کاش ڈھاکہ آج بھی ہمارا ہوتا

 سولہ دسمبر 1971 کا دن جس نے سب کچھ بدل دیا۔ وقت کی سانسیں گویا تھم سی گئیں ہوں اس دن جیسے۔

سقوط ڈھاکہ؛ ایک ایسا المیہ جس کے بارے اب صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہوتا، کاش ڈھاکہ آج بھی ہمارا ہوتا! آج بھی بڑے مان سے، بڑی چاہ سے ہم ڈھاکہ جاتے۔ اس شہر کی گلیوں میں گھومتے پھرتے۔ وہاں کے باسیوں کے ساتھ مل بیٹھتے۔ کچھ اپنی سناتے، کچھ ان کی سنتے۔ کچھ شکوے کرتے، کچھ شکوے سنتے۔
وہ بھی ہمارے شہروں، گلیوں، بازاروں میں نظر آتے۔ ہمارے درمیان فقط ایک رشتہ قائم رہتا کہ ”میں بھی پاکستان ہوں، تو بھی پاکستان ہے۔” پھر ناصر کاظمی کو بھی رو رو کر نہ پوچھنا پڑتا:


وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر
وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے

کہتے ہیں نہ تو ملک راتوں رات بنتے ہیں اور نہ ہی راتوں رات ٹوٹتے ہیں۔ جس طرح ملک بننے میں ایک لمبی جدوجہد ہوتی ہے، اسی طرح ملک ٹوٹنے میں بھی سازشوں، غفلتوں، ظلم اور ناانصافیوں کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ یہ ایک کاش کہ ”کاش مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ نہ ہوتا” اپنے اندر کئی ‘کاش’ سموئے ہوئے ہے۔ 1947ء، قیام پاکستان سے 1971ء، سقوط ڈھاکہ تک کے سفر میں اتنے کاش ہیں کہ اگر تمام نہ سہی تو کچھ کاش پر ہی عمل ہو پاتا تو آج واقعی ڈھاکہ ہمارا ہوتا۔ مثلاَ
کاش لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد 1951۔1958 تک مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے تحریک پاکستان کے مخلص رہنماوں کو بتدریج مرکزی قومی دھارے سے دور نہ کیا جاتا۔
کاش مغربی پاکستان کے افسران اور حکام مشرقی پاکستان کے لوگوں سے ہتک آمیز سلوک روا نہ رکھتے۔
کاش ایوب خان ابڈو کا قانون بنا کر حسین شہید سہروردی اور دیگر ان جیسے محب وطن بنگالی سیاستدانوں پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی نہ لگاتے۔
کاش مشرقی پاکستان میں بار بار آنے والے سائیکلون (سمندری طوفان) میں مغربی پاکستان سے بے انتہا امداد جاتی۔
کاش یہ نظریہ نہ اپنایا جاتا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کیا جائے گا۔ بلکہ مشرقی پاکستان میں بھی فوج کا ایک بڑا حصہ رکھا جاتا۔


کاش شیخ مجیب الرحمٰن اپنے چھ نکات سے پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش نہ کرتا۔
کاش ایوب خان کسی دانشمند انسان کے ہاتھ ملک کی باگ دوڑ دے کر جاتے۔
کاش جنرل یحییٰ خان 1970 میں الیکشن کا فیصلہ کرنے کی بجائے پہلے بنگالیوں سے کی گئی ماضی کی زیادتیوں کا ازالہ کرتا، پھر اس کے بعد الیکشن ہوتا۔
کاش اقتدار شیخ مجیب کو ہی دے دیتے اور اسٹیبلشمنٹ موجودہ زمانے کی طرح اس وقت بھی قومی سلامتی کے امور کو پیچھے بیٹھ کر بھی اپنے قابو میں رکھتی۔
کاش شیخ مجیب الرحمٰن اقتدار نہ ملنے پر ملک گیر تحریک تو چلاتا لیکن ہندوستان کے ساتھ مل کر اسے پاکستان توڑنے کی تحریک نہ بناتا۔
کاش یحیٰی خان 1965 کی جنگ میں امریکی روئیے سے عبرت پکڑتا اور 1971 میں امریکی بحری بیڑے سے مدد کی آس نہ لگاتا۔
کاش یحییٰ خان سمجھ سکتا کہ دشمن ملک کے اس پار، یہاں سے دو ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ دور ایک خطے (مشرقی پاکستان) میں عوام کو اپنا دشمن بنا کر تھوڑی سی فوج کئی گنا بڑے دشمن کو روک نہیں سکتی۔
اگر یہ سب کچھ یا اس میں سے بہت کچھ ہو پاتا تو آج حالات بالکل مختلف ہوتے۔ نہ ہم روتے، نہ وہ تڑپتے۔ نہ انھیں نظریں پھیرنا پڑتیں، نہ ہمیں شرمسار ہونا پڑتا۔ نہ ہم پچھتاتے اور نہ ان میں سے بہت سے پچھتاتے۔
فیض احمد فیض نے 1974 میں ڈھاکہ سے واپسی کے سفر کے دوران سچ ہی لکھا تھا:
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

حصہ
mm
چکوال کے رہائشی جواد اکرم نے بین الاقومی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہے اور عالمی امور پر لکھتے رہتے ہیں۔ملک کے اردو اور انگریزی اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل میں ان کے تجزیے شایع ہوتے رہتے ہیں۔

1 تبصرہ

  1. حقائق پر مبنی نہایت عمدہ تحریر………کیا ان مصنف سے ذاتی طور پر رابطہ کیا جا سکتا ہے…..

جواب چھوڑ دیں