کچراچی

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں اور اب تک اگر آپ کی صفائی ستھرائی کی حس باقی ہے تو پھر آپ کو اکیس توپوں کی سلامی ضرور بنتی ہے ۔ آپ گھر سے باہر نکلیں اور کچروں کے ڈھیر کو گننا شروع کریں آپ کی گنتی ختم ہوجائیگی آپ کی منزل آجائیگی لیکن مجال ہے جو کچرے کے ڈھیر ختم ہوجائیں ۔ دنیا میں اگر کہیں گڑھا ہو تو وہ سڑک پر ہوتا ہے اور کراچی میں آپ کو گڑھوں کے درمیان میں سے سڑک تلاش کر کے گاڑی چلانی ہوتی ہے ۔ اگر تو  آپ کے پاس موٹر سائیکل ہے تو آپ یقین کریں موٹر سائیکل چلانے والے ساٹھ فیصد سے زیادہ لوگ کمر درد کے مریض ہیں ، جن کے پاس گاڑی یا کار ہے وہ سر درد کے مریض ہیں اور جن کے پاس یہ دونوں سواریاں نہیں ہیں وہ یقینا ذہنی مریض تو ضرور ہونگے ۔ آپ تماشہ ملاحظہ کریں لاہور کی میٹرو کے لئیے 84 ارب مختص کئیے گئے ۔ اور کراچی کا کل بجٹ ہی 25 ارب ہے ۔پورے ملک کو ستر فیصد وہیکل ٹیکس اور پچپن فیصد سیلز ٹیکس دینے والے شہر کا کل بجٹ ہی 25 ارب ہے ۔ مصطفی کمال کے دور تک شہر کا بجٹ 72 ارب روپے تھا ۔آپ کمال دیکھیں آپ کو پورے شہر میں کہیں میٹھا پانی نہیں ملے گا ۔اگر کہیں آتا بھی ہے تو وہاں دن اور اس کے بھی اوقات طے ہیں ۔ ساری قوم موٹر چلا کر اپنے نلکوں کے سامنے پانی آنے کا انتظار کرتی ہے اور ہر مہینے پانی کا پورا بل بھی ادا کرتی ہے ۔ لیکن اسی شہر میں اگر کہیں چوبیس گھنٹے پوری مقدار میں پانی میسر ہے تو وہ واٹر ٹینکر والے ہیں ۔وہاں دن اور رات میں ہر وقت پانی میسر ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ واٹر ٹینکرز کے اڈے ڈی – ایچ – اے میں ہیں یا پھر کنٹونمنٹ میں ۔ بہرحال کراچی کے باسی 43 ملین ڈالرز سے زیادہ ہر سال پانی خریدنے پر لگاتے ہیں ۔ آپ کو پورے شہر میں کوئی ایک ڈھنگ کا فیملی پارک نہیں ملے گا اور اگر فوج کی مہربانی سے کوئی پارک مل بھی گیا تو آپ اپنا منہ چھپا کر اپنے بچوں کے ساتھ واپس نکل جائینگے ۔ پورے شہر میں ٹرانسپورٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ نعمت اللہ خان نے پانچ سو گرین لائن بسوں کا تحفہ کراچی کو دیا تھا جو اب سرجانی ٹاؤن میں لوہے کا ڈھیر بنی سڑ رہی ہیں ۔ آپ تماشہ ملاحظہ کریں اس وقت پوری قوم نقاب پوش بن چکی ہے ۔ خواتین کے ساتھ ساتھ آُپ  کو پورے شہر میں مرد بھی منہ چھاپتے گھومتے نظر آئینگے ویسے کراچی والوں نے اس شہر کے ساتھ جو کیا ہے اس پر منہ چھپانا تو بنتا ہے اب آپ وہ چاہے دھول مٹی کے نام پر ہی کیوں نہ چھپائیں ۔ حکومتوں اور پارٹیوں پر بے تحاشہ الزامات لگائے جاسکتے ہیں اور جو یقینا حقائق بھی ہیں لیکن میں تو ” آپ”  کو توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ پورے جاپان میں آ پ کو کوئی میونسپل کمیٹی نہیں ملے گی ۔ ہر گھر والا ، دوکاندار ، فیکٹری اور مالز  اپنے باہر کی جگہ خود صاف کرنے کے  ذمہ دار ہے ۔ فیفا ورلڈ کپ کے دوران جب لوگ اسٹیٹڈیم سے اٹھ کر چلے جاتے تو لوگ اپنی انتظامیہ  کے ساتھ مل کر خود بھی پورے میدان کی صفائی کرتے تھے ۔ جاپان میں چلتے پھرتے کھانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس دوران لوگ چیزیں گراتے بہت ہیں ۔ جب لوگ صبح سویرے اپنے کام پر یا بچے اسکول جانے کے لئیے نکلتے ہیں تو ایک تھیلی اپنے ساتھ ضرور رکھتے ہیں دن بھر کا کچرا اس میں جمع کرتے ہیں اور جیسے ہی کوئی کچرے دان نظر آتا ہے وہاں ڈال دیتے ہیں ۔ جاپان کے اسکولوں میں سوئیپر نام کی کوئی مخلوق نہیں پائی جاتی ہے ۔ وہاں بچے اپنی کلاس رومز اور اسکول خود صاف کرتے ہیں حتی کے پرنسپلز تک اپنے کمرے کی صفائی خود کرتے ہیں ۔ہم تو اتنے دھلے دھلائے ہیں کہ صفائی کے لئیے آنے والے تک کو کچرے والا کہتے ہیں ۔ کچرا ہم خود کرتے ہیں اور جب صفائی والا کچرا اٹھانے آتا ہے تو اس کو ہی کچرے والا ” ڈکلئیر ” کر دیتے ہیں ۔ ہم بھی عجیب مخلوق ہیں گاڑی سے باہر ہاتھ لہراتے ہوئے ریپرز خود پھیکنتے ہیں اور گالیاں حکومت کو دیتے ہیں ۔ سیٹ بیلٹ خود نہیں باندھتے ہیں اور کرپٹ سب سے زیادہ نواز شریف ہے ، حضور آپ کا بس سیٹ بیلٹ تک چلتا ہے  ان کا ٹریفک جام کروانے تک ہے ۔ پان کی پچکاریاں فٹ پاتوں پر نشانے لے لے کر مارتے ہیں آپ یقین کریں میں نے ائیر پورٹ تک کی دیواروں پر پان کی پچکاریاں دیکھی ہیں ۔ لیکن شہر صرف حکومت کی ہی وجہ سے گندا ہے ۔ہماری ذہنی بیماری کا یہ حال ہے کہ جہاں لکھا ہوتا ہے ” یہاں کچھ کرنا یہاں پھینکنا  منع ہے ” آپ کو لوگ یا تو وہیں بیٹھے نظر آئینگے یا کچرا  وہیں پڑا نظر آئیگا ۔  صبح سے شام تک ہم اپنے اختیار کی حد تک ہر کر پشن کرتے ہیں اور کرپشن سے پاک حکومت کی دعائیں مانگتے ہیں ۔ جن کو لائن میں لگ لگ کر ووٹ ڈالتے ہیں اگلے پانچ سال تک ان ہی کو جھولیا ں بھر بھر کر بد دعائیں دیتے ہیں اور اگلے الیکشن میں پھر ان ہی کو منتخب کرلیتے ہیں ۔ ہم اپنی ذات میں کرپٹ ہیں اور اخلاقی کرپشن پیسے کی کرپشن سے زیادہ گندی چیز ہے ۔آپ کبھی مسجدوں میں چلے جائیں اور مساجد کے وضو خانے اور واش رومز دیکھ لیں نوے فیصد مساجد کے واش رومز کے پاس جاکر ہی آپ کو  لگے گا کہ شاید آپکا وضو ٹوٹ گیا ہے ۔ صفائی  ہمارے لئیے نصف ایمان ہے ، یوریپینز یا جاپانیوں کے لئیے تو نہیں ہے ۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی قوم یا گھر والوں کی تمیز  ، تہذیب دیکھنی ہو تو ان کے واش رومز اور باورچی خانے دیکھ لو ۔ آپ مساجد سے لے کر ریسٹورینٹس حتی کے لوگوں کے گھروں تک میں چلے جائیں آپ کو ان دونوں جگہوں پر گندگیوں کے ڈھیر ملیں گے ۔ ہم زوال کی آخری حدوں کے بھی آخر میں پہنچ چکے ہیں ۔ ہم پورے راستے حکومت کو گالیا دیتے ہوئے جایئنگے  لیکن راستے سے ایک پتھر تک ہٹانے کے روادار نہیں ہونگے ، ہم ایک لاکھ اور ڈیرھ لاکھ تک کے جانور لا کر سنت ابراہیمی ؑپوری کرینگے لیکن ہزار روپے دے کر اس جانور کی گندگی اٹھوانا ہمارے کلیجے کو آئیگا ۔ دو ہزار روپے کا پیزہ کھا کر ڈبہ باہر پھینکنا ہمیں گوارا ہے لیکن 200 روپے صفائی والے کودینے میں ہمارا دم اٹک جائیگا ۔ سابق وزیر اعلی جناب قائم علی شاہ صاحب نے  اسمبلی فلور پر کہا تھا کہ ” لاڑکانہ کے تذکرے تو نیویارک تک میں ہورہے ہیں ” ارے نہیں جناب آپ کو کسی نے غلط بتایا تھا لاڑکانہ اور کراچی کے تذکرے تو آسمانوں تک پر ہو رہے ہیں کیونکہ شاعر نے کہا تھا  ” تیری بربادیوں کے تذکرے ہیں آسمانوں پر ” ۔ میں حکومت سے عاجزانہ در خواست کرتا ہوں کہ برائے مہربانی کراچی کا نام کچراچی رکھا جائے اور قائد کے مزار کے ساتھ ہی حکومت اور عوام  کی بے حسی کا بھی مزار بنایا جائے جہاں سے آتے جاتے لوگ کم از کم فاتحہ ضرور پڑھ لیں۔

حصہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں