مخالفین کو دلائل سے شکست دیں تشدد سے نہیں

ہماری قوم میں جس تیزی کے ساتھ قوت برداشت میں کمی اورمخالفین کو دلایل سے اپنے موقف پر قائل کرنے کے بجائے ان پر تشدد میں اضافہ ہورہا ہے وہ بحثیت قوم انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں سنگین سے سنگین جرم پر بھی کسی فرد واحد کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہوتا اسے عدالتی نظام کے تحت ریاست کے ہی ذریعے سزا دی جاتی ہے لیکن اگر آپ پاکستانی معاشرے پر نظر ڈالیں توعداتی نظام کی سست روی کی وجہ سے عوام خود سزا دینا اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔ اگر عوام اسٹریٹ کرائم میں کسی چور کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیں تو پورا مجمع موقع پر ہی سزا دینے کے لیے نعرہ لگانا شروع کر دیتا ہے یہ رویہ پوری قوم میں سرایت کرتا جارہا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے اور کچھ اسی قسم کا رویہ سیاسی میدان میں بھی اپنی جگہ بنارہا ہے۔
اگر پاکستان میں آپ کسی بھی سیاسی رہنما کو اس کی پالیسی یا کام کرنے کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتے ہیں یا آپ اسے پسند نہیں کرتے تو آپ ووٹ کے ذریعے تبدیلی لائیں اگر اس پر کرپشن کا الزام ہے تو عدالتوں کے ذریعے سزا دلائیں لیکن خدا را قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں ہمارے اس رویے سے ملک میں انارکی کی فضا پیدا ہوگی کیونکہ ہر شخص کسی ایک ہی رہنما سے کو پسند کرتا ہے تو کیا وہ باقی رہنماؤں پر سیاہی یا جوتا پھینکے گا۔ یہ طریقہ کار مناسب نہیں ہے ہمارے ملک میں اکثریت تبدیلی چاہتی ہے لیکن پھر بھی تبدیلی کیوں نہی آرہی ہمیں اس کی وجہ جاننی ہوگی اگر ہم اپنی الیکشن کی تاریخ پر نظر ڈالے تو ووٹ ڈالنے کی شرح 30 سے 32 پرسنٹ کی مایوس ترین سطح کی ملے گی اس کا مطلب یہ ہے جس 68 پرسنٹ ووٹر نے تبدیلی لانی ہے وہ تبصرہ تو بہت اچھے کرتے ہیں انھیں ملک کی حالت پر تشویش بھی بہت ہے لیکن ووٹ ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے اور خود سے اس بات کا یقین کر لیا ہے ہم ووٹ ڈالیں نہ ڈالیں جیتے گا وہیں جس کا فیصلہ پہلے ہو چکا ہے ۔عوام کو اس سوچ سے باہر آکر حقیقت کو سمجھنا ہوگا کے اگر وہ چاہتے ہیں اس ملک میں حقیقی تبدیلی آئے تو ان کو ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔ اگر 68 پرسنٹ ووٹر باہر نکل گیا تو اس خاندانی سیاست دانوں سے نجات مل جائے گی اور ملک میں تبدیلی بھی آئے گی اور ایک بات پوری قوم یاد رکھے ووٹ قوم کی امانت ہے اگر آپ نے ووٹ نہیں ڈالا اور اس وجہ سے کوئی نا اہل کم ووٹ لینے کے باوجود جیت گیا تو آپ اس کے ہر اقدام میں بالواسطہ شریک ہیں کیونکہ آپ نے ووٹ نہ ڈال کر اس کی جیت کی وجہ بنے ہیں اور اللہ کے دربار میں اس امانت کو استعمال نہ کرنے پر جواب دہ بھی ہونگے کے آپ نے ووٹ نہ ڈال کر امانت میں خیانت کی اور اس وجہ سے ایک نا اہل شخص منتخب ہوا اللہ ہم سب کو حق اور سچ کو سمجھنے کی توفیق دے،آمین

جواب چھوڑ دیں