اک طرفہ تماشاہے ہماری سیاست بھی

ماضی کے اوراق کو پلٹیے تو آپ کو یاد آئے گا کہ کینیڈین شہریت رکھنے والے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار  طاہر القادری صاحب انقلاب کا دعوٰی لیے انقلابی ٹولے کے ہمراہ ایٹمی طاقت کے دارالحکومت اسلام آباد آئے، بلیو ایریا میں دھرنا شروع کیا، وہ چار دن تک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کی رٹ کو چیلنج کرتے رہے اور حکومت بے بس و لاچار دیکھائی دی۔ یہاں تک کہ چار سیاسی جماعتوں کی جانب سے تشکیل دی گئی دس اراکین پر مشتمل ایک ٹیم ان کے کنٹینر میں داخل ہوئی۔ منت سماجت کی،معاہدہ کیا، مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اوریوں محب وطن کینیڈین چڑیا کو واپس اپنے دیس میں لوٹ جانے کا پروانہ مل گیا۔

اس کے بعد  15 اگست 2013 کو سکندر نامی شخص اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ  پاکستان کے دارالحکومت آیا، بلیو ایریا  میں کلاشنکوف سمیت داخل ہوگیا اور ہماری دارالحکومت کی فل پروف سیکیورٹی کا پول کھل کر سامنے آگیااور تو اور پھر سکندر نے ایک کلاشنکوف کے بل بوتے پر  واحد اسلامی ایٹمی پاور کے دارالحکومت کو چار گھنٹے تک ہر غمال بنائے رکھا، اور پوری دنیا ہماری ریاست  کی ناکامی کا تماشہ دیکھتی رہی۔

محب وطن کینیڈین طاہرالقادری  کو سال بھر بعد  اپنے مفاد کی خاطر دیس کی یاد پھر ستائی تو 15 اگست 2014 کو اپنے سیاسی کزن جناب عمران خان کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد آئے، عمران خان 168 دن اور ان کے سیاسی کزن طاہرالقادری 68 دن تک اسلام آباد میں حکومت کے ہوتے ہوئے حکومت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں۔ان کی سپہ سالاری میں مشتعل افراد نے ایوان صدر کا گیٹ توڑا، ہجوم پارلیمنٹ ہائوس کے اندر بھی داخل ہوا، پی ٹی وی کی عمارت میں گھس کر توڑ پھوڑ بھی کی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی دیواروں کو داغ دار کیا، اپنی ہی عوام نے پولیس پر تشدد کیا انہیں مارا پیٹا گیا۔ اور حکومت تماشہ دیکھتی رہ گئی۔

اس سے پہلے دھرنے جمہوریت کے نام پر ہوتے رہے اس بار اسلام آباد میں اسلام کے نام پر دھرنا شروع ہوا. 7 نومبر 2017 کو تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکنان پورے پنجاب سے نکل کر اسلام آباد آئے، پنجاب حکومت و پولیس نے انہیں نہیں روکا، اور پھر سڑکوں پر فیصلہ کرنے والے ہجوم نے اکیس دن تک فیض آباد سمیت جڑواں شہروں کے راستوں کو ہائی جیک رکھا. پنڈی و اسلام آباد کے شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے. ہائی کورٹ کے حکم پر حکومت نے ایکشن لیا تو وہاں بھی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے دھرنا ایک شہر سے نکل کر ملک کے سولہ بڑے شہروں تک پھیل گیا. حکومت نے پریشر میں آکر نیوز چینل سمیت سوشل میڈیا بھی بند کردیا.  مگر اسکے باوجود دوہزار مظاہرین کو چھ ہزار پولیس اہلکار کنٹرول نہ کرسکیں. نتیجے میں 180 پولیس اہلکار زخمی ہوکر ہسپتالوں میں پڑے تھے۔

ہم آخر کب تہذیب یافتہ قوم بنیں گے. قانون میں ترمیم کی غلطی حکومت سے ہوتی ہے اور ہم بدلہ عوام  کی زندگی عزاب میں ڈال کر،  سرکاری املاک کو نقصان پہنچا کر.  سڑکوں کو بند کر کے،پولیس اہلکاروں پر ڈنڈے برسا کر، میٹرو اسٹیشن و انڈر بائی پاس میں توڑ پھوڑ کر کے اور لاشوں کو گرا کر نکالتے ہیں۔

سازشیں کہیں اور ہوتی ہیں اور ہم اس کا غصہ اپنی عوام کی گاڑیاں جلا کر، مریض کے ہسپتال جانے کا راستہ بند کرکے ملک میں جلاو گھیراو کرکے، اپنا ہی نقصان ہم خود ہی کرتے ہیں. ایسے میں ہمیں دشمن کی کیا ضرورت کہ وہ پنی صلاحیتیں ہمیں نقصان پہچانے پر خرچ کرے. خود کو تباہ کرنے کیلئے ہم خود ہی کافی ہیں۔

وہ دن بھی مجھے یاد ہے جب بینظیر کی موت کی خبر  ملک میں پھیلی تو اس نام پر ملک بھر میں ہڑتال اور جو جلائو گھیراؤ شروع ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کو آگ میں لپیٹ کر  رکھ دیا تھا. شاید ہی کوئی ظالم اپنے ملک کے ساتھ اتنا برا سلوک کرتا ہو۔ میں نے اس رات اپنی آنکھوں سے بینک  لاکر کو لوٹتے اور گاڑیوں کو منٹوں میں نظر آتش کرتے دیکھا. فائرنگ کی آواز اور ہر طرف جلاؤ گھیراؤ نے مجھے شدید خوفزدہ کر دیا تھا. اس رات میں انتہائی ڈر و خوف کی حالت میں گھر پہنچا۔

 ہم نے سیاست، شادی بیاہ، جشن سے لیکر ہر چیز سڑکوں پر کرنے کا عہد جو کرلیا ہے. ہم نے کچھ کرنا ہے تو سڑکوں پر ہی کرنا ہے. شادی کا ٹینٹ سڑک پر لگتا ہے. تعزیت بھی سڑک پر ہی ہوتی ہے. جلسہ بھی سڑک بند کرکے کیا جاتا ہے. کربلا کا غم بھی سڑکوں پر منایا جارہا ہے، چہلم بھی سڑکوں پر ہوتا ہے۔فیصلے بھی سڑکوں پر ہوتے ہیں. احتجاج، دھرنے، جلسے جلوس، دھرنے، سیاست سب کچھ سڑک پر ہی ہوتا ہے. ایسے میں پھر ہمارے ہاں گاڑیاں سڑکوں کے بجائے فٹ پاتھ پر چلنے لگتی ہیں. بچے ہسپتالوں کے بجائے سڑکوں یا گاڑیوں میں پیدا ہونے لگتے ہیں. یوں ریاست میں حکومت کے ہوتے ہوئے حکومت نہیں رہتی۔

یہ سب واقعات ہماری معاشرتی سوچ کی عکاس اور ہماری ریاست کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ المناک واقعات ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہمارے ہاں ریاست،حکومت،پارلیمنٹ،جمہوریت، سسٹم، عدلیہ، انتظامیہ، پولیس، اسٹیبلشمنٹ کے ہوتے ہوئے بھی دو ڈھائی ہزار لوگ سڑکوں پر آجائیں تو سب مل کر انہیں کنٹرول نہیں کرسکتے۔

ہمیں اب ایک ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ قوم بننے کی ضرورت ہے. ہمیں اب سڑک کا استعمال آجانا چاہیے. ہمیں اپنے ہی لوگوں کو نقصان پہنچانے سے باز آجانا چاہیے. حکومت، فوج، عدلیہ سمیت تمام اداروں کو  مربوط اور منظم انداز میں اپنا لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں