اقبالؒ بڑا اپدیشک ہے

(’’بانگِ درا ‘‘سے خوشہ چینی)
اقبال بلندیء ا فکار اور بالیدگیء کردار کا استعارہ ہے، دنیا کے افق پر اقبال لاہوری کا ستارہ چمکے یا اقبال کشمیری کا، یا ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے نام کا تذکرہ ہو ، اقبالؒ اقبال ہے، اور صدیوں کی گردشِ دوراں کے بعد ایسے نابغہ روزگار پیدا ہوتے ہیں، اقبال کشمیری شیخ خاندان سے ہیں، متوسط گھرانے کا ایک فرد جو والد کی حلال کی کمائی پر پلا ہے، جسے ابتدا سے قرآن سکھایا گیا ہے، پانچ برس کی عمر سے عربی فارسی کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی ہے، اور عصری تعلیم ایک مشن ہائی سکول سے ! اقبال کے والد کو قرآن سے گہرا لگاؤ ہے، وہ ایک علم دوست انسان ہیں، اورمولاناجلال الدین رومیؒ کی مثنوی سے عشق اقبال میں انہیں سے ہی منتقل ہوا ہے، اقبال کا مزاج شاعرانہ ہے، جوانی میں پختہ شعر کہنااسکی ابتدا ہے، جبھی داغ جیسا استاد شروع زمانے ہی میں انہیں یہ کہہ دیتا ہے کہ انکی شاعری کو مزید اصلاح کی ضرورت نہیں۔ اقبال اوریئنٹل کالج لاہور پہنچتے ہیں تو پروفیسر آرنلڈ جیسا قابل فلسفہ کا استاد میسر آتا ہے، جسے مشرق اور اسلام دونوں ہی سے انس ہے، اور اسی صحبت میں اقبال کا شعر فلسفیانہ فکر اختیار کرتا ہے، اور اردو زبان کو پہلا فلسفی شاعر ملتا ہے، اور بائیس برس کی عمر میں اقبال کی زبان میں شعر ڈھلتاہے:

موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے

پہلا دور (ابتداء سے ۱۹۰۵ء)
اقبال ابتدائی زمانے میں وطن دوستی اور وطن پرستی میں ڈوب کر ’’نالہء یتیم‘‘، ’’ھمالہ‘‘، اور ’’ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا‘‘ جیسی نظمیں لکھتے ہیں۔ پہلے دور میں کہی گئی نظموں میں ھمالہ میں کہتے ہیں:

اے ھمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
ایک جلوہ تھا کلیم ِ طورِ سینا کے لئے تو تجلّی ہے سراپا چشمِ مینا کے لئے

اقبال سخن نواز بھی ہے اور سخن شناس بھی، اور علم وادب کا قدر شناس بھی، اپنی ایک نظم ’’ مرزا غالب ‘‘ میں غالب کے فن کی قدر افزائی بھی کی اور عظیم جرمن شاعر ’’گوئٹے‘‘ کو غالب کا ’’ہمنوا ‘‘ بھی قرار دیا:

آہ تو اجڑی ہوئی دلّی میں آرامیدہ ہے گلشنِ ’’ویمر‘‘ میں تیرا ہمنوا خوابیدہ ہے
(ویمر میں گوئٹے مدفون ہے)
ابتدائی دور میں اقبال نے بچوں کے لئے نظمیں لکھیں، جن میں کچھ کے مرکزی خیال دیگر آداب سے ماخوذ ہیں۔ بچوں کی نظموں میں، ’’ایک مکڑا اور مکھی‘‘، ’’پہاڑ اور گلہری‘‘، ’’گائے اور بکری‘‘ وغیرہ ہیں، جس میں اوّل الذکر میں خوشامد کو ایک فریبی مکڑے اور معصوم کردار مکھی کے مکالمے کی صورت میں بیان کیا ہے، اور اسکا مرکزی مضمون کچھ یوں بیان کیا ہے:
سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندہ (ایک مکڑا اور مکھی)
ثانی الذکر میں اﷲ کی کاریگری اور اسکی حکمت کا فلسفہ سمجھایا ہے، اور تکبر سے بھرے پہاڑ کو ایک گلہری کے ذریعے پتے کی بات بتائی، اور اسکی ہر تخلیق میں کارفرما حکمت سے آشنا کیا، جس کے ہاں ہر شے کی اپنی اہمیت ہے، چند اشعار ملاحظہ ہوں:

جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پرواہ نہیں ہے تو بھی تو آخر میری طرح چھوٹا
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اس کی حکمت ہے
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں (پہاڑ اور گلہری)

’’گائے اور بکری‘‘ میں بکری جیسی چھوٹی مخلوق کو شکر گزار اور مالک کی احسان شناسا اور گائے کو ناشکری اور عیب جو دکھایا، اور چھوٹے سے بڑے کو سکھانے کا گر بتایا۔ انکی نظم ’’بچے کی دعا‘‘ سکول کی اسمبلی میں پڑھنے کی قدیم روایت ہے۔’’پرندے کی فریاد‘‘ اگرچہ بچوں کے لئے لکھی گئی نظم ہے مگر قیدکے دنوں میں آزادی کے لئے تڑپنے والوں کی خوب عکاسی کی گئی ہے۔
اقبال کی شاعری کا گداز اس کی خاص صفت ہے، ایک نظم ’’ماں کا خواب‘‘ اس کی اعلی مثال ہے، جب اپنے فوت شدہ بچے کو ماں خواب میں دیکھتی ہے، جو بچوں کی ایک ٹولی میں کہیں پیچھے ہے، سب بچوں کے ہاتھوں میں چراغ ہیں مگر اسکے بیٹے کا دیا بجھا ہوا ہے، اور وہ بہت ناراضی سے ماں سے کہتا ہے ’’تیرے آنسؤوں نے بجھایا اسے‘‘۔
دوسرا دور (۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء)
اقبال کا ۱۹۰۵ء میں یورپ کی جانب علمی سفر، اور کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ اور اقتصاد میں ڈگری، اور جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ، اورواپسی پر لندن سے بیرسٹری کا مرحلاایک جانب تعلیمی مراحل ہیں، دوسری جانب اقبال مشرق اور مغرب کا بنظرِ غائر مشاہدہ ہے، مغرب میں قیام کے دوران اسکی مادیت پرستی، چکا چوند اور اسکی تشکیل کے عناصر پر غور و فکر ہے، وہ مغرب کی وطن پرستی کا مشاہدہ بھی کرتے ہوئے اقبال پکار اٹھتے ہیں:
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرھن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
اقبال، ھیگل اور کانٹ کے نظریات بھی کھنگالتے ہیں اور وہاں کے مشہور شعراء گوئٹے، نیطشے، کولرج، اور وڈورڈز کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، اور ادب میں ان سے متاثر بھی ہیں۔ قیامِ یورپ کے دوران اقبال کی فکر اور شاعری کی وہاں بھی گونج سنائی دیتی ہے، ایسے کہ انکے کیمبرج کے استاد ’’نکلسن‘‘ نے ان کی فارسی شاعری کی کتاب ’’اسرارِ خودی‘‘ کا ترجمہ انگریزی میں کیا، جو اقبال کے یورپ میں تعارف کا ذریعہ بنا۔یورپ کی چکا چوند سے متاثر ہونے کی بجائے اقبال نے ببانگِ دہل اہل مغرب کو مخاطب کیا:
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہو گا سکوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہو گا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا
دیارِ مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دکاں نہیں ہے کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ آبِ زر کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی جو شاخ ِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا
اقبال کی قیامِ یورپ کے دوران کی شاعری میں مشرق اور مغرب کا امتزاج لئے ہوئے ہے، اس میں تاریخ اور عہدِ گزشتہ سے تعلق کے ساتھ محبت، عشق، حسن، جیسے موضوعات جا بجا دکھائی دیتے ہیں، حقیقتِ حسن کو زوال سے مربوط کر کے اقبال نے حقیقتِ دنیا اور حقیقتِ شباب بھی سمجھا دی ہے:
ہوئی ہے رنگِ طبیعت سے جب نمود اسکی وہی حسیں ہے، حقیقت زوال ہے جسکی
ایک اور شعر ملاحظہ ہو:

چمن سے روتا ہوا موسمِ بہار گیا شباب سیر کو آیا تھا ، سوگوار گیا
اسی دور میں اقبال نے امتِ مسلمہ کی بربادی کانوحہ بھی لکھا:

نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر داغ رویا خون کے آنسو جہان آباد پر
آسماں نے دولتِ غرناطہ جب برباد کی ابنِ بدروں کے دلِ ناشاد نے فریاد کی
غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا چن لیا تقدیر نے، وہ دل کہ تھا محرم ترا

تیسرا دور (۱۹۰۸ء سے ۔۔۔۔)
مغرب میں قیام کے دوران اقبال کا وطن پرستی کا نظریہ اسلام پرستی میں ڈھل گیا، انہوں نے اسلام کا صحیح تصور ابھارنے اور سوئی ہوئی مسلمان قوم کو جگانے کی ٹھان لی، مسلمان امت کو انکا شاندار ماضی یاد دلایا، انکے حال پر انہیں جھنجھوڑا اور مستقبل کا اعلی نقشہ پیش کیا۔اقبال کی جڑی مشرق اور اسلام دونوں ہی سے گہری جڑی ہوئی تھیں، اسلام کی راہ پر انکا غیر متزلزل ایمان تھا، کہ یہی رشد و ہدایت اور کامیابی کی شاہراہ ہے، اﷲ تعالی سے انکا خاص تعلق تھا، جس کی خوشبو شکوہ ، جوابِ شکوہ اور انکی کئی نظموں میں محسوس ہوتی ہے، نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ سے شدید محبت کے نقوش جا بجا ملتے ہیں، اقبال نے ان لوگوں سے برأت کا اظہار کیا جن کا نبی پاکﷺ سے کوئی روحانی رشتہ نہیں ہے، اور وہ محض اس محبت کے دعوے دار ہیں، اور ان کا حال یہ ہے کہ یورپ کا’’ حج‘‘ کرتے ہیں، اور اسی کی جانب بار بار سفر کرتے ہیں۔
اﷲ سے تعلق کی مضبوطی وکمزوری اور گرویدگی اور تڑپ کا مظہر اس نظم کے چند اشعار ہیں:

کبھی اے حقیقتِ منتظر ، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہْ ئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

میں تو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا ، تجھے کیا ملے گا نماز میں

اس دور میں اقبال نے جو ترانہ لکھا اس میں بھی وسعت پائی جاتی ہے، ہندوستان سے بڑھ کر امت کے لئے پورے جہان کی بات کی ہے، چند اشعار پیش ہیں:

چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا

اور اقبال کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

اقبال کی نگاہ بغداد، حجاز، قرطبہ اور قسطنطنیہ سمیت پورے عالمِ اسلام پر ہے، اور دور غلامی میں اسلاف کی عظمت کی یاد انہیں بے چین کرتی ہے، بلادِ اسلامیہ میں وہ کہتے ہیں:

سر زمینِ دلّی کی مسجودِ دلِ غمدیدہ ہے ذرّے ذرّے میں لہو اسلاف کا خوابیدہ ہے

اقبال کے دل کا درد انکی شہرہ آفاق نظم ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ میں اپنے عروج پر ہے، جس کے انداز کو وہ خود بھی بے ادبی ہی شمار کرتے ہیں، مگر یہ ایسے دل کی تڑپ بھی ہے جو مسلمان امت کے لئے بے چین و بے قرار ہے، چند اشعار ملاحظہ ہوں:
اے خدا! شکوہء اربابِ وفا بھی سن لے خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
اﷲ کے حضور شکوہ کرتے ہوئے اقبال ’’دعوت الی اﷲ‘‘ کے کام کو اور ’’جہادِ فی سبیل اﷲ‘‘ کو اخلاص کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں:

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا
اور پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے؟ بات جو بگڑی ہوئی تھی، وہ بنائی کس نے؟

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں خشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

انیسویں صدی کے مسلمانوں کی ذلت اور پستی کا گلہ رب سے اس بات پر کرتے ہیں کہ یہ سب باطل کے لئے خوشی کا سبب ہے، اور مسلمان کے لئے دل گرفتگی کا:

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
بت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئے ہے خوشی ان کو کہ کعبہ کے نگہبان گئے

منزلِ دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے
نئے منظر نامے کی تصویر کشی:

اب وہ الطاف نہیں ہم پہ کرامات نہیں بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں؟
طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہے کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟
اور اختتام دعا کے ساتھ:

مشکلیں امتِ مرحوم کی آسان کر دے مورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کر دے

جوابِ شکوہ میں مسلمانوں کے ماضی اور حال کا موازنہ ہے، اور آباء کی صفات اور موجودہ امت کی حالت کی عکاسی کر کے بتایا ہے کہ بلندی اور اقتدار حاملین صفات کو ملتا ہے، نہ کہ محض انکے تذکرہ سے خوش ہونے پر، کہتے ہیں:

تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں جلوہء طور تو موجود ہے موسیؑ ہی نہیں
انتشار نے امت کو تباہ کردیا:

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنقنے کی یہی باتیں ہیں
نبی محترمﷺ کے پیغام سے دوری ہی وجہ تنزل ہے:

قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں

دنیا کی لذتیں دین پر عمل میں رکاوٹ بن گئی ہیں:
امراء نشّہء دولت میں ہیں غافل ہم سے زندہ ہے ملّتِ بیضاء غربا کے دم سے
مسلمانوں نے فرائض کی ادائیگی ترک کر دی ہے:

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحبِ اورصاف نمازی نہ رہے

اغیار کی نقّالی اور عصبیتیں امت کے لئے زہر ہیں:
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدّن میں ہنود یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
یوں تو سیّد بھی، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟
اقبال نے امتِ مسلمہ کی زبوں حالی کے اسباب اور اسکے امراض کی درست تشخیص کی، وہ اتحادِ امت کو بنیاد قرار دیتے ہیں:
ہیں جذبِ باہمی سے قائم نظام سارے پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی انجمن میں
شمع اور شاعر میں بھی غفلت کے مرض کا انکشاف کیا ہے:

وائے ناکامی ، متاعِ کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

شب گریزاں ہو گی آخر جلوہء خورشید سے! یہ چمن معمور ہو گا نغمہء توحید سے!!

تقریباً ایک صدی پہلے کی حالتِ زبوں حالی پڑھتے ہوئے اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ آج بھی اس پیغام کی اتنی ہی، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ضرورت ہے۔
***

جواب چھوڑ دیں