رجب طیب اردگان اور ہمارے رہنما

کبھی کبھی دل میں ایک خیال سا آتا ہے کہ 2016 میں ترکی میں صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے سامنے کیوں عوام ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہو گئیاور ہمارے ہردلعزیز رہنماوں کے رخصت ہونے پر عوام سکھ کا سانس کیوں لیتی ہے بلکہ کہیں کہیں تو مٹھائیاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ اب تو بہت سارے ہمارے سیاسی رہنما بھی ہماری عوام کو کبھی کھل کر، کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں ترک قوم سے کچھ سیکھنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں حالانکہ سیکھنے کی ضرورت تو ہمارے رہنماوں کو ہے کہ وہ ترک رہنما رجب طیب اردگان سے کچھ تو سیکھیں، پھر دیکھیں عوام ان کا کتنا ساتھ دیتی ہے۔

جی ہاں، اگر مخلص قیادت میسر ہو تو ہماری قوم وہ عظیم قوم ہے جو کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرتی۔ قیام پاکستان کے بعد کے حالات پر ہی تھوڑی نگاہ دوڑا لیجئے جب مخلص رہنماوں کے پاس ملک کی باگ دوڑ تھی تو ہمارے لوگ کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے جب حکومت پاکستان کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ تک دینے کے لئے پیسے نہیں تھے تو نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی نے اپنے ذاتی سرمائے سے سرکاری ملازمین کو تنخواہ دی۔ مجھے یاد ہے جب لاہور میں بی آر بی نہر کی تعمیر کے لئے حکومت پاکستان کے پاس سرمایہ نہیں تھا تو اس وقت کے وزیراعلٰی پنجاب نواب افتخار حسین آف ممڈوٹ کی پکار پر اہلیان لاہور نے بلا اجرت محض چند دنوں میں یہ نہر بنا ڈالی۔ اس زمانے کی یادداشتیں تو اتنی طویل ہیں کہ بیسیوں کتابوں میں بھی سموئی نہیں جا سکتیں۔

خیر ذکر ہو رہا تھا موجودہ زمانے کا کہ آخر کیوں ترک عوام نے اپنے لیڈر رجب طیب اردگان کے خلاف بغاوت ناکام بنا دی جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ رجب طیب اردگان درحقیقت صرف ایک ترک رہنما کا نام نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم و جبر ہو طیب اردگان ان کی نہ صرف آواز بنتا ہے بلکہ ہر ممکن مدد بھی کرتا ہے۔ جبکہ ہمارے رہنما تو محض بیان دینے سے بھی کتراتے رہتے ہیں۔

یہ طیب اردگان ہی تھا جس نے میانمار میں روھنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر نہ صرف عالمی سطح پر آواز بلند کی بلکہ تب سے آج تک بنگلہ دیش میں کیمپوں میں مقیم لٹے پھٹے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے۔ آج بھی بنگلہ دیش کے کاکس بازار کے کیمپوں میں روہنگیا مسلمانوں کے لئے امید کی کرن وہیں ہے جہاں ترکی کا جھنڈا لہرا رہا ہوتا ہے کیونکہ وہیں سے انھیں کھانا، علاج اور دیگر اشیاء امداد کے طور پر ملتی رہتی ہیں۔

ابھی ان دنوں میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے القدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کا مسئلہ ابھرا تو کھلے عام جس مسلمان رہنما نے اس کی مخالفت کی وہ طیب اردگان ہی تھا۔ اس مسئلہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں فلسطین اور مصر کے ساتھ مل کر قراردادیں لانے والا ملک بھی ترکی ہی تھا-

گزشتہ چھ ماہ سے گلف ممالک کی جانب سے قطر کے بائکاٹ کے بعد اول دن سے قطری عوام اور حکومت سے تعاون کرنے میں بھی ترکی پیش پیش رہا۔

عالمی سطح کے علاوہ ترکی کے اندر طیب اردگان کی کارکردگی بھی  بلاشبہ بےمثال رہی ہے۔ طیب اردگان نے 2001 میں اپنی سیاسی جماعت “جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی” بنائی اور 2002، 2007 اور 2011 کے انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کی۔ طیب اردگان 2003 سے 2014 تک مسلسل ترکی کے وزیراعظم رہے اور 2014 سے اب تک ترکی کے صدر ہیں۔ طیب اردگان کی پالیسیوں کی بدولت ترکی کی معیشت دنیا کی تیزترین ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہے۔ 2002 سے 2011 تک کا ہی جائزہ لے لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ترکی کی معیشت کا حجم اس دوران تین گنا بڑھا اور اب بھی مسلسل بڑھے جا رہا ہے۔ عوام میں خوشحالی کا دوردوراں ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ترکی کسی ترقی یافتہ یورپی ملک کا منظر پیش کرتا ہے۔

اب ایک ایسے عظیم رہنما سے عوام کی محبت کو مثال بنا کر اپنے لئے بھی اپنی عوام سے ایسی بےمثال محبت کی امید رکھنے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہئے۔ ایسی لازوال عوامی محبت کی آس صرف تب ہی رکھی جا سکتی ہے جب اپناکردار بھی اس عظیم رہنما جیسا ہی ہو – ورنہ، مٹھائیاں ایسے ہی بٹتی رہیں گی۔

حصہ
mm
چکوال کے رہائشی جواد اکرم نے بین الاقومی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہے اور عالمی امور پر لکھتے رہتے ہیں۔ملک کے اردو اور انگریزی اخبارات و جرائد اور ویب پورٹل میں ان کے تجزیے شایع ہوتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں