زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا۔۔۔ 

پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ عجیب اور سنگین نوعیت کا ہے اور اب یہ مزید سنگین نوعیت اختیار کرتا چلا جارہا ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے گھروں سے نوجوانوں کو اٹھا کر لاپتہ کردیا جاتا ہے اور پھر ان کی لاش کسی چوک چوراہے سے ملتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں بلوچستان سے کئی افراد کو گھروں سے لاپتہ کیا گیا اور پھر آج تک عزیز واقارب بچے اپنے والد کی راہ اور ماں اپنے لخت جگر کاراستہ دیکھتی رہ گئی کہ شاید آج کل کبھی تو اس کا بیٹا آئے گا۔ مگر شاید انہیں نہیں معلوم کہ وہ اس دنیا میں بھی ہے کہ نہیں۔ ملک میں ہر سمت گرتی لاشیں نکلتے جنازوں اور مظلوموں کی آواز نے دل میں افسردگی کا ایک شہر بسا دیا ہے۔ زینب،زینت،عافیہ سے جڑے کئی واقعات کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ محافظوں نے ایک اور خوبصورت نوجوان کو گھر سے اٹھایا اور پھر نجانے وہ خوبصورت ساننھا بچہ کیا جانتا تھا کہ اس کے بابا کو یہ محافظ گھر سے نہیں دنیا سے اٹھانے آئے ہیں۔ اب اسے گھر سے لے جایا جارہا ہے اور واپس اس کو خون میں نہلا کر بھیجیں گے۔محافظ تو عوام کی حفاظت کے لیے ہوا کرتے ہیں۔ مگر نجانے ملک میں پہلے گنڈہ گردی، دہشت گردی، سیاست گردی، بھتہ خوری کے بعد اب محافظ گردی شروع ہوگئی ہے۔ محافظ کے روپ میں یہ قاتل لوگ گھروں سے ان کے جلتے اور روشن چراغوں کو اٹھا کر خون میں لت پت کر کے پھینک دیتے ہیں۔کیا عدالتوں میں پیشی سے قبل بغیر کسی ثبوت کے یوں بے رحمی سے قتل کرنا عدالتی قوانین کا کھلا کھلم مذاق نہیں ہے؟۔
اس سے پہلے کچھ ماہ قبل کراچی سے دو پڑھے لکھے نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا تھا اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھی۔۔۔ماورائے عدالت نوجوانوں کو قتل کرنا کس جرم کی سزا ہے؟ ذمہ دار کون؟۔
جب انصاف کی چکی میں پستی جواں لاشے چیخ چیخ کر ماتم کناں ہوں اور منصفین سے انصاف کے طلبگار ہوں کہ ہمیں انصاف دیا جائے مگر انصاف کہیں سے ملتا دکھائی نہ دے۔ان واقعات کا رونما ہونا اور اور انصاف کا نہ ملنا پاکستانی عدلیہ، قانون اور ‘‘حساس‘‘ اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
آج کہیں ماؤں کی گود سے ان کے لخت جگر کو محروم کیا جارہا تو بچوں کے سر سے ان کے باپ کا سایہ چھینا جارہا ہے اور انصاف کو منظر عام سے بلکل غائب کردیا گیا ہے۔
سوچیے۔۔۔ ہمارے ملک میں عوام کے محافظ کس طرح عوام کے ساتھ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کبھی یہی محافظ انہیں تھپڑ رسید کر دیتے ہیں، کبھی ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں تو کبھی سرِعام عوام کو سڑکوں پر گھسیٹ لیتے ہیں اور کبھی جعلی مقابلے میں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔۔۔ کوئی ہے پوچھنے والا؟ یا یہاں جنگل کا قانون رائج ہے؟
انصاف جس معاشرے میں نہ ہوں وہاں پر موجود شہری پھر ردعمل میں دہشت گرد بنتا ہے۔ پھر اس کا ردعمل ایک جذباتی بدلہ لینے کا روپ دھار لیتا ہے۔
جب انصاف نہیں ملتا تو پھر دہشتگرد ایسے لوگوں کو اپنا آلہ کار بناکر استعمال میں لاتے ہیں۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ انصاف کے نظام کو مضبوط، مربوط اور بہتربنایا جائے ورنہ بغیر انصاف کے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں