کھانا گرم کرنا مشقت نہیں محبت ہے

جی ہاں آپ درست سمجھے۔ میں ہوں حقوقِ نسواں کی علمبردار! میں بحیثیت صنفِ نازک دنیا کو اس بات کا ادراک کرانا چاہتی ہوں کہ عورت کی تعریف وہ نہیں جو معاشرے کا ایک خاص طبقہ منوانا چاہتا ہے۔ عورت۔۔۔ ان سب سے بہت اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے۔ عورت کی اصل تعریف، اس کا اصل مرتبہ یہاں تک کہ اس کی پیدائش کا اصل مقصد دینِ اسلام نے بہت پہلے ہی اس دنیا کو باور کروادیا تھا۔ آج ان ہی حقوق کی یاد دہانی کا وقت آن پہنچا ہے۔
چند روز پہلے ان آنکھوں نے ایک منظر دیکھا۔ تصویر میں بنتِ حوا اپنے حقوق منوانے کی خاطر سڑک پر تھی۔ ہاتھوں میں پکڑے مختلف پلے کارڈز مختلف تحفظات و احساسات کا مظہر تھے۔ ان ہی میں سے کسی کا کہنا تھا کہ ” کھانا خود گرم کرو”۔
ان چار لفظوں میں خاتون نے ’’کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے‘‘ کی مثال قائم کردی۔ بظاہر تو وہ غالباً اپنے گھر والے سے خطاب کر رہی تھیں کہ مجھے اور بھی دکھ ہے زمانے میں کھانا گرم کرنے کے سوا۔ اب ان دکھوں کی فہرست یا مذکورہ خاتون کے پاس ہوگی یا ان ” مردِ خانہ” کے پاس۔ چلئے چھوڑیے جی! ہماری دلچسپی کا سامان تو مذکورہ پلے کارڈ ہے جس کی ہم بال کی کھال اتارنے جارہے ہیں۔
میرے خیال میں تو ان خاتون کے پاس کھانا گرم کرنے کاہنر ہی نہیں ہوگا۔ وہ صرف جلانے کا کام کرتی ہونگی۔۔۔۔ یہ عورتوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتی ہوں گی کہ جن سے پانی کا گلاس بھی نہ پکڑا جاتا ہو اور پینے کے لئے اسٹرا کا استعمال کرتی ہوں۔ جو چھینکیں تو اس ادا سے کہ چھینک آتے ہوئے بھی نہ آنا چاہے۔ جو موبائل تو اپنے قد سے بڑے استعمال کریں مگر دوپٹہ بالش بھر کا یا محض خیالی ہو۔
یاد آیا! اس قسم کی کلاس تو بہت سے لوگ لے چکے ہیں۔ انہی میں سے ایک مضمون میری نظر سے بھی گزرا۔ صاحبِ مضمون فرماتے ہیں کہ بی بی اگر تم یوں ہی مردوں کے شانہ بشانہ آنا چاہتی ہو تو وہ تمام کام بھی کرو جو ہم مرد کرتے ہیں۔ کاموں کی فہرست کچھ یوں تھی۔ (وقت کی عادت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میں بحیثیت صنفِ نازک کی علمبردار ساتھ ساتھ ہی اعتراضات کا جواب دینے لگی ہوں)
1۔ بکرے کی گردن پر چھری خود پھیرو۔
جنابِ اعلیٰ، یہ کام میں اپنے گھر کے مردوں کے ساتھ کئی بار انجام دے چکی ہوں۔
2۔ کیل خود ٹھونکو۔
کر لو گل! یہ کام کرتے کرتے عمر گزرگئی کہ ایک دن وہ بھی آیا جب گھر میں بھائیوں کی موجودگی میں مجھے باپ کا دایاں ہاتھ گردانا گیا۔
3۔ بلب خود لگاؤ۔
میرے سسرال میں معلوم کر لیجئے۔ یہ کام میں نے صرف میکے میں نہیں اپنے شوہر کے گھر میں بھی کئے ہیں۔
4۔ بل خود جمع کراؤ۔
ویسے تو آج کل ڈیجیٹل زمانہ ہے لیکن اگر آپ چند برس پہلے کی بات کر رہے ہیں، تو حضرت جی، کئی بار پوسٹ آفس کا بھی دورہ کرچکی ہوں میں۔
غرض یہ کہ کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں۔
صاحبِ مضمون کے کئی اعتراضات ایسے ہیں کہ جو فقط مردوں سے مشروط کرنا کم علمی کی علامت ہے۔ ٹھیک ہے، کئی کام ایسے ہیں جو مرد ہی انجام دے سکتے ہیں، اللہ نے مرد کو جسمانی طور پر وہ کام کرنے کی صلاحیت بخشی ہے۔ (لفظ طاقت کا استعمال جان بوجھ کر نہیں کیا)۔ قابلِ تعریف ہے یہ بات کہ مرد اپنی عورتوں کا گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں، وہ زن مریدی کا طعنہ سننے کے باوجود ایسا کرتے رہتے ہیں کہ یہ کام تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ نے بھی انجام دئیے ہیں۔ میں آپ کی اس بات کی تائید کرتی ہوں کہ کھانا گرم کرنا مشقت نہیں محبت ہے۔ اور اسے محبت صرف وہ ہی عورت سمجھ سکتی ہے جو کہ اپنے ان حقوق سے واقف ہو جو دینِ فطرت نے واضح کر دیئے ہیں۔
عورت گھر کی ملکہ ہے۔ یہ نکتہ اسلام نے ہمیں برسوں پہلے بتادیا تھا۔ اس کی ذمہ داری گھر سے باہر نکل کر دوڑ دھوپ کرنا نہیں بلکہ گھر میں بیٹھ کر گھر کے معاملات دیکھنا ہے۔
اس مطلب پرست دنیا کی نظر سے اگر دیکھا جائے تو ایک شخص جس کے ساتھ آپ ایک چھت تلے رہ رہی ہیں، جس کی کمائی بیشک آپ نہ کھا رہی ہوں لیکن جو آپ کا معاشرتی سہارا ہے، جو آپ کی زندگی کی گاڑی کا اگلا پہیہ ہے کہ محض پچھلے پہیے پر چلتی گاڑی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اس کے لئے چولہا نہ سہی، مائکرو ویو اون میں کھانا گرم کردینے میں کیا حرج ہے!!

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں