ظلم کاسدباب اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

ظالم اورمظلوم کی باہمی جنگ ہابیل اورقابیل کے وقت سے چلی آرہی ہے،دنیاکاعام مشاہدہ یہ ہے کہ اکثرلوگ مظلوم کی مددکی بجائے ظالم کاساتھ دیتے ہیں ،جس کی بناء پرانسانی معاشرے میں بگاڑ پیداہوتاہے،نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کاارشادگرامی ہے”جومجرم کوپناہ دیتاہے اس پراللہ کی لعنت ہے”۔سوجس پرلعنت کی گئی ہوا س کے حالات کیسے درست ہوسکتے ہیں؟ظلم کے برے اثرات نہ صرف یہ کہ ظالم پراورانسانی معاشرے پرپڑتے ہیں بلکہ ظلم کے اثرات سے حیوانات اوراشجاربھی متاثرہوتے ہیں۔

چنانچہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ایک شخص نے کہاکہ ”ظالم خوداپناہی نقصان کرتاہے،کسی دوسرے کاکچھ نہیں بگاڑتا”،اس پرحضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا”تم غلط کہتے ہو بلکہ ظلم کااثرہرچیزپڑتاہے حتی کہ درخت اورنباتات بھی ظلم کے اثرسے محفوظ نہیں رہتے،اورپرندے بھی انسانی معاشرے میں پھیلے ہوئے ظلم اورناانصافی کی وجہ سے اپنے گھونسلوں میں لاغرہوکرمرتے ہیں ،جب کوئی ناہنجارآدمی مرجاتاہے تودرخت کہتے ہیں الحمدللہ یہ موذی انسان اس دنیاسے چلاگیا”۔

مشہورمؤرخ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھاہے کہ ”ظلم کی وجہ سے آبادیاں اورسلطنتیں خراب ہوتی ہیں،آبادیوں میں نقصان پہنچتاہے اوراس کاخمیازہ سلطنت کوبھگتناپڑتاہے،اوریہ نہ سمجھاجائے کہ ظلم فقط یہی ہے کہ کوئی مال یاملک اس کے مالک سے بلاسبب وعوض چھین لیاجائے،جیساکہ عام طورپرلوگوں نے ظلم کے یہی معنی سمجھ رکھے ہیں،حقیقت میں ظلم عام ہے ،کسی کی ملکیت کاچھین لینا،عمل میں غصب کرنا،بغیرحق کے کسی بات کاطالب ہونا،یاکسی پرایسے حق کاواجب کردیناجوشریعت نے واجب نہ کیاہو،یہ سب ظلم میں شامل ہے،پس بغیرحق مال پرٹیکس لگاناظلم ہے اورایساکرنے والے بیشک ظالم ہیں،اورمال ودولت کے لوٹنے والے بھی ظالم ہیں،اوران سب کاوبال سلطنت کی گردن پرپڑتاہے”۔

اسلام اپنے متبعین کونہ ظلم کرنے کی اجازت دیتاہے اورنہ ہی ظلم پرخاموش رہنے کی،اگرکسی پرناحق ظلم کیاجائے توقرآن کریم میں یہ حق دیاگیاہے کہ وہ اس پرآوازاٹھائے اوراحتجاج کرے ،اپنے جائزحقوق کامطالبہ اوردفاع کرے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسی بات کابرملااظہارکرناجس سے دوسرے کوتکلیف ہو اللہ کوپسندنہیں ہے،ہاں!مظلوم کواجازت ہے کہ وہ اپنے ظالم کے خلاف بددعاکرے”۔ظلم کے خلاف ہرجگہ نرمی اورعفو ودرگزرکافی نہیں ہوتا بلکہ اس ناسورکوختم کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے،جبکہ ظالم اس کے بغیرنہ مانے اوردرپئے آزارہوتواسلام مظلوم کواپنی مدافعت کے لیے آخری حدتک جانے کی بھی اجازت دیتاہے،احادیث مبارکہ میں اس کی صراحت موجودہے۔اس زمانہ میں ظالم لوگوں اورجرائم پیشہ افراد کوجرم کرنے کی جرأت اس وجہ سے بھی ہوتی ہے کہ لوگ ظالم کے خلاف ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے بلکہ تماشابین بن کردیکھتے رہتے ہیں ،یہ فعل اسلامی تعلیمات کے سراسرخلاف ہے۔ظلم کی مختلف صورتیں ہمارے ہاں رائج ہیں ،ان میں سے بعض اتنی عام ہوگئی ہیں کہ اب انہیں ظلم سمجھا،کہنااوران کے خلاف آوازاٹھاناہی ترک کردیاگیاہے۔

منجملہ ان کے بہنوں کومیراث سے اس حیلہ کی بناپرمحروم کرنا کہ ان کی شادی میں والدنے بہت کچھ خرچ کردیاہے،اس لیے اب ان کاحق نہیں رہا،غیبت کرنا،ماتحتوں کے ساتھ ناانصافی وبدسلوکی سے پیش آنا،کسی کی دل آزاری کرنا،دوسروں کی زمین پرناجائزقبضہ کرنا،رشوت لینا،ناحق دوسروں سے مال لینابھی شامل ہے۔آج ہم اپنی آنکھوں سے اس نوع کے مختلف مظالم دیکھتے ہیں ،بہت سارے محکموں میں بیٹھے لوگ مخلوق خداپرطرح طرح سے ظلم ڈھاتے ہیں ،کوئی جسمانی اعتبارسے اورکوئی مالی اعتبارسے لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں،اورذرہ برابرخوف خدا لاحق نہیں۔حیلے بہانوں سے ،جھوٹی اورخلاف حقیقت رپورٹوں کوبنیادبناکرلوگو ں سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں،اوراس عمل میں کئی لوگ شریک ہوتے ہیں،بعض لوگ براہ راست اوربعض ملازم ہونے کے اعتبارسے ظالموں کی تصدیق اوراعانت کرتے ہیں ،وہ بھی ظالموں کے ساتھ ظلم میں برابرکے شریک ہیں، ظالموں کی حمایت ،ان کی طرف میلان ،ظلم میں ان کی تصدیق بھی ظلم ہے۔

قرآن کریم میں ظالموں کی جانب میلان کی بھی اجازت نہیں دی گئی،اوران کی اعانت وحمایت سے توصراحتاً منع کیاگیاہے۔حدیث شریف میں یہ بھی بتلایاگیاہے کہ جوآدمی ظالم کی تائیدکے لیے چل کرجاتاہے اوروہ جانتابھی ہے کہ یہ ظالم ہے توایساشخص اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔ایسے معاونین کوخاص کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان یادرکھناچاہئے جومشکوۃ شریف میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”عنقریب میرے بعدظلم والے صاحب اقتدارلوگ ہوں گے،جوشخص ان کے پاس گیاوران کے جھوٹ کی تصدیق کی اورظلم پران کی مددکی تو وہ مجھ سے نہیں ،اورمیں ان سے نہیں (یعنی میں ان سے بے تعلق ہوں)ایسے لوگ میرے پاس حوض کوثرپرنہ آئیں،اورجوشخص ان لوگوں کے پاس نہ گیا اوران کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اورظلم پران کی مددنہ کی تو وہ لوگ(یعنی ظالموں سے دوررہنے والے) میرے ہیں اورمیں ان کاہوں اوریہ لوگ میرے پاس حوض کوثرپرآئیں گے”۔حدیث شریف کی کتاب کنزالعمال میں معجم کبیرللطبرانی کے حوالہ سے ظلم وناانصافی کاپروانہ لکھنے والوں سے متعلق ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ:”قیامت کے دن صاحب قلم(منشی )کوآگ کے تابوت میں آگ کے تالوں کے ساتھ مقفل کرکے لایاجائے گا،پھردیکھاجائے گاکہ ا س کے قلم سے کیاکیاچیزیں نکلی ہیں،اگراس کاقلم اللہ کی اطاعت اوراس کی رضامندی میں چلاہے تواس کاتابوت کھل جائے گا،اوراگروہ اللہ کی نافرمانی میں چلاہے تو وہ تابوت سترسال کی گہرائی میں جاگرے گا،حتی کہ قلم تراشنے والااوردوات بنانے والابھی اس سلوک سے گزرے گا،اگرا س نے عمداً ظلم لکھنے کے لیے قلم ودوات بنائے ہوں گے”۔سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں مظلوم کی بددعاسے بچنے کاحکم دیاگیاہے،خاص کرایسے مظلوم جواپناانتقام،اپناحق نہ لے سکتے ہوں،مدمقابل ظالم طاقتوربھی ہو،کمزورنہ عدالت کادروازہ کھٹکھٹا سکتاہو،نہ لوگوں کواپنی مددکے لیے پکارسکتاہو۔فی زمانہ بہت سارے لوگ ظلم اورناانصافی کرتے کرتے اس قدرغافل ہوجاتے ہیں کہ انہیں وہ ظلم گناہ ہی نہیں لگتابلکہ وہ اس جرم کواپنی عادت بنالیتے ہیں ،ایسے لوگوں کواللہ کی پکڑسے ڈرتے رہناچاہیے،چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ”ظلم” اور”قطع رحم”دوگناہ ایسے ہیں کہ جن کی سزاآخر ت سے پہلے یہاں دنیامیں بھی ملتی ہے،نیزمسلم شریف کی ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ ظالم کواللہ مہلت دیتاہے،پھرجب اس کوپکڑتاہے توچھوڑتانہیں۔

شہیداسلام مولانامحمدیوسف لدھیانویؒ نے لکھاہے کہ ”اگرلوگ ایک نکتے کوسمجھ جائیں توظلم وستم کادروازہ بند ہوجائے، وہ نکتہ یہ ہے کہ اگرمیں اس مظلوم کی جگہ ہوتا،اوروہ میری جگہ ہوتاتومیں اپنے لیے کیامعاملہ پسندکرتا؟صرف انی سی بات سوچ لی جائے کہ ہم مظلوم پرظلم کرتے ہیں کمزورآدمی پرظلم کرتے ہیں ،یہ سوچوکہ اگراس کے پاس طاقت ہوتی اورتم بے طاقت ہوتے اوریہ تم پرظلم کرناچاہتاتوتمہاراردعمل کیاہوتا؟تمہارے دل کی کیاکیفیت ہوتی؟”۔اگرکوئی شخص کسی پرظلم کامرتکب بھی ہوتواسے حساب کتاب اسی زندگی میں چکادینا چاہئے،قبل اس کے کہ میدان حشرمیں بے سروسامانی کے عالم میں شرمندگی اوروبال اٹھاناپڑے ،چنانچہ بخاری شریف کی روایت میں سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کرتے ہیں کہ” جس کاکسی بھائی پرذرہ بھی ظلم ہووہ آج ہی دنیامیں اس کوحل کرالے،قبل اس کے کہ قیامت قائم ہوکہ اس دن نہ دینارہوگانہ درہم،وہاں ظالم کی نیکیاں لی جائیں گی اگراس کے پاس نیکیاں ہوئیں تو ٹھیک، ورنہ اس کے مظلوم بھائی کی برائیاں لے کراس پرڈال دی جائیں گی”۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں