جنسی تعلیم کا سچ

جنسی تعلیم بذات خود بری چیز نہیں کیونکہ اس فطری ضرورت کے اُصول و ضوابط خود قرآنِ کریم میں   درج ہیں۔’’صاحب ایمان مردوں سے کہیے کہ وہ ذرا اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور  اپنی شرم گاہوں کی حفاظت   کریں ۔یہ اُن کے اخلاق کی درستی کا زیادہ ثبوت ہے ۔اور اہل ایمان عورتوں سے کہیے کہ وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے بناؤسنگھار کو ظاہر نہ کریں سوَِا اُس کے جو خود بخود ظاہر ہوجاتا ہو اور اپنی اُوڑھنیوں کو لٹکا کر گریبان پر ڈالے رہیں ۔۔(سورہ نور ۳۰۔۳۱)اور  مثلاً یہ کہ’’لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ حیض کا کیا حکم ہے تو کہہ دیجیے کہ وہ ایک گندگی کی حالت ہے جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جائیں پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو اُن کے پاس جاؤ اُس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے ۔بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔(سورہ بقرہ ۲۲۲)اور صرف یہی نہیں قرآن کریم میں مرد اور عورت کے جنسی تعلقات اور نکاح و طلاق کے کم و بیش سبھی ضروری احکام صراحت کے ساتھ موجود ہیں ۔مگر ہم نے تو اسے ایک طبقہ خاص کی اجارہ داری میں دے کر اُسے مہجور بنا رکھا ہے !

 اب جنسی تعلیم کے نام پر ہمارے یہاں وہ ہو رہا ہے جس کا تجربہ مغرب میں ہو چکا ہے اور جس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں ۔ بات دَر اَصل اِس کے سِوَا اور کچھ نہیں کہ اِس ’جنسی تعلیم ‘ کا فروغ  اُسی ’فری مارکٹ اکنامی ‘یعنی ’قارونی  (سرمایہ دارانہ )معیشت ‘ کا ایک  حصہ ہے ،پوری دنیا آج جس کی لپیٹ  میں ہے ۔

اگر کوئی کہے کہ اِس کے حامیوں میں تو وہ ترقی پسند بھی شامل ہیں جو قارونیت کے برخلاف  اشتراکیت کے حامی ہیں تو عرض خدمت ہے کہ اِشتراکیت میں بھی عورت اور جنس کا وہی مقام ہے جو فری مارکٹ اکنامی والی قارونی فکر میں ہے ۔اشتراکی مفکر ’اِنگلز‘ کے کے لفظوں میں ’’تمام اخلاقی نظریے اپنے آخری تجزیے میں وقت کے اقتصادی حالات کی پیداوار ہیں۔‘‘ ان کے الفاط کا سیدھا سا مطلب یہی ہے کہ اخلاقی قدریں الگ سے اپنا کوئی وجود نہیں رکھتیں ۔

 کمیونسٹ مینی فسٹو کے مطابق ’’قانون، اخلاق،مذہب سب بورژوا کی فریب کاری ہے جس کی آڑ میں اُس کے بہت سے مفادات چھپے ہوئے ہیں ۔ ‘‘لینن نے نوجوان کمیونسٹ لیگ کی تیسری کل روس کانگریس (اکتوبر ۱۹۲۰) میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’۔۔۔۔یقیناً ہم خدا کو نہیں مانتے ۔ہم ایسے تمام اخلاقی ضابطوں کا انکار کرتے ہیں جو انسانوں سے ماورا کسی مافوق ا لفطرت طاقت سے اخذ کیے گئے ہوں ۔۔۔‘‘یاد رہے کہ ڈکشنری میں سیکولرازم کے معنی بھی یہی لکھے ہوئے ہیں کہ’’وہ نظریہ حیات جوتعلیم،سیاست اور معیشت میں کسی مافوق ا لفطرت یا ما بعد ا لطبیعاتی فکری نظام کے تابع نہ ہو ۔‘‘

انگلز نے لکھا ہے  کہ ’’در اصل بچے پیدا اس لیے ہوتے ہیں کہ مرد اور عورت میں شہوانی جذبہ ہوتا ہے ۔اسے پورا ہونا چاہیے ۔ کیا ضرورت ہے کہ صرف شوہر اور بیوی ہی اِس جذبے کو پورا کریں ۔یہ حق بھی ہر شہری کو ملنا چاہیے اور یہ تعلق بس شہوانی جذبات کی موجودگی تک ہو ۔جب یہ ختم ہو جائیں تو مرد اور عورت کا تعلق بھی ختم اور جب یہ جذبات بھی ختم ہو جائیں (بڑھاپے میں ) تو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ ہو جانا چاہیے ۔۔۔۔۔‘‘

سابق سوویت یونین کی سفیر ِ برائے اقوام متحدہ نے ایک بار جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انگلز کے اس نظریے کو اس طرح سمجھایا تھا کہ ’’عورت اور مرد کا ملاپ ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس ہے ۔جسے آدمی پیاس بجھانے کے لیے پیتا ہے ۔آپ پانی پی لیتے ہیں اور گلاس کو بھول جاتے ہیں ۔اسی طرح عورت اور مرد کا ملاپ ہے ۔آپ لطف اٹھالیتے ہیں اور جس سے لطف اٹھاتے ہیں اسے بھول جاتے ہیں ۔‘‘

رہی غیر اشتراکی مغربی قارونی دنیا تو اس نے ’’صنعتی ترقی ‘‘ اور کارخانوں میں ’’پیداوار‘‘ بڑھانے کے لیے عورت کو گھر سے باہر نکالا تھا ۔ ان دونوں نظاموں میں ’’جنسی تعلیم‘‘  کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ عورت اور مرد کو سِن ِبلوغ پر پہنچتے ہی مانع ِحمل اَشیا کے استعمال کا طریقہ سمجھا دیا جائے تاکہ بڑے شہروں میں پیدا ہونے والی نئی قارونی صنعتی تہذیب کے پروردہ مرد اور عورت کے آزادانہ اور بے روک ٹوک ملاپ کے نتیجے میں اِستِقرارِ حمل کا خطرہ کم سے کم ہو جائے  تاکہ عورت زیادہ سے زیادہ مردوں کے اِستعمال میں رہ سکے ۔

آج بھی ’سکس ایجوکیشن‘ کا بنیادی مقصد اِس کے سِوَا  اور کچھ نہیں کہ ایڈز کے نام پر نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ بتایا جائے کہ ’بذریعہ کنڈوم ‘ نام نہاد ’’محفوظ جنسی تعلق(سیف سیکس)‘‘ ہی وہ واحد طریقہ ہے جو ایڈز کے خطرے سے بچا سکتا ہے ۔اِس کے علاوہ آبادی میں اِضافے کے مَوہوم خطروں سے ڈرا کر اُنہیں شادی کرنے میں زیادہ سے زیادہ تاخیر کرنے کا مشورہ دیا جائے اور ’فطری ضرورتوں ‘ کو جانوروں کی طرح کبھی بھی اور کہیں بھی ، بے دریغ پورا کرنے کے لیے اُنہیں تمام مانع حمل اشیا اور طریقوں سے واقف کرا دیا جائے ۔جبکہ جدید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ کنڈوم سوزاک اور آتشک وغیرہ خبیث جنسی بیماریوں سے بھلے ہی محفوظ رکھ سکتا ہو لیکن وہ ایڈز کے جرثومے کو روکنے کی صلاحیت با لکل نہیں رکھتا ۔ لیکن اس تحقیق کو عام نہیں ہونے دیا گیا اور ’ایڈز رُودَھک ‘ کے بطور کنڈوم کلچر کا فروغ آج بھی جاری ہے۔

امریکہ سمیت بیشتر مغربی ممالک میں جونیر اور ثانوی اسکولوں کی طالبات کے لیے کنڈوم کی آسان ترین فراہمی موجودہ ’سکس ایجوکیشن ‘ کا لازمی حصہ ہے ۔

کوئی ہمیں بتائے کہ انسان کی مہذب تاریخ کی اِبتدا سے قریب سو سال قبل تک بے لگام جنسی آزادی اور نام نہاد جنسی تعلیم کے بغیر  دنیا کا کام  آخر کیسے چل رہا تھا ؟ کیا اُس زمانے میں نسلِ اِنسانی کا فروغ رُک گیا تھا ؟کیا اُس زمانے  کے مرد اور عورت اپنی فطری خواہشوں سے مُبَرَّا تھے ؟ شادی ،جو اَفزائشِ نسل ِانسانی کے لیے مرد اور عورت کے جائز اور قانونی ملاپ کا دوسرا نام ہے ،کبھی  کوئی خفیہ راز نہیں،ہمیشہ ایک کھلا راز (اُوپِن سیکرِٹ ) رہی۔ شادی کے بندھن میں بندھنے کے مقاصد، ذمہ داریوں اور نتائج سے ہر بالغ انسان  وقت آنے پر بخوبی واقف ہوتا تھا  ۔مسئلہ تب پیدا ہوا جب ’’ادب اور شاعری ‘‘ بلکہ نام نہاد ’’ادبِ عالیہ ‘‘ کے نام پر حُجلَہ ِعروسی اور خلوت خانوں کی داستانیں لکھی اور مثنوی وغیرہ میں نظم کی جانے لگیں ۔

یہ مسائل پہاڑ بننا اُس وقت شروع ہوئے جب کتابوں سے نکل کر یہ قصے پردہ فلم کی زینت بننے لگے ۔اور اب تو نہ سنیما گھروں کی ضرورت رہی نہ ویڈیو پارلروں کی ۔سب کچھ ہمارے اسمارٹ فون میں مہیا ہے !

سیکس ایجوکیشن کا نظام ،فرد ،سماج اور خاندان کے جن مادّی اُصولوں پر اُستُوار ہے، بھارت یا تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں ،اُس کے نفاذ کا وہی نتیجہ ،جلد یا بدیر،  برآمد ہونے والا ہے جو، پہلی اور دوسری دنیاؤں میں، عرصہ ہوا برآمد ہو چکا ہے ۔

آج امریکہ اور مغربی دنیا میں’’ مخلوط نظام ِ تعلیم (کو۔ ایجوکیشن) ‘‘کے  بتدریج اور مسلسل خاتمے اور لڑکے اور لڑکیوں کے لیے  قدیم طرز کا علٰحدہ  طرز تعلیم اور شرم و حیا کو دوبارہ  واپس لانے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں  ۔اورہم ۔۔۔؟

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں