ہم کہاں جا رہے ہیں؟

میں آج سوچ رہی تھی کے بازار جا کر گھر کے لیے کچھ سامان جو ضرورت کاہو خرید لاؤں مگر دل بہت اداس سا تھا واٹس اپ ،فیس بک پر مسلمانو ں پر ہونے والے مظالم کی تصا ویر دیکھ دیکھ کر آ ہ !
بچپن سے یہ حدیث سنتے آئے کہ:
’’مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے‘‘ ۔
آج شاید ایسی ہی کفیت تھی پھر بھی دل کو خاطر نہ لا کر ضرورت کے تحت بازار جانے کا فیصلہ کیا بس جلدی سے عبایا پہنا بچوں کو لیا اور میا ں کے ساتھ بازار کے لیے روانہ ہو گئی گاڑی میں ابھی بیٹھی ہی تھی کے سامنے والے گھر سے زور زور سے قہقہوں کی آواز آرہی تھی ،اللہ معلوم کس بات پر اتنے زور زور سے ہنس رہے تھے۔میں کچھ سوچ میں پڑ گئی حیران تھی لوگ اب بھی زور زور سے ہنستے ہیں؟۔ خیر ابھی کچھ دور ہی گئے تھے کے میری نظر ایک ریسٹورنٹ پر پڑ ی جہاں بڑ ی تعداد میں لوگ کھانے کے لیے ویٹنگ میں بیٹھے تھے کیوں کہ ریسٹورنٹ کے اندر جگہ نہیں تھی ایک بار پھر دل نے آہ بھری سوچا آج تو ویک اینڈ بھی نہیں پھر بھی اتنے لوگ اپنا گھر چھوڑ کر یہاں بیٹھے ہیں صرف اس لیے کہ آؤٹنگ کے نام پر اپنے ہزاروں روپے یہاں لٹا دیں، وہی پیسہ اگر کسی ضرورت مند کو دینے کی باری آئے تو یہ کہہ کر معذرت کر لیں کے ہمارے پاس کہاں۔۔۔۔
ذرا دور تھوڑے فاصلے پر ایک شادی ہا ل میں کچھ لڑکیاں باہر سیلفیاں لیتے دکھائی دیں اب جو گاڑ ی ان کے نزدیک پہنچی تو میری آنکھوں کو یقین نہ آیا کہ یہ ہم مسلمان گھرانو ں کی لڑکیاں ہیں یا کوئی فلم انڈسٹری کی موڈ لز؟ چلو بظاہر یہ جو لگ رہی تھیں وہ تو رہنے دیں مگر ان میں جتنی بے با کی تھی اس نے جیسے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔یا اللہ یہ ہماری بچیا ں ہیں !یہ ہم کہاں آ کھڑے ہو ے دل تو جیسے مزید ٹوٹ گیاہو۔
سارے رستے ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے رہے جو مسلسل یہ احساس دلاتے رہے کے ہم کتنے بے حس ہو چکے ہیں پھر اچا نک مو لانا مودودی صاحب کی کتاب خطبات کا مضمون یاد آگیا جو پچھلے دنوں ہم نے اپنی کلاس میں پڑھا تھا مضمون کا نام تھا کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ میں فرق۔۔
نہ پوچھیں کے پھر تو جیسے اس مضمون کا ہر لفظ ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا نظر آیا۔کیا ہی پیاری مثال دی گئی جو قرآن سے لی گئی تھی کہ:
’’ کلمہ طیبہ ایک ایساحق کا بیچ ہے کہ جب زمین میں ڈالا جائے تو اس سے ایسا تناور درخت پھلتا پھولتا ہے کہ جس میں ہر موسم میں پھل رہتا ہے اور اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ کوئی بھی طوفان کوئی بھی آندھی اس ہلا نہیں سکتی جبکہ کلمہ خبیثہ کی مثال اس کے بالکل برعکس تھی یعنی ایسی خودرو جھاڑیا ں جو زمین میں اُگ تو جاتی ہیں مگر نہ ان کی جڑیں اتنی مضبوط ہوتی ہیں نہ ان میں میٹھے پھل لگتے بلکہ ذرا سی ہوا بھی ان کو اکھاڑ پھنکتی ہے‘‘۔
ان دونو ں مثالوں کو سامنے رکھ کر ،میں اپنا اور اپنے معاشرے کا جائزہ لتی رہی فرق صاف ظاہر تھا ہم میں سے شاید ہی کوئی تناور درخت تھا۔جہاں تک نظر گئی خودرو جھا ڑ یا ں ہی جھاڑ یا ں نظر آئیں جنہیں ذرا سی آزمائش کی ہوا نے،ذرا سے کفار کے جھوٹے رعب نے ان کی جھوٹی شان و شوکت نے انہیں اپنے خوبصورت مذہب سے لے جا کر دور پھینک دیا ہو اس وقت میرے دل نے کہا مگر ہم تو کلمہ خبیثہ کے مانے والے نہیں (نعوذبا للہ ) مگر پھر دل نے کہا کے بیشک کلمہ خبیثہ کے مانے والے نہیں مگر کلمہ خبیثہ کے مانے والوں کے مان والے ضرور ہیں۔ہمارے طور طریقے سب ان کے جیسے ہی تو ہیں۔
کیا ھمارے دل میں حق کا بیچ ڈلا جو ہمیں ایک سایہ دار درخت بنا دیتا کے دوسرے ہماری چھاؤں میں سکوں پاتے؟۔ہم کیسے مسلمان جو آج ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کا درد بھی نہیں محسوس ہوتا کیا ہم صرف کلمہ گو مسلمان ہیں ؟کیا اس کلمے کی زمہ داریاں ہم نے قبول کیں جو کلمہ پڑھتے ہی ہم پر عائد ہو جاتی ہیں ؟نہیں۔۔۔۔۔۔۔یہی جواب ہے ناں آ پ کا بھی ؟
گا ڑ ی رک گئی میں نے بازار سے اپنا سامان لیا اور گھر آگئی میرا یہ سفر ختم ہوا مگر زندگی کا سفر ابھی میرا بھی باقی ہے اور آپ کا بھی۔
میری اس تحریر سے سوچیے گا ضرور کیا واقعی ہم خودرو جھا ڑ یا ں تو نہیں بن گئے جبکہ ہمیں تو تنا ور درخت بننا تھا آج سے ہی کلمہ طیبہ صرف زبان تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے دل میں اتار لیں کیوں کہ ابھی وقت ہے!!۔

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں