آرمگڈون کی آخری لڑائی

اسوقت دنیا میں موجود تمام ممالک میں سب سے کم عمر ملک اسرائیل ہے  جو 14 مئی 1948 کو وجود میں آیا ۔ آپ نقشے پر نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئیگا کہ یہ ایک خنجر کی طرح مشرق وسطی میں گھونپا گیا ہے ۔ اسرائیل نے اپنے آپ کو عرب اسرائیل جنگ میں منوایا  جب 5 جون 1967 کو تین عرب ممالک شام ،مصر اور اردن سے اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی آپ تماشہ ملاحظہ کریں سترہ عرب ممالک میں سب سے بڑی ائیر فورس رکھنے والا مصر، اسرائیل سے کہیں زیادہ آرمی اور اسلحہ رکھنے والے اردن اور شام کو محض 6 دن بعد 10 جون کو اسرائیل کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ اس جنگ کا اختتام مسلمانوں اور خاص کر مشرق وسطی میں موجود عرب ممالک کے لئیے ذلت آمیز تھا ۔ اسرائیل جاتے جاتے مسلمانوں کی عزت بھی اتار لے گیا ۔ مصر کو اپنا پورا جزیرہ نمائے سینا ، اردن کو اپنا پورا مغربی کنارا جو کہ ” ویسٹ بینک ” کہلاتا ہے اور شام کو اپنی گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے حوالے کرنا پڑیں ۔ ان عرب ممالک کے بیس ہزار سے زیادہ فوجی اس جنگ میں مارے گئے جب کہ اسرائیل کے چند سو لوگ ہی ہلاک ہوئے ۔ محض انیس سال بعد اسرائیل نے اپنا رقبہ دگنا کرلیا ،پورے مشرق وسطی کو خصوصا اور عالم اسلام کو عموما یہ پیغام بھی دے دیا کہ آئندہ ہاتھ ذرا دیکھ کر رکھنا ۔ آپ اسرائیل کی ڈھٹائی دیکھیں اقوام متحدہ جس علاقے کو فلسطینی ریاست بولتا ہے اسرائیل ان کو متنازعہ علاقہ بولتا ہے ۔ 8،379،379 لوگوں پر مشتمل اسرائیل ” چھوٹے سے قد پر قیامت شریر ” کی مانند چھایا ہوا ہے ۔ اسرائیل کی فوج اسوقت دنیا کی چوتھی بڑی فوج ہے ،صرف امریکا ، چین اور روس کی افواج ہی اس سے بڑی ہیں ۔ اسرائیل میں لازم ہے کہ ہر گھر سے کوئی نہ کوئی مرد یا عورت فوج میں شامل ہوگا ، آپ اسرائیل کی بد معاشی کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ دنیا میں موجود ہر یہودی اسرائیل کا شہری ہوتا ہے اور اسرائیل کے نزدیک ہمارے کسی بھی شہری پر حملہ یا اس کی بے عزتی پورے اسرائیل پر حملہ یا بے عزتی سمجھی جائیگی اور اسرائیل اپنے ایک شہری کے بدلے اس ملک کے ایک ہزار لوگ مارنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ دنیا کا سب سے مضبوط دفاعی میزائل سسٹم بھی اسرائیل کے ہی پاس ہے ۔ آپ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اسرائیل کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اسرائیل کی شرح خواندگی 97 فیصد  سے زیادہ ہے ۔ گھروں میںکمپیوٹر کے استعمال کے حوالے سے اسرائیل پہلے نمبر پر ہے ۔ دنیا کا سب سے پہلا اینٹی وائرس بھی اسرائیل نے ہی بنایا تھا ۔ مائیکرو سوفٹ اور سیسکو جیسی عظیم الشان کمپنیز کے ریسرچ سینٹرز بھی امریکا کے بعد اسرائیل میں ہی ہیں ۔ اسوقت صرف نو ممالک ایسے ہین جنکا اپنا سیٹلائٹ سسٹم ہے اور اسرائیل ان میں سے ایک ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کسی بھی ملک حتی کہ امریکا تک سے اس کی انفارمیشن شئیر نہیں کرتا ہے ۔ اسرائیل میں نوے فیصد گھر سولر سسٹم پر ہیں جس کی وجہ سے ریاست پر توانائی کا بوجھ کم سے کم ہے ۔ پچھلے کچھ سالوں میں اسرائیل نے اپنی زرعی پیداوار میں بھی سات فیصد تک اضافہ کیا ہے ۔ یہودی کیونکہ ” نسلی ” یہودی کے سوا کسی کو بھی ” اصلی ” یہودی نہیں سمجھتے ہیں اسلئیے ان کے پاس ” منصوبہ بندی ” نام کی بھی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ محض ستر سالوں میں معاشی ، زرعی ، فوجی ،تعلیمی اور سائنسی شعبوں میں اسرائیل نے خود کو ناقابل تسخیر بنایا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل چاہتا کیا ہے ؟ بنیادی طور پر یہودیوں کا چار نکاتی ایجنڈا ہے :

  •  گریٹر اسرائیل
  •  مسجد اقصی اور گنبد صخرہ کی زمیں بوسی
  •  ہیکل سلیمانی کی تعمیر
  •  آرمگڈون

1897 میں ایک یہودی نے ” گریٹر اسرائیل ” کا نقشہ پیش کیا تھا جس کو 1980 میں پایہ تکمیل کو پہنچ جانا تھا ۔ اس نقشے کے مطابق پورا مصر ، عراق ، شام ، لبنان جبکہ ترکی اور سعودی عرب کا کچھ حصہ شامل ہے ۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لئیے “داعش ” کو بنایا گیا ہے تا کہ شام اور عراق کو علیحدہ کر کے اس پر بآ سانی قبضہ کرلیا جائے ۔ 1967 کی فتح کے بعد بن گوریون جو اسرائیل کا پہلا وزیر اعظم تھا اس نے پیرس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عربوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ پاکستان ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے امریکا کے ذریعے سے مسلسل افغانستان اور پاکستان میں جنگ مسلط کر رکھی ہے ۔ گریٹر اسرائیل میں سب  بڑی رکاوٹ افغانستان کی طالبان حکومت اور پاکستان کا ” ایٹم بم ” تھا ۔ طالبان پر تو انھوں نے کسی حد تک قابو پالیا ہے لیکن ایٹم بم پر نظریں گاڑیں بیٹھے ہیں ۔ پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ امریکا اور بھارت ہم آواز ہیں اور یہ آواز ان کی نہیں ہے ان سے نکلوائی جا رہی ہے ۔ کیونکہ ساری دنیا میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کے پاسپورٹ پر جلی حروف میں لکھا ہے ” یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے ساری دنیا کے لئیے کار آمد ہے ” دوسرا اہم منصوبہ گنبد صخرہ اور مسجد اقصی کی زمیں بوسی ہے ۔ یہ اس کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں ۔ مسجد اقصی وہ جگہ ہے جہاں ” امام الانبیاء ” کو نبیوں کی امامت کا اعزاز حاصل ہو ا  ۔تقریبا چودہ سال تک مسلمان ” مسجد اقصی ” کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے ہیں ۔ اسی کے ساتھ وہ مسجد ہے جہاں حضرت عمر ؓ نے نماز ادا کی ۔ عبد الملک بن مروان نے اس جگہ گنبد بنا کر اسے کئی ٹن سونے سے مزین کردیا ۔ اصل میں تو یہ پوری جگہ مسجد اقصی کہلاتی ہے اور یقینی بات بھی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک لاکھ تئیس ہزار نو سو ننانوے انبیاء کی جماعت اس پورے حصے میں ہی کروائی ہوگی۔بلکل بیچ میں ” ڈوم آف راک ” ہے ۔جہاں سے اللہ کے نبی ﷺ نے براق پر سفر شروع کیا ۔ روایات میں آتا ہے کہ ساتھ ہی وہ پتھر بھی اٹھ گیا تھا  پھر حضرت جبرائیل ؑ نے اسے اپنے ہاتھ سے واپس جگہ پر دھکیلا اور وہیں انکے ہاتھ کا نشان بھی موجود ہے ۔ ٹھیک اسی جگہ یہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں ۔ بن گوریون نے اسی تقریب میں یہ بھی کہا تھا کہ ” جب ہم ” ٹیمپل ” تعمیر کریں گے تب یہ سونا ہمارے کام آئیگا ۔ اس ہیکل کے اندر وہ ” داؤد ؑ کا  پتھر ” کہ جس پر ان کی اور پھر بعد میں سلیمان ؑ کی تاج پوشی ہوئی تھی  اسے وہاں رکھیں گے، ساتھ ہی ساتھ ” تابوت سکینہ”   جس میں عصائے موسی ، من و سلوی کے برتن اور انجیل کی دو  آسمانی سلیں بھی موجود ہیں جو  وہاں رکھی جائینگی  ۔ چوتھی اور آخری چیز ” آرمگڈون کی پہاڑی ” ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں  یہودیوں کی مسلمانوں سے آخری جنگ ہوگی ۔ اس جنگ میں ان کی کمان ” دجال ” کے ہاتھ میں ہوگی ۔ جس کی آمد کے لئیے وہ دیوار گریہ جو بیت المقدس کے ساتھ ہے لگ کر روتے ہیں اور ” شمونے عسرے ” کرتے ہیں یعنی “دجال ” کو آواز دیتے ہیں ان کے عقیدے کے مطابق وہ وہیں نیچے غار میں موجود ہے اور جس دن ہیکل تعمیر ہوگیا اس دن وہ ہماری مدد کو آجایئگا ۔ جبکہ مسلمانوں کی کمان ” حضرت عیسی ؑ ” کے ہاتھ میں ہوگی جو دمشق کی جامع مسجد میں عین فجر کے وقت نازل ہونگے  امام مہدی کی امامت میں نماز ادا کریں گے لشکر جمع ہونگے اور  آرمگڈون پر آخری لڑائی ہوگی ۔اسلامی عقیدے کی مطابق وہ جنگ مسلمان جیت جائینگے اس کے چالیس سال بعد تک حضرت عیسیٰؑ زندہ رہینگے۔عیسائیوں کا انتہا پسند فرقہ “ڈونلڈ ٹرمپ ” کا تعلق بھی اسی فرقے سے ہے  اور یہودی اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمانوں کو ذلت آمیز شکست دینی ہے ۔ اس کے لئیے وہ مسلسل تیاری کر رہے ہیں انھوں نے ہر اعتبار سے اور ہر ہر لحاظ سے اپنے آپ کو مضبوط کیا ہے ۔ یہ جنگ ہونی ہے یہ چاروں کام بھی ہونے ہیں اللہ کے نبی ﷺ کی سینکڑوں احادیث اس موضوع پر موجود ہیں ۔ آخری صف بندی جاری ہے ۔ جس کا ایمان مضبوط ہوگا ۔ جس نے خود کو دین کو قائم کرنے کے لئیے وقت لگایا ہوگا وہ لشکر کو چن کر اس کے ساتھ ہوجائیگا اور اگر اس سے پہلے مرگیا تو حق والوں کے ساتھ اٹھے گا ۔ اور ہم ابھی تک ہاتھ باندھنے اور چھوڑنے پر جھگڑا کر رہے ہیں ۔ ابھی تک محمد ﷺ کے نور اور بشر ہونے کا فیصلہ باقی ہے ۔ ہم کھیرا کھانے کا سلامی طریقہ اور روزے کی حالت میں استنجا کے وقت پانی کی مقدار دریافت کر رہے ہیں ۔ عرب شہزادوں کی ساری عیاشیوں کا مرکز امریکا اور یورپ ہے – 60 ٹریلین ڈالرز عربوں کے امریکا کے بینکوں میں ہیں ۔امریکا کے بعد امریکی فوجیوں کا سب سے بڑا اڈہ قطر میں ہے جن کی تنخواہ بھی قطر کے ہی ذمہ ہے ۔ سونے سے مزین باتھ رومز اور ہیروں سے چمکتی گاڑیوں کے ساتھ ہم ان سے مقابلہ کرنے جا رہے ہیں ۔ ان کا سب کچھ عمل سے وابستہ ہے اور ہمارا سب کچھ نعروں سے ، محض نعروں سے ۔

حصہ
mm
جہانزیب راضی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں،تعلیمی نظام کے نقائص پران کی گہری نظر ہے۔لکھنے کے فن سے خوب واقف ہیں۔مختلف اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں