اورگنج کا المیہ اورشیخ نجم الدین کبریٰ

گزشتہ بلاگ میں عالم اسلام پر چنگیزی یلغار کے سلسلے میں سلطان جلال الدین خوارزم شاہ کا ذکر کیا گیا تھا۔ جسے بڑی تعداد نے پسند کیا اور کئی احباب نے چنگیزی یلغار پر مزید لکھنے کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ اس سلسلے کو وسعت دیتے ہوئے اب سلطنتِ خوارزم کے دارالحکومت اور گنج کی تباہی کو قلمبند کیا جارہا ہے اور ضمنی طور پر خوارزم کی عظیم روحانی شخصیت شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کا احوال بھی پیش خدمت ہے۔
اور گنج:
اور گنج کا شہر جسے انگریزی میں Urgenchلکھتے ہیں دریائے آموکے کنارے واقع تھا۔ یہ شہر عالم اسلام پر چنگیز خان کی یلغار کے وقت سلطنت خوارزم کا دارالحکومت تھا۔ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے سمر قند اور بخارا اس شہر کے ہم پلہ تھے۔ اور گنج اُس وقت صنعت و حرفت کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ خوارزم کا دارالحکومت ہونے کے سبب علاقائی تجارت کا مرکز بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ معاشی طور پر اورگنج کی حیثیت خوارزم کے دیگر شہروں میں نمایاں تھی۔
دریائے آمو کے کنارے پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں مچھلیوں کا کاروبار عروج پر تھا۔ اورگنج کی دریائی مچھلیوں کی مانگ پورے خوارزم میں تھی۔ اس کے علاوہ اورگنج کے خشک میوہ جات بھی بہت مشہور تھے۔ تلوار سازی اور مروجہ جنگی سازو سامان کی صنعت کے حوالے سے اورگنج کی نمایاں حیثیت تھی۔ دینی اور عصری علوم میں اورگنج کے مدارس اور جامعات یکتا تھیں۔ ’’جامعہ اور گنج‘‘ خطے کی مشہور جامعہ تھی جس کے شیخ الحدیث علامہ فخر الدین رازیؒ جیسے نابغہ روزگار شخص تھے۔ صاف ستھرے محلے، خوشنما باغات، خوبصورت مساجد اور ان مساجد کے بلند و بالہ مینار اور دیدہ زیب گنبد اور گنج کی پہچان تھے۔ دفاعی نکتہ نظر سے شہر کی حفاظت مضبوط اور مستحکم فصیل کے ذریعے کی جاتی تھی۔ اور گنج کی فصیل اونچائی اور مضبوطی کے لحاظ سے خوارزم کے دیگر شہروں سے منفرد تھی۔ (چنگیزی یلغار کے وقت اسی فصیل نے شہر کی پانچ ماہ تک حفاظت کی۔)
سمر قند بخارا اور دیگر شہروں کی بربادی کے بعد اور گنج میں چاروں طرف سے پناہ گزینوں کا سیلاب آگیا تھا۔ یہ پناہ گزین اپنے ساتھ تباہی اور بربادی کی داستانیں لائے تھے۔ قتل و غارت گری اور تاتاری وحشیانہ پن کی کہانیاں سن کر اور گنج کی فضا بوجھل ہوگئی تھی ۔ دارالحکومت کے باسیوں میں بھی وحشی تاتاریوں کا خوف پیدا ہوگیا تھا۔ اگرچہ فصیل کی مضبوطی بہت زیادہ تھی مگر پھر بھی ایک اندیشہ عوام میں جڑ پکڑ چکا تھا۔ ایسے میں سلطان علاؤالدین کی وفات اور سلطان جلال الدین کی تخت نشینی نے اورگنج کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا کردی۔
جلال الدین کی بطور خوارزم شاہ اور گنج آمد:
گزشتہ ماہ تفصیل سے عرض کیا جاچکا ہے کہ علاؤالدین خوارزم شاہ چنگیز خان کی یلغار سے گھبرا کر بحرِخزر میں روپوش ہوگیا تھا۔ دوران روپوشی ہی ولی عہد سلطنت شہزادہ قطب الدین ازلاق کی بطور ولی عہد نامزدگی کا لعدم قرار دیتے ہوئے علاؤالدین خوارزم شاہ نے جلال الدین کو اپنا جانشین مقرر کردیا تھا۔ چنانچہ جلال الدین خوارزم شاہ کے طور پر اور گنج میں داخل ہوگئے۔
تاتاری حملے سے خوفزدہ اور گنج کے عوام نے جلال الدین کا استقبال کیا مگر اس کے بھائی قطب الدین ازلاق نے جلال الدین کی دارالحکومت آمد بطور خوارزم شاہ کے دل سے قبول نہیں کی۔اس نازک دور میں جب تاتاری خوارزم میں تباہی مچا رہے تھے بجائے بھائی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے قطب الدین نے جلال الدین کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ دارالحکومت میں پروپیگنڈا شروع کردیا گیا کہ تخت خوارزم کا اصل وارث قطب الدین ازلاق ہی ہے اور یہ کہ جلال الدین نے اس کا حق غضب کرلیا ہے۔ آہستہ آہستہ قطب الدین نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کا گروہ منظم کرلیا۔
ادھر سمر قند میں چنگیز خان کو یہ اطلاع ملی کہ خوارزم شاہ کا انتقال ہوگیا ہے اور جلال الدین کی تخت نشینی پر اختلافات پیدا ہورہے ہیں تو اس نے اور گنج پر حملہ کرنے کیلئے یہ وقت بہترین خیال کرتے ہوئے اپنے لشکر کو پیش قدمی کرنے کا حکم دے دیا۔
جلال الدین کی دارالحکومت سے روانگی
اور تاتاریوں کی آمد :
دارالحکومت اور گنج میں اپنے خلاف سازشوں کو محسوس کرتے ہوئے جلال الدین نے عالم اسلام کی سر بلندی کے خاطر ایک عظیم فیصلہ کیا۔ اسے علم تھا کہ تاتاری کسی بھی وقت اور گنج پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ خوارزم کی افواج پہلے ہی تتر بتر ہوچکی تھی۔ مٹھی بھر افراد اور گنج کے دفاع کیلئے بچے تھے اگرچہ دیگر شہروں سے اور گنج میں جلال الدین کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی رضاکاروں کی آمد شروع ہوگئی تھی مگر پھر بھی صورت حال غیر اطمینان بخش تھی۔ ایسے میں جلال الدین نے قطب الدین سے لڑنے کے بجائے کہ اس میں مسلمانوں کا سراسر نقصان تھا ایک عجیب قدم اٹھایا۔ اس نے دارالحکومت قطب الدین کیلئے خالی چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ انخلاء کا فیصلہ کرلیا۔ امت مسلمہ کی خاطر اقتدار چھوڑنے کی روایت تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ مگر جلال الدین خوارزم شاہ نے آپس کے خون خرابے سے بچنے کے خاطر اور گنج کا دفاع قطب الدین ازلاق کے سپرد کرتے ہوئے اور گنج سے روانگی اختیار کرلی۔
جلال الدین کے جاتے ہی قطب الدین کو تاتاریوں کی آمد کی اطلاع ملی۔ اب وہ گھبرا یا کہ اکیلا کس طرح تاتاریوں کا مقابلہ کرے ۔ قطب الدین نے شاہی خزانہ سمیٹا اور اپنے اہل خانہ کو ساتھ لے کر دارالحکومت سے فرار ہوگیا۔ اس کے جاتے ہی تاتاری لشکر باجی نویان کی قیادت میں اورگنج پہنچ گیا۔ ابن خلدون کے مطابق اورگنج سے جلال الدین کی روانگی کے تین دن بعد ہی باجی نویان لشکر جرار کے ساتھ وہاں موجود تھا۔
پہلا معرکہ:
محاصرہ شروع ہوتے ہی ایک دن تاتاریوں نے شہر کے نواح میں موجود اہل شہر کے مال مویشی ہانک کر تاتاری لشکر کی سمت لے جانے شروع کئے اور گنج والوں نے یہ دیکھ کر تاتاریوں کا پیچھا شروع کردیا۔ کئی میل دور تک مسلمانوں نے تاتاریوں کا تعاقب کیا اور پھر گھات لگائے تاتاریوں نے مسلمانوں کو اچانک گھیر لیا اور زبردست حملہ کردیا۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اس میں دونوں فریقوں کا سخت جانی نقصان ہوا۔ بالآخراہل اور گنج شہر کی طرف پسپائی اختیار کرتے ہوئے واپس ہوئے۔ تاتاری پیچھا کرتے ہوئے شہر کے اندر تک داخل ہوگئے مگر پھر واپس آگئے ۔ اگلے دن باجی نویان نے فصیل پر بھر پور حملہ کردیا۔ مگر اس حملے کو اورگنج کے سپاہ نے ناکام بنا دیا۔
چنگیز خان کے بیٹوں کی آمد:
چنگیز خان کو معلوم تھا کہ اورگنج کا دفاع بہت سخت انداز میں کیا جائے گا اور پھر شہر کی فصیل کی مضبوطی کا بھی اسے علم تھا ۔چنانچہ اس نے اپنی پوری قوت اور گنج کی طرف روانہ کردی۔ سب سے پہلے اور گنج کا محاصرہ کرنے والی سپاہ سے چنگیز خان کا بیٹا اوکتائی خان اپنی سپاہ کے ساتھ آکر مل گیا۔ اس کے بعد مشہور تاتاری سالار بقرجن نویان ، چنگیز خان کا دوسرا بیٹا چغتائی خان اور پھر بڑا بیٹا جوجی خان اپنے اپنے لشکر کے ساتھ پہنچتے چلے گئے ۔ اسی طرح تاتاری لشکر کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ محاصرے میں چنگیز خان نے جتنی سپاہ استعمال کی اتنی سپاہ کسی اور حملے میں استعمال نہیں کی۔ علامہ ابن اثیرؒ لکھتے ہیں، ’’چنگیز خان نے لشکر کا جو حصہ اور گنج بھیجا تھا وہ باقی تمام حملوں کی فوجوں سے بڑا تھا۔‘‘
امیر خمار ترکی کی مزاحمت اور تاتاریوں کی طرف
سے فصیل پر تنوں کی بارش:
اور گنج میں اب شاہی خاندان کا کوئی بڑا موجود نہ تھا ۔ اہلِ شہر نے اب خمار ترکی نامی امیر کو حاکم تسلیم کرتے ہوئے اس کی قیادت میں تاتاریوں کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ سمر قند اور بخارا کی نسبت اورگنج میں تاتاریوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ خمار ترکی کے شب خون حملوں اور چھاپہ مار دستوں نے تاتاریوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ دوسری طرف فصیل شہر کو نقصان پہنچانے کے لیے تاتاریوں نے درختوں کے تنے جمع کئے اور انہیں پانی میں بھگو کر بھاری کرلیا اور پھر ان تنوں کو منجیقوں کے ذریعے فصیل کی دیوار پر برسانا شروع کردیا۔ اس بارش سے کئی جگہ شگاف پڑ گئے۔ مگر شہر والوں نے ان شگافوں کو فوراً بند کردیا۔ اس کے علاوہ منجیقوں سے آتش گیر مادہ بھی برسایا جاتا رہا۔
شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ
اور گنج کا ذکر شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کے بغیر نا مکمل رہے گا۔ آپ سلسلہ کبرویہ کے بانی اور وقت کے مشہور صوفی بزرگ تھے۔ آپ کا شمارماورالنہر کے صاحبِ طریقت بزرگوں میں ہوتا تھا۔ آپ ایک عرصے سے اورگنج میں مقیم تھے۔ تاتاری حملے سے قبل آپ نے اپنے خلفاء کی مجلس طلب کی اور ان سے فرمایا کہ ’’عنقریب ایک فتنہ اس شہر پر نازل ہونے والا ہے جس سے ہر چیزبرباد ہوجائے گی، لہٰذا تم سب لوگ اپنے اپنے علاقوں کی طرف نکل جاؤ اور یہ شہر چھوڑدو۔ ‘‘
آپ کے ایک خلیفہ نے کہا کہ حضرت آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں جس پر شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ نے فرمایا کہ مجھے حکم نہیں ہے اور میں یہیں شہید ہوگا۔ سوال کیا گیا کہ حضرت آپ اس فتنے کے فرو ہوجانے کی دعا کیوں نہیں کرتے؟ جس پر شیخ نے جواب دیا کہ یہ مشیت ایزدی ہے اور اسے کوئی نہیں ٹال سکتا ۔ جامع التواریخ کے مصنف نے اس واقعے کو تفصیل سے درج کیا ہے۔
بہر حال شیخ نے فتنہ تاتار کے وقت اور گنج سے ہجرت نہیں کی اور جب چنگیز خان کے بیٹوں نے اورگنج کا محاصرہ کرلیا تو چنگیز زادوں کو شیخ کی کرامات کے بارے میں بتایا گیا۔ چنگیز زاد ے ان باتوں سے متاثر ہوئے اور انہوں نے شیخ نجم الدین کبریٰ کو پیغام بھیجا کہ آپ کو امان دی جاتی ہے اور آپ فوراً شہر سے نکل جائیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ ہماری مہم کا انجام غارت گری کے سوا کچھ نہ ہو۔
اس پر شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ نے وہ جواب دیا ہے جسے آج تک تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جاتا ہے ۔ آپ نے فرمایا:
’’اس شہر میں میرے مریدین رہتے ہیں، انہیں چھوڑ کر اگر میں چلا گیا تو اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا؟‘‘
اس پر تاتاریوں نے آپ کو اپنے ساتھ دس افراد کی جان بخشی کی پیشکش کی جسے آپ نے قبول نہیں کیا۔ اس پر آپ کو سو افراد کو ساتھ لے جانے کی پیش کش کی گئی جسے آپ نے پھر منع فرمادیا۔ آخر میں چنگیز خان کے بیٹوں نے شیخ سے کہا کہ آپ اپنے ساتھ ایک ہزار افراد لے جائیں ہم کوئی تعرض نہیں کریں گے ، جس پر آپ کا جواب تھا:
’’یہ کیسے ممکن ہے کہ جس قوم کے ساتھ میں نے سکون کے ستر سال گزارے ہیں، مصیبت کے وقت میں انہیں چھوڑ کر چلاجاؤں ۔ میری غیرت مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ ‘‘(جامع التواریخ)
چنانچہ شیخ نجم الدین آخر وقت تک اور گنج میں رہے اور پھر تاتاریوں سے جہاد کرتے کرتے شہید ہوگئے۔اس طرح شیخ نے حمیت اور غیرت کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
سفاکیت اور درندگی کا انوکھا منصوبہ اور
چنگیززادوں میں اختلاف:
عالم اسلام پر تاتاریوں کی جانب سے کی جانے والی لشکر کشی تقریباًدو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ اس لشکر کشی کے دوران تاتاریوں نے سفاکیت اور درندگی کی وہ مثالیں قائم کیں کہ جن کی نظیر نہ ان سے پہلے کہیں ملتی ہے اور نہ ہی ان کے بعد دنیا میں کسی نے اپنی مفتوح اقوام سے ایسا سلوک کیا۔ تاتاریوں نے عام اور نہتے مسلمانوں سے انتہائی بہیمانہ سلوک کیا۔ قتل و غارت گری کی وہ داستانیں رقم کیں کہ انہیں لکھتے ہوئے آج کا مورخ بھی کانپ اٹھتا ہے۔ شہر فتح کرنے کے بعد پوری پوری آبادیوں کو تہہ تیغ کردیا گیا۔خصوصاً وہ شہر جہاں مسلمانوں نے زیادہ مزاحمت دکھائی ان علاقوں میں تو انسانوں کے ساتھ ساتھ کتے اور بلیوں کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔ پوشیدہ خزانوں کی برآمدگی کے لیے مشتبہ مالدار افراد پر تشدد کے نت نئے طریقے ایجاد کیے گئے۔
مقتولین کی کھوپڑیوں کے مینار بنانا ان کا مشغلہ بن گیا تھا۔ شہر کے باسیوں سے تمام مال و دولت چھینتے ، ان کا قتل عام کرتے، اس کے بعد ان کے مکانات کو آگ لگادیتے اور اس طرح تہہ خانوں میں چھپے ہوئے لوگ بھی زندہ جل کر ہلاک ہوجاتے۔ سمر قند بخارا، قوقند، اترار اور دیگر شہروں میں عام مسلمانوں اور جنگی قیدیوں سے یہی سلوک کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ جن شہروں کو امان دی گئی اور باقاعدہ معاہدہ کرکے قبضہ کیا گیا ان شہروں میں بھی کسی نہ کسی بہانے سے یہی سلوک کیا گیا۔ ایسے مواقع پر وہ مسلمان عمائدین جو غداری کرکے تاتاریوں سے ساز باز کرلیتے انہیں بھی بعد میں قتل کردیا جاتا۔
سمر قند میں بر شمشاش خان نے عین لڑائی کے دوران اپنی تیس ہزار کی سپاہ کے ساتھ تاتاریوں سے معاہدہ کرکے مسلم لشکر سے علیحدگی اختیار کرلی۔ بعد میں کچھ دن تو برشمشاش خان اور اس کی سپاہ سے عمدہ سلوک روا رکھا گیا۔ مگر ایک رات اچانک حملہ کرکے برشمشاش خان اور اس کی تیس ہزار کی سپاہ کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا۔
(روضتہ الصفا کے مصنف نے یہ واقعہ تفصیل سے لکھا ہے)
مقصد اس تمہید کا یہ تھا کہ اپنے قارئین کو یہ بتایا جائے کہ اور گنج والوں کے ساتھ تاتاریوں نے وہ سلوک کیا جو باقی اور کسی جگہ نہیں کیا۔ اس شہر کی تباہی کیلئے وہ سامان پیدا کئے گئے کہ جن کے باعث شہر میں موجود انسانوں کے ساتھ چرند پرند، حیوانات، باغات، ہریالی اور یہاں تک کہ تمام مکانات اور عمارتیں بھی نیست و نابود ہوگئیں۔ یعنی کہ اس شہر کا نام و نشان ہی مٹ گیا ۔ بعد میں اور گنج کے نام سے الگ شہر دوسری جگہ بسایا گیا۔
تفصیل اس سانحے کی کچھ اس طرح ہے کہ اورگنج کا شہر دریائے آمو یا دریائے جیحوں کے کنارے آباد تھا۔ تاتاری لشکر کی مدد کیلئے چنگیز خان نے اپنے تین بیٹے جوجی، اوکتائی اور چغتائی خان اپنے اپنے لشکروں کے ساتھ بھیج دیے تھے کیونکہ دارالحکومت ہونے اور مضبوط فصیل شہر کے باعث چنگیز خان سخت مزاحمت کی توقع رکھتا تھا۔ اس طرح اور گنج کے باہر تاتاریوں کا عظیم الشان لشکر جمع ہوگیا۔ چغتائی خان نے اس افرادی قوت کو دریائے آمو کا رُخ تبدیل کرنے کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔چغتائی خان نے ارد گرد کے علاقوں میں موجود مسلمان قیدیوں کو جمع کیا اور ان کے ساتھ تاتاریوں کو لگا کر دریا میں پتھروں کا بند باندھنا شروع کردیا کہ اس طرح دریا کا رخ تبدیل ہوجاتا اور گنج کا شہر پانی میں غرق ہوجاتا ۔ چغتائی خان نے سپاہ کی بڑی تعداد اس کام پر مامور کردی۔ اس موقع پر جوجی خان نے اس منصوبے کی مخالفت کردی۔ اس نے کہا، ’’یہ شہر بہت سر سبز اور خوبصورت ہے اور مزید یہ کہ خاقان اعظم چنگیز خان نے یہ شہر مجھے بخش دیا ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا جائے۔ ‘‘چغتائی خان نہیں مانا اور دونوں بھائیوں میں اختلاف پیدا ہوگیا ۔ مگر اس دوران دریا پر بند باندھنے کا کام چلتا رہا۔ باہمی اختلاف کے باعث تاتاری لشکر کا نظم و ضبط کمزور پڑگیا اور ان کے حملوں میں وہ قوت نہ رہی ۔ تاتاریوں کو کمزور پڑتا دیکھ کر مسلمانوں نے حملے تیز کردئیے اور تاتاری مقتولین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔
تولی خان کی آمد
چنگیز خان اس دوران طالقان کے محاصرے میں مصروف تھا کہ اسے اس صورتحال کی اطلاع ملی۔ اس کے جاسوس نے بتایا کہ جوجی اور چغتائی کی چپقلش کے باعث تاتاریوں کا جانی نقصان ہورہا ہے۔ چنگیز خان نے فوراً اس صورتحال کو سنبھالنے کیلئے اپنے چوتھے بیٹے تولی خان کو اورگنج روانہ کیا اور اپنا ایک مکتوب اوکتائی خان کے لیے بھیجا جس میں اوکتائی خان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ حکمت سے کام لے کر جوجی خان اور چغتائی خان کے درمیان صلح کروائے۔ تولی خان اور گنج پہنچ گیا اور چنگیز خان کی ہدایات کے عین مطابق اوکتائی خان جوجی اور چغتائی کے درمیان صلح کروانے میں کامیاب رہا اور اس طرح تاتاری نئے جوش اور ولولے کے ساتھ حملہ آور ہوگئے۔
آخری معرکہ
تاتاریوں کا نیا انداز دیکھ کر مسلمانوں نے بھی شہر سے باہر نکل کر حملوں میں تیزی کردی۔ فصیل کی اوپر اور دروازوں کے ساتھ ساتھ دو بدو لڑائیاں شروع ہوگئیں۔ اورگنج میں مسلمانوں نے بڑی بے جگری سے دفاع کیا اور تاتاری سپاہ کی بڑی تعداد قتل کی۔ شہر کے باہر تاتاریوں کی لاشوں کے انبار لگ گئے مگر ان کی تعداد اس قدر تھی کہ پھر بھی اور گنج والے کمزور ہوتے چلے گئے۔
کہا جاتا ہے کہ اورگنج کے سقوط کے بعد اسکے نواح میں جگہ جگہ تاتاری لشکر کے مقتولین کی باقیات تقریباً سو سال بعد تک موجود رہیں۔ اور گنج میں جتنے تاتاری مارے گئے اتنے کسی اور جگہ قتل نہیں ہوئے ۔ جامع التواریخ جو سقوط اور گنج کے سو سال بعد لکھی گئی اس کے صفحہ نمبر 313 میں مصنف فضل اللہ ہمدانی رقم طراز ہیں۔
’’تاتاریوں کی ہڈیوں کے جمع کرنے سے جو ٹیلے وجود میں آئے تھے ان کے آثار اب بھی نواحی علاقوں میں نظر آتے ہیں۔ ‘‘ (جامع التواریخ)
مگر تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔ محاصرے کے تقریباً چھ ماہ بعد آخر کار اور گنج کی فصیلوں کے شگاف سے تاتاری شہر میں داخل ہوگئے۔ شہر کے اندر بھی مختلف محلے الگ الگ دفاعی تدابیر اختیار کئے ہوئے تھے۔ ہر محلے کی اپنی فصیل بھی موجود تھی۔ تاتاری ایک کے بعد ایک محلے پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ ہر محلے میں لڑائی شروع ہوگئی۔ عورتیں اور بچے گھر کی چھتوں سے تاتاری لشکر پر حملہ کر رہے تھے۔
مفتی علاؤ الدین خیوطی کا وفد یہ صورت حال دیکھ کر اہل اور گنج نے پہلی مرتبہ تاتاریوں سے امان طلب کی ۔ عمائدینِ شہر کا وفد مفتی علاؤالدین خیوطی کی سربراہی میں جوجی خان کے سامنے پیش ہوا اور شہر والوں کے لیے امان طلب کرنے کا خواہاں ہوا۔ مفتی صاحب نے جوجی خان سے کہا:
’’ہم آپ کی دہشت تو دیکھ چکے ہیں، اب ہمیں اپنے رحم و کرم کا نظارہ بھی کروائیں۔ ‘‘
جوجی خان نے جواب دیا،
’’دہشت تو تم لوگوں نے پھیلا رکھی ہے کہ میرے سپاہیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دئیے ہیں، اپنی دہشت تو میں تم لوگوں کو اب دکھاؤں گا۔‘‘
اس طرح یہ وفد ناکام ہوگیا اور شہر والوں کی درخواست مسترد کردی گئی۔
شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کی شہادت
شیخ نجم الدین کبریٰ کو جب اطلاع ملی کہ جنگ اب شہر کے اندر شروع ہوگئی ہے تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ مریدین نے کہا کہ حضرت اس وقت باہر نکلنا خطرناک ہوگا، آپ نے جواب دیا ، ’’میں تو بس اپنے سفید بال شہادت کے رنگ سے رنگنا چاہتا ہوں۔ ‘‘
شیخ کے اعلا ن کو سن کر ان کے مریدین ان کے ساتھ باہر آگئے اور آپ نے اس مٹھی بھر جماعت کے ساتھ تاتاریوں پر حملہ کردیا، پتھروں کا ایک تھیلا آپ کے پاس تھا جس سے اسّی سالہ یہ ولی کامل تاتاری سپاہ پر حملہ کرکے اصحاب بدر کی یاد تازہ کر رہا تھا،جلد ہی یہ پتھر ختم ہوگئے تو آپ نیزہ تان کر تاتاریوں کے مجمع میں گھس گئے اور کئی سپاہیوں کو ہلاک کردیا۔ ایسے میں ایک تیر آپ کے سینے میں پیوست ہوگیا۔ مورخ لکھتا ہے کہ آپ نے وہ تیر اپنے سینے سے نکال کر آسمان کی طرف اُچھا ل دیا، اور فرمایا:
’’میرے مالک میں تیری رضا میں خوش ہوں ۔‘‘
اس طرح شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ نے جام شہادت نوش کیا ، کہا جاتا ہے کہ اس زخمی حالت میں بھی آپ نے ایک تاتاری پر حملہ کرکے اس کے ہاتھ میں موجود تاتاری علم کو چھیننے کی کوشش کی اور تاتاری علم کو ہاتھوں میں اس طرح مضبوطی سے پکڑلیا کہ وہ شہادت کے بعد بھی شیخ کے ہاتھوں سے جدا نہ ہوا۔
مولانا جلال الدین رومی ؒ نے جو شیخ نجم الدین کبریٰ ؒ کے خلیفہ مولانا بہاؤ الدین ؒ کے فرزند تھے اس واقعے پر فرمایا:
’’بہ یکے دست مئے خالصِ ایمان نوشند
بہ یکے دست دگر پرچمِ کافر گیرند‘‘
ترجمہ: اللہ کے عاشق ایک ہاتھ سے ایمان کی خالص شراب نوش کرتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے کافر کا پرچم تھام لیتے ہیں۔)
تباہی شروع ہوتی ہے
آخری حملے کے تقریباً ایک ہفتے بعد تاتاری شہر پر مکمل طور پر قابض ہوگئے مزاحمت دم توڑ چکی تھی۔ اب تباہی اور بربادی کا اصل دور شروع ہوا ، جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ خوارزم بھر سے پناہ گزین اور گنج میں جمع ہوگئے تھے ان میں لاتعداد اہل ہنر دفن بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ بھی اورگنج میں بڑی تعدادمیں ہنر مند طبقہ موجود تھا۔ تاتاریوں نے آنے والے وقت کی ضرورت کے حساب سے ہنر مندافراد کو قیدی بناتے ہوئے الگ کردیا۔ اسی دوران شہر میں لوٹ مار کا دور چلتا رہا۔ امیر اور دولت مند افراد پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے تاکہ وہ پوشیدہ مال و دولت تاتاریوں کے حوالے سے کردیں۔ اس سلسلے میں مکر و فریب سے بھی کام لیا گیا۔ جان بخشی کے جھوٹے وعدے بھی کئے گئے ۔ غرض جب اورگنج میں لوٹنے کو کچھ باقی نہ بچا تو قیدیوں کے علاوہ تمام مرد و عورت اور بچوں کا قتل عام شروع کیا گیا۔ تلواریں، نیزے، چاقو غرض ہر ہتھیار اور گنج کے لوگوں پر استعمال کیا گیا ۔ یہاں تک کہ ایک بھی زندہ انسان باقی نہیں بچا۔ جامع التواریخ میں اورگنج کے مقتولین کی تعداد بارہ لاکھ شمار کی گئی ہے۔ لکھا گیا ہے کہ اس قتل عام میں پچاس ہزار تاتاریوں نے حصہ لیا۔
اب تاتاریوں نے اپنے اگلے منصوبے پر عمل کرنا شروع کیا جیسا کہ عرض کیا گیا تھا کہ قیدیوں اور سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد دریائے آمو کا رُخ تبدیل کرنے کے لیے پتھروں کا بند تعمیر کررہی تھی۔ جوجی خان اور چغتائی خان کی چپقلش کے دوران بھی اس منصوبے پر کام چلتا رہا۔ بعد میں جب اوکتائی خان نے باہمی اختلاف ختم کیا تو اس منصوبے پر کام اور تیز کردیا گیا۔ اب جب اورگنج کا قتل عام مکمل ہوگیا تو باقاعدہ طور پر دریائے آمو کا رخ تبدیل کرکے اورگنج شہر کی جانب کردیا گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا شہر پانی میں غرق ہوگیا!
تباہی اور بربادی کی یہ وہ مثال ہے جو انسانی تاریخ میں شاید ہی اور کہیں ملے کہ ایک بھرے پڑے شہر کی آبادی کو قتل کرکے اسے پانی میں اس طرح غرق کردیا گیا کہ تمام جاندار ، نباتات، کیڑے ، مکوڑے اور عمارتیں دریا کی تند و تیز موجوں میں غائب ہوگئیں۔ اس طرح مکانات کے خفیہ کمروں اور تہہ خانوں میں پوشیدہ انسان بھی غرق ہوگئے۔ یہ انسانی تاریخ کا وہ المیہ تھا کہ جس نے سنا اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا کہ اس طرح بھی ممکن ہے ۔
ابن اثیر ؒ اپنی تاریخ ’’الکامل فی التاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’تاتاریوں نے اس شہر کو مکمل طور پر غرق کردیا، عمارتیں تہہ و بالا ہوگئیں، ان کی جگہ پانی نے لے لی، دوسرے شہروں میں تو کئی لوگ بچ جاتے تھے لاشوں کے نیچے چھپ کر یا تہہ خانوں میں پناہ لے کر مگر اس شہر میں جو بچ گیا اسے پانی نے غرق کردیا یا عمارتوں کے گرنے سے ہلاک ہوگیا۔ ‘‘
*۔۔۔*۔۔۔*

12 تبصرے

  1. یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ عدیل سلیم صاحب ہمارے نوجوانوں کے لیے عام فہم انداز میں اس علاقے کے عروج و زوال کی داستان قلم بند کر رہے ہیں جس کو پاکستان کے مورخین نے افسوس ناک طور پر نظر انداز کیا ہوا ہے. یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے برصغیر پاک و ہند کے تہذیبی ڈانڈے ملتے ہیں. خطہ عرب سے محمد بن قاسم کی فاتحانہ آمد اور المناک واپسی کے بعد ایک طویل وقفے تک مسلمانوں کی آمد برصغیر میں معطل رہی. جس کے بعد برصغیر کے شمال سے مسلمانوں کی دوبارہ فاتحانہ آمد شروع ہوئی. اس طرح مضمون میں مذکور علاقوں سے فاتحین کے ساتھ ساتھ وہاں کی تہذیبی زندگی بھی برصغیر میں در آئی جس کی مماثلت آج بھی ان خطوں میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے. دیر آید درست آید کے مصداق عدیل سلیم صاحب کی یہ کاوش قابلِ تحسین ہے.

  2. شاندار عدیل صاحب تاریخ کی گم گذشتہ گوشوں دے نئی نسل کوروشناس کرنے کے لئے دلچسپ و عام فہم انداز میں لگنا آپ ہی کا خاصہ ہے۔

    امید ہے کہ آپ اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔ خدا کرے زور قلم او ذیادہ۔

  3. ما شاء اللہ
    .
    اللہ کریم
    آپ کے علم میں
    مشاہدہ میں
    دور اندیشی میں
    قلم میں
    عجز میں
    وسعت، برکت، روانی و فراوانی عطا فرمائے
    خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں
    .
    جاوید اختر آرائیں

  4. بہت اہم اور تاریخی موضوع کو عدیل سلیم نے سہل اور سادہ بنا کر قاری کو تاریخ کی گم گشتہ گلیوں کی طرف بہت عمدگی سے مائل کیا ہے۔ یہ سلسلہ اپنے سیاق و سباق کے ساتھ جاری اور مکمل ہو کر کتابی صورت میں اور آن لائن مہیا ہونا چاہئیے تاکہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اور پڑھنے والے اس سے ہمیشہ استفادہ حاصل کر سکیں۔
    ماشاء اللہ ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

  5. امجد محمود صاحب!
    آپ نے درست کہا کہ ان علاقوں کی تاریخ پر بہت کم لکھا گیا ہے جن کے سماجی اثرات برصغیر پاک و ہند کے باشندوں پر بہت گہرے نظر آتے ہیں ۔
    بالخصوص ان تاتاری سرداروں کا تذکرہ جو بعد میں مسلمان ہو گئے اور ان ہی میں سے ایک نے برصغیر میں مغل سلطنت کی بنیاد ڈالی ، جن کے لئے اقبال نے کہا تھا “پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے “

  6. ماشاءاللہ بہترین تحریر۔ تاریخ کے گمنام گوشوں کو آسان فہم انداز میں روشناس کرا نے کا جو سلسلہ بھائی عدیل سلیم نے شروع کیا ہے اس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔
    لائق تحسین ہیں آپ کی یہ کاوشیں۔ اللہ آپ کے قلم کو مزید نکھار عطا کرے اور آپ اسی طرح اپنی تحاریر سے ہمیں مستفید کرتے رہیں۔

  7. عدیل جملانہ ایک نو آموز لکھاری ہیں لیکن انکی تحریر سے پختگی جھلکتی ہے امید ہے کہ آئیندہ تحریر اور بہتر ہوجائے گی اور ہمیں اس بھی بہتر مضامین پڑھنے کو ملیں گے۔
    ان شااللہ
    یہ مضمون عالم اسلام کے بے شمار سقوط میں سے ایک کی تاریخ بتاتا ہے جو عامتہ الناس کی نظر سے اوجھل ہیں بد قسمتی سے پورے عالم اسلام پر آج بھی اسی طرح کی بے حسی طاری ہے جیسی اورگنج کے سانحے کے وقت تھی۔ لیکن بات یقین سے کہی جاسکتی کہ امت مسلمہ نے کم از کم

    “تاریخ سے یہ سبق تو سیکھا ہے کہ اس سے کوئ سبق نہیں سیکھناہے “

  8. عدیل سلیم کے دیگر بلاگز کی طرح یہ بھی عام فہم انداز میں لکھا گیا ہے، تاریخ جیسے خشک موضوع کو اتنے دلچسپ انداز میں پیش کرنا کہ دلچسپی آخر تک برقرار رہے بلا شبہ عدیل سلیم کا خاصہ ہے ۔۔۔۔۔

جواب چھوڑ دیں