مسلمان یا گاجر مولی

علامہ اقبال فرماتے ہیں ” ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات” ان کا فرمان نہ جانے کتنے تجربوں کا نچوڑ ہے کہ وہ کبھی جھوٹ ثابت ہی نہیں ہوا۔ دنیا جو کہتی ہے کہ کمزور کو جینے کا کوئی حق نہیں تو وہ بھی نہ تو غلط ہے اور نہ ہی جھوٹ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کمزور اس بات کو نہ تو ماننے کیلئے تیار ہیں اور نہ ہی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ جب عالم یہ ہوجائے کہ قومیں بیدار ہونے کا نام ہی نہ لیں تو پھر غلامی در غلامی ان کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے یا پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے ہی مٹ جاتی ہیں۔
قوموں کے عروج کی کہانی کیا ہے اور زوال کے اسباب کیا ہوتے ہیں، اس دریا کو بھی علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر کے کوزے میں کچھ اس طرح بند کیا ہے کہ عقل دنگ ہوکر رہ جاتی ہے۔ فرماتے ہیں
آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر
قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی ضعیفی اور کمزوری کا کیا احوال بیان کیا جا سکتا ہے جبکہ ان کو بھوک کا احساس مٹانے کیلئے بھی اپنے پیٹ کے ساتھ پتھر باندھ کر اپنے خالی معدوں کو یہ اطمینان دلانا ہوتا تھا کہ تم خفیف نہیں بوجھل ہو لیکن یہ سارے ضعیف اور نحیف عزم و یقین کی دولت سے مالامال اور غیرت و حمیت کے پیکر تھے اور جو ان کے مقابلے پر تھے وہ بظاہر بہت طاقتور، مضبوط، امیر، توانا اور شکم سیر تھے۔ پھر آخر وہ کمزوروں، ضعیفوں اور مفلسوں کے آگے ریت کی دیوار کیوں ثابت ہوئے؟۔
ثابت ہوا کہ ضعیفی یا کمزوری کا تعلق ظاہری غربت یا لاغری سے نہیں بلکہ یہ وہ مفلسی اور ناتوانی ہے جو ذہنی و فکری ہو۔ انسان اس وقت بوڑھا ہو جاتا ہے جب اس کا احساس بوڑھا ہو جائے اور ذہن بیمار ہو کر کسی اور کا اسیر ہوجائے۔
مجھے ڈر ہے کہیں پتھرا نہ جاؤں
مرا احساس گھٹتا جا رہا ہے
پاکستان بنانے کی تحریک میں جو لوگ شامل تھے کیا ان کے پاس قارون کا خزانہ تھا؟، کیا وہ اونچی اونچی فصیلوں والے قلعوں کے مالک تھے؟، کیا ان کے پاس اسباب حرب و ضرب کی فراوانی تھی؟، کیا وہ جسمانی لحاظ سے نہایت تندرست و توانا تھے؟، ایسا ہر گز نہیں تھا بلکہ وہ تو اس درجہ مفلس تھے کہ ان کو دیکھ کر مفلسی بھی پانی پانی ہوجاتی تھی۔ انسان جب کسی کام کا ارادہ کرلے تو پھر وہ پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے اور پھر ان کی تعریف میں علامہ اقبال کہہ اٹھتے ہیں
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دنیا میں جہاں بھی انقلاب آیا کرتے ہیں ان کو برپا کرنے والے سب مفلوک الحال افراد ہی ہوتے ہیں اور ان کو دبانے اور اس انقلاب کو روکنے والے تندرست و توانا، دولت مند، صاحب اقتدارواختیار، سامان حرب و ضرب سے آراستہ اور دنیوی لحاظ سے بہت ہی “بڑے” کہلائے جاتے ہیں لیکن ان مفلسوں کی سامنے اتنے بے بس و بے کس ہو کر رہ جاتے ہیں کو پوری دنیا میں ان کو جائے پناہ دینے والا کوئی نہیں ہوتا جس کی سب سے بڑی مثال انقلاب ایران یا جہادِ افغانستان ہے۔ شہنشاہِ ایران اور اس کے حواری قصہ پارینہ ہوئے اور افغانستان میں نہ تو روس ٹھہر سکا اور نہ ہی دنیا کی سب سے بڑی طاقت “امریکہ” کو ہی قرار نصیب ہو سکا ہے۔
ہر چہار جانب خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، لیکن کس کی؟، ہر جانب ایک آہ و بکا مچی ہوئی ہے مگر یہ کون لوگ ہیں؟، یہ “برما” میں کیا ہو رہا ہے؟، یہ سارا عالم اسلام ایک دوسرے کے خون کا پیاسا کیوں ہو کر رہ گیا ہے؟، پاکستان میں کیوں خلفشار مچا ہوا ہے؟، یہ اپنوں کے ہاتھوں اپنے ہی کیوں مارے جارہے ہیں؟، یہ آہن و گولہ بارود کی بارشوں کی زد میں کون آیا ہوا ہے؟، یمن، شام، مصر اور سعودیہ کو کس کی نظر لگی ہوئی ہے؟۔ یہ کون ہیں جو گاجر مولی بھی خود ہیں اور تیر و تبر و خنجرو بھالے اور چھریاں بھی آپ ہی بنے ہوئے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ان پر رونے والا بھی کوئی نہیں، روکنے ٹوکنے والا بھی کوئی نہیں اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا بھی کوئی نہیں۔
کسی نے سوچا کہ کابل میں اپنوں اور غیروںکے ہاتھوں کیا ہوتا رہاہے۔ یمن اور شام میں کیا ہو رہا ہے۔ پاکستان میں پشتونوں اور بلوچوں کا خون کیوں بہہ رہا ہے اور کون بہا رہا ہے؟۔ یہ “ہزارہ” والے کون ہیں؟، کیا یہ یہودی ہیں، عیسائی ہیں یا کافر ہیں؟۔ اور اگر وہ یہودی عیسائی یا کافر بھی ہیں تو کیا ان کا خون بہانا حلال ہے؟۔ کیا انسان نہیں ہیں یا وہ بھی مولی گاجر ہیں کہ جب جب چاہوان کو قاش قاش کر ڈالو؟۔
یہ “قندوز” (افغانستان) میں شہید ہونے والے دہشت گردتھے۔ کیا قرآن پڑھنے والے۔ کیا قرآن کو اپنے سینے میں محفوظ کرنے والے دہشت گرد ہوا کرتے ہیں؟۔ پھر المیہ پر المیہ یہ کہ اتنے بڑے سانحے پر پورا عالم اسلام اور خاص طور سے پاکستان کا میڈیا اور خود پاکستان اس طرح خاموش بیٹھا ہوا ہے جیسے یہ سب “گاجر مولی” تھے جو کاٹ کر پھینک دیئے گئے۔ بقول شاعر
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
کیسا وحشت ناک المیہ ہے کہ سارا عالم اسلام بہر لحاظ مفلس و نادار و ضعیف و بیمار ہو چکا ہے۔ وہ دنیا بھر میں اپنے ہی بھائیوں کے قتل عام پر چپ سادھ کر بیٹھا ہوا ہے۔
جب تک ہم بیدار نہیں ہونگے، اپنے ہی آپ پر ترس کھانا نہیں سیکھیں گے، اپنے ہی ماضی سے سبق نہیں لیں گے، یونہی خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے اور اپنے انفرادی مفاد سے باہر نہیں نکلیں گے، دنیا ہمیں گاجر مولی کی طرح کاٹتی رہی گی۔

جواب چھوڑ دیں