فطرت

نادیدہ قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔۔۔ اللہ کا اپنانظام ہے جسے اپنے وقت مقرر تک موجود رہنا ہے۔۔۔ انسانوں میں انسانیت ختم کرکے حیوانیت میں بدلے کا کام ہمیں اپنے ارد گرد دکھائی دیتا ہے۔۔۔ کم و بیش اسی رفتار سے حیوانوں میں انسانیت دکھائی دے رہی ہے۔۔۔ مدعا یہ ہے کہ انسان جب خدا کی فطرت کو ختم نہ کر پایا تو اسے پلٹنے و بدلنے پر کام شروع کر دیا اور آج اپنی اس کوشش میں (جو اپنے ہی خلاف ہے) میں خاصا کامیاب بھی دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔ انسان جو دوسرے انسان کا فطری دوست بنایا گیا تھا آج محض مٹی و کاغذ کی خاطر ایک دوسرے کا دشمن بن بیٹھا ہے اور جانور جن کی دشمنی کی بنیاد زمین کے اندر دفن (غیر ضروری) خزانوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ خوراک جیسی بنیادی ضرورت پر مبنی تھی وہ اس ضرورت کو نظرانداز کر کے آج ایک دوجے کے دوست بنے بیٹھے ہیں۔۔۔ فطرت کے خلاف کام کرنے والے آج فطرت کو ختم تو نہ کر سکے مگر اسے پلٹنے میں کامیاب ہو گئے۔۔۔ جانے ایسے لوگ فطرت سے کبھی جیت بھی پائیں گے یا نہیں لیکن یہ طے ہے کہ اپنے ہی سامنے آج یہ گروہ ہار سا گیا ہے اب اس ہار کو مانے یا نہ مانے کہ ہار محض ماننے پر نِربَھر نہیں کرتی یہ اپنے اثرات چھوڑ کر دم لے گی اور بلا شبہ فطرت اپنے پلٹ جانے کے نہ صرف اثرات ہی چھوڑے جا رہی ہے بلکہ فطرت نے ہمارے سامنے ہونے کے باوجود ہماری آنکھوں سے اوجھل ہونے کی سزا ہمارے لیے تجویز کر لی ہے جس پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔۔۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایسا نہیں کہ عورت کو بے لباس کر دیا گیا ہے تو دنیا سے لباس ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ آج عورتوں کا لباس مرد اور مردانہ لباس عورتیں زیب تن کیے نظر آتی ہیں گویا لباس یا کپاس کا خاتمہ مقصود نہ تھا اسکا الٹ استعمال مقصود تھا اور مقصد شاندار طریقے سے پورا ہو رہا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ دنیا میں جس کام کا سرعام تذکرہ تک نہ کیا جا سکتا تھا آج وہ دنیا کی دس بڑی صنعتوں میں سے ایک بڑی صنعت بن کر دنیا کی معاشی ترقی کا باعث بنی ہوئی ہے یعنیپورن انڈسٹری۔
گویا دنیا سے جنسیات کو ختم کرنا ہرگز مقصود نہ تھا بلکہ اسے اپنے انداز سے ڈھالنا چاہا تھا اور آج دو سے زائد بچے پیدا کرنا تو جرم ٹھہرا لیکن دو سے زائد “شوہر” ہونا کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔۔۔۔ میدان جنگ میں جذبہ جہاد مسلمانوں کی شان ہوا کرتا تھا اع
اور اسی جذبے کو دین محمدیؐ کے نگہبانوں کیلیے فطری حیثیت پر فائز سمجھا جاتا ہے۔۔ اسے جب ختم نہ کیا جا سکا تو انھیں گرم خون کے مالک نوجوانوں کو میدان جنگ سے اٹھا کر کھیل کے میدان میں ڈال کر “رنگ کا شیر” بنا دیا گیا اور جو جوان شہید و غازی ہونے کو اپنا فخر مانا کرتا تھا آج چند میڈل اور کسی کھیل کا “مین آف دی میچ” بن کر پھولے نہیں سماتا۔۔۔ لہذا جذبہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس دھارے کا رخ مرضی سے بدل دیا گیا اور ہم آج بھی شہنائیاں بجا رہے ہیں کہ ہم سے کوئی جذبہ جہاد چھین سکتا ہے نہ ہی اسلامی اقدار و روایات ختم کی جا سکتی ہیں ۔۔۔ نادان مسلم ختم کرنا تو تمہارے مخالفین کی سوچ ہی نہیں رہی۔۔انھیں معلوم ہے کہ مسلمان اور فطرت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جس دن دنیا سے مسلمان یا فطرت دونوں میں سے ایک بھی ختم ہوا وہ دنیا کا آخری دن ہوگا۔۔ انھیں پانی کے اس بہتے دھارے کو ختم نہیں کرنا بلکہ اس کا رخ اپنی مرضی سے موڑنا ہے اور وہ اس مقصد میں کامیاب ہو چلا اور تم رہے نعرے لگاتے۔۔
اسلام زندہ باد۔۔۔ اسلام زندہ باد

حصہ
عرفان ملک پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں،صحافت کے متعدد در کی خاک چھان کر ان دنوں نجی ٹی وی چینل میں بطور اینکر کے اپنے ذوق و شوق کی آبیاری کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں