گرم پانی

گرم  پانی کی بارے میں بہت سارے لوگوں نےتاریخ کی کتابوں میں ضرور پڑھا ہو گا۔ بلوچستان کے ضلع  جھل مگسی  سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر گرم پانی کا ایک چشمہ موجود ہے۔ اس چشمے کے چاروں اطراف بہت لمبے لمبے پہاڑ موجود ہیں ان پہاڑوں کے اوپر مختلف قسم کے پتھر پائے جاتے ہیں۔ یہ جگہ پہاڑوں کے درمیان  ہونے کی وجہ سے  خوفناک بالکل بھی نہیں ہے۔اس وادی تک پہنچنے کے راستے بہت مشکل سہی مگر اس وادی تک پہنچنے کے بعد اس وادی  کی کشش دل میں اتر جاتی ہے ۔ کیونکہ گرم پانی پہاڑوں کو چیر کر نکلتا ہے اور پانی کی آواز جیسے بلوچی ساز سروز  گنگناتی ہے۔ جانے والا یہی محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی نئی اور عجیب و غریب دنیا میں آ گیا ہے۔ اس وادی میں پہنچنےکے  وہاں سے اٹھنے کو بالکل جی نہیں چاہتا۔

صبح کا نکلتا  ہوا سورج جب اپنی کرنیں اس گرم پانی پر بکھیرتی ہے تو گرم پانی بہت ہی قابل دید منظر  پیش کرتا ہے یہ گرم پانی سبز رنگ کا دیکھائی دینے لگتا ہے۔ اس جگہ کے مشہور ہونے کی وجہ آبشاروں سے نکلے والا گرم پانی ہی ہے۔ کئی سال پہلے دادا جی پیدل اس جگہ پہ جاتے تھے مگر اب پیدل کے بجائے صرف موٹر سائیکل پہ ہی اس جگہ پہ پہنچا جا سکتا ہے ان پہاڑوں کے بیچ یہ مناظر جنگل میں منگل کا سماں کرتا ہے۔ایک مرتبہ جو شخص گرم پانی کو دیکھنے آتا ہے اور اس پانی سے نہاتا ہے تو پھر اس شخص کا دل  بار بار اس جگہ پہ آنے کو مجبورہو جاتا ہے۔ جسکی وجہ پہاڑوں کا حسن اور گرم پانی کی کشش ہی ہے۔

راستہ دشوار سہی مگر حسن کے نظارے دیکھنے کے لیے راستے کی دشواری اور طوالت کچھ معنی نہیں  رکھتا ہے۔ فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ جگہ قدرت کا بہترین تحفہ ہے۔  اس حسن کے زیادہ تر جلوے  پیارے بلوچستان میں  کہی بھی نہیں آئیں گے ۔ ان وسیع و عریض  دلکش نظاروں کو دیکھنے کیلئے ہر سال ہزاروں لوگ اس وادی کا رخ کرتے ہیں  بلوچستان کے ان پہاڑوں پہ بائیکس صرف  رینگتے ہیں ان اونچے نیچے دیدہ زیب نظارے ہر آنے والے کے  گرد گھوم رہے ہوتے ہیں ان پہاڑوں کی لمبائی دو سے تین سو کی فٹ کی بلندی پہ ہوتی ہے ان پہاڑوں   پہ بائیک کو کنٹرول رکھنا لازم و ملزوم ہوتا ہے اگر بائیک  کنٹرول سے باہر ہوگیا تو پھر انسانی جان بچنا محال ہو جاتاہے جبکہ پہاڑوں کی  اترائی بھی سخت ہے اترائی کے دوران  بائیک کے بریک کو پکڑ کے رکھنا پڑتا ہے ۔اور آہستہ آہستہ نیچے اترا جاتا ہے۔سندھ اور بلوچستان کے ہزاروں لوگ جلدی امراض سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اس گرم پانی میں  نہانے کیلئے آتے ہیں اور  شفا یاب ہو جاتےہیں ۔جبکہ بعض مقامی  لوگوں کا قول ہے کہ اس پانی میں کچھ معدنیات یا کچھ کیمیکل پہاڑوں سے  ملا ہوا آتا ہے جو جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ مگر آج تک اس گرم پانی کا ٹیسٹ بھی کسی لیب میں نہیں کروایا گیا آخر اس پانی میں کیا موجود ہے جو جسم کو ٹھنڈک پہنچاتی ہیں ۔بحرحال اس گرم پانی میں کیا ملا ہوا ہے وہ اللہ ہی جانتے ہیں یہ مقام ایسا ہے جہاں  پہ لوگ نہیں بستے تھے بلکہ ملک  میں  بسنے والے لوگوں کے علاج  کرنے والی جگہ بستی ہیں ۔ اس حوالے سے بے چارہ گوگل کو بھی کچھ پتا نہیں ہے۔ آج تک اس دیدہ زیب جگہ گرم پانی کو حکمرانوں نے کوئی اہمیت نہ دی ہے جو افسوسناک عمل ہے جس روز سی پیک مکمل ہوا اس روز اس جگہ کی اہمیت بہت بڑھ جائے گی کیونکہ یہ جگہ سی پیک روڑ سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پہ واقع ہیں ۔آج  کل اس جگہ پہ کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے کہ کیونکہ اس جگہ پہ نہ تو کوئی بندہ رہتا ہے نہ بندے کی ذات۔ اگر ان پہاڑوں کی جانب توجہ دی  جائے تو سیاحت کے حوالے سے دلفریب مناظر  ہے اور ساتھ میں ان پہاڑوں میں قیمتی معدنیات بھی بھری پڑی ہے جو ملک کی معیشت میں  بڑا کردا ادا کر سکتے ہیں۔

 

حصہ
mm
ببرک کارمل جمالی کاتعلق بلوچستان کے گرین بیلٹ جعفرآباد سے ہے ۔ان کے ماں باپ کسان ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے انہیں ایم اے تک تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کیا۔ ببرک نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں سے حاصل کیا اور اعلی تعلیم کیلئے پھر کوئٹہ کا رخ کیا ان کی پہلی تحریر بچوں کے رسالے ماہنامہ ذہین میں شائع ہوئی اس کے بعد تحاریر کا نہ رکنے والا سلسہ جاری وساری رہا اب تک دو ہزار کے لگ بھگ تحاریر مختلف رسالوں اور اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔یہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں جبکہ ان کی تحاریر ان اخبارات اور رسالوں میں چھپ چکی ہیں اور چھپ رہی ہیں جن میں (روزنامہ پاکستان) بلاگ رائیٹر (روزنامہ ایکسپریس) بلاگ (حال احوال) کوئٹہ بلاگ رائیٹر جبکہ ان کی فیچر رپورٹس ( ڈیلی آزادی)کوئٹہ (ڈیلی مشرق )کوئٹہ ماہنامہ جہاں نما کوئٹہ میں آج تک چھپ رہی ہیں۔ان کی کہانیاں (ماہنامہ پھول) لاہور (ماہنامہ ذہین) لاہور (ماہنامہ اردو ڈائیجسٹ)لاہور ( ماہنامہ پیغام) لاہور (ماہنامہ روشنی)پنڈی (ماہنامہ افکار جدید) لاہور میں چھپ چکی ہیں ۔ان کاا یک مستقل سلسلہ بلوچستان کے حوالے ماہنامہ اطراف انٹرنیشنل کراچی میں بھی چل رہا ہے اس کے ساتھ یہ بچوں کے لیے بھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ ماہانہ (پارس) کے مدیر بھی ہیں۔ کئی ادبی ایوارڑ بھی مل چکے ہیں اور ٹی وی، پہ کچھ پروگرام بھی کر چکے ہیں۔ جبکہ اکسفورڈ پریس کی کتاب میں بھی ان کی تحریر شائع ہو چکی ہے۔ببرک پاکستان رائیٹر سوسائیٹی بلوچستان کے نائب صدر بھی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں