حالات کی صدا۔۔قومی یکجہتی

ٓ آج کے دور میں معاشرے کے سیاسی اورمذہبی حالات دیکھ کرمجھے بہت دُکھ وافسوس ہوتا ہے کہ ہم سب آپس میں ایک دوسرے کو بھائی بھائی توکہتے ہیں،مگر ہمارے معاملات برادران یوسف ؑ کی طرح ہیں۔ہماری آپس میں دوستی،اتفاق واتحاد،خلوص اور ایک دوسرے سے الفت ومحبت نہ ہونے کے برابر ہے۔الغرض ہمارے پورے معاشرے میں حسدوبغض،عداوت اورنااتفاقی نے اپنے ایسے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں کہ جس کے برے اثرات ہم سب کے سامنے نمایاں ہیں۔ہمارے اندر پائی جانے والی بیماریاں مثلاًحسدوبغض،نااتفاقی اور تعصب وغیرہ نے ہماری جمعیت کی برکت کو ختم کر دیا ہے۔قومی ہمدردی، قومی ترقی اورقومی امورکے سر انجام دینے میں بدبخت اس بیماری نے ہمیں بے شمارنقصانات سے نوازاہے اوراگرحقیقی معنوں میں ہم لوگ قومی ترقی کے خواب کوشرمندہ تعبیر بناناچاہتے ہیں،توپھرسب سے پہلاجو کام ہے وہ یہ ہے کہ ہم سب آپس میں محبت والفت سے اس حسد وبغض اور نااتفاقی جیسی بدترین بیماری کو یکجہتی کے ہتھیارسے مٹاکرختم کر دیں۔
باہمی اتفاق واتحاداوریکجہتی کی آج ہمیں اشد ضرورت ہے،کیونکہ کہیں ایسا نہ ہوکہ خدانخواستہ ہمارادشمن ہماری آپس کی نااتفاقیوں سے کوئی فائدہ اٹھالے اور ہمیں بعد میں پچھتاوے کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو۔جیسا کہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری آپس کی نااتفاقی وتعصب کادشمن پہلے فائدہ اٹھاچکاہے جس کانقصان ہمیںیہ ہوا کہ ہمارے ملک کاایک بازوکاٹ کر ہمیں دو لخت کردیاہے۔ویسے سیانے بزرگوں سے سناہے کہ: جیسے اکثر یت میں پائیداردوستی اس دنیا میں ناپید ہے اسی طرح سے آپس میں اتفاق واتحاد بھی ناپید ہے ۔اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ تمام انسانوں کی طبائع مختلف ہوتی ہیں،توظاہری بات ہے ،جب طبیعتیں مختلف ہیں توپھرہر ایک کے اغراض ومقاصد بھی مختلف ہوں گے توپھریہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کے مخالف بھی ہوں گے ۔لیکن اب یہاں میں جس اتفاق واتحادکی بات کررہا ہوں وہ ہے قومی اتفاق واتحاد یعنی قومی یکجہتی،اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارے اندرکتنے ہی سیاسی،مذہبی، لسانی یادیگراقسام کے جھگڑے کیوں نہ ہوں،لیکن کم ازکم ان سیاسی اورمذہبی جھگڑوں کوقومی یکجہتی کے مانع نہیں ہوناچاہیے۔
ہمارے اساتذہ کرام اور بزرگوں نے باہمی قومی یکجہتی کی ان گنت خوبیاں بیان کی ہیں،اگر کسی ملک وقوم میں قومی یکجہتی جیسی خوبی پائی جائے توایسی قوم کو مات دینابہت مشکل ہوتاہے۔اس وقت آج مہذب، ماڈرن اور تعلیم کے زیور سے بہرہ وردنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت جو کچھ ترقی ہوئی ہے یاہو رہی ہے یا مہذب ملکوں میں جس قدردفاعی طاقت موجود ہے اس میں مین کردار قومی یکجہتی ہی کا ہے ۔قومی یکجہتی میں بے پناں خوبیاں چھپی ہوئی ہیں،یہ قومی یکجہتی ایک بنیاد ہے کہ جس پرسب کچھ تعمیر ہوا ہے۔آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ قوم کی ترقی ہے جو کہ آپس کے سیاسی اختلافات اور قومی یکجہتی نہ ہونے کی وجہ سے رکاوٹ کاباعث بنا ہواہے۔حا لانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور عوام میں اتفاق واتحاداورقومی یکجہتی کے جراثیم موجود نہیں ہیں،بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور اس کا رجحان بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔مثال کے طور پرہم کسی بھی محلے میں جائیں ہمیں وہاں عالی شان مساجددکھائی دیتی ہیں،کوئی گلی یامحلہ ایسا نہیں ہو گاجہاں مسجد نہ ہواوریہ مساجد لوگوں نے خوداپنی مددآپ کے تحت تعمیر کی ہیں،ہماری سرکار نے نہیں،اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہرشہر اورہر قصبے ہر قرئیے میں لوگ کس قدر فراخ دلی سے دینی کاموں میں مالی اورہر طرح کی معاونت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
خدانخوستہ سیلاب آجائے یاکوئی اورقدرتی آفت ٹوٹ پڑے توآفت زدہ خواہ پاکستانی ہوں یا کوئی غیر ملکی،بلاتفریق صاحب حیثیت لوگ یاجس کے پاس جس قدر استطاعت موجود ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق آگے بڑھ کر آفت زدہ لوگوں کی مدد کرتا ہے لیکن ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم وہ کام بھی کریں جو قومی منفعت میں ہوں جس کافائدہ ایک مخصوص طبقہ کو نہیں بلکہ پوری قوم کو ملے اور یہ اس وقت تک قومی ہمدردی کایہ سچاجذبہ لوگوں کے اندر پیدا نہیں ہو سکتاجب تک کہ سرکاری سطح پر لوگوں کو یہ باور کرادیا جائے کہ جو کام حکومت کرے گی وہ لازمی طورپر صرف اورصرف قومی مفادمیں ہوگا اور اس میں کسی سرکاری اہلکار کی ذاتی منفعت کاکوئی شائبہ تک بھی نہ ہو۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں