چھوڑ کے قرآں ،جہل ِ جہاں پر کتنے برس برباد کیے

نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’جس طرح پانی جسم کی زندگی کا باعث ہے اسی طرح سے علم دل کی زندگی کا ۔جس طرح زمین کی سرسبزی پانی سے ہے اسی طرح دلوں کی سرسبزی علوم سے ہے ،آفتاب اور چراغ کی روشنی ظاہری تاریکی دور کردیتی ہے اسی طرح سے علم ،شکوک و شبہات کی تاریکی اور جہالت و گمراہی کے اندھیرے کو زائل کر دیتا ہے ‘‘امام جعفر صادق ؑ سے منقول ہے کہ ’’اللہ سبحانہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بہت بڑا علم عطا فرمایا ہے آپﷺ نے علم کو علم کے معدن سے حاصل کیا ہے ‘‘تفسیر صافی میں سورہ انعام کی آیت ۱۴۹ ’قل فللہ ا لحجۃ ا لبالغۃ‘کے ذیل میں لکھا ہے کہ ’’قیامت کے دب اللہ اپنے بندے سے سوال کرے گا کہ تو عالم تھا یا جاہل ؟اگر اس نے کہا کہ ’عالم ‘تو اس سے کہا جائے گا کہ تو نے اپنے علم کے بموجب عمل کیوں نہیں کیا ؟ اور کہا ’جاہل ‘ تو پوچھا جائے گا کہ پھر تو  نے صحیح عمل کرنے کے لیے علم کیوں نہیں حاصل کیا ؟ غرض دونوں صورتوں میں حجت قائم ہوجائے گی اور یہی ’حجت بالغہ ‘ ہے ۔

بے شک قرآن میں مذہب ،فلسفہ،تاریخ  اور سائنس وغیرہ سبھی  طرح کے علوم  کا بیان ہےلیکن ان کا بنیادی مقصد انسان کی ہدایت اور رہنمائی ہے ۔ دنیا نے مذہب ،فلسفے ،تاریخ ،جغرافیہ اور سائنسی علوم  کو اگرچہ الگ الگ خانوں میں  اور وہ بھی ایک دوسرے کے متضاد بلکہ متحارب خانوں میں  بانٹ رکھا ہے لیکن قرآن وحدت ِ اِ لہٰ ،وحدت تخلیق اور وحدت صداقت کی طرح وحدت ِ علم کا بھی مؤید ہے۔ جلد یا بدیر جدید سائنس اور مادّہ زدہ  فلسفے پر بھی یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہونے والی ہے کہ مادّے کے پیچھے ایک اور دنیا ہے جس کا تعلق براہ راست عالَم ِ اَمر سے ہے اور یہ مادّی کائنات ایک ہی خالق کی تدبیر ِ اَمر کا نتیجہ ہے ۔

(۱)قرآن کا تصور علم نہایت وسیع ،بسیط اور محیط ہے ۔وہ ہم کو دو ذرائع علم کی خبر دیتا ہے ۔وحی اور تجربہ۔ اور دونوں  کے درمیان لازمی دوستی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔وہ ہمیں یہ دعوت دیتا ہے کہ فطرت کا مشاہدہ اور مطالعہ ہم یہ سوچتے ہوئے کریں کہ اس میں بیان کی گئی وحی کی سچائیاں مثلاً توحید ،اور آخرت فی ا لواقع ہدایت کی نشانیاں ہیں ۔  مثلاً ’’اے رسول کہہ دیجیے کہ ذرا دیکھو تو سہی کہ آسمانوں اور زمینوں میں خالق و مالک اللہ تبارک و تعالیٰ کی کیا کچھ نشانیاں ہیں ! مگر سچ تو یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں قبول کرتے اُن کو ہماری نشانیاں اور  ڈرانے والی چیزیں کچھ مفید نہیں ۔ ‘‘یا یہ کہ ’’ کہہ  دیجیے کہ ذرا روئے زمین پر چل پھر کے دیکھو تو سہی کہ اللہ نے کس طرح پہلے پہل مخلوق کو پیدا کیا پھر اسی طرح وہی اللہ قیامت کے دن پھر آخری بار پیدا کرے گا ‘‘!

قرآن کریم میں کُل چھے ہزار دو سو پچیس آیتیں ہیں ان میں سے سات سو پچاس آیات میں عقل سے کام لینے اور انفس اور آفاق میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے

(۲)نو سو آیات سے زائد مآخذ ِ آب ،زندگی کی ابتدا اور سائنس اور انجینئیرنگ سے متعلق ہیں ۔ چودہ سو آیات اقتصادیات پر بحث کرتی ہیں

(۳) جبکہ دیگر احکام و قوانین سے متعلق آیات تقریباً ایک سو پچاس ہیں

(۴)اس کے باوجود قرآن کا اصل موضوع ہدایت ہی ہے تاکہ انسان  ہمیشہ بر قرار رہنے والی اُخرَوی سعادت  حاصل کر سکے ۔اس لیے وہ سائنس ،تکنالوجی ،اقتصادیات فلکیات ،طبیعات اور تاریخ کے مظاہر اصول اور واقعات بیان کرنے کے باوجود ہدایت کے مقصد کو سب پر حاوی رکھتا ہے ۔مگر اس میں کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں آنے پائی جو کم تر معلومات کی طرف اشارہ کرتی ۔ ظاہر ہے کہ قرآن اس کا کلام ہے جو اس وقت بھی جانتا تھا جب کوئی نہیں جانتا تھا اور ان چیزوں کو بھی جانتا تھا جن سے اب تک لوگ ناواقف ہیں ۔

حصہ
mm
لکھنو کے رہنے والے عالم نقوی ہندوستان کے ایک کہنہ مشق صحافی،اور قلم کار ہیں وہ ہندوستان کے مختلف اخبارات و جرائد ور ویب پورٹل کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں