کراچی کے امن وامان میں رینجرز،پولیس کاکردار۔۔۔اور راؤانوار

گزشتہ کئی روزسے میں ایس پی کراچی راؤ انوار اورمقتول نقیب اللہ محسودکاچرچا اخبارات ،رسائل ،میڈیا،فیس بک اورواٹس ایپ وغیرہ پر سن رہاہوں اور ملک بھر میں اس واقعے کی مذمت کے حوالے سے مظاہرے اوراحتجاج بھی ہورہے ہیں۔تو میں نے اس واقعے کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے جانچ پڑتال کرنا شروع کردی تو پتہ چلاکہ23جنوری کو ایس ایس پی راؤانوارکے خلاف محمدخان محسودکی مدعیت میں ایک ایف آئی آردرج کرائی گئی۔اس ایف آئی آر کے مطابق محمد خان محسودجو نقیب اللہ محسود کے والدمحترم ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی راؤانوارکے ساتھیوں نے جو کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے، نقیب اللہ اور ان کے بھائی قاسم اورحضرت علی کو 3جنوری کوگرفتارکرکے لے گئے اور پھر6جنوری کی شب سپر ہائی وے پر قاسم اورحضرت علی کو چھوڑگئے اورنقیب اللہ کو اپنے پاس قید کر لیااورپھر اس کاموبائل فون بھی بند کر دیا۔نقیب اللہ کے والدمحمدخان محسود نے اس ایف آئی آرمیں اپنابیان درج کروایا کہ 17جنوری2018 ء کوانہیں مختلف ذرائع مثلا اخبارات،میڈیا وغیرہ کے ذریعے سے پتہ چلاکہ ان کے بیٹے نقیب اللہ محسود کوایس ایس پی راؤانواراور ان کے ساتھیوں نے ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا ہے اور الزام یہ لگایاہے کہ نقیب اللہ محسود کا تعلق ایک شدت پسند تنظیم سے ہے، اس بنا پرراؤ انواراور ان کے ساتھیوں کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیاجائے اور انہیں گرفتار کر کے بے گناہ قتل کرنے کی سزا دی جائے ۔اس ضمن میں نقیب اللہ محسودکے اہلخانہ اور رشتہ داروں نے ان کے بے بنیاددعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس بات کاعلی الاعلان اظہار کیا ہے کہ ان کاکسی بھی دہشت گرداور شدت پسند تنظیم سے کسی قسم کاکوئی لین دین یاتعلق نہیں ہے۔تاہم سپریم کورٹ نے سابقہ ایس ایس پی راؤ انوارکی گرفتاری کے لیے حکم بھی جاری کیاہوا ہے،جبکہ ابھی تک سندھ پولیس راؤ انوار کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستا ن ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس گلزاراحمداورجسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ بھی تشکیل دے دیاگیا جو کہ مقتول نقیب اللہ محسودکی بے گناہ ہلاکت پرازخودسماعت کررہاہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت پرازخود نوٹس لیاتھا اور ساتھ ہی راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کاحکم بھی صادر کردیاکہ کہیں راؤانوارگرفتاری کے ڈر سے بیرون ملک فرار نہ ہوجائے۔جیسا کہ پچھلے دنوں راؤ انوار کی پاکستان سے بیرون ملک جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیاگیاتھا۔چیف جسٹس نے راؤ انوار کو27جنوری کو عدالت میں بھی طلب کیاتھا لیکن راؤ انوار نے عدالت کی توہین کرتے ہوئے عدالت میں اپنی پیشی نہیں دی، جس کی بنا پرچیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہاکہ کہیں کسی بڑی شخصیات نے راؤانوار کو چھپایا تو نہیں؟۔چیف جسٹس کے ان ریماکس پرآئی جی صوبہ سندھ نے بیان جاری کیا کہ وہ عدالت کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ راؤ انوارکو بہت جلد ہی گرفتار کرلیں گے۔
اسی طرح کراچی میں ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے بھی جواب طلب کرتے ہوئے انہیں کہاکہ آپ بتائیں راؤ انوار نے پاکستان سے فرار ہونے کے لیے بیرون ملک سفر تو نہیں کیا؟تو اس موقعہ پر ڈی جی سول ایوی ایشن تفصیلات ساتھ نہیں لائے تھے، جس کی وجہ سے چیف جسٹس برہم دیکھائی دئیے ۔اس کے بعد وزارت داخلہ کو بھی چیف جسٹس نے حکم دیاکہ وہ بھی عدالت کو تفصیلات سے آگاہ کریں کہ کہیں راؤ انوار ملک سے فرار تو نہیں ہوگیا؟۔اب سوال یہ ہے کہ کیاراؤ انوارکوگرفتار کرکے قرار واقعی سزادی جائے گی؟ یا جیسے چیف جسٹس نے اپنے ریماکس میں کہاتھاکہیں راؤانوار کو بااثرشخصیات نے چھپایاتو نہیں؟اگر بالفرض ایسا ہے تو آنے والاوقت بتائے گاکہ راؤ انوار کے ساتھ کیاسلوک ہوتاہے۔
اس بات میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے کہ کراچی میں امن وامان کی فضا پیدا کرنے میں رینجرزاور پولیس کی جدوجہداور قربانیاں قابل قدرو تحسین ہیں۔لیکن جب نقیب اللہ محسود،جیسے بے گناہ قتل کیے جائیں تو پھر ایسے افسوس ناک واقع منظرعام پرآنے سے عوام الناس میں قانون پر اعتماداٹھنے تو لگتا ہے۔لیکن کیاکسی ایک فردکا گناہ پورے ادارے پرڈال دیاجائے ؟ہرگزنہیں ۔بعض پروپیگنڈاکرنے والے ،ملک میں انتشار پھیلانے والے عناصر اداروں کی قربانیوں کومشکوک بنانے کے لیے انھیں ایسے مواقع میسر آجاتا ہے اور خوب تنقید کے تیر چلاتے ہیں۔جبکہ ایسے عناصر اداروں کی قربانیوں کو فراموش کرتے ہیں جو کہ قابل تحسین عمل نہیں ہے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں