ادب جیسی کوئی میراث نہیں

اہل علم فرماتے ہیں ادب واحترام ایک درخت ہے اور علم اس کا پھل ہے ،اگر درخت ہی نہ ہو تو پھل کیسے لگے گا،دین ہویادنیااس میں ادب واحترام کو ایک خاص مرتبہ ومقام حاصل ہے ۔ہر موڑپرادب واحترام کی ضروت پیش آتی ہے ۔ادب سے مرادکسی بھی کام کا قرینہ ،سلیقہ،اچھا طریقہ اورقابل تحسین اندازہے اور اس کامظاہرہ ہر وقت،ہرجگہ ہرایک سے ہوتاہے۔جو ان باتوں کابطورخاص خیال رکھے وہ باادب کہلاتا ہے اور جوبدنصیب ان خوبصورت باتوں سے استغنابرتے اور کسی قاعدے کلیے کی پروانہ کرے،بے ادب شمار ہوتاہے۔عربی مقولہ ہے:ادب جیسی کوئی میراث نہیں۔ادب اپنی جگہ ایک وسیع موضوع ہے جو بڑاجامع مفہوم رکھتاہے۔کیونکہ ایک ادب خالق کاہے ،ایک ادب مخلوق کاہے اور مخلوق میں پھر مختلف مدارج ہیں۔انبیاء ؑ کرام،صحابہ کرام ،ائمہ کرام، اولیاء اللہ،والدین اور اساتذہ کرام وغیرھم ،ان سب کا ادب اپنی اپنی جگہ ضروی ہے۔
اب یہاں میں اساتذہ کرام سے ادب واحترام کا تذکرہ کروں گا۔استاد کو دنیا بھر میں دوسرے پیشوں کے مقابلے میں زیادہ محترم تصور کیا جاتا ہے۔مختلف ممالک میں اساتذہ کی بہتر اوربرترعلمی حیثیت مسلم شدہ ہے۔یہ اس لیے بھی ہے کہ اساتذہ معاشرے میں نمک کی مانند ہیں،جیسے ہر سالن میں نمک کی ضرورت ہوتی ہے ،ایسے ہی معاشرے میں استاد کی ضرورت ہوتی ہے، گویااساتذہ معاشرے کی ساخت اور شکل وصورت بناتے ہیں۔اساتذہ کرام،خواہ وہ دینی علوم سے آراستہ کرنے والے ہوںیامختلف علوم وفنون سے آشناکرنے والے ہوں،سبھی ادب واحترام کے لائق ہیں۔دینی اور عصری علوم دونوں کی انسان کوضروت رہتی ہے۔اس لیے ان علوم وفنون سے آشناکرنے والے اساتذہ کرام کاادب کرنابے حدضروی ہے۔اساتذہ کرام اپنے علم اور تجربے سے ایسے ایسے گر سکھا دیتے ہیں اور وہ کچھ پڑھا اورسمجھادیتے ہیں کہ اگرخودانسان وہ سفر طے کرنے لگے تو اس کی زندگی کاکافی حصہ بیت جائے۔اس لیے استاد وہ ہستی ہے جو نونہالان قوم کوعلم وفضل کی بلندیوں تک پہنچاتے ہیں۔کیا ہم نے کبھی سوچانہیں؟آج ہم جو پڑھنے اور لکھنے کے قابل ہوئے وہ اللہ تعالی کے فضل وکرم کے بعداساتذہ کرام کی شفقتوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔اگرچہ کئی والدین اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت میں اساتذہ کرام سے بھی زیادہ محنت کرتے ہیں۔ایسے والدین کاایک روپ والدین کاہوتا ہے اور دوسراروپ استادکا،گویا وہ اپنے بچوں کے والدین بھی ہوتے ہیں اور اساتذہ بھی۔ آج انسانیت جہاں کھڑی ہے وہ پہلے اساتذہ کی راہنمائی اور ان کے تجربات اور ایجادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں پہنچی ہے۔تو اب سوال یہ ہے کہ اساتذہ کاادب واحترام کیسے کیا جائے ؟ ہمارے بزرگوں،ائمہ اور محدثین وغیرھم نے اپنے اساتذہ کرام کا ادب واحترام کیسے کیا؟ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا ،میں اس کاغلام ہوں اب وہ چاہے مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔ امام حمادبن سلیمان اپنے عہد کے بڑے محبوب اساتذہ میں سے تھے۔ان کے ایک شاگرامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ہیں،ان کاگھر استاد کے گھر سے سات گلیوں کے فاصلے پر ہے ،لیکن شاگرد کاادب واحترام دیکھیے کہ استاد کے گھر کی جانب کبھی پاؤں کر کے نہ سوتے ،کہیں استادمحترم کی توہین نہ ہوجائے۔دوران درس کبھی استاد کا بیٹا آجاتا توامام ابوحنیفہ احترام میں کھڑے ہوجاتے۔
اساتذہ کرام سے ادب واحترام کی ایک جھلک حدیث نبوی ﷺسے بھی ملاحظہ فرمائیں۔ایک مرتبہ امام الانبیاءﷺکے پاس حضرت جبریل امینؑ آئے،انتہائی صاف ستھرے لباس میں ملبوس ہوکر اس وقت حضرت جبریلؑ ایک انسان کے روپ میں تھے ۔آپﷺ کے سامنے ادب واحترام سے دوزانو ہو کر بیٹھ گئے اور آپﷺسے ایمان ،اسلام اور احسان کی بابت سوالات کرنا شروع کردیے ….۔گویا کہ حضرت جبریلؑ ایک شاگرد کی حیثیت سے آپﷺ کے پاس آئے اور ہمیں سمجھا گئے کہ جس سے علم حاصل کیا جائے اس کے سامنے ادب واحترام سے بیٹھا جائے۔
مگر کیا کیا جائے بقول علامہ اقبال :
نہ سلیقہ تجھ میں کلیم کا،نہ قرینہ مجھ میں خلیل کا
توہلاک جادوئے سامری،میں قتیل شیوہ آزری
اساتذہ کرام کے احترام ومقام پر ایک عربی شاعربڑے اچھے اندازسے نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے:جب کوئی شخصیت تمہیں علمی فائدہ پہنچائے تو اس کے ہمیشہ شکر گزاررہو ،دعا مانگو کہ اے اللہ فلاں شخصیت کو جزائے خیر دے کہ انھوں نے مجھے فائدہ پہنچایا ہے اور فخر وحسدکو اپنے آپ سے بالکل نکال دو۔دراصل یہی احساس اساتذہ کے ادب واحترام پر ابھارتا ہے اور اگر علم بہت بڑی دولت ہے تواس علم سے آشنا کرنے والے بھی بہت بڑی نعمت ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اساتذہ کے ادب و احترام کاہر لحاظ سے خیال رکھا جائے،ان سے بے پروا نہ ہوا جائے اوران کے لیے دعائیں کی جائیں ۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں