نئے لکھاریوں کی مشکل اور ہماری ذمے داری

وہ مجھ سے اپنی تحریروں کی نوک پلک درست کرواتا رہا۔پھر جب اس کے قلم میں کچھ روانی دیکھی ،تواپنے توسط سے کچھ اخبارات اور ویب سائٹس میں اس کی تحریریں بھی لگوائیں۔پھر اس کا نام چل گیا اور وہ کافی چھپنے اورپڑھاجانے لگا۔آج وہ مجھ سے ملا،توکافی فکرمند نظر آیا۔اس کا مدعا سنا،تواب فکرمند ایک نہیں ،دو تھے اور جب یہ تحریرآپ پڑھیں گے ،توامید ہے آپ بھی اس فکر کاحصہ بن جائیں گے۔
اس کا کہنا تھا کئی جامعات،مدارس اور ادارے ایسے ہیں ،جو اسلامی آئیڈیالوجی کے حامل لوگوں کی تحریری میدان میں تربیت کررہے ہیں ۔ان کے زیر اہتمام ورک شاپس،صحافت وکالم نگاری کورسز اور کئی رجال کار کی انفرادی محنت سے اسلامی ودینی سوچ رکھنے والوں بالخصوص نوجوان لکھاریوں کی ایک بڑی کھیپ وجود میںآچکی ہے۔یہ پکا ہوا پھل یا تو ضائع ہورہا ہے،یاغیروں کی جھولیوں میں گررہا ہے۔ضائع تویوں ،کہ ان لکھاریوں کو تربیت تو فراہم کردی جاتی ہے،لکھنا تو سکھا دیا جاتا ہے،لیکن اس سے آگے ان کی کوئی راہ نمائی نہیں کی جاتی،کہ ان کی تحریریں اپنے توسط سے لگوائی جائیں،انھیں متعارف کرایا جائے،ان کی شناخت پیدا کرنے میں ان کی معاونت کی جائے،بلکہ اب اگر کوئی اپنی محنت سے آگے بڑھ پایا،تو اس کا نصیب،اور ایسے درجنوں میں ایک آدھ ہی ہوتے ہیں،ورنہ اکثر مسلسل تحریروں کے رد ہوجانے کی وجہ سے اس کوچے کو ہی خیرباد کہ دیتے ہیں ،یوں ان پر کی گئی محنت کا کوئی دل خوش کن نتیجہ نہیں نکل پاتا۔غیرکی جھولیوں میں جانے،کی وضاحت کے بجائے صرف ان لبرل وسیکولر دانشوروں اور اہل قلم کاتصور کرلیں ،توبات واضح ہوجائے گی،جنھوں نے تربیت تو دینی اداروں سے حاصل کی،ان کی صلاحیتوں کو صیقل اسلامی آئیڈیالوجی اسکولز نے کیا،اور جب یہاں انھیں خاطر خواہ پذیرائی نہ ملی،توان کی سیماب صفت طبیعت یا دل ودماغ میں رچا بسا نام وری کا جرسومہ،انھیں غیروں کی نگری میں لے گیا۔ایسے لوگ آپ کو اپنے گردو پیش اور سوشل میڈیا پر بڑی آسانی سے مل جائیں گے،نام لینے کی ضرورت نہیں۔
بہرحال دونوں صورتوں میں محنت ثمرآور نہیں ہوئی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے،جس کا اس نے ذکر کیا،کہ تربیت تو دے دی،صلاحیتوں کو تو جگایا،کوچہ تحریرکی غواصی کا ہنر تو سکھادیا،لیکن اس نئے ہیرے کوکہیں متعارف نہ کرایا،اس کی محنت کو بارآور وثمر بار کرنے میں اپنے تعلقات،اپنی سینئرٹی اور اپنے تجربات کا استعمال نہ کیا۔
اس کا کہنا تھا،اس رجحان کا نتیجہ یہ ہے کہ جب تک کسی اخبار،رسالے،آرگن،ویب سائٹ وغیرہ میں ہمارا ہم خیال مدیر ہوتا ہے،ہماری تحریریں شایع ہوتی ہیں ،اس کے جانے کے ساتھ ہی وہ میدان ہم سے چھن جاتا ہے۔اس نے ایسی کئی مثالیں دیں،خود میرا بھی یہی مشاہدہ ہے۔کئی میدان اور کئی پلیٹ فارم جہاں ہم ہی ہم نظر آتے تھے ،آج وہاں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آتے،وجہ مدیر کی تبدیلی۔حالاں کہ ہر مدیر کا نظریہ یہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی تحریرکی اشاعت وعدم اشاعت کا فیصلہ تعلق کو دیکھ کرنہیں،بلکہ خالص میرٹ کی بنیاد پر کرے۔مگر کیا کیجیے!کہ یہ دور کام والوں کا نہیں ،نام والوں کا ہے،اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی نئے لکھاری کو نام ور بننے میں طویل عرصہ لگتا ہے،ہاں!اس کے بڑوں،جہاں سے اس نے تحریرکی تربیت حاصل کی ہے،کی سرپرستی سالوں کی مسافت دنوں میں طے کراسکتی ہے۔
صاحبو!اس کی فکر اور اس تحریر کا واحد مقصد ان حضرات کو،جو اسلامی آئیڈیالوجی کے حامل افراد کو تحریرکے فن سے آراستی کرنے کا عظیم مشن سنبھالے ہوئے ہیں،ان کی اس ذمے داری کی جانب متوجہ کرنا ہے،کہ ابھی آپ کا کام ختم نہیں ہوا۔پھل کے پکنے کے بعد اس کی حفاظت اور اس کوقدردانوں تک پہنچانا بھی پھل کے مالک کا فریضہ ہوتا ہے۔سو آپ اس حوالے سے غور ضرور کیجیے!کہ آپ کی محنت شاقہ ومساعئ جمیلہ کے نتیجے میں تیار شدہ پھیل کہیں ضائع تو نہیں ہورہا؟یاغیر کی جھولی میں تو نہیں گررہا؟اگر ایسا ہے ،اور یقیناًہے ،تو اس کے تدارک کے لیے آپ کے پاس کیا لائحۂ عمل ہے؟اس کا آپ کیا حل تجویز کرتے ہیں؟اگر ہم اسی طرح صرف رجال کار کی تیاری پر ساری توجہ مرکوز کرکے اس سے اگلے مراحل سے تغافل عارفانہ برتتے رہے،توکہیں زمانے کے فساد درفسادکی وجہ سے دن بہ دن ہم اپنے مقاصد کے حصول سے دور تو نہیں ہوتے چلے جائیں گے؟
ابتدائی طور پر ہمارے ذہنِ نارسا میں یہ تجویز آتی ہے،کہ ہمیں باہمی رابطوں کو وسعت دینی چاہیے۔اپنے طلبہ کو نام ور اداروں میں اپنے توسط سے بھیج کر انھیں متعارف کرانا چاہیے۔نئے لکھاری کی تحریر کی نوک ہلک درست کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مختصر سے تعارفی لیٹر کے ساتھ اس کی وہ کاوش مدیر کو بھیجنی چاہیے۔جو احباب مختلف اخبارات،رسائل،آرگنز،میگزینز ،ویب سائٹس وغیرہ کے ساتھ عملی طور پر منسلک ہیں ،ان کے توسط سے ان اداروں تک اپنے طلبہ کی رسائی کے لیے ان کی مدد کرنی چاہیے۔سینئر اہل قلم کو جونیئرز کی راہ نمائی کرنی چاہیے،انھیں مشورہ دینا چاہیے،کہ وہ اپنی تحریر کس طرح تیار کریں اور کہاں بھیجیں ،تو وہ شائع ہوجائے گی۔
یہ کام کسی ایک فرد کا نہیں۔ایک اکیلا دو گیارہ،کے مصداق ہم سب،یعنی مدیران،منتظمین ادارہ ،سینئرلکھاریوں ،صحافیوں وکالم نگاروں کواس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کرنی چاہییں،تاکہ اس سلسلے میں ایک اجتماعی سوچ وجود پذیر ہو،ایک اجتماعی پلیٹ فارم وجود میں آئے اور یہ کام سوچ سے عمل اور فکر سے وجود کے مراحل طے کرے۔اس حوالے سے صائب مشوروں اور تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

1 تبصرہ

  1. بہت ہی شاندار لاجواب جملے ہیں مولانا محمد جہاں یعقوب کے کیونکہ آج ہر اہل قلم کااولین کام یہی ہے کہ وہ معاشرے کے اصلاح کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ قلم ہے کیونکہ اسکی نوق سے نکلنے والے جملے کسی بھی انسان کی زندگی بدلنے میں اہمیت رکھتے ہیں اور سینیئر اہل علم اہل قلم کو اس کام کو اپنی ذمہداری سمجھ کر کرنی ہوگی نہیں تو ایک وقت آئیگا ہمارے پاس اہل قلم باقی نہیں رہینگے اور اگر رہینگے وہ جو یا تو رہ جائینگے جو اسلامی نظریاتی سے آری ہونگے،

جواب چھوڑ دیں