ خواتین کوگھروں میں رکھنے پر زور دیتے ہیں۔
افراد کے حقوق کے معاملے میں لبرل طبقات ہر فرد کوایسا ذمہ دار سمجھتے ہیں جو ان کا استعمال خود طے کر سکتا ہے اور قوانین فطرت کے ساتھ مطابقت قائم رکھتا ہے۔ اسے اس کے اعمال کے لیے صرف قانون کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں۔ طویل مدت کی سزائیں نافذ کرتے ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو۸۶سال قید سنائی گئی۔ قدامت پرست طبقات حکومت سازی اور قانون سازی میں پارٹی اور معاشرے کو اہمیت دیتے ہیں۔ ضرورت سمجھیں تو معاشی آزادی سلب کر لیتے ہیں۔ میاں محمد نوازشریف نے فارن کرنسی اکاؤنٹس ضبط کر لیے تھے۔ وہ بظاہر لبرل تھے لیکن قدامت پرستی کا کام کر بیٹھے۔ یہ ان کے ذہنی خلجان پر محمول قدم سمجھا گیا۔ لبرل طبقات ان سے خبردار ہوگئے کہ ان سے کسی بھی نوعیت کے اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے۔

امریکا میں صدارتی انتخابات کا مرحلہ جاری ہے۔ ان کے حوالے سے ہم یہ جاننا چاہیں کہ دائیں بازو والا کون ہے اور بائیں بازو سے کس کا تعلق ہے، تو ری پبلکن پارٹی قدامت پرست ہے، اسے گرینڈ اولڈ پارٹی(GOP)بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مضبوط وفاق کی حامی ہے اور اس کے نظریات کو ان کی انتہائی صورت میں فاشزم کے قریب کہا جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو ری پبلکن صدارتی امیدوار بننا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ صدر بن گئے تو مسلمانوں کا امریکا میں داخلہ بند کر دیں گے۔ ری پبلکن امیدوار امیگریشن قوانین سخت بنانے کے حامی ہیں۔ یہ جمہوری ہونے کے باوجود ری پبلک کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔دوسرے ممالک بالخصوص مسلم ممالک کو قوت کے استعمال سے جمہوری بنانا چاہتے ہیں۔عراق اس کی مثال ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی لبرل اور ترقی پسند جماعت سمجھی جاتی ہے۔ جمہوریت کو اولیت دیتی ہے اور ہر ریاست کے واضح تشخص کی بات کرتے ہوئے ڈھیلے ڈھالے وفاق پر یقین رکھتی ہے۔ یہ بائیں بازو کی پارٹی ہے اور اپنی انتہائی نظری صورت میں کمیونسٹ نہ ہونے کے باوجود کمیونزم کے قریب چلی جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ سیکولر کون ہے؟

ہم آسان الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دنیادار فرد ہے۔ یہ مذہب کو ماننے کے باوجود مذہبی نہیں ہے۔ یہ مذہبی اشرافیہ سے بہت فاصلہ رکھتاہے۔ اپنی ذات اور شخصی اوصاف کے اعتبار سے لبرل ہے، قدامت پرست نہیں۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ ’لبرل ازم‘ ابتدا ہے ، راستہ ہے، جب کہ سیکولرازم اظہارہے، منزل ہے۔ ایک سیکولر فرد، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، مذہب یا الحاد کو اپنی شناخت نہیں بناتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ’لبرل ازم‘ سے فاشزم کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ لبرل نظریات پر عمل کراتے ہوئے یہ خود بھی فاشزم کا اظہار کرنے لگے ۔ امریکا اس کی مثال ہے۔ سیکولر سمجھتا ہے کہ معاشرتی اور معاشی معاملات میں مذہب کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس لیے سرمایہ داری کو معاشی راستہ بھی سمجھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دنیا کے معاشی مسائل کے حل میں مذہب ناکام ہوچکاہے۔ وہ اس بحث کو غیر ضروری سمجھتا ہے کہ مذہب کو ایسا حل پیش کرنے کی اجازت ہی کب دی گئی ہے۔پاکستان کی مثال سامنے ہے جس میں سود کے بغیر کاروبار زندگی کا چلنا ناممکن قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دینی جماعتوں کو مسترد کرنے کی بڑی وجہ بھی ہے۔

لبرل مسلمان؟
اس مختصر تحریر میں کوشش کی گئی ہے کہ جامع انداز میں بتایا جائے کہ ’لبرل ازم‘، قدامت پرستی، لبرل، قدامت پرست اورسیکولر کیا ہیں؟ کون ہیں اور ان کے خیالات کیا ہیں؟ اب ہم نسبتاً متنازع معاملہ زیر بحث لاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آیا مسلمان لبرل ہوتا ہے، ہو سکتا ہے؟ یاد رہے کہ لبرل طبقات کا کہنا ہے کہ لبرل مسلمان ایک گمراہ کن تعارف ہے۔

اس پہلو کو سمجھنے کے لیے ایک مثال مستعار لی جا رہی ہے۔ لبرل کہتے ہیں کہ ایک چڑیا گھر کا تصور کیجیے۔ اس میں پنجروں میں مختلف جانوروں کو قید رکھا جاتا ہے۔ لبرل مسلمان بھی ایک جانور ہے جو مذہب کے چڑیاگھر میں بند کر دیا گیاہے۔ یہ بہت سخت مثال ہے لیکن پورا مفہوم واضح کر رہی ہے۔ بعض مسلمان جب کسی مخصوص طرز یا انداز کااظہار یا مظاہرہ کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ روایت سے الگ ہے، روایت مخالف ہے یا روایت شکن ہے۔

مثال کے طور پر :
شراب نوشی کرنے والے مسلمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک لبرل مسلمان ہے۔ اب یہ لازمی نہیں ہے کہ ہر لبرل شراب نوش ہو، یا لبرل ہونا شرابی ہو نا ہر گز نہیں ہے۔ چونکہ مسلمان ایسا نہیں کرتا، اس لیے ایسے فرد کو لبرل کہہ دیا جاتاہے۔
بعض مسلمانوں کا طرز زندگی بظاہر بہت ماڈرن ہوتا ہے۔ وہ پتلون پہنتے ہیں، نکٹائی لگاتے ہیں لیکن وہ اپنے نظریات میں دین کے پکے پیروکار ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ وضع قطع میں لبرل ہیں، حالانکہ وہ نہیں ہوتے۔ انھیں زیادہ سے زیادہ غیر روایتی روایت پرست کہا جاسکتا ہے۔
دینی تعلیمات پر عمل پیرا نہ رہنے والے، نماز روزے کے تارک اورزکوٰۃ و صدقات سے دور رہنے والے مسلمانوں کو بھی لبرل کہہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ بے عمل مسلمان ہوتے ہیں، لبرل مسلمان نہیں ہوتے۔
ایسی مثالیں اور بھی ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ لبرل طبقات کا کہنا ہے کہ ان مثالوں سے ان کی توہین ہوتی ہے حالانکہ ’لبرل ازم‘ کا کھلا پن کہتا ہے کہ: ’’توہین اور غیرت نام کی کوئی شے وجود ہی نہیں رکھتی‘‘۔ وہ آزادیِ اظہار کے نام پر کیسی کیسی توہین کے مرتکب ہو جاتے ہیں، اس کا انھیں احساس بھی نہیں ہوتا۔

ایک غور طلب پہلو:
بات سمیٹنے سے پہلے ایک اہم پہلو پر غور کر لیا جائے تو موجودہ حالات سے بھی قدرے مطابقت پیدا ہوگی۔ جب کسی مسلمان یا اہل ایمان کو قدامت پرست، رجعت پرست یا بنیاد پرست کہہ کے پکارا جاتا ہے تو سننے والا، مخاطب یا جس تک بات پہنچتی ہے، فوری طور پر دو طرح کے ردعمل کا شکار ہو جاتاہے۔ وہ اس ردعمل پر کیوں اتر آتا ہے یہ الگ بحث اور نفسیاتی معاملہ ہے۔ ردعمل کی نوعیت یہ ہوتی ہے:* معذرت خواہی کا ردعمل*جارحیت کا ردعمل۔
ظاہرہے کہ یہ دونوں ردعمل نارمل نہیں ہیں۔ جب کوئی کہتاہے کہ: ’’آج کا مسلمان زمانے کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے‘‘ تو فوری ردعمل یہ ہوتا ہے کہ اس دعوے کو باطل ثابت کیا جائے اور اپنے طرزِ عمل کو حق ثابت کیا جائے۔ اس طرح اس فوری ردعمل سے گویا کہ حق و باطل کا معرکہ چھڑ جاتا ہے۔ یہ معرکہ بحث کا ہو تو اس کا انجام نظر نہیں آتا۔ یہ معرکہ آمنے سامنے ڈٹ جانے کا ہو تو جنگ و جدل کی نوبت آجاتی ہے۔ یہ دونوں نہ ہو سکیں تو بے بسی اور مایوسی کا گھیرا تنگ ہو جاتا ہے۔

یہاں پر دو طرح کے ردعمل بیان کیے گئے ہیں۔ ان پر الگ سے بات کی ضرورت ہے۔ صرف اتنا کہنا ضروری ہے کہ معذرت خواہی کے رویوں نے ہمارے معاشروں میں ایک تعداد کو دین، اس کی تعلیمات، ایمان و اعتقاد اور اس کے اطلاقی پہلوؤں کے بارے میں شک میں مبتلا کردیا ہے، اور پھر قدیم و جدیدکی جنگ کا منظرسامنے آجاتا ہے۔ کچھ تو شکست خوردگی کے عالم میں یہ کہنے لگے ہیں کہ: ’’دین اسلام بعض امور میں عاجز ہے ۔ معاشی مسائل کا حل پیش نہیں کرتا، حالانکہ صورتِ معاملہ یہ ہے کہ بہت سے راست فکر اہلِ دین بھی قرآن و سنت، حدیث و فقہ اور تفسیر و تعبیر کے ذخائر رکھنے کے باوجود عصری امور و مسائل پر ان کے اطلاق کی صلاحیت ، زمانی تبدیلیوں کی تشریح و تعبیر کی ذمہ داری سے خود کو سبکدوش کر چکے ہیں۔

اس عالم میں جارحیت کا ردعمل ابھرتا ہے تو کچھ لوگ مسئلہ بندوق سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ یوں اپنے ہی ملکوں کو تباہی سے دوچار کرتے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ: ’’چونکہ مسلم ممالک کی سرحدیں استعمار نے کھینچی تھیں، اس لیے ہم ان کو اپنے قدموں سے روند دیں گے‘‘۔ یہ ایسا ردعمل ہے جو نتائج کو نظر انداز کرتا ہے۔ ردعمل کبھی بھی نتیجے پیدا نہیں کرتا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عراق و شام تباہ ہوگئے۔ یمن و لیبیا برباد ہوگئے۔ افغانستان کئی بار لٹ گیا۔ پاکستان میں بربادی نے ڈیرے ڈال لیے۔ اس کے باوجود ردعمل سے پیدا ہونے والی جارحیت ترک کرنا گویا ’’جہاد کا انکار کرنا خیال کیا جاتا ہے‘‘۔ فی الحقیقت جھنجھلاہٹ میں خود اہلِ دین پر یہ الزام تھوپ دینا ایک گمراہ کن تصور ہے۔

ان سب پہلوؤں پر گہرے غوروغوض کی ضرورت ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ ہرمعرکہ اور ہرنوعیت کا ردعمل جہاد نہیں ہوتا۔ مسلمان طعنہ سن کر بے مزا نہیں ہوا کرتا۔ آج وہ طعنہ سنتے ہی شمشیرِ بے نیام بن جاتا ہے۔ علم کے موتی کو جہالت کے اندھیروں نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اس خلجان سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ردعمل، اغیارکی پیروی اور اپنے آپ سے علیحدگی سے وہ تباہی بڑھتی جائے گی جس نے آج مسلم اُمہ کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اسلامی تحریک کو علم و عمل کی دنیا آباد کرنا ہوگی:’’ اجتماعیت سازی کے بغیر عدلِ اجتماعی کی جدوجہد بے معنی ہے‘‘۔ یہی ہمارے افکار ہیں۔ یہ نہ تو ’لبرل ازم‘ ہے اور نہ قدامت پرستی۔ مسلمان کا راستہ اسلام سے وابستگی ہے، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہے، تب ہی وہ فرقہ فرقہ ہونے سے بچ سکتا ہے۔ ہمیشہ ذہن میں رہے کہ مسلمان صرف مسلمان ہوتا ہے، وہ لبرل، قدامت پرست، رجعت پسند یا بنیاد پرست نہیں ہوا کرتا: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ قف (اٰل عمرٰن ۳:۱۹) ’’اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے‘‘۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں