جسارت ہی کیوں ؟ 

جس وقت جسارت کا آغاز ہوا ہمیں الفاظ سے زیادہ تصویر سے دلچسپی تھی۔اس دور کے ہر والد کی طرح ہمارے ابا جان بھی بچوں کی اخلا قیات کے بارے میں حد درجہ حسا س تھے ۔گھر میں اخبار آتا توکوشش ہوتی کہ اس کافلمی حصہ بچوں کی پہنچ سے دور رہے ۔ان کی احتیاط اپنی جگہ مگرہم بہن بھائیوں کا بلحاظ عمر تجسس اپنی جگہ ….! چنانچہ گھر میں آنے والا کوئی بھی فرد ہاتھ میں اخبار لیے داخل ہوتا ( اس زمانے میں خبر اور معلومات کا واحد ذریعہ اخبار ہی تھے ) یا کسی چیز میں لپٹ کر آتا تو ہم سب کی دلچسپی کا مرکز بن جاتا ۔جی ہاں !بلیک اینڈ وہائٹ تصاویر ہی ہمارے لیے خوشی کا باعث بن جاتیں ۔ہمیں الفاظ سے اتنی شناسائی ہو چلی تھی کہ اٹک اٹک کر نہ صرف پڑھ لیتے تھے بلکہ بساط بھر کچھ نہ کچھ مفہوم بھی سمجھ لیتے تھے ۔
اور پھر جسارت کے اجراء پر انہوں نے اطمینان اور شرح صدر کے ساتھ جاری کروادیا اور ان کا یہ صدقہ جاریہ تیسری نسل میں بھی جاری ہے (درمیان میں مختلف ادوار میں کچھ نئے اخبارات اضافی طور پر بھائیوں کی فرمائش اور ضرورت کے لحاظ سے داخل ہوئے مگر ان کی سنسنی خیزی اورردی کے ڈھیر میں اضافے نے جلد ہی ان کو گھر سے باہر کردیا) ۔یعنی یہ بات طے ہے کہ نئی نسل میں کوئی بھی ذوق طے کرنے کے لیے اس سے مانوس کروانا ضروری ہے ۔چونکہ ابتدا ء میں ہماری دلچسپی جسارت میں ذرا کم تھی لہذا اباجان اگر چند دنوں کے لیے شہر سے باہر ہوتے تو بڑے بھائی ہاکر سے کوئی اور اخبار مانگ لیتے اور ہم سب کے لیے وہ بڑی خوشی کا دن ہوتا کہ چٹ پٹی خبروں اور تصویروں سے خصوصاً ٹارزن کی حرکتوں سے لطف اندوز ہوں اور پھر وقت گزرا تو ہم بھی تحاریر میں دلچسپی لینے لگے۔نصر اللہ خان کے کالم ،کچھ عرصے بعد ابونثر ، طاہر مسعود اور بہت سے کالم نگار ہماری توجہ کا مر کز بن گئے ۔ یہ ذرا کچھ بعد کا ذکر ہے! درمیان میں سنسر کی وجہ اخبار کے خالی کالمز بھی یاد داشت میں ابھرتے ہیں .یہ ایک مزے دار صورت حال تھی ! اور پھر جسارت مستقل طور پر ہمارے گھر کا حصہ بن گیا ۔ہمارے محلے کے چار گھروں کے دروازے ایک جگہ کھلتے تھے جن میں سے دوگھروں میں باقاعدہ جسارت آتا تھا۔ ان چار میں سے ایک گھر پیپلز پارٹی بلکہ بائیں نظریات کے دانشور کا گھر تھا ۔ چنانچہ وہ طنزاً ہمارے محلے کو جماعتی محلہ گردانتے کہ جسارت جماعت کا ترجمان تھا اور ہے ۔ حالانکہ یہ بات ووٹ اور کسی حد تک نوٹ تک تو درست تھی مگر جماعت کا باقاعدہ کارکن کوئی نہ تھا اس کی وجہ شاید سرکاری منصب تھا ۔
صحافیانہ کردار کا مظہر جسارت چالیس سال سے زائد عرصے سے ستھرے ذوق رکھنے والے قارئین کی آ ج بھی اولین پسند ہے ۔خبریں ہوں یا تجزیے، مضامین ہوں یا رپورٹس، کہانیاں ہوں یا ادبی سرگرمیاں ہر عمر اور مزاج کی دلچسپی کا سامان موجودہوتا ہے۔ کھانے پینے اور دیگر مشاغل کی طرح اخبار بینی کا بھی ہر گھر کا ایک انداز ہوتا ہے،کسی بھی چیز کا چسکا ہوتا ہے جو منہ کو لگا ہوتا ہے! چنانچہ جو افراداولین دور میں جسارت کا مزہ چکھنے سے محروم رہے وہ اب بھی اس کو پڑھنے کی طرف مائل نہیں نظر آ تے ۔پہلے ان کا بہانہ اشتہارات کی کمی ہوتاتھا تو اب نیٹ پر پڑھنے کا جواز دیا جا تا ہے ۔ حالانکہ اخبار کو پرنٹ شکل میں پڑھنے کا اپنا ایک الگ مزہ ہوتاہے ۔
یہاں تک کی تحریر تو جسارت بحیثیت ایک قاری لکھی گئی ہے جبکہ ہمارا جسارت سے بحیثیت قلم کار ایک اور ناتا بھی ہے ! یوں تو لکھنے کے جراثیم بچپن سے ہوں گے ۔پھر تعلیمی دور میں مقابلہ مضمون نویسی کی وجہ سے اس میں بہتری پیدا ہوئی۔ اس سلسلے میں جمیعت طالبات کا کردار بہت اہم ہے ۔وہ طالبات کی ذہنی اور ادبی آبیاری کے لیے نرسری کا کام کرتی ہے ۔ لہذا ہمارے مراسلے وغیرہ تو بہت جلدی شائع ہونے لگے ۔ مگر پہلی کہانی جسارت میں ہی 1986ء میں شائع ہوئی ۔ابا جان کواسے پڑھنے کا سرسری سا موقع ملامگر جب مسجد میں کہانی کی تعریف سنی تو بیس روپے اور آئس کریم کے کپ سے ہماری تواضع کی جس کی حلاوت آج بھی حلق میں محسوس ہوتی ہے اور دس کے وہ دو نوٹ عرصے تک ہمارے بیگ میں محفوظ رہے ۔ گویا نہایت فخر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے قلمی سفر کاآغاز جسارت سے کیا ۔شاید یہ بات ان افراد کے لیے انتہائی فضول ہوگی جنہوں نے جسارت کو لانچنگ پیڈ کے طور پر ضرور استعمال کیا مگر اڑان کا کریڈٹ کسی اور کے کھاتے میں ڈالتے ہوں۔ حالانکہ ایسی کوئی قانونی پابندی نہیں ہے کہ انسان تاعمر ایک ہی دائرہ میں رہے گا مگر ایک اخلاقی دباؤ بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے محسن کو یاد رکھے ۔یہ اس کے ظرف کا امتحان ہے !
ہم نے بھی جسارت کے علاوہ دیگر پبلی کیشنز میں بھی اپنی قلمی جوہر دکھائے ۔ اس میں نئی دنیا تسخیر کرنے کے ساتھ جسارت کی تنگی داماں بھی تھی ۔ جی ہاں ! جسارت کے محدود صفحات ہماری تمام تر تحریروں کو جذب کرنے میں معذور تھے کہ اس میں اوروں کی حق تلفی ہوتی چنانچہ صف اول کے میگزین میں ہماری قلمی کاوشیں 91ء سے 98ء تک بلا کسی تردد شائع ہوتی رہیں ۔ہاں جب نئی صدی نئے بحران کے ساتھ وارد ہوئی تو کچھ اگر مگر سامنے آیا۔جی یہ 9/11 کے بعد کی دنیا جس میں نظریات کا ٹکراؤ واضح طور نظر آنے لگا ۔اس نئے منظر نامے کے ساتھ نئے اخبار و رسائل بھی دنیا ئے صحافت پر چمکنے لگے مگر جن میں جذبوں سے زیادہ ڈالرز کی چمک تھی ۔ اس حوالے سے ہمارے پاس بھی بہت سی آفرز آئیں جن کو بے حد اصرار پر قبول کیا مگر جب تحریر کا وہ حصہ حذف پایاجو ہمارے نظریے کا اظہار تھا تو طبیعت بہت مکدر ہوئی اور بقول سلمٰی اعوان قاری کے لیے صرف فضلہ بچ جاتا ہے !محض الفاظ کی جادوگری !
اس سلسلے میں ایک واقعہ یاد آرہا ہے ۔ یہ 2008 ء کے اجتماع عام کے بعد کا ذکر ہے ۔ہم نے اس کی روداد انگلش اور اردو دونوں زبان میں لکھی اور جسارت کے علاوہ دیگر اخبار ات میں بھی بھیجی۔کچھ دنوں بعدایک بڑے اخبار کے ایڈیٹر کا فون آیا کہ آپ کی تحریر میں نے ردی کی ٹوکری سے نکالی ہے ۔بہت عمدہ ہے مگر تاخیر ہوگئی ہے ۔ آپ فلاں فلاں موضوع پر ہمارے اخبار کے لیے لکھیں …. ان سے وعدہ نہیں کیا کیونکہ ہماری تحریر ردی کی ٹوکری میں ایشو کی وجہ سے ہی ڈالی گئی تھی۔اگران کے نظریات کا پرچار کرتی توگرچہ کچی پنسل سے ہی لکھی جاتی تو اس کو زینت بنالیتے۔مختصر یہ کہ قلمی محاذ پر کام کرنے والوں کی چاہ ہوتی ہے کہ ان کی تحریر زیادہ افرادتک پہنچے لیکن اگروہ مسخ ہوکر شائع ہو تومقصد فوت ہوجاتا ہے اور پھر اس کی حیثیت رسمی اور نمائشی سی ہوتی ہے جیسے کسی فیشن شو سے پہلے تلاوت کا ہونا!ہاں ! قلمکار کو ناموری ضرور مل جاتی ہے لیکن قلم برائے جہاد استعمال کرنے والوں کے لیے اس کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے کہ ان کی بات مکمل فہم کے ساتھ قاری تک پہنچے ، مبہم اور مشکوک نہ ہو !
سو جسارت سے ہمارا تعلق عمر کی پانچویں دہائی میں داخل ہونے والا ہے ۔پہلے ایک دن کے لیے بھی کسی اور اخبار کا پڑھنا مسرت کا باعث ہوتا تھا اور اب اگرکبھی ایک دن جسارت نہ ملے تو کچھ بھی پڑھ لو تسلی نہیں ہوتی! جسارت سے اپنائیت ہی کا تعلق ہے کہ اس میں کوئی ناگوار جملہ، اشتہار یا تصویر دیکھ کر اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی گھر کے بچے کی کسی نازیبا حرکت پر !
جسارت کو ہر اس گھر کی زینت ہونا چاہیے جو معاشرے میں اعلیٰ اقدار کا عروج دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اور اب جسارت بلاگ کو ضرور ہی ہر اس باشعور کی پہنچ میں ہونا چاہیے جو انٹر نیٹ کی دنیا میں موجود ہے کہ حق اور سچ اسی کو روا ہے !۔

حصہ

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں