رائے کا احترام کیجئے۔۔۔

      وہ آج انتہائی بپھرے ہوئے تھے اور اول فول جو منہ پے آیا بولے جارہے تھے۔ انہیں ذرا سا بھی احساس نہیں تھا کہ مسجد میں نماز باجماعت ادائیگی کا وقت ہے۔  یہ مسجد کے گیٹ میں کھڑے برے برے القابات سے کسی کو نوازرہے تھے۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ ان صاحب کو کسی مسئلہ میں کسی دوسرے صاحب سے اختلاف ہے ۔ دونوں کی رائے الگ ہے ، وہ صاحب اس وقت مسجد میں ہیں تب یہ باہر کھڑے باتیں سنائے  جارہے ہیںاور غیض و غضب سے چہرہ  کی رنگت سرخ ہورہی ہے۔ یہ معاشرے کا عام سا مسئلہ ہے کہ فقط رائے کے اختلاف کی وجہ سے دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار  دے دیا جاتا ہے۔ویسے کسی نے کہا تھا کہ ہمارے ملک میں مفتیان کرام اور ڈاکٹر وافر مقدار میں پایے جاتے ہیں۔ کوئی بھی عامی سا بندہ فیس بکی مفتی بنتے ہوئے فتویٰ داغ دیتا ہے۔ایک دوسرے کا کافر قرار دینے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں،کہ وہ تو ہے ہی کافر، اس کے پیچھے تو نماز  ہی نہیںہوتی ، نہیں نہیں اس مسجد کی طرف بھی نہ جانا وہ امام تو الامان والحفیظ بڑا ہی کوئی گستاخ آدمی ہے۔ اسی اختلاف رائے کی وجہ سے سالوں سال بھائی بھائی سے روٹھا رہتا ہے۔ دو خاندان آپس میں تعلق توڑے بیٹھے ہوتے ہیں۔ موت ، مرگ، شادی ، بیاہ ، غم ، خوشی میں آنا جانا ایک دوسرے پر حرام کا درجہ رکھتا ہے۔باپ بیٹے سے ، بیٹا باپ سے ، بیٹی ماں سے، چاچا بھتیجے اور ماموں بھانجے سے فقط اسی وجہ سے سلام کلام نہیں کرتے کہ دونوں میں رائے کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی بات جس کا خود کو بھی علم تک نہیں ہوگا اس پر ہم اختلاف کر بیٹھتے ہیں۔ اپنی اپنی دکانیں سجائے بیٹھے ہیں ، کوئی مسلک مسلک کھیل رہا ہے۔ جانب مخالف کو مسلمان تو کیا ایک انسان تک سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں۔ علامہ تقی الدین سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :’’ تقاضائے رحمت یہ ہے کہ خواہ مخواہ کا اختلاف نہ کیا جائے۔‘‘ بنی اسرائیل اپنے انبیاء کے بارے میں اختلاف اور کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے ۔( مسند احمد) فرمایا :’’ میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔‘‘ اگر نیتیں ٹھیک ہوں ، دل ملے ہوئے ہوں، رائے کا اختلاف دل کا اختلاف نہ بنے تو رحمت ہوگا فقط بغض و عناد کی وجہ سے کسی کو اختلاف برائے اختلاف ہے تو اسے’’ خلاف ‘‘کہتے ہیں۔ اختلاف تو جائز ہے مگر خلاف منع ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی مذمت یوں فرمائی ہے کہ :’’ الخلاف شر‘‘ یعنی خلاف شر ہے۔( العواصم من القواصم) ویسے اختلاف رائے کا وجود تو فطری عمل ہے۔خود صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں اختلاف رائے پایا جاتا تھا۔ کئی مواقع پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے تھے لیکن حدود و قیود کا خیال رکھتے ہوئے، اختلاف رائے کی وجہ سے ایک دوسرے کا ادب ، احترام، ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ دل متحد رہتے تھے، فریقین ایک دوسرے کی عظمت کے معترف رہتے تھے۔ بعض اوقات ایسا غلط فہمی کی بناء پر ہوتا تھا اور جونہی عدم علم سے علم کے زینے پر قدم رکھتے تو رائے کو بے دھڑک بدل ڈالتے تھے۔ کیا ہم میںسے کوئی اتنی جرات کر سکتا ہے کہ اپنی بات کا ضعف واضح ہو جانے پر کھلے دل سے اعتراف کریں؟ کہ ہاں میری رائے غلط تھی۔ میں غلطی پر تھا۔  ایک وجہ جو ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے  ضد، کینہ، حسد،بغض، عناد اور انا ہے۔ اور دوسرے شخص کے تعصب اور ضد میں آنے کی وجہ بعض اوقات ہمارا اپنا رویہ بنتا ہے۔ جیسے ہم اپنی بات کو صحیح ، ٹھیک ،اور خود کو حق پر سمجھ رہے ہوتے ہیں بعینہ ہمارا مخاطب بھی انہی نفسیات میں جی رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہم اپنی بات کو سچا سمجھ کر دوسرے تک اپنی بات پہنچانا  اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں اسی طرح مخاطب بھی یہی فکر رکھتے ہیں۔جیسے ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات کو خوب غور و حوض کے ساتھ، خوب توجہ و انہماک کے ساتھ سنا جائے بالکل اسی طرح تہذیب اور اخلاق ہمارے لیے بھی یہی دائرہ کھینچتی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ کوئی بھی شخص اگر آپ سے مختلف رائے رکھتا ہے یا عدم علم کی وجہ سے غلطی پر ہے اور آپ اس کو صحیح بات بتلا دینا اپنا دینی و ایمانی فریضہ سمجھتے ہیں تو اس سوچ میں آپ حق بجانب ہیں ۔ضرور اپنی رائے کا اظہار کیجئے مگر کس انداز سے؟  تو شریعت اپنی رائے کے اظہار کے لیے ایک راستہ جو فراہم کرتی ہے  وہ یہ ہے کہ ’’التی ھی احسن‘‘ یعنی احسن اور اچھے انداز سے ، مناسب رویے سے، بہترین طریقے سے بیان کرنا ہم پر فرض کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی طرح ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم جانب مخالف ، مخاطب کی بات  خوب توجہ ، دھیان اور انہماک سے سنیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ہم سے بات کر رہے ہوں اور ہماری باڈی لینگویج چیخ چیخ کر پکار رہی ہو کہ : ’’بخشو۔۔۔جان چھوڑو۔۔۔اففف کب جان چھوٹے گی۔‘‘ہم کسی کی بات توجہ و انہماک سے نہیں سنیں گے تو وہ ہماری بات کیوںکر توجہ سے سنے گا؟اسی طرح ہم اپنی بات تھوپنے کی کوشش ہر گز نہ کریں، دھیان رکھنا چاہیے کہ غلطی کا امکان باقی ہے انسان ہونے کے ناطے ہماری بات، ہماری رائے ، غلط اور ناقص بھی ہو سکتی ہے، اور مخاطب کی درست بھی۔ کسی بھی کام کے بیک وقت دو مختلف حل ہو سکتے ہیں۔ گفتگو کی تلخی سے پرہیز کریں ، سنجیدگی اور احترام کے پہلو کوغالب رکھیں ۔ کوئی تلخ کلامی کی نوبت پیش آجائے تو فورا سے پہلے معذرت کریں ، معافی مانگیں۔آپس میں ’’رحماء  بینہم‘‘ والا معاملہ کریں۔ ہر آن ہر گھڑی نبی کریم ﷺ کا فرمان پیش نظر رہے :’’تو جوڑ اس سے، جو توڑے تجھ سے، جو تجھ پر ظلم کرے تو اس کو معاف کر، جو تجھ سے برائی کرے تو اس سے بھلائی کر۔‘‘ اختلاف فقط رائے کے اختلاف تک رہے ۔  دل ملے رہیں۔ یاد رکھیں اگر دل بچھڑ گئے تویہی روحانی موت ہو گی۔ امت ایک جسم کی مانند ہے اسے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچائیں۔ آپس میں اتفاق و اتحاد کا معاملہ کریں۔ دیکھیں !شہد کی مکھیاں اتفاق و اتحاد کی زندگی بسر کرتی ہیں۔انسان کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔ شہد کی مکھیوں کے اتفاق سے شہد بنتا ہے۔ خدا تعالی نے اتفاق میں اتنی برکت رکھی ہے۔  اگر ہم انسان اتفاق کریں تو۔۔۔؟

حصہ
mm
مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے عبد الباسط ذوالفقارمختلف سماجی موضوعات پر انتہائی دل سوزی سے لکھتے ہیں،جو براہ راست دل میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔مختلف اخبارات و جرائد میں ان کے مضامین شایع ہوتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں