امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے کار گر طریقے

امتحانات کی آمد سے ہی طلبہ ،اساتذہ اور منتظمین مدارس کی پریشانیاں نقطہ عروج کو پہنچ جاتی ہیں۔امتحانات کا سامنا تو طلبہ کرتے ہیں لیکن امتحانات کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ کا سامنا طلبہ کے علاوہ، اساتذہ اکرام اور منتظمین مدرسہ کو بھی کرنا پڑتا ہے ۔ طلبہ کے ذہنوں میں اکثر ایک سوال گردش کرتا ہے کہ آخر امتحان کی کیا ضرورت ہے۔ امتحان طلبہ کے علمی صلاحیتوں کی جانچ، علمی پختگی،گہرائی و گیرائی کے علاوہ تعلیم کے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں کامیابی کے تناسب کی جانچ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔امتحانات علمی بیداری و ،چستی کے ساتھ ساتھ طلبہ میں نظم و ضبط پیدا کرتے ہیں۔امتحان کے ذریعے سماج کے لئے مطلوب افراد کی تیاری کا کام بھی انجام پاتا ہے ۔ خوشگوار زندگی اور تابناک مستقبل کے لئے امتحان کا سامنا ضروری ہوتا ہے۔ زندگی میں کامیابی کے خواہش مندطلبہ امتحان کو ایک بوجھ کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو ،بہتر بنانے اور ثابت کرنے کا ایک وسیلہ سمجھتے ہیں۔ جو طلبہ طالب علمی کے زمانے میں ہر سبق کے بعد امتحان کی تیار ی کو خود پر لازم کر لیتے ہیں وہ زندگی کے ہر امتحان میں کامیابی کا خود کو اہل پاتے ہیں۔ امتحان طلبہ کے لئے ایک مشکل آزمائش ضرور ہے لیکن جب وہ امتحان کا خوش دلی سے سامنا کرتے ہیں تو یہ آزمائش ایک گوناگوں سکون و انبساط میں تبدیل ہوجاتی ہے۔امتحان کی تیاری و تحریر کے مناسب طریقہ کار سے عدم آگہی کے سبب طلبہ امتحان کا خوف،اضطراب ، بے چینی،عدم اعتماد اور احساس کمتری جیسے متعدد مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ ناکامی و رسوائی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔سال بھر سخت محنت و تیاری کے باوجود طلبہ امتحان کی آمد سے خوف و پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات ہر طالب علم کی زندگی میں نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔کم عمری و نا تجربہ کار ی کی بناء پر بورڈ امتحان طلبہ کے لئے ایک تلخ اور اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے۔طلبہ مثبت سوچ اورسخت محنت کے ذریعہ امتحانی خوف پر نہ صرف قابو پانے میں کامیابی حا صل کر سکتے ہیں بلکہ نمایا ں کامیابی کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔طلبہ کی ذہنی سطح چاہے کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو وہ امتحانات کے خوف کا شکار ہوسکتے ہیں۔امتحانات کے خوف سے نجات کے لئے طلبہ ماہرین تعلیم کے مشوروں اور تجاویز پر عمل کر یں۔امتحان کی شب جلد سونا طبی اور نفسیاتی نکتہ نظر سے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔مکمل نیند لینے سے آپ امتحان کی صبح اپنے آپ کو تر و تازہ چاق و چوبند پائیں گے برخلاف اس کے اگر رات دیر تک مطالعہ یا کسی اور وجہ سے بیدار رہیں گے تو اگلی صبح آپ خو د کو تھکا ہوا اور تناؤ کا شکار محسوس کریں گے۔ تناؤ اور تھکاوٹ کی وجہ سے امتحا نی مظاہرے پر خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔امتحان کے دباؤ کی وجہ سے اکثر طلبہ غذا سے لاپروائی برتے ہیں جس کی وجہ سے کمزوری پیدا ہوجاتی ہے جس سے کارگردگی متاثر ہونے کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔ہلکی پھلکی غذا کارکردگی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔بسیار خوری(زیادہ کھانے سے)سے پرہیز کریں جس سے غنودگی پیدا ہوتی ہے اور ہاضمہ کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔امتحان سے قبلمذکورہ امور پر توجہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ذیل میں امتحان لکھنے کے چند کارگر طریقوں کو پیش کیا جارہا ہے جو طلبہ کی کامیابی میں کلیدی کردار کے حامل ہیں۔
(1)امتحان کے لئے درکار اشیاء کا انتظام؛۔امتحان سے ایک یوم قبل امتحان کے لئے درکار ضروری اشیاء و سامان کو تیار کرلیں۔امتحان گاہ کو لے جانے والی اشیاء کی ایک فہرست مرتب کر لیں مثلا ہال ٹکٹ،پین،پنسل ،امتحانی پیڈ ،ربڑ،پٹری،جیو میٹری بکس وغیرہ امتحان گاہ روانہ ہونے سے قبل اپنے ساتھ رکھ لیں۔وقت سے پہلے کم از کم آدھا گھنٹہ قبل امتحان گاہ پہنچ جائیں۔امتحان گاہ میں فراہم کردہ اپنی نشست و کمرہ کی صحیح جانچ کر لیں تاکہ امکانی افراتفری سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔کسی بھی قسم کی افرا تفری امتحان سے قبل ذہنی سکون کو درہم برہم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
(2)تنظیم اوقات؛۔امتحان کے دوران وقت کے بہتر استعمال کے لئے اپنے ہاتھ پر گھڑی باندھیں ۔وقت کے زیاں سے بچیں اورقت کی تنظیم کو ملحوظ رکھیں۔سوال کے لئے مختص نشانات کے حساب سے جواب پر وقت صرف کریں۔طویل جوابات اور مختصر جوابات کو تحریر کرنے سے پہلے ان پر کتنا وقت صرف کرنا ضروری ہے طئے کرلیں ۔
(3) امتحانی پرچے میں دی گئی ہدایات کا غور سے مطالعہ کریں اور ہدایات کے مطابق عمل درآمد کریں۔سوالات کے پرچے کو اچھی طرح سے پڑھیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے کیا پوچھا جارہاہے۔سوال کے عین مطابق اپنے جواب کو تحریر کریں غیر متعلق تفصیلات بیان کرنے سے مکمل احتراز کریں۔
(4)بہترین سے بہتر کی سمت پیش قدمی؛۔ جوابی بیاض میں پہلے تحریر کیئے جانے والے سوال کا جواب ممتحن(Examiner) پر آپ کی قابلیت اور ذہانت کی چھاپ ڈالتا ہے۔آپ کے پہلے جواب کا تاثر ممتحن کی توجہ آپ کی جانبمبذول کرنے میں کار گر ثابت ہوتا ہے۔آپ کے جواب کی گہرائی و گیرائی کے باعث ممتحن آپ کی مضمون پر گرفت کا اندازہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر آپ اپنے پہلے ہی جواب کے ذریعہ ایک بہتر تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو بعد کے دیگر سوالات کے جوابات تحریر کرنے میں آپ سے سرزد ہونے والی معمولی غلطیوں کو وہ نظر انداز کر سکتا ہے۔اسی لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے پہلے جواب کو تحریر کرنے میں گوناگوں توجہ سے کام لیں اور دھیان رہے کہ معمولی سی معمولی غلطی آپ سے سرزد نہ ہونے پائے۔کانٹ چھانٹ اور کتر بیونت سے آپ ممتحن کو غلط تا ثر دیں گے۔سوالات کے جوابات تحریر کرتے وقت سلسلہ وار جوابات تحریر کرنے کو ترجیح دیں۔لیکن سلسلہ وار جوابات کوتحریر کرنا ضروری نہیں ہے۔جن سوالات کے جوابات آپ بہتر جانتے ہیں پہلے شروعات ان سوالات سے ہی کریں ۔ایسے سوالات کے جوابات کوپہلے تحریر کرنے سے اجتناب کریں جن کے متعلق آپ کا اعتماد متزلزل ہے۔پہلے آسان سوالات کی طرف توجہ کریں پھر مشکل سوالات کو حل کریں۔ایک بھی سوال کو ہر گز نہ چھوڑیں۔
(5)ممتحن(Examiner) کی توجہ کو مہمیز کریں؛۔ممتحن ہی وہ واحد شخص ہوتا ہے جس کو علم ہوتا ہے کہ آپ نفس مضمون کو بہتر جانتے ہیں کہ نہیں۔اگر آپ ممتحن کو اپنے پہلے جواب کے ذریعہ ہی قائل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ آپ نفس مضمون سے کما حقہ واقف ہیں تب یقیناًوہ آپ سے بعد میں سرزد ہونے والی دیگر جوابات کی معمولی غلطیوں کو نظر انداز کر دے گا۔امتحانات میں اعلی پوزیشن حا صل کرنے والے طلبہ اکثر پہلے ان سوالات کے جوابات تحریر کرتے ہیں جن پر ان کی بہترین دسترس ہوتی ہے۔اگر ممتحن صرف سرسری جائزہ لینے کا عادی ہوتو آپ کے بعد والے جوابات پر بھی وہ سرسری نظر ہی ڈالے گا۔اگر آپ اپنے جوابات کی تنقیح و جانچ سے ممتحن کو باز رکھنا چاہتے ہیں تب ضروری ہے کہ پہلے آپ وہ جوابات تحریر کریں جن پر آپ کو مکمل عبور ہو بعد ازاں ان جوابات کی جانب توجہ دیں جن پر پہلے تحریر کردہ جواب سے کم عبور ہو اور اسی طرح جوابات کی تحریر کو ممکن بنائیں۔اردو،انگریزی،ہندی،تلگو،ریاضی،سائنس،اور سماجی علم تمام مضامین میں یہ طریقہ کار سود مند ثابت ہوتا ہے۔
(6)پرچے کو عمدہ طریقہ سے پیش کریں؛۔ممتحن آپ کے کسی اہم اصطلاح کو خط کشیدہ نہ کرنے پر یا عدم خوش خطی کی بنا ء پر آپ کو نشانات سے محروم نہیں کر سکتا ہے۔لیکن آپ کے اہم اصطلاحوں کو خط کشیدہ کرنے اورجوابات کوبہتر اور خوش خط تحریر کرنے سے ممتحن کو نشانات دینے میں سہولت و آسانی ہوتی ہے۔ بعض طلبہ غیر ضروری طور پر اپنے پرچے کو رنگین قلموں سے سجانے سنوارنے میں اپنا وقت ضائع کر تے ہیں جس کی قطعی ضرور ت نہیں ہوتی ہے۔ تحریرکردہ جواب کے نفس مضمون سے بخوبی واقف ہونے کا ممتحن کو تاثر دینے میں اگر آپ کامیاب ہوجاتے ہیں تب آپ نشانات کو حاصل کرنے میں بھی یقیناًکامیا ب ہوجائیں گے۔ہر جواب کے بعد چند سطر لکھنے کی جگہ چھوڑدیں خاص طور پر تفصیل طلب جوابات کے لئے چند سطر لکھنے کی جگہ چھوڑنا سود مند ہوتا ہے۔اس طریقے سے نہ صرف آپ کی پیش کش واضح نظر آئے گی بلکہ بعد میں اگر آپ اپنے جواب میں مزید اضافے کے متمنی ہیں تو آپ کو جگہ کی قلت کا اندیشہ نہیں ر ہے گا۔دو سطروں (لائینوں) کے درمیان مزید ایک سطر لکھنے کی گنجائش ہمیشہ رکھیں۔اس طریقہ کار کے ذریعہ جوابی بیاض کی دوبارہ جانچ کے وقت آپ جواب میں ضرورت کے مطابق تبدیلیا ں لاسکتے ہیں بھولے یا چھٹے ہوئے الفاظ و جملے بھی تحریر کر سکتے ہیں اور اس عمل سے جوابی بیاض کی خو ب صورتی پر کوئی اثر بھی نہیں پڑے گا اور وہ پہلے ہی کی طرح صاف اور اچھی نظر آ ئے گی۔
(7)نفس مضمون پر خصوصی توجہ دیں؛۔ریاضی ، سائنس اور سماجی علم کے پرچوں میں جوابات کو مناسب اکائیوں میں تقسیم کرتے ہوئے نکات کی شکل میں جواب تحریر کریں۔منظم سلسلہ وار درجہ بہ درجہ ہر سوال کے حل کو تحریر کریں۔جہاں بھی ضابطوں کے استعمال کی ضرورت درپیش ہو استعمال سے گریز نہ کریں۔گراف کو اتارتے وقت پیمائش کا خاص خیال رکھیں ۔آخر میں جواب کو نمایاں کرنے سے نہ چوکیں۔توضیح و تشریح کے لئے متوازن مساوات تحریر کرنا ضروری ہوتا ہے۔رے (Ray)اور سرکٹ(Circuit) کے خاکوں میں تیروں کا صحیح استعمال کریں۔سوالات جیسے وجوہات بیان کر و،مختصر جوابات ،نمایاں خصوصیات اور استعمالات میں جوابی نکات مختص کردہ نشانات کے مطابق ہی تحریر کریں زیادہ نکات تحریر کرتے ہوئے وقت ضائع نہ کر یں۔
(8)جامع و مفصل جوابات تحریر کریں؛۔موضوعاتی (نفسیSubjective) پرجہ میں ممتحن کو بہت زیادہ متن کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے ۔بہت سارے جوابی بیاضات جو کہ طویل متن پر مشتمل ہوتے ہیں ممتحن کے لئے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔جہاں کہیں بھی ممکن ہو اپنے جوابات کو اہم نکات کے ذریعہ درجہ بہ درجہ سلسلہ وار پیش کریں۔ہمیشہ موزوں توضیح و تشریح مختصر پیراگراف کی شکل میں انجام دیں۔بالکل ہی اختصار سے کام نہ لیں اور نہ ہی حد سے زیادہ طوالت کو اختیار کریں۔ممتحن کے فرائض انجام دینے والے اکثر اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس طر ح کی ایک غلطی کی وجہ سے طلبہ کو پرچے میں (4-5)نشانا ت سے محروم ہونا پڑتا ہے۔آپ خود کو ایسی غلطی سے محفوظ رکھیں۔
(8)سیدھا سادھا صاف خاکہ اناریں؛۔ امتحان میں خا کہ اتارنے کا مقصد ممتحن پر خاکے کے مختلف اعضاء کے محل وقوع اور ان کے ناموں سے آپ کی واقفیت کو واضح کر نا ہوتا ہے ۔اکثر طلبہ اپنے خاکوں کو پیچیدہ طریقے سے اتارنے کی وجہ سے نشانات سے محروم ہوجاتے ہیں۔انتہائی تفصیل کے ساتھ آرٹس کی طر ح اتارے گئے خاکے سے آپ کا سیدھا سادھا صاف ایک منٹ میں اتا را گیاخا کہ بہتر ہوتا ہے۔اعضاء کی نامزدگی کو جلی حروف میں انجام دینے کے ساتھ خا کے کا عنوان تحریر کرنے سے نہ چوکیں۔
(10)پرچہ کی دوبارہ جانچ کرلیں؛۔ممتحن آپ کے سو(۱۰۰)فیصدی پر چے کو لفظ بہ لفظ نہیں پڑھتے ہیں وہ کلیدی الفاظ کو تلاش کر تے ہیں۔ اکثر اوقات امتحانی دباؤ کی بناء پر دوران امتحان ہم چند کلیدی الفاظ کو جانتے ہوئے بھی نہیں لکھتے ہیں ۔آپ ایسے اغلاط کو صرف اپنے پرچے کی دوبارہ جانچ کے ذریعہ ہی درست کر سکتے ہیں۔
(11)اضافی سوالات کے جوابات بھی تحریر کریں؛۔ہر سال طلبہ امتحان ہال سے مقررہ وقت سے پہلے نکل جاتے ہیں جبکہ امتحان ہال سے وقت سے پہلے نکلنے پر کو ئی نشانات نہیں دیئے جاتے ہیں۔وقت سے پہلے امتحان ہال سے نکلنے سے بہتر ہے کہ اضافی سوالات کے جوابات تحریر کیئے جائیں۔اگر آپ کے کسی جواب میں کوئی نقص یا کوتا ہی واقع ہوگئی ہے تو آپ اس کا ازالہ اضافی سوال کے جواب تحریر کرتے ہوئے انجام دے سکتے ہیں۔ہر سال اعلیٰ نشانات حاصل کرنے والے طلبہ کی جانب سے اضافی سوالات کے جوابات تحریر کرنے کی حکمت عملی نہایت ہی سود مند ثابت ہوئی ہے۔لیکن یہ کام آپ کو تبھی انجام دینا چاہئے جب آپ اپنے جوابی بیاض کی مکمل طریقے سے دوبارہ جانچ کرچکے ہوں۔
(12)جوابی بیاض کی حوالگی؛۔اپنے جوابی بیاضات کو ٹھیک طریقے سے ترتیب وار باندھنے کے بعد پرچے کی دوبارہ جانچ کرتے ہوئے جوابات کے درمیان لکیر کھینچتے ہوئے اہم جملوں کو خط کشیدہ کرتے ہوئے آپ اپنے پرچے کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔اس طر ح کے اختتامی اضافے آپ کو تبھی انجام دینے چاہئے جب آ پ نے اپنے پرچے کی مکمل ددوبارہ جانچ کر لی ہو اور اس طرح کے کام کے لئے آپ کے پاس فاضل وقت بچا ہوا ہو۔اس طریقہ کار سے آپ اپنے پرچے کو بہتر اور قابل توجہ بنا سکتے ہیں۔مذکورہ بالا امور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہر طالب علم وہ کامیاب حا صل کرسکتا ہے جس کی اس نے تمنا کی ہویا جس کا وہ مستحق ہے۔
اگر امتحان میں کم نشانات حا صل ہوں تو مایوس نہ ہو ں اور اپنے کسی بھی استاد سے بدگمان نہ ہوں۔اچھی پوزیشن حاصل کرنے والے ساتھیوں سے حسد کے بجائے اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر غور کریں اور اللہ سے دست بدعا ہوجائیں۔ خدانخوستہ نا کامی کا سامنا کرنا پڑے تو بھی مایوس ہونے کی قطعی ضردرت نہیں ہے۔اللہ جسے چاہتا ہے کامیاب و کامران کرتا ہے صرف تیاری اور اسباب پر نظر رکھنے سے کامیابی ہاتھ نہیں آتی ہے بلکہ کامیابی کے لئے پڑھائی کے ساتھ ساتھ اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگنا بھی ضروری ہے۔اللہ کے فیصلے پر راضی ہوجائیے اور عزم مصمم،بلند ہمتی او ر بلند حوصلگی سے مستقل محنت جاری رکھیئے۔

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں