کی محمدؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

فداک امی وابی یا رسول اﷲ ﷺ
میرے ماں باپ آپؐ پر قربان اے اﷲ کے رسول ﷺ!!!
مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ بات کہاں سے شروع کروں، اتنی عظیم ہستی کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے بار بار قلم کو اپنی بے مائیگی کا احساس پکڑ لیتا ہے، مگر کیا کروں کہ آئے دن دل تڑپتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ دنیا ہمارے نبیﷺ کی ذاتِ اقدس پر حملے کر کر کے ہمارے ایمان کی کمزوری اور طاقت کا اندازہ لگاتی ہے، ہماری نیند ، بے ہوشی اور موت کا معائنہ کرتی ہے، کبھی تقریر، کبھی تحریر اور کبھی ان دونوں سے ہٹ کر مگر برق رفتار اور کثیر الاثر الیکٹرانک میڈیا کا ہتھیار!!! ایک جانب امت کو نازیبا الفاظ، خاکوں، فلموں کے ذریعے اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو دوسری جانب آزادیء اظہارکے عالمی دو غلے رویے کی کند چھری سے اس بے بس امت کو ذبح کیا جاتا ہے۔
شاید یہ گستاخانِ رسول ﷺ یہ نہیں جانتے کہ پوری امت کی تاریخ میں انکا انجام ذلت اور رسوائی ہی ہوا ہے جب کہ میرے نبی محترم ﷺ کے لئے اﷲ کا اعلان ہے : ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘۔
نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کا یہ بھی امتیاز ہے کہ آپؐ پر فدا ہونے والے ابتدائے اسلام ہی سے سر فروشی کی تاریخ مرتب کر رہے ہیں، اسلام کے پہلے شہید حارثؓ بن ابی ہالہ نے حضور اکرمﷺ کو بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے آپ ؐ کو کفار کے حملے سے بچایا، اور وہ آپ ؐ کا دفاع کرتے ہوئے فرما رہے تھے:’’اتقتلون رجلًا ان یقول ربی اﷲ‘‘۔۔۔۔(سورۃ المومن، آیۃ۲۸)۔
کفر واسلام کی پہلی جنگ غزوہء بدر میں دو بچے کفر کے ایک سردار کی تلاش میں ہیں، انہوں نے اسے دیکھا نہیں، مگر اس کے قتل کا عزم لئے بڑے اصرار کے ساتھ اجازت لے کر میدانِ جہاد میں اترے ہے، ایک صحابی سے ابو جہل کا پوچھتے ہیں، اور اپنا ارادہ بھی بیان کر دیتے ہیں، وہ اس عزم کا سبب پوچھتے ہیں تو معاذؓ اور معوذؓ کا جواب ہے: ’’کان یوذی رسول اﷲ ﷺ‘‘، یعنی ابو جہل رسول اﷲ ﷺ کو مکہ میں ایذا دیا کرتا تھا، اس لئے وہ اسکے بدلے اسے قتل کرنا چاہتے ہیں، اور یہ اﷲ کی قدرت ہے کہ وہ اس سورما کو ان بچوں کے ہاتھوں ذلت سے قتل کرواتا ہے۔
رسالت مآب حضرت محمد ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو انکے چچا زاد اور ابو لہب کے بیٹے عتیبہ نے اپنے باپ کے کہنے پر آپؐ کو اذیت دینے کے لئے برا بھلا کہا اورآپکی بیٹی کو طلاق دے دی، رسول اﷲ ﷺ نے اسے بددعا دی: ’’اللہم سلّط علیہ کلباً من کلابک‘‘، (اے اﷲ اس پر اپنا ایک کتا مسلط کر دے)۔ عتیبہ شام کے سفر پر تھا جب اس نے رات کو پڑاؤ ڈالا تو اسے ایک شیر کی دھاڑ سنائی دی، اس کا رواں رواں کانپ اٹھا، ساتھیوں نے اسے تسلی دی مگر اسے یقین تھا کہ محمد (ﷺ) کی بددعا سے وہ بچ نہ پائے گا، انہوں نے اس کے خیمے کے گرد رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور اسے درمیان میں سلایا، مگر رات کو شیر آیا اور سب کے سر سونگھے اور عتیبہ پر پل پڑا اور اسے ہلاک کر دیا۔ (البہیقی) اﷲ تعالی کا آپؐ سے وعدہ ہے:’’انا کفیناک المستھزئین‘‘۔ الحجر، ۹۵۔
قرآن کریم نے نام لیکر ابو لہب پر لعنت بھیجی، اور اسکے اور اسکی بیوی کے بد انجام کی خبر دی، جو رسول اﷲ ﷺ کو اذیت دینے میں پیش پیش تھے۔
قرآن کریم سے استشہاد
’’یآایھا الرسول بلّغ ما انزل الیک من رّبک ۔۔۔ واﷲ یعصمک من النّاس‘‘ ۔۔۔ (المائدۃ، ۶۷) (اے پیغمبرؐ، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو ۔۔۔ اﷲ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ۔۔۔ )۔
’’سیکفیکھم اﷲ، وھو السّمیع العلیم ‘‘ (البقرۃ، ۱۳۷)۔ (اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اﷲ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے)۔
’’الیس اﷲ بکافٍ عبدہ، ویخوّفونک بالّذین من دونہ ‘‘۔۔۔(الزمر، ۳۶)۔ (اے نبیؐ، کیا اﷲ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے؟ یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں)۔
’’انّ شانئک ھو الابتر‘‘ (الکوثر، ۳)۔ (تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے)۔
’’انّ الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والآخرۃ واعدّلھم عذاباً مھیناً‘‘۔ (الاحزاب، ۵۷)۔ (جو لوگ اﷲ اور اسکے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اﷲ نے لعنت فرمائی ہے اور انکے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔)
’’ومنھم الذین یؤذون النبیّ ویقولون ھو اذن، قل اذن خیر لّکم یؤمن باﷲ ویؤمن للمؤمنین ورحمۃ للذین آمنوا منکم، والذین یؤذون رسول اﷲ لھم عذاب الیم‘‘۔ (التوبۃ، ۶۱)۔ (ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی ؐ کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ کہو، وہ تمہاری بھلائی کے لئے ایسا ہے، اﷲ پرایمان رکھتا ہے اور اہلِ ایمان پر اعتماد رکھتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو تم میں سے ایمان دار ہیں۔ اور جو لوگ اﷲکے رسولؐ کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔)
یہ تمام وثائق ثابت کرتے ہیں کہ اﷲ رسول ﷺ کا محافظ ہے، انکا مددگار ہے، اور جو رسول ﷺ پر ظلم کے مرتکب ہوں ان سے خود انتقام لینے والا ہے۔ وہ آپ ﷺ کا تمسخر اڑانے والوں کی پکڑ اپنا حق سمجھتا ہے، بلکہ وہ آپ ﷺ کا استہراء اڑانے والوں کے مقابلے میں اکیلا ہی کافی ہے۔
ابنِ تیمیہؒ اپنی کتاب ’’الصارم المسلول‘‘ کے ۱۴۴ صفحہ پر لکھتے ہیں:
۔ ’’یہ اﷲ تعالی کی سنت ہے کہ اگر مومنوں کے پاس اتنا اقتدار نہ ہو کہ وہ اﷲ اور اسکے رسول ﷺ کو اذیت دینے والے سے انتقام لے سکیں تو اﷲ اس سے اپنا حق سمجھ کر انتقام لیتا ہے اور وہ انکے لئے کافی ہے ۔۔ اور جس کسی نے آپ ﷺ سے برائی کی، یا بغض رکھا یا عداوت رکھی، اﷲ اسکی جڑ کاٹ دیتا ہے اور اسے اور اسکی نسل کو مٹا ڈالتا ہے۔ اور تاریخ میں ایسے متعدد واقعات موجود ہیں، کہ جس نے آپ کو برا بھلا کہا، اور اگر کسی نے فوراً بدلہ نہ لیا تو اﷲ نے خود اس سے انتقام لیا۔ السعدی کی رائے ہے کہ جس کسی کا ایسا عمل ظاہر ہو گیاکہ اس نے آپ ﷺ کی استہزاء کی تو اﷲ نے اسے ہلاک کر دیا اور وہ بری موت مارا گیا۔
تاریخ کی کتابوں میںیہ قصّہ ابنِ عباسؓ کی روایت سے موجود ہے کہ کفار کے بعض اکابرین نے رسول اﷲﷺ کی استہزاء کی، وہ ولید بن المغیرۃ، اسود بن عبد یغوث، اسود بن المطلب، حارث بن غیطل السہمی، اور عاص بن وائل تھے، حضرت جبریل ؑ آئے تو آپؐ نے ان سے ان کی شکایت کی، آپؐ نے انہیں ولید بن المغیرہ دکھایا، جبریل نے اسکی طرف اشارہ کیا، اور اسکا ہاتھ بھیگا ہوا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا، تو جبربلؑ نے کہا: ’’میں انکے مقابلے میں آپؐ کی طرف سے کافی ہوں، پھر انہوں نے حارث بن غیطل السہمی کی طرف دیکھا،اور اس کے پیٹ ک طرف اشارہ کیا، آپؐ نے پوچھا: جبریل نے کہا: ’’میں اس کے لئے آپؐ کی طرف سے کافی ہوں، پھر عاص بن وائل السہمی کی طرف دیکھا اور اسکے پاؤں کے اخمص یعنی نچلی جانب اشارہ کیا، آپؐ نے فرمایا: ’’مین نے کچھ نہیں کیا‘‘، جبربل نے کہا: میں انکے لئے آپؐ کی طرف سے کافی ہوں۔ پھر جب ولید بن المغیرہ گھر سے نکلا تو وہ خزاعہ کے ایک شخص کے پاس سے گزرا، جو اپنا تیر ٹھیک کر رہا تھا، وہ ولید بازو پر لگ گیا اور اسکی بڑی رگ کٹ گئی، اسود بن المطلب اندھا ہوا، اور وہ ایسے کہ وہ ایک درخت کے نیچے آیا، تو کہنے لگا: ’’اے بیٹو، تم میرا دفاع کیوں نہیں کرتے؟ میں قتل ہو جاؤں گا، وہ کہنے لگے ہمیں تو کچھ نظر نہیں آرہا، وہ بولا: میری آنکھ میں ایک کانٹا پڑ گیا ہے، وہ دیکھتے رہے مگر انہیں کچھ دکھائی نہ دیا حتی کہ وہ اندھا ہو گیا۔ اسود بن عبد یغوث باہر نکلا تو کسی جانب سے تیر آیا اسے جا لگا، اور وہ مر گیا۔ الحارث بن غیطل کو پیلا پانی جاری ہو گیا، اور وہ کثرتِ اجابت سے مر گیا، اور العاص بن وائل کی موت بھی اسی طرح واقع ہوئی کہ اس کا پاؤں کانٹے دار جھاڑی پر اس بری طرح پڑا کہ کانٹے اس میں بھر گئے اور وہ مر گیا۔ (اصفہانی نے اسے دلائلِ نبوت کے باب میں درج کیا ہے، ۱:۶۳) یہ پانچوں اپنی قوم کے سرکردہ افراد تھے، انہوں نے رسول اﷲ ﷺ کی استہزاء کی، تو اس نے اپنی قدرت سے انہیں سزا دی اورانکے لئے وہ اکیلا ہی کافی ہے۔
بزّار اور طبرانی نے الاوسط میں حضرت انسؓ کی روایت لکھی ہے کہ: نبی اکرم ﷺ مکہ کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے آپؐ کو دیکھ کر چپکے چپکے آنکھوں سے اشارے شروع کر دیے، اور کہنے لگے: ’’یہ صاحب خود کو اﷲ کا نبی کہتے ہیں‘‘، حضرت جبریلؑ آپ کے ہمراہ تھے، انہوں نے انکی جانب انگلی سے اشارہ کیا، جو کفار کے جسموں پر ناخنوں کی طرح لگا اور انکے ایسے بد بو دار زخم بن گئے کہ کوئی انکے قریب بھی نہ آتا تھا۔ (دیکھئے الدر المنثور، ۱۰۰:۵)
صحیحین میں ایک عجیب واقعہ درج ہے: بنو نجار کا ایک عیسائی شخص مسلمان ہو گیا، وہ نبی اکرم ﷺ پر وحی کی کتابت کرنے لگا، پھر وہ الٹے قدموں پھر گیا اور مرتد ہو کر دوبارہ عیسائیت میں داخل ہو گیا، وہ اہلِ کتاب کے پاس چلا گیا اور رسول اﷲ ﷺ کا مذاق اڑانے لگا، اور دعوی کرنے لگا کہ وہ وحی میں وہ کچھ شامل کر دیتا تھا جو اس میں نہیں تھا، اور وہ کہتا: اﷲ کی قسم، محمد (ﷺ) وہی جانتے ہیں جو میں بتاتا ہوں، وہ کچھ عرصہ اسی طرح رہا، پھر اﷲ نے اسے ہلاک کر دیا، لوگوں نے اسے دفن کیا، مگر اگلی صبح زمین نے اسے (قبر سے) باہر پھینک دیا، لوگ کہنے لگے: یہ محمد (ﷺ) اور انکے اصحاب نے کیا ہے۔ انہوں نے ہمارے ساتھی کی قبر کھود کر اسے نکالا اور باہر ڈال دیا، انہوں نے قبر کے گڑھے کو اور گہرا کیا اور اسے پھر دفن کر دیا، صبح اسے پھر زمین نے باہر اگل دیا تھا، اسکے ساتھی کہنے لگے: یہ محمد (ﷺ) اور انکے ساتھیوں کا کام ہے، انہوں نے اسکی قبر سے اسے باہر پھینکا کیونکہ یہ ان سے بھاگ گیا تھا، اور انہوں نے اسے پا لیا، انہوں نے تیسری مرتبہ جتنی گہری قبر کھود سکتے تھے کھود دی اور دفن کر دیا، لیکن اگلی صبح وہ پھر زمین سے باہر پڑا تھا، تو انہوں نے جان لیا کہ یہ کسی آدمی کا کام نہیں ہے، پس انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور چلے آئے۔ (بخاری حدیث نمبر۱۷ ۳۶، مسلم حدیث نمبر۲۷۸۱) یہ اﷲ کی شان ہے کہ اس نے اپنے نبی ﷺ کا استہزاء کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیا۔
نبی مہربان ﷺ نے بادشاہوں کے نام خط ارسال کئے تو قیصر وکسری کو بھی خط بھیجا گیا، قیصر نے اس خط کا اکرام کیا تو اسکی سلطنت باقی رہی، اگرچہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا، اور کسری نے اس خط کی اہانت کی اور اسے پرزے پرزے کر دیا، اور رسول اﷲ ﷺ کا مذاق اڑایا، وہ تھوڑے عرصے بعد بری طرح قتل ہوا اور اسکی مملکت پارہ پارہ ہو گئی۔ (الصارم المسلول، ۱۴۴)
اﷲ کے نبی ﷺ کے استہزاء کرنے والوں کے بدلے کی صرف یہی صورت نہیں کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا ان کے لئے زمین پھٹ پڑے، بلکہ اس کے لئے متعدد اور متنوع صورتیں ہیں، کبھی اﷲ تعالی ان پر ایسے بندے مسلط کر دیتا ہے جو اسے ہلاک کر دیتے ہیں، جیسے کعب بن اشرف نے نبی رحمت ﷺ کو ستایا، اور اشعار کے ذریعے انکا استہزاء کیا تو محمد بن سلمہؓ نے رسول اﷲ ﷺ کے حکم پر اسکا کام تمام کیا، ایک یہودیہ رسول اﷲ ﷺ کو گالیاں بکتی تھی، ایک صحابی نے اسکا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا، اورایک نابینا صحابیؓ کی بیوی رسول اﷲ ﷺ کی اہانت کرتی تھی، اور وہ انکے بچوں کی ماں بھی تھی، انہوں نے اسے قتل کر دیا، اور خمیطہ نے رسول اﷲ ﷺ کی ہجو کی تو اسکی اپنی قوم کے ایک شخص نے اسے قتل کر دیا، (الصارم المسلول، ۹۵) ابو عفک یہودی نے آنحضرت کی ہجو بیان کی تو سالم بن عمیرؓ نے اس سے قصاص لے لیا، (الصارم المسلول، ۱۰۱) اور انس بن زنیم نے آپؐ کی ہجو کی تو خزاعہ کے ایک لڑکے نے اس سے بدلہ لے لیا(الصارم المسلول، ۱۰۲)، سلام بن ابی الحقیق نے آپؐ کے لئے ابال کھایا تو عبد اﷲ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کا کام تمام کر دیا۔ (الصارم المسلول، ۱۳۵)۔
اﷲ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی دشمنوں سے اس طرح بھی حفاظت کی کہ انکے دلوں میں انکی ہیبت اور رعب طاری کر دیا، کہا جاتا ہے کہ غورث بن الحرث کہتا تھا: میں ضرور محمد (ﷺ) کو قتل کروں گا؟ اس کے ساتھی اس سے پوچھتے: تم انہیں کیسے قتل کرو گے وہ کہتا کہ میں ان سے کہوں گا: مجھے اپنی تلوار دیں، جب وہ مجھے اپنی تلوادیں گے تومیں ان کی گردن اڑا دوں گا ۔ وہ آپؐ کے پاس آ کر کہنے لگا: محمد مجھے ذرا اپنی تلوار دو میں اسے سونگھوں گا، آپؐ نے اسے تلوار دے دی، اس کے ہاتھ لرز اٹھے اور تلوار نیچے زمین پر گر گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تیرے اور تیرے ارادے کے درمیان اﷲ حائل ہو گیا‘‘۔ (الدر المنثور، ۱۱۹:۳)
ابن کثیر میں بیان کیا گیا ہے کہ ابو جہل کہتا تھا: لات اور عزی کی قسم، اگر میں نے محمد (ﷺ) کو نماز پڑھتے دیکھا تو میں ضرور آپ کی گردن پر پاؤں رکھ دونگا اور آپؐ کا چہرہ خاک آلود کر دوں گا، پس جب رسول اﷲ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے وہ آپؐ کی گردن پر پاؤں رکھنے کے لئے آیا، مگر آگے بڑھتے ہوئے وہ اچانک الٹے قدموں پیچھے پلٹنے لگا، اور اپنے ہاتھ سے کچھ پیچھے کرنے لگا، اس سے پوچھا گیا: تجھے کیا ہوا؟، وہ بولا: میرے اور انکے درمیان آگ کی ایک ھولناک خندق ہے، جس سے شعلے لپک رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر وہ میرے ذرا بھی قریب آتا، فرشتے اسکو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے‘‘۔ (۵۳۰: ۴)
ابنِ عباس کی روایت ہے کہ قریش کے کچھ لوگ الحجر میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے باہم عہد کیا کہ لات، عزی اور منات الثالثۃ الاخری، اور نائلہ اور اساف کی قسم، اگر ہم نے محمد (ﷺ) کو دیکھا تو ہم سب اکٹھے اس پر یکبارگی حملہ کر دیں گے، اور اسے قتل کر دیں گے، یہ سن کر ان کی بیٹی فاطمہ روتی ہوئی اندر آئی، رسول اﷲ ﷺ اندر آئے تو انہوں نے ان کو بتایا کہ یہ آپ کی قوم کے افراد ہیں، انہوں نے آ پ کو اکٹھے ہو کر قتل کرنے کا عہد کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک اس خون میں شریک ہو گا، آپؐ نے فرمایا: جاؤ وضو کا پانی لاؤ، پھر آپؐ بے وضو کیا، اور مسجد میں چلے گئے، انہوں نے جب آپؐ کو دیکھا بولے: ہاں وہ آگئے، اور ان کی آنکھیں جھک گئیں اور ان کے کان سینوں پر گر گئے، ان کی آنکھیں آپؐ کو دیکھ نہ پائیں، ان میں سے کوئی بھی آپؐ کی جانب نہ بڑھا، نبی اکرم ﷺ ان کے سروں پر پہنچ گئے، آپؐ نے مٹھی بھر خاک لی اور ’’شاھت الوجوہ‘‘ کہہ کر ان کے چہروں پر پھینک دی، ان میں سے جس پر ایک کنکر مٹی بھی پڑی وہ بدر کے روز کفر کی حالت میں مارا گیا۔ (دیکھئے دلائلِ النبوۃ، ۶۵:۱) اﷲ نے سچ فرمایا، ہم آپؐ کے لئے کافی ہیں۔
نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کی محبت شرطِ ایمان ہے، آپؐ نے فرمایا: لا یؤمن احدکم حتی اکون احبّ الیہ من ولدہ ووالدہ والناس اجمعین۔ (متفق علیہ) یعنی تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کی اولاد ، اس کے باپ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔
عہدِ رسالت کا واقعہ ہے کہ ایک یہودی اور ایک (منافق) مسلمان اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے کے لئے رسول اﷲ ﷺ کے پاس لے گئے، رسول اﷲ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں کیا، منافق کو سخت تکلیف پہنچی اور اس نے یہودی سے کہا کہ ہم اس معاملہ کو حضرت عمرؓ کے پاس لے جاتے ہیں، (اس کا خیال تھا کہ عمرؓ یہودیوں کے دشمن ہیں اس لئے فیصلہ اس کے حق میں کریں گے) حضرت عمرؓ نے پوری تفتیش کے بعد پوچھا کہ رسول اﷲ ﷺ کافیصلہ منظور کس کو نہیں ہے، منافق کے اقرار پر انہیں رک جانے کو کہا، عمرؓ اندر گئے، اپنی تلوار نکالی، اس کی دھار چیک کی اور آ کر منافق کی گردن اڑا دی، رسول اﷲ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا ہم عمرؓ کے ساتھ ہیں۔
مدینہ کے یہودی رسول اﷲﷺ کو زِک پہنچانے کے نئے نئے انداز اختیار کرتے، آپ ﷺ کی مجلس میں آتے، اور بظاہر’’ راعنا ‘‘ کہہ کر مگر دل کا غبار نکالتے ہوئے ’’راعینا‘‘ کہتے، حضرت سعدؓ بن عباد ان کی زبان سمجھتے تھے ، کہ وہ آپؐ کو ’’او احمق‘‘ کہتے ہیں، انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اب کسی نے ایسا لفظ استعمال کیا تو اس کی گردن اڑا دوں گا، پھر سورہ البقرۃ کی یہ آیۃ نازل ہوئی:
یاأیھا الذین آمنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللکافرین عذاب الیم( البقرۃ، ۱۰۴)
آغازِ اسلام ہی سے ناموسِ رسالت پر حملہ کرنے والوں سے سختی سے نبٹا گیااور اس میں کسی کی دینی حیثیت اور دنیوی منصب کا خیال نہیں رکھا گیا، حضرت عمرؓ بن خطاب کے دور میں بحرین کا عیسائی پادی گستاخیء رسول کا مرتکب ہوا، اسے کچھ نو عمر لڑکوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا، معاملہ حضرت عمرؓ تک پہنچا تو آپ نے اس قتل کو درست قرار دیا۔
تاریخِ اسلامی میں گستاخانِ رسول ﷺ کے اعداد شمار دیکھے جائیں تو ریاستِ مدینہ کے قیام سے اب تک ۴۰ گستاخان کو عوام نے اور ۸۰ کو عدالتوں نے سزائیں دی۔
اسپین کی اسلامی ریاست میں پادریوں نے توہینِ رسالت کی مہم چلا رکھی تھی، وہ خود بھی آپﷺ کی شان میں گستاخی کرتے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتے، چناچہ ۲۳۶ ھ میں ۵۳ شاتمانِ رسول کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں پادری بھی تھے۔
توہینِ رسالت ایسا معاملہ نہیں جسے کسی صورت بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جائے، شہنشاہ اکبر کے زمانے میں ایک ہندو نے شانِ رسالت مآب میں گستاخی کی، معاملہ بیربل اور ابو الفضل کے سپرد ہوا، توہین ثابت ہو گئی، علماء کے بھی دو گروہ بن گئے، محل کی خواتین بھی ہندو مجرم سے ہمدردی رکھتی تھیں، قاضی القضاۃ نے سزا سنائی اور فیصلہ نافذ کر دیا گیا۔
حقیقت رائے نے حضرت فاطمہؓ اور رسول اﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کی، زکریا شاہ لاہور کا گورنر تھا، اس نے ہندو اکثریتی آبادی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سزا کو نافذ کیا۔
اﷲ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والے اور ان سے محبت کرنے والے حزب اﷲ کا گروہ ہیں اور وہ حزب الشیطان سے کسی قسم کی الفت، محبت اور مروت نہیں رکھتے، خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
لاتجد قوماً یؤمنون باﷲ والیوم الآخر یوادّون من حاد اﷲ ورسولہ ولو کانوا آباءھم او اخوانھم او عشیرتھم ۔۔۔ (المجادلۃ، ۲۲)
تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو اﷲ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا بھائی یا اہلِ خاندان ۔۔
یعنی یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ ایمان اور دشمنانِ خدا اور رسول کی محبت ایک دل میں جمع ہو جائیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک دل میں اپنی ذات کی محبت اور اپنے دشمن کی محبت جمع نہیں ہو سکتی ۔۔۔ (تفہیم القرآن پنجم، ۳۶۶)
اسی کے بے شمار نمونے غزوات میں بھی دکھائی دیے اور مسلمانوں کی عام زندگی میں بھی، سچے مومنوں نے ان تمام رشتوں کو کاٹ کر پھینک دیا جو ان کے دین کے راستے میں مزاحم ہوئے، غزوہء بدرمیں ابو عبیدۃؓ نے اپنے باپ عبد اﷲ بن جراح کو قتل کیا، مصعبؓ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید کو عمرؓ بن خطاب نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا، حضرت ابو بکرؓ اپنے سگے بیٹے سے لڑنے کو تیار ہو گئے، حضرت علیؓ حضرت حمزۃؓ اور عبیدۃ بن الحارث نے عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے اور ثابت کیا کہ اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کسی رشتے کے سامنے مغلوب نہیں ہو سکتی۔
یہ آج کے دور کا بہت بڑا المیہ ہے کہ ایسی مملکت جسے لا الہ الا اﷲ کے نام پر حاصل کیا گیا ہے ، شانِ رسالت کے معاملے میں لیت و لعل کا شکار ہے، قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک توہینِ رسالت کے کسی مجرم کو سزا نہیں دی گئی، اس وقت بھی جیلوں میں کم ازکم چودہ مجرمان ایسے ہیں جن پر جرم ثابت ہو چکا ہے، لیکن سزا نافذ نہیں ہوئی، حالانکہ پرویز مشرف جیسے حکمران بھی ہیں جو زندہ موجود ہیں مگر ان کے اقدامِ قتل کے کئی مجرم پھانسی کی سزا پا چکے ہیں۔
اس ملک میں ایسا گورنر بھی تھا جو شاتمِ رسول آسیہ بی بی کی اشک شوئی کے لئے جیل جا تا ہے اور قانون میں تبدیلی کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔
اور کروڑوں مسلمانوں کا دل دکھانے پر جب ایک محبِ رسول اسے کیفرِ کردار تک پہنچاتا ہے توبیرونی آقاؤں کو اسے پھانسی دے کر خوش کیا جاتا ہے۔
گاہے گاہے کبھی ہلکی اور کبھی تیز آوازیں ناموسِ رسالت کے قانون میں تبدیلی کے لئے اٹھتی رہتی ہیں، لیکن سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا ایسے قانون کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ یہی سوال امام مالکؒ سے بھی پوچھا گیا تھا، کہ کوفہ کے کچھ مولویوں کی رائے ہے کہ گستاخیء رسول ﷺ کی سزا موت سے کم بھی ہو سکتی ہے؟
آپ نے فرمایا: ’’اگر گستاخ گستاخی کے بعد بھی زندہ رہے تو پھر امت کے زندہ رہنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا‘‘۔
اس معاملے کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ اگر اس قانون کا غلط استعمال کیا جائے، تو اس کا تدارک کیسے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قانون کو فعالیت کے ساتھ عدالتیں استعمال کریں اور شہادتوں کی بنیاد پر درست فیصلے کریں تو غلط استعمال بھی محدود ہو جائے گا، بروقت سزاؤں کا نفاذ عوام کا اعتماد بڑھائے گا۔
’’سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر‘‘ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے، اور اگر کسی کو مسلمان جانتے ہوئے ناحق قتل کیا تو اس کی سزا سے دنیا میں بچ بھی جائے تو آخرت میں نہ بچ پائے گا، حضرت اسامہ بن زیدؓ نے ایک کافر کو تلوار دیکھ کر کلمہ پڑھنے پر قتل کردیا تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: اے اسامہ تم کیا کرو گے اس روز جب وہ کلمہ کے ساتھ آئے گا؟، اور آپؐ بار بار یہی دہراتے رہے حتی کہ اسامہؓ نے تمنا کی کہ : ’’کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا‘‘ اور یہ عمل میرے نامہء اعمال میں نہ ہوتا۔
دنیا میں کوئی قانون ایسا نہیں جسے غلط تشریح سے استعمال کی کوشش نہ کی جاتی ہو، لیکن نظامِ انصاف ظالموں کی ٹیڑھ کو سیدھا کرتا ہے، اگر دنیا میں زن، زر اور زمین کی بنیاد پر اور نسلی، قومی اور لسانی عصبیتوں کے نام پر قتل ہونے والے اعداد و شمار کا موازنہ توہینِ رسالت کے مقتولوں سے کیا جائے تو یہ تعداد کافی کم ہے، لیکن یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ بموں کی ماں بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیتی ہے، مگر ہمارے کان پر جوں نہیں رینگتی اور ایک نوجوان جس کا معاملہ ابھی تک واضح نہیں قتل ہوتا ہے (قابلِ افسوس جرم، انتہائی سفاکی سے)لیکن اخبار و جرائد اور میڈیا کے چینلز پر ایسی آوازیں اور شور ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، ترحم کی ایسی آوازیں کہ ہزاروں انسانوں کے قتل کی روداد دب کر رہ گئی ہے۔

جواب چھوڑ دیں