خدا کی حاکمیت تسلیم کرنے کی انوکھی شرط

ہم دور جہالت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔مکہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت علی الاعلان شروع کی تو قریشِ مکہ احکام خداوندی ماننے میں پس وپیش سے کام لیتے تھے۔
انکا کہنا تھا کہ اللہ ہم سے خود آکر کیوں نہیں ہم کلام ہوتا؟
اسی طرح بے علم لوگوں نے بھی کہا کہ خود اللہ تعالٰی ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا ، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ ایسی ہی بات ان کے اگلوں نے بھی کہی تھی ، ان کے اور ان کے دل یکساں ہوگئے۔ ہم نے تو یقین والوں کے لئے نشانیاں بیان کر دیں۔
حجتیں نئی ہوں یا پرانی مقصد ایک ہی ہوتا ہے احکامات کے ماننے میں پس پیش لیت و لعل سے کام لینا ہے ۔
یہی وہ لوگ جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ سورہ البقرہ 8 تا 15 میں ارشاد فرماتا ہے:
’’اور کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان دار نہیں ہیں۔اللہ اور ایمان داروں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور نہیں سمجھتے۔ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر اللہ نے اِن کی بیماری بڑھا دی، اور انْ کے لیے دردناک عذاب ہے اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے اور جب اْنہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔خبردار بے شک وہی لوگ فسادی ہیں لیکن نہیں سمجھتے۔اور جب انہیں کہا جاتا ہے ایمان لاؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح بے وقوف ایمان لائے ہیں، خبردار وہی بے وقوف ہیں لیکن نہیں جانتے‘‘۔
اور پھر آیت 15 میں اللہ نے فرمایا:
’’اللہ ان سے ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی میں حیران رہیں‘‘۔
یہی کچھ صورتحال زمانہ حال میں بھی ہے۔ کبھی احکام خداوندی میں ٹیڑھ ڈھونڈتے ہیں اور کبھی رسول کریم صلی اللہ کے لائے ہوئے پیغام انھیں فرسودہ نظر آتے ہیں حتی کہ کبھی خدا کے وجود سے ہی انکاری ہوجاتے ہیں یا اس کے حاکم ہونے میں ہی شبہات کے اظہار کرکے حجتیں پیش کرتے ہیں کہ:’’ خدا کی حاکمیت تب تسلیم کریں گے جب وہ براہ راست خود آکر حکومت سنبھالے گا‘‘۔
قرآن میں کئی سورتوں میں اللہ تعالی اپنی حاکمیت کا اظہار مختلف پیرائے میں کرتا ہے ۔سورہ الاعراب میں ہے کہ:
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے پھر عرش پر قائم ہوا وہ شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ درحقیقت یہ حجتیں کرنے والے وہی لوگ جنکے دل غافل ہوچکے ہیں
’’ان کے دل غافل ہو چکے ہیں‘‘
قرآن میں ایک اور جگہ ہے کہ:
فرعون نے بھی ہامان سے یہی کہا تھا کہ جاؤ ذرا موسیٰ کے رب کو آسمانوں میں ڈھونڈ کر لاؤ۔
یہود نے ارنااللہ جھرہ کا مطالبہ کیا تھا ۔
سورہ النسامیں ہے:
زمین اور آسمانوں کی ہر ہرچیز اللہ تعالٰی ہی کی ملکیت میں ہے۔
سورہ ہود کی آیت میں اللہ تعالی اپنے باخبر حاکم ہونے کی خبر دے رہا ہے کہ تمھارے ہر کام کی خبر رکھتا ہے۔
اللہ تعالی قرآن میں بار ہا اپنی حاکمیت کا اظہار کرتا ہے
سورہ نور کی تفسیر میں مولانا مودودی ان افراد کے لیے فرماتے ہیں:
دل کی آنکھیں کھول کر کوئی انہیں دیکھے تو ہر وقت ہر طرف اللہ کو کام کرتے دیکھ سکتا ہے۔ مگر جو دل کے اندھے ہیں وہ اپنے سر کے دیدے پھاڑ پھاڑ کر بھی دیکھتے ہیں تو انہیں بیولوجی اور زولوجی اور طرح طرح کی دوسری لوجیاں تو اچھی خاصی کام کرتی نظر آتی ہیں مگر اللہ کہیں کام کرتا نظر نہیں آتا۔
’’حقیقت یہ ہے کہ (ایسوں کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘۔(الحج، 22: 46)

حصہ

جواب چھوڑ دیں