شام کی تباہی ،عربوں کی بربادی

دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، انبیاء کی سرزمین اور اسلامی تاریخ کے روشن ابواب میں شامل، ہزاروں ائمہ، علما ، محدثین فقہاء و ادباء و مفکرین کے مرکز ملک شام میں آج اسلام اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔ مغربی طاقتیں شام کے شہریوں پر ایسے ٹوٹ پڑی ہیں کہ جیسے گدھ کسی مردار پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ شام کے بچوں، عورتوں اور بزرگوں پر ہر وہ ظلم آزمایا جاچکا ہے جو آج کا انسان سوچ سکتا ہے۔موجودہ حالات تیزی سے ہمیں عالمی جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں اور ہم ایک بے حس قوم کی طرح صرف کھیل کود اور مذاق میں مشغول ہیں گزشتہ کئی سالوں سے شام ،عراق ،لبنان ،فلسطین ،کشمیر عالمی طاقتوں کے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں روز قتل عام ہوتا ہے اور دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں کہ اس کی مذمت کرے یا ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔
مکار دشمنوں نے شام میں سنی اور شیعہ آبادی کو آپس میں لڑوا کر اپنے مفاد کی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ایک طرف روس ہے جو بشار الاسد کا حامی بن کر باغیوں کے نام پر شام کی معصوم عوام پر قہر ڈھا رہا ہے تو دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ہیں کہ جو عوام کی مدد کے نام پر خوفناک تباہی پھیلا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے نام پر شام کو مقتل بنانے والی دنیا کی ان طاغوتی طاقتوں کا بال بھی بیکا نہیں ہورہا اور اگر کوئی اس سے متاثر ہے تو وہ صرف اور صرف مسلمان ہے۔
تنظیم برائے انسانی حقوق کے مطابق شام کی خانہ جنگی میں 2011ء سے اب تک4لاکھ 15 ہزار عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ بیرون ملک ہجرت کرنے والوں کی تعداد 80لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
شام میں شام جاری خونی جنگ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے ہر قوت اپنا زور دیکھانے شام اور عراق کا رخ کرلیتی ہے خواہ میزائل چیک کرنے ہوں یا گولیاں لیکن کسی عالمی امن کے ٹھیکدار کویہ نظر نہیں آتا کیوں کہ اقوام متحدہ ہے اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ ،دو دہشت گرد ملک ہی امن کی بات کرتے ہیں یہ مذاق نہ امت مسلمہ کو سمجھ آتا ہے نہ دیکھائی دیتا ہے اور نہ سنائی دیتا ہے گونگی ،بہری سعودی حکومت کو نہ شام میں مرنے والے بے قصور لوگوں کی فکر ہے نہ سعودی عوام کی ان کو فکر ہے تو سینما ہالز کی فیش ویک کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی جس کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوگی اور اس کو نیچا دکھانے والے قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئیاں، جو احادیث کی شکل میں موجود ہیں، واضح اعلان کرتی ہیں کہ اہل حق کون ہیں اور باطل کون؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “مسیح دجال مشرق سے آئے گا اور مدینہ کی جانب پیش قدمی کرے گا، یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے تک پہنچے گا، پھر فرشتے اسے سرزمین شام کی طرف بھگا دیں گے اور وہ شام میں ہی ہلاک ہو گا۔”
شام میں معصوموں کی ہلاکت پر اقوام عالم خواب خرگوش کے مزے لیے سو رہی ہے۔ اسے ہر حال میں بیدار کرنا ہوگا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا اور امت مسلمہ کے ہر فرد کو رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینا ہوگا۔
اس بار میری جنگ ہے خود اپنی ذات سے
اس بار ہار جانے کا امکان ہے بہت

جواب چھوڑ دیں