سقوطِ ڈھاکہ اور نظروں سے اوجھل حقائق

16 دسمبر ہماری تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب جب ہمارا شرقی بازو ہم سے جدا ہوا۔ اس سانحے کے حوالے سے آج تک حقائق منظرِ عام پر نہیں آسکے ہیں، اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوگی کہ جن لوگوں نے وہاں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر تحفظِ پاکستان کی جنگ لڑی انہیں موجودہ پاکستان میں دہشت گرد، تخریب کار، قاتل وغیرہ کہا گیا جب کہ بنگلہ دیش میں انہیں غدار کہا جاتا رہا ۔اس سانحے کے بیالیس سال بعد وقت نے گواہی دی کہ وہی لوگ سچے تھے، انہی لوگوں نے وطن کی خاطر جانیں قربان کی تھیں۔ لسانیت کا پرچار کرنے والوں نے ہمیشہ وطن کا دفاع کرنے والوں کو دہشت گرد کہا تاکہ خدانخواستہ اگر دوبارہ علیحدگی کی کوئی تحریک چلائی جائے تو عوام میں اس کے خلاف کوئی مزاحمت نہ پیدا ہوسکے، یہاں ان کو غدار، دہشت گرد، بنگالیوں کا قاتل کہا جاتا رہا اور چالیس سال بعد بنگلہ دیش کی قوم پرست حکومت نے دفاع وطن میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والوں کویہ کہہ کر گرفتار کرنا شروع کیا کہ ’’ ان لوگوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کے خلاف پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا‘‘ یہ لوگ اس وقت بنگلہ دیش کے بجائے پاکستان کے ساتھ تھے، ‘‘ ۔ پاکستان سے محبت کے جرم میں ملا عبدالقادر کو پھانسی دے کر شہید کیا گیا، پروفیسر غلام اعظم کو 90سال کی عمر میں عمر قید کی سزا سنائی گئی اور قید کے دوران ہی اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ان دونوں شہداء کے جنازے ان کی سچائی اور بے گناہی کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔مطیع الرحمن نظامی اور ان جیسے درجنوں لوگوں کو بھی سزائے موت سنائی جاچکی ہے اور وہ لوگ اس وقت بھی بنگلہ دیش کی جیلوں میں صبر و استقامت کے ساتھ پاکستان سے محبت کے جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گھر کی گواہی ہی سب سے زیادہ معتبر گواہی ہوتی ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے ہم آج یہاں ایسے ہی گھر کے ایک بھید ی کی گواہی پیش کریں گے۔ لیفٹنٹ کرنل ( ر) شریف الحق دالیم پاکستان آرمی کے ان افسران کے لیڈر تھے جو سب سے پہلے پاکستان سے بھاگ کر بھارت چلے گئے تھے۔ان کی کتاب ’’ پاکستان سے بنگلہ دیش ۔ ان کہی جدو جہد ‘‘ میں انہوں نے اس حوالے سے کئی چشم کشا انکشافات کیے ہیں۔یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ دسمبر1971کو پیش آیا جب کہ علیحدگی کی تحریک تو 1968 میں ہی اگرتلہ سازش کے ذریعے شروع ہوچکی تھی، عام بنگالی پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے تھے لیکن قوم پرست جماعتیں اور گروہ بھارتی شہہ پر علیحدگی کی راہ پر چل پڑے تھے اور بنگلہ دیش میں سول نافرمانی شروع ہوچکی تھی۔

بات ہورہی تھی شریف الحق دالیم کی۔ 25مارچ 1971کو پاکستان آرمی نے بغاوت کو کچلنے کے لیے آرمی آپریشن شروع کیا ۔ دوروزہ آپریشن کے بعد بظاہر تو حالات پُر سکون ہوگئے لیکن در حقیقت لاوا پھٹ پڑ اتھا اور اب کھلے عام بغاوت شروع ہوچکی تھی۔ پاکستان آرمی کی عملداری صرف ڈھاکہ چھاؤنی اور اس کے ارد گرد کے علاقوں تک محدود تھی جب کہ دیگر شہروں میں مسلح بغاوت پھیل گئی تھی۔بقول کرنل عثمانی ’’ 25مارچ کی رات کی وحشیانہ کارروائی کے بعد ایسٹ بنگال رجمنٹوں، ای پی آر، پولیس اور انصار اور مجاہد فورس کے بہادر اور دلیر بنگالی ممبران نے اس کھلم کھلا تشدد اور نسل کشی کے خلاف بغاوت کردی مسلح مزاحمتی جدوجہد میں کود پڑے۔ وہ ریڈیو پر میجر ضیاء( سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیا کے خاوندبعد ازاں میجر ضیاالرحمن نے مجیب حکومت کا تختہ پلٹا)کی للکار کے جواب میں اسلحہ اٹھا کر میدا ن میں آگئے۔۔۔۔ اس طرح آزادی کی یہ جنگ شروع ہوئی، شروع میں یہ معرکے رسمی انداز میں لڑے گئے۔ ۔۔۔۔پالیسی یہ تھی کہ ان(پاک فوج ) کے راستے میں جس قدر ہوسکے رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔۔۔۔۔۔۔چٹا گانگ، کومیلا، جیسور، سلہٹ، راج شاہی، دیناج پور، رنگ پور، نواکھلی اور ملک کے دوسرے حصوں میں اسی طرح سے جنگیں لڑی گئیں۔‘‘(حوالہ: پاکستان سے بنگلہ دیش از شریف الحق دالیم۔ صفحہ 181 )

یہ تصویر کا ایک رخ ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہی رہتا ہے۔مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت شروع ہوچکی تھی اور مغربی پاکستان میں موجود بنگالی افسران میں سے کئی ایک ان جنگ میں شریک ہونے کے لیے بے تاب تھے جیسا کہ شریف الحق دالیم نے اپنی کتاب میں کئی بنگالی افسران کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اپنے فرا ر اور پاکستان آرمی کو نقصان پہنچانے کے لیے انہوں نے کئی منصوبے بنائے تھے اور بنگالی افسران سے ان کا ذکر بھی کیا تھا۔لیفٹنٹ کرنل شریف الحق دالیم نے مارچ کے اوائل سے ہی بغاوت کا منصوبہ بنا رکھا تھا، 25مارچ کے بعد انہوں نے اس پر عمل درآمد شروع کیا،15اپریل کو انہوں نے فرار کے منصوبے کا آغاز کیا اور 16اپریل کو وہ سرحدی قصبے ہارون آباد کے راستے سے بھارتی سرحدی علاقے سری کرن میں پہنچ چکے تھے, 17اپریل کو وہ راجستھان کے شہر سری گنگا نگر میں تھے ، 18 اپریل کو وہ لوگ دہلی پہنچے اور 20اپریل کو انہوں نے خود کو بھارتی حکام کے حوالے کردیا۔ وہاں ان سے تفتیش کی گئی ، جس میں انہوں نے اہم ملکی اور فوجی راز بھارتی حکام کو بتائے ۔(پائلٹ آفیسر مطیع الرحمن نے 20اگست 1971کو طیارہ اغوا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔)

25 مارچ کے فوجی آپریشن کے 21دن بعدبعد عوامی لیگ اور بھارتی حکومت نے گٹھ جوڑ کرکے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کردیا، اس کا آغاز کلکتہ میں پاکستانی مشن نے بغاوت کردی اور پاکستانی حکومت سے منحرف ہوکر انہوں نے پاکستانی مشن پر بنگلہ دیش کا پرچم لہرا دیا۔ اس طرح بنگلہ دیش کی پہلی عبوری حکومت قائم کی گئی،کلکتہ میں پارک سرکس، 58بالی گنج میں عبوری حکومت کا سیکریٹریٹ قائم کیا گیا جسے مجیب نگر کا نام دیا گیا، عبوری حکومت کے وزیر اعظم تاج الدین احمد ، وزیر خارجہ کھنڈ کر مشتاق تھے جب کہ کرنل عثمانی اس کے کمانڈر انچیف تھے۔یہاں بات پھر ذہن نشین رہے کہ ابھی دسمبر کا معرکہ شروع نہیں ہوا ہے، یہاں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت بھی قائم ہوچکی تھی جس کو بھارت نے تسلیم بھی کرلیا تھا۔جولائی 1971میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے وفد نے بھی اس عبوری حکومت کے ارکان سے ملاقات کی ۔8جولائی 1971کو پاکستان آرمی کے بھگوڑوں اور مسلح باغیوں پر مشتمل فوج کے کمانڈروں کا اجلاس بھی مجیب نگر میں طلب کرلیا۔اس اجلاس میں لیفٹینٹ کرنل ایم اے رب چیف آف اسٹاف اور گروپ کیپٹن اے کے کھنڈ کر کو ڈپٹی چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا۔( واضح رہے کہ البدر کی تشکیل 21مئی 1971کو کی گئی تھی جب کہ مسلح بغاوت اور آزاد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت 17اپریل 1971کو قائم ہوچکی تھی )

یہ تو انتظامی امور تھے، اب زرا عسکری امور اور ان کی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔8جولائی کو ہونے والی کمانڈرز کانفرنس کے بعد جنگی حکمت عملی کے نمایا نکات درج ذیل تھے۔

گوریلا جنگ کے اہداف:( الف) دشمن کے ساتھ تمام سمتوں سے لڑنے کے لیے بنگلہ دیش کے اندر انتہائی موزوں طریقوں اور راستوں سے گوریلوں کی ایک بڑی تعداد کو داخل کرنے کے انتظامات کرنے ہونگے۔

(ب) کسی بھی صنعت کو چلنے نہیں دیا جائے گا، پاور اسٹیشن، سب اسٹیشنوں اور برقی تنصیبات کو تباہ کرنا ہوگا۔

(ج) کسی بھی قسم کے خام مال یا تیار شدہ اشیا کی برآمد کو مکمل طور پر روکنا ہوگ، تمام گوداموں کو تباہ کرنا ہوگا۔

(د) تمام قسم کے ذرائع مواصلات اور ذرائع آمد و رفت مثلاً سڑکیں، ریلوے لائینں، دریائی ذرائع آمد و رفت اور ریل وغیرہ کو مکمل تباہ کرنا ہونگے تاکہ دشمن رسد کی لائن کو قائم نہ رکھ سکے۔

(ہ) جنگی حکمتِ عملی کو اس طرح ترتیب دیا جانا چاہیے کہ دشمن مختلف علاقوں میں گھر کر رہ جائے

(و) گوریلا دستوں کو لوگوں میں اس طرح گھل مل کر رہنے کی تربیت دی جائے جس طرح مچھلی پانی میں رہتی ہے اور دشمن کو نیست و نابود کرنے کے لیے ہر طرف سے اس پر حملے کیے جانے چاہیئں۔

(ز) پورے میدان ِ جنگ کو گیارہ سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر سیکٹر کو مزید سب سیکٹروں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ ہر سیکٹر میں ایک سیکٹر کمانڈر اور سیکٹر ہیڈ کوارٹرز تھا۔(حوالہ: پاکستان سے بنگلہ دیش از شریف الحق دالیم۔ صفحہ 208)

اب ہم ان گیارہ سیکٹرز کی افرادی قوت کا جائزہ لیتے ہیں۔

سیکٹر نمبر ۱: فوجیوں کی کل تعداد: 2100 + 20,000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد: 22,100

سیکٹر نمبر ۲:فوجیوں کی تعداد:4000 + 30,000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد : 34,000

سیکٹر نمبر ۳؛ 10,000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد10,000

سیکٹر نمبر۴: فوجیوں کی تعداد 3000 + 12,000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد:15,000

سیکٹر ۵: فوجیوں کی تعداد: 800 + 6000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد: 6,800

سیکٹر : ۶ فوجیوں کی تعداد : 1200 + 6000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد7,200

سیکٹر۷:فوجیوں کی تعداد: 8000 + 4000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد12,000

سیکٹر۸:فوجیوں کی تعداد: 3000 + 8000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد11,000

سیکٹر۹ :فوجیوں کی تعداد: 1500 + 15,000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد16,500

سیکٹر۱۰ :اس سیکٹر کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں تھیں

سیکٹر۱۱:فوجیوں کی تعداد: 25,000 مسلح جنگجو ( گوریلے ) کل تعداد25,000

(حوالہ: پاکستان سے بنگلہ دیش از شریف الحق دالیم۔ صفحہ 208,209,210)

ان تمام سیکڑز کی مجموعی تعداد بنتی ہے 159600 جبکہ بعد میں باقاعدہ جنگ میں پانچ لاکھ بھارتی فوج الگ ہے۔ان سب کے مقابلے میں پاکستان آرمی کی تعداد کتنی تھی؟؟؟؟ رضاکاروں کو ملا کر نوے ہزار فوجی

ان تمام حقائق کو سامنے رکھیں ، حالات و واقعات کو تجزیہ کریں اور پھر سوچیں اگر آپ کے سامنے ایسی صورتحال پیش آتی ، توکیا آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے یا دفاع وطن کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے؟ اپنی فوج کو دشمنوں سے اکیلے نبردآزما ہونے دیتے یا اس کے دست و بازو بنتے؟ یقیناً آپ لوگوں کا جواب یہی ہوگا کہ ہم دفاع وطن کے لیے اٹھ کھڑے ہونگے، اپنی فوج کے دست و بازو بنیں گے۔ ایسا ہی ہے نا؟

 تو پھر سوچیں کہ اگر اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی نے اس کٹھن صورتحال اور مشکل حالات میں پاکستان فوج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو کیا یہ فیصلہ غلط تھا؟ اگر انہوں نے مسلح باغیوں کا ساتھ دینے کے بجائے ان کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تو کیا ان کا یہ فیصلہ درست نہیں تھا؟ اگر انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کودو لخت ہونے سے بچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادی تو کیا یہ دہشت گردی تھی؟البدر اور الشمس کے رضاکاران محب وطن بنگالی تھے جنہوں نے دفاع وطن کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے بدر و احد کے معرکوں کی یاد تازہ کردی تھی۔ آج بنگلہ دیش میں تو ان کو پاکستان سے محبت اور بنگلہ دیش کی آزای کے خلاف کام کرنے پر مجرم ٹھہرایا جارہا ہے، ان کو سزائے موت سنائی جارہی ہے اور پاکستان میں انہیں دہشت گرد اور مجرم اور بے گناہوں کا قاتل کہا جارہا ہے۔البدر و الشمس کے رضاکار نہ کل کسی صلے اور ستائش کے متمنی تھی اور نہ آج ہی انہیں کسی میڈل کی ضرورت ہے ہاں لیکن اتنا تو ضرور کیجیے کہ ان کے حق میں آواز تو اٹھایئے، جب کوئی کہے کہ یہ غدار اور دہشت گردتھے تو زرا جرات مندی سے ان کا دفاع تو کریں، ایسا کرنے سے البدر کے مجاہدین کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن میرا اور آپ کا ضمیر مطمئن رہے گا، اور خدانخواستہ کل کو اگر پاکستان میں دوبارہ کوئی ایسی سازش شروع کی گئی تو لوگ ان کے عمل کو مشعل راہ بنا کر دفاع وطن کا فریضہ سر انجام دیں گے۔

حصہ
mm
سلیم اللہ شیخ معروف بلاگرہیں ان دنوں وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیچرز ٹریننگ بھی کراتے ہیں۔ درس و تردیس کے علاوہ فری لانس بلاگر بھی ہیں اور گزشتہ دس برسوں سے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر مضامین لکھ رہے ہیں۔ ...

4 تبصرے

  1. بہترین ٹائم لاءن پر مشتمل بلاگ ہے،یہ معلومات عام کرنے کی آج جتنی ضرورت ہے ،اتنی پہلے نہیں تھی ،جب ایک طرف مملکت خداد ادمیں اسلام پسندوں کو دہشت گردقراردے کر ان کے خلاف گھیرا تنگ کیاجارہاہے تودوسری طرف انھیں البدر اورالشمس کے انجام سے ڈرایاجارہاہے۔ویل ڈن ،سلیم اللہ

جواب چھوڑ دیں