تیمور ملک اور ملکہ ترکان

1219 ؁ء میں چنگیز خان کے قاصد کے قتل سے شروع ہونے والا تباہی کا سلسلہ ہلاکو خان کے ہاتھوں 1258 ؁ء میں سقوط بغداد پر ختم ہوتا ہے۔ چار دہائیوں پر مشتمل اس داستان میں کئی کردار ایسے ہیں جو اپنی انفرادیت کے باعث تاریخ کے صفحات پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ ان میں حاکم اترار ینال خان جیسے امراء بھی شامل ہیں کہ جس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قراقرم سے آنے والا تجارتی قافلہ لوٹ کر اور تاجروں کو قتل کرکے اس قضیے کی بنیاد ڈالی اور علاؤالدین خوارزم شاہ جیسے ناعاقبت اندیش حکمران بھی ہیں کہ جس نے بین الاقوامی مسلمہ قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے چنگیز خان کے قاصد کو قتل کردیا۔ اسی داستان میں جلال الدین خوارزم شاہ جیسا مرد میدان بھی ہے کہ جس نے آخری سپاہی تک تاتاریوں کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کیا بلکہ دریائے آمو سے لے کر دریائے سندھ تک تن تنہا عالم اسلام کے دفاع کی جنگ لڑتا رہا۔ اس دفعہ ایسے ہی دو کرداروں کا تعارف قلمبند کیا جارہا ہے۔
حاکم قوقند ۔ تیمور ملک
تاتاریوں کو سلطنت خوارزم کے جن شہروں پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ان میں قوقند کا شہر سر فہرست تھا۔ قوقند جسے کتابوں میں خجند بھی لکھا گیا ہے سلطنت خوارزم کا مشرقی سرحدی شہر تھا۔ دریائے سیحوں یا سیر دریا کے کنارے واقع یہ شہر خوارزم کا نمایاں ترین سرحدی شہر تھا۔ قوقند کا حاکم مشہور زمانہ تاجک سردار تیمور ملک تھا۔ تیمور ملک اپنی فطری بہادری دلیری اور جنگی حکمت عملی کے باعث خوارزم شاہ کے قابل اعتماد امیروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ روضتہ الصفا کے مصنف نے تیمور ملک کو دلیری میں مشہور ایرانی سردار رستم اور سہراب کے ہم پلہ شمار کیا ہے۔
جب علاؤالدین خوارزم شاہ تاتاری حملے سے پسپا ہو کر پامیر کے میدان سے واپس پلٹ گیا تو تیمور ملک کو اندازہ ہوگیا کہ اب سرحدی شہروں پر حملہ ہونے والا ہے۔ چنانچہ اس نے قوقند کی دفاعی تیاریاں شروع کردیں۔ شہر کے دفاع کے لیے تیمور ملک کے پاس صرف ایک ہزار سپاہی تھے۔ جبکہ تاتاریوں کی فوج کا ہر اول دستہ ہی پانچ ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا ۔ جبکہ چنگیز خان نے جوجی خان کی قیادت میں بیس ہزار کا لشکر قوقند کے لیے روانہ کردیا تھا۔
تیمور ملک کا قلعہ بند ہونا
مختصر ترین فوج رکھتے ہوئے بھی تیمور ملک نے شہر کے دفاع کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس نے اپنا دفاعی مورچہ دریا میں واقع جزیرے پر موجود قلعے کو بنایا اور اپنی سپاہ کے ساتھ ضروری سازو سامان لے کر جزیرے میں قلعہ بند ہوگیا۔
ادھر تاتاری افواج قوقند کے قریب ہی واقع بناکت کے شہر پر حملہ آور ہوئیں اور صرف تین دن کی مزاحمت کے بعد بناکت فتح کرکے قوقند پہنچ گئیں۔ قوقند پہنچ کر جوجی خان کو معلوم ہوا کہ تیمور ملک دریا میں ایک جزیرے پر قلعہ بند ہوگیا ہے اور یہ کہ اس نے ساحل پر موجود تمام کشتیاں بھی اپنے پاس جمع کرلی ہیں۔
اب جوجی سٹپٹایا کہ کیا تدبیر اختیار کرے۔ اس نے اپنے تیر اندازوں اور منجیقوں کا رُخ جزیرے کی طرف کرکے حملہ کردیا۔ مگر جزیرہ ان کی پہنچ سے دور تھا اور منجیقوں کے ذریعے پھینکے گئے بھاری پتھر پانی میں گرتے رہے اور تیمور ملک کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔
تاتاریوں کی انوکھی ترکیب
بناکت کی فتح کے بعد جوجی خان سمجھ رہا تھا کہ تمام سرحدی شہر اسی طرح آسانی سے فتح ہوجائیں گے اور چند ہی ہفتوں میں ان سے نمٹ کر وہ خوارزم کے بڑے شہروں پر حملہ آور ہونے والی افواج سے مل جائے گا ۔ مگر تیمور ملک کی اس تدبیر نے اسے قوقند ہی میں روک لیا تھا۔ اب جوجی خان نے اس سے نمٹنے کے لیے ایک انوکھی تدبیر اختیار کی۔ اس نے بناکت سے قیدی بنائے گئے مسلمانوں اور قوقند کے شہریوں کو ساحل اور اطراف کے علاقوں پر موجود بڑے بڑے پتھروں کو جمع کرنے پر مامور کردیا۔ پھر ان پتھروں کو تاتاریوں نے دریا میں پھینکنا شروع کردیا۔ اس طرح آہستہ آہستہ دریا کے بیج میں سے ایک راستہ نمودار ہونا شروع ہوگیا۔ عقاب کی طرح چوکنا تیمور ملک سمجھ گیا کہ اب چند ہفتوں میں قلعہ تیر اندازوں کی پہنچ میں آجائے گا۔
تیمور ملک کی بکتر بند کشتیاں
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیمور ملک نے اپنے بحری بیڑے میں موجود بارہ مضبوط ترین کشتیاں منتخب کیں اور ان میں لکڑی کی مضبوط چوبی دیواریں بنوا کر نصب کروائیں۔ ان تختوں کے درمیان تیر اندازوں کے لیے سوراخ کروائے اور اپنے ماہر ترین تیر انداز ان کشتیوں میں سوار کروا کر دریا میں راستہ بناتے تاتاری سپاہیوں پر حملہ آور ہوگیا۔ اس طرح سنگی راستہ بناتے تاتاریوں کا کام رُک گیا۔ تیمور ملک کا یہ حربہ بہت کامیاب رہا۔ اس کی بکتر بند کشتیاں ساحل پر موجود تاتاریوں پر حملہ کرتیں، جوابی تیر اندازی چوبی تختوں کی وجہ سے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکتی اور وہ صحیح سلامت واپس آجاتیں۔ اب جوجی خان بڑا پریشان ہوا۔
جوجی خان کا جوابی حملہ
خوارزم پر حملہ آور ہونے سے قبل چنگیز خان چین کی سلطنت کو فتح کرچکا تھا۔ اس فتح میں اس کے ہاتھ چینی افواج کے آتشیں اور باروری اسلحہ بنانے کے ماہر لگ گئے تھے، تاتاری ان ماہرین کو بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ جوجی خان نے اب تیمور ملک کی بکتر بند کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے ان سے کام لینے کا فیصلہ کیا۔ چینی ماہرین نے ہانڈیوں میں بارور بھر کے منجیقوں کے ذریعے تیمور ملک کی کشتیوں پر برسانا شروع کردیا۔ اس طرح تیمور ملک کا حملہ رک گیا ۔
بکتر بند کشتیوں کی ساخت میں ترمیم
اس صورتحال پر تیمور ملک نے اپنی بکتر بند کشتیوں کی ساخت میں تبدیلی کی۔ اس نے مٹی اور گارے کا لیپ بنوا کر چوبی دیواروں پر ملوادیا اور مزید یہ کہ لکڑی کے تختوں کی چھت بھی بنوالی اور ان چھتوں پر بھی مٹی کا پلستر کروا کر انہیں آگ سے محفوظ کرلیا۔ اس طرح تیمور ملک کی کشتیاں چینی ماہرین کے آتشیں حملوں سے محفوظ ہو کر دوبارہ تاتاریوں پر کامیاب حملے کرنے لگیں۔
جوجی خان کی روانگی 
جوجی خان کو قوقند کا محاصرہ کئے تین ماہ بیت گئے۔ تیمور ملک کے حملوں سے دریا میں راستہ بنانے کا کام سست روی سے چل رہا تھا اور ان سے تاتاریوں کا سخت نقصان بھی ہورہا تھا۔ اس صورتحال سے تنگ آکر جوجی خان نے اس مہم کی ذمہ داری اپنے نائب سردار کو سونپ دی اور خود دریا کے بہاؤ کی سمت ایک لشکر لے کر روانہ ہوگیا۔
تیمور ملک کا قلعے کو چھوڑ کر چلے جانا
تین ماہ کے محاصرے کے دوران اگر چہ تیمور ملک نے تاتاریوں کا جم کر مقابلہ کیا تھا اور انہیں سخت جانی نقصان پہنچایا تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے سپاہی بھی شہید ہوتے گئے تھے۔ ایک ہزار کی مختصر سی سپاہ میں سے بڑی تعداد ختم ہوگئی تھی ۔ دوسرا یہ کہ اس کے گمان کے مطابق اس نے تین ماہ تک جوجی خان کو مصروف رکھ کر اپنا فرض ادا کردیا تھا کیونکہ اسے علاؤالدین خوارزم شاہ کی طرف سے یہی ہدایت ملی تھی کہ سرحدی قلعدار زیادہ سے زیادہ وقت تک تاتاریوں کو مصروف رکھیں تاکہ اسے مرکزی لشکر منظم کرنے کا زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے۔ وہ الگ بات ہے کہ پہلے ہی معرکے کے بعد کہیں بھی علاؤالدین نے ٹھہرکر تاتاریوں کا مقابلہ نہیں کیا۔
بہر حال تیمور ملک نے جب یہ دیکھا کہ ہر ممکن کوشش کے باوجود دریا میں بنتا راستہ جزیرے کے قریب آتا جارہا ہے، قلعہ کا سامان خوردنوش بھی کم ہوتا جارہا ہے اور قلیل سپاہ کے ساتھ مزید مقابلہ کرنا خود کشی کے سوا کچھ نہیں ۔ چنانچہ کسی بھی قسم کی کمک سے مایوس ہو کر اس نے جزیرے سے انخلاء کا فیصلہ کرلیا۔
رات کی تاریکی میں تیمور ملک نے اپنی مٹھی بھر سپاہ کے ساتھ ستر کے قریب کشتیوں میں سوار ہو کر قلعے سے کوچ کرتے ہوئے دریا کے بہاؤ کی سمت سفر شروع کردیا۔ تاتاری پہرے دار چوکنا تھے انہیں معلوم ہوگیا اور فوراً ایک گھڑ سوار دستہ دریا کے ساتھ ساتھ روانہ ہوگیا۔
جلد ہی تیمور ملک کی بحری بیڑے تک تاتاری پہنچ گئے اور ساحل سے تیر اندازی شروع کردی۔ تیمور ملک تیار تھا اس نے لکڑی کے تختے نصب ہوئی کشتیاں ساحل کی طرف کردیں اور تاتاریوں پر جوابی تیر اندازی شروع کردی۔
ادھر آگے بناکت کا ساحل قریب تھا اور وہاں پہلے ہی تاتاریوں کا قبضہ تھا۔ بناکت کے مقام پر تاتاریوں کو تیمور ملک کے بحری بیڑے کی اطلاع مل چکی تھی اور اسے روکنے کے لیے انہوں نے دریا کے بیچ آہنی زنجیر نصب کی ہوئی تھی۔ اس مقام پر پہنچ کر تیمور ملک نے اس زنجیر کو توڑدیا اور آگے بڑھ گیا۔ آگے جند کا ساحلی شہر تھا اور یہاں جوجی خان کا لشکر مقیم تھا۔ جند کے مقام پر جوجی خان نے تیمور ملک کو روکنے کے لیے دریا میں کشتیوں کا پُل بنا کر ماہر تیر انداز بٹھادئے اور ساحل پر منجیقیں نصب کرواکراس مرد میدان کا انتظار کرنے لگا۔ جوجی خان کو قوقند میں تیمور ملک کے ہاتھوں سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب وہ حساب چکتا کرنا چاہتا تھا۔ مگر تیمور ملک کو اللہ نے کمال زکاوت بخشی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ جوجی خان یقیناًراستے میں جال بچھائے بیٹھا ہوگا۔ چنانچہ دریا میں مناسب ساحل دیکھ کر رات کی تاریکی میں وہ اپنے ساتھیوں سمیت ساحل پر اتر گیا۔ جب تک تاتاریوں کو علم ہوتا وہ ان کی پہنچ سے دور نکل چکا تھا۔
قربانی کا لازوال مظاہرہ
اب صورتحال اس طرح تھی کہ تیمور ملک اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ آگے آگے تھا اور تاتاری گھڑ سوار دستہ ان کے تعاقب میں سرپٹ دوڑا چلا آرہا تھا ۔ جوجی خان کی ہدایت تھی کہ تیمور ملک کو ہر صورت زندہ یا مردہ پکڑ کے لایا جائے۔ ایسے موقع پر عموماً سالار اپنی جان بچا کر راہ فرار اختیار کرتا ہے اور سپاہیوں کو دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا کرتا ہے ۔ مگر تیمور ملک نے اپنے ساتھیوں کی بقا کے لیے قربانی دینے کا فیصلہ کیا اور راستے میں رک کر تاتاریوں کا مقابلہ کرتا رہا تاکہ اس کے ساتھیوں کو نکلنے کاموقع مل سکے۔ ایسی مثال ہمیں تاریخ میں بہت کم ملتی ہے ۔ تیمور ملک اپنے چند جانثاروں کے ساتھ راستے میں رک کر تاتاریوں کا مقابلہ کرتا اور انہیں مصروف رکھتا کہ اس دوران اس کے سپاہی دور نکل جاتے۔ یہ سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا ۔ یہاں تک کہ اس کی تمام سپاہ فرار ہوگئی یا تاتاریوں کے ہاتھوں شہید اور تیمور ملک تنہا رہ گیا۔ اس کے تعاقب میں تین تاتاری سپاہی تھے اور اس کے ترکش میں بھی تین تیر ہی باقی بچے تھے۔
تیمور ملک نے ایسا تاک کر نشانہ لگایا کہ ایک تیر حملہ آور تاتاری کی آنکھ میں پیوست ہوگیا۔ اب تیمور ملک نے چلا کر کہا،
’’تمہاری تعداد کے مطابق دو تیر میرے ترکش میں موجود ہیں اور انہیں ضائع کرتے ہوئے مجھے افسوس ہوگا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ تم دونوں لوٹ جاؤ۔ ‘‘
دونوں تاتاری تیمور ملک کی ہیبت سے پہلے ہی خوفزدہ تھے یہ سن کر وہ اور ڈر گئے اور خاموشی سے پلٹ گئے ۔ تیمور ملک کی بہادری کا یہ واقعہ ’’روضتہ الصفاء‘‘اور الجوینی کی ’’جہاں گشائی‘‘دونوں میں تفصیلاً منقول ہے۔
تیمور ملک اور جلال الدین کا ساتھ
قوقند کے اس معرکے میں تیمور ملک نے جس دلیری سے تاتاریوں کا مقابلہ کیا تھا اس کا شہرہ پورے خوارزم میں پھیل گیا تھا۔ تاتاریوں کے قابل تسخیر ہونے کا تصور تیمور ملک کی بہادری سے متاثر ہوگیا تھا۔ اگر چہ وہ شہر کا دفاع نہ کرسکاتھا مگر صرف ایک ہزار کی سپاہ کے ساتھ تاتاریوں کا تین ماہ تک مقابلہ کرنا اور زندہ سلامت بچ نکلنا ہی بہت تھا۔ آخر کار یہ مرد جری اپنے بادشاہ علاؤالدین خوارزم شاہ کے پاس پہنچ گیا۔مگر جلد ہی اسے اندازہ ہوگیا کہ علاؤالدین ذہنی طور پر شکست کھا چکا ہے اور کہیں بھی رُک کر چنگیز خان کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس شہزادہ جلال الدین تاتاریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لشکر منظم کر رہا ہے اور خوارزم میں صرف وہ ہی اس کام کا اہل ہے۔ چنانچہ تیمور ملک جلال الدین کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور جلال الدین نے اس کی بڑی آؤ بھگت کی ۔جلال الدین بہادروں کا قدردان تھا اور جلد ہی تیمور ملک جلال الدین کے قریبی امراء میں شامل ہوگیا۔ تیمور ملک اور جلال الدین کا ساتھ آخر تک برقرار رہا اور تاتاریوں کے خلاف جلال الدین کی مزاحمت میں تیمور ملک اس کے ساتھ شریک رہا۔ آج بھی تاجک قوم کے لوگ تیمور ملک کی دلیری پر فخر کرتے ہیں۔ شنید ہے کہ نامور فاتح امیر تیمور لنگ جو منگول قبائل سے تعلق رکھتا تھا اس کا نام تیمور ملک کے نام پر ہی رکھا گیا تھا۔
ملک ترکان خاتون
تیمور ملک جیسے بہادر اور نڈر سالار کے بعد سلطنت خوارزم کی ملکہ ترکان خاتون کا تذکرہ اپنے اندر ایک داستان عبرت لیے ہوئے ہے، ملکہ ترکان خاتون علاؤالدین خوارزم شاہ کی والدہ اور سلطان تکش کی ملکہ تھی۔
خوارزم کی سلطنت کی وسعت میں سلطان تکش کی سالوں کی فتوحات شامل تھیں اور ان فتوحات میں سلطان تکش کی ملکہ کا بڑا نمایاں کردار تھا۔ سلطان تکش نے ترکوں کے مشہور جنگجو فیصلے قیچاق کے سردار کی بیٹی سے نکاح کیا تھا۔اس طرح قیچاقی ترکوں کی مدد سے سلطان تکش کو غیر معمولی وسیع سلطنت حاصل ہوگئی۔ ان ترکوں کی وجہ سے ترکان خاتون کو بھی بطور ملکہ سلطنت میں بے پناہ طاقت اور اثروسوخ حاصل ہوگیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ترکان خاتون نے سلطان تکش کی طرح باقاعدہ دارالحکومت میں اپنا دربار لگانا شروع کردیا جس میں اس کے اپنے امراء اور عمائدین شامل تھے۔ ملکہ کے دربار سے شاہی فرامین کی طرز پر باقاعدہ فرمان جاری کئے جاتے تھے۔ اکثر اوقات سلطان تکش اور ملکہ ترکان خاتون کے احکامات میں تضاد آجاتاتو حکام شش و پنج میں مبتلا ہوجاتے کہ کس کے احکامات پر عمل کریں ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے یہ طریقہ وضع کیا گیاکہ بعد میں بھی آنے والے فرمان پر عمل کیا جائے گا۔
سلطان تکش کی وفات کے بعد سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ کے دورِ حکومت میں ملکہ ترکان خاتون کا عمل دخل سلطنت میں اور بڑھ گیا۔ ایسا لگنے لگا کہ دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں ۔ علاؤالدین خوارزم شاہ جب بھی اپنی والدہ کا اثرو سورخ کم کرنے کی کوشش کرتا قبچاقی امراء اس کے سامنے آکھڑے ہوتے۔
حاکم اترار ینال خان جس نے چنگیز خان کے قافلے کو لوٹ کر اس قضیے کی بنیاد ڈالی تھی وہ انہی قبچاقی امراء میں سے تھا اور ملکہ ترکان خاتون کا رشتہ دار بھی تھا۔ اسی وجہ سے علاؤالدین اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرسکا۔ اگر چنگیز خان کی شکایت پر ینال خان کے خلاف کاروائی کرلی جائے تو بظاہر اس تباہی سے بچا جاسکتا تھا۔ مگر ترکان خاتون کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔
ترکان خاتون کے دباؤ پر ہی علاؤالدین خوارزم شاہ نے اپنے بڑے بیٹے جلال الدین کے بجائے قطب الدین کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ کیونکہ قطب الدین کی ماں کا تعلق قبچاقی قبیلے سے تھا اور وہ ترکان خاتون کی عزیز بھی تھی جبکہ جلال الدین کی والدہ ہندوستانی نژا د تھی۔ اسی وجہ سے ملکہ ترکان خاتون کا تمام عمر جلال الدین سے اختلاف رہا اور وہ ہر وقت جلال الدین کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی۔ وہ جلال الدین کو حقارت سے ہندوستانی بہو کا بیٹا کہتی تھی۔
چنگیز خان کی یلغار کے دوران ایک وقت ایسا آیا کہ تمام اختلافات بھلا کر قبچاقی جنگجو علاؤالدین خوارزم شاہ کے جھنڈے تلے تاتاریوں سے لڑنے لگے۔ مگر چنگیز خان نے ایک سازش کے ذریعے اس تعلق کو دوری میں تبدیل کردیا۔ تفصیل اس واقعے کی کچھ اس طرح ہے کہ طبرستان کے حاکم بدرالدین عمید کے باپ اور چچا کو خوارز م شاہ نے کسی بات پر قتل کروادیا تھا اور بدرالدین اس بات پر دل میں بغض لیے بیٹھا تھا ۔سمر قند پر چنگیز خان کے قبضے کے بعد وہ خفیہ طور پر سمر قند پہنچا اور چنگیز خان کو خوارزم شاہ اور ترکان خاتون کے اختلاف کے بارے میں بتایا ۔ تاتاریوں نے اس اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی سازش کی اور ملکہ ترکان خاتون اور چنگیز خان کے درمیان ایک جعلی خط تیار کروا کر علاؤ الدین شاہ تک پہنچا دیا۔ خوارزم شاہ اس خط کو اصل سمجھ بیٹھا اور قبچاقی سرداروں پر سخت خفاہوا۔ قبچاقی سرداروں نے غصے میں آکر خوارزم شاہ کے خیمے پر رات کی تاریکی میں حملہ کردیا مگر خوارزم شاہ بچ گیا۔اس واقعے کے بعد قبچاقی سردار باقاعدہ طور پر خوارزم شاہ سے باغی ہوکر چنگیز خان سے جا ملے۔
ملکہ ترکان خاتون اور علاؤالدین خوارزم شاہ کے اختلاف کے ضمن میں شیخ مجد الدین کے قتل کا واقعہ بھی بہت مشہور ہے۔ شیخ مجددالدین اور گنج کے ولی کامل شیخ نجم الدین کے کبریٰ کے خلیفہ تھے۔ (شیخ نجم الدین کبریٰ کا ذکر پچھلے مضمون میں تفصیلاً آچکا ہے)شیخ مجد الدین سے ملکہ ترکان خاتون کو خاص عقیدت تھی اور وہ شیخ کی مجالس میں بکثرت جایاکرتی تھی۔اس عقیدت کی بنا پر خوازم شاہ کے امراء نے الزام لگایا کہ ملکہ شیخ مجدالدین سے نکاح کرنے والی ہے۔ اس بات کو سن کر خوارزم شاہ آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے فی الفور شیخ مجدالدین کو دریا میں غرق کرکے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ شاہی فرمان یہ عمل کرتے ہوئے شیخ مجد الدین کو اسی طرح قتل کردیا گیا۔ غصہ ٹھنڈا ہونے پر خوارزم شاہ کو بہت رنج ہوا کہ اس نے جلد بازی سے کام لیا ہے۔ وہ شیخ نجم الدین کبریٰ کی خدمت میں پیش ہوا اور شیخ کے قدموں میں تلوار اور جواہرات رکھ کر کہا،
’’یا تو مجد الدین کے خون بہا میں یہ دولت قبول کرلیں ورنہ اس تلوار سے میرا سر قلم کرکے قصاص وصول کرلیں۔‘‘
شیخ نجم الدین کبریٰ نے فرمایا،
’’مجدالدین کا خون بہا یہ مال و دولت نہیں ہے، اس کا قصاص تو تمہارا سر اور تمہاری پوری سلطنت ہے۔اور اس میں میرا بھی سر قلم ہوگا اور اللہ کے بے شمار بندوں کے سر بھی قلم کئے جائیں گے۔ ‘‘
(حوالہ: روضتہ الصفا، نفحات الانس)
اور وقت نے ثابت کیا کہ یہ بات حرف بہ حرف درست تھی۔ ملکہ ترکان خاتون کی مطلعق العنایت نے سلطنت خوارزم کو بہت نقصان پہنچایا۔ زوالِ خوارزم شاہ کے اسباب میں یہ بھی اہم سبب تھا۔ ملکہ ترکان خاتون کو بر صغیر ہندوستان کی ملکہ نورجہاں کے ہم پلّہ طاقتور شمار کیا جاتا ہے ۔ ان دونوں میں قدر مشترک تھی کہ ان دونوں کے نام کے سکے ڈھالے گئے۔ مگر ترکان خاتون کو علیحدہ دربار رکھنے کے باعث ملکہ نور جہاں پر سبقت حاصل ہے۔
ملکہ نور جہاں کے برعکس ملکہ ترکان خاتون کا انجام بہت دردناک ہوا۔ سقوط اور گنج کے وقت دارالحکومت چھوڑتے وقت ترکان خاتون نے شقاوت اور سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیس کے قریب شاہی خاندان کے افراد کہ جن کے بارے میں اسے شبہ تھا کہ دارالحکومت خالی دیکھ کر تخت پر قبضہ کرسکتے ہیں انہیں قتل کروادیا تھا۔ اور گنج سے فرار ہو کر شاہی خاندان کی مستورات کے ساتھ ترکان خاتون نے ایلان کے قلعے میں پناہ لی۔ یہاں وزیر اعظم نظام الملک محمد بن صالح بھی ترکان خاتون کے ہمراہ تھا۔ شاہی خاندان کی موجودگی کا علم ہوتے ہی تاتاریوں نے ایلان کا محاصرہ کرلیا۔ ایلان کا قلعہ خوارزم کے مضبوط قلعوں میں شمار کیا جاتا تھا اور چار ماہ تک تاتاری اس کی فصیلوں کا محاصرہ کئے رہے مگر کچھ نہ بگاڑ سکے۔
قدرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں اور وہ جب کسی کی بربادی کا فیصلہ کرلے تو ظاہری اسباب اس کی کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ ملکہ ترکان خاتون کے سلسلے میں بھی ایسا ہی کچھ عجیب و غریب سا واقعہ ہوا۔ ایلان کا قلعہ سرسبز اور شاداب علاقے میں تھا اور وہاں بارش کثرت سے ہوتی تھی۔ قلعے کی غیر معمولی مضبوطی اور علاقے کی سرسبزی اور شادابی کی وجہ سے ہی خوارزم شاہ نے شاہی خاندان کے لیے اسے چنا تھا۔ بارش کی فراوانی کی وجہ سے قلعے میں پانی کی کمی اور قحط کا خطرہ بھی کم تھا۔ مگر قلعے کا محاصرہ ہوتے ہی علاقے سے بارش نے جیسے منہ ہی موڑ لیا۔ ایلان کا علاقہ خشک سالی کا شکار ہوگیا۔ چار ماہ کے سخت محاصرے اور مکمل ناکہ بندی کے بعد قلعے میں راشن ختم ہوگیا۔محصورین بھوک پیاس کی شدت سے بیتاب ہوگئے اور آخر کار تھک ہار کر قلعے سے باہر نکل آئے۔ قلعے کا دروازہ کھلنا ہی تھا کہ آسمان سے گرج چمک کے ساتھ پانی برسنا شروع ہوگیا۔ جل تھل ایک ہوگیا اور مورخ لکھتا ہے کہ قلعے کے دروازے سے پانی کا ریلہ باہر نشیب کی طرف بہہ رہا تھا۔
وزیر محمد بن صالح کو تاتاریوں نے مستقبل کی مشاورت کے لیے قید کرلیا اور شاہی خاندان کا قتل عام شروع کردیا۔ ملکہ ترکان خاتون کو قید کرکے چنگیز خان کے پاس بھیج دیا گیا۔ چنگیز خان کے دربار میں ملکہ ترکان خاتون کو ذلت اور رسوائی کے لاتعداد مناظر کا سامنا کرنا پڑا۔ چنگیز خان ملکہ ترکان خاتون کو زنجیریں ڈالے فخریہ انداز میں ساتھ لیے گھومتا تھا اور تاتاریوں کی سالانہ قرولتائی (کانفرنس) میں بھی ملکہ ترکان خاتون کو قیدی کے طور پر فاتحانہ انداز میں لے کر جاتا۔ ملکہ کو بھوک مٹانے کے لیے تاتاریوں کے لنگر سے قطار لگا کر کھانا لینا پڑتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حالت میں بھی اس کی نخوت برقرار تھی۔ اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ ایک خوارزمی جو ملکہ کا خدمت گار تھا اور دوران قید بھی ملکہ کے ساتھ تھا اس نے ایک دن فرارکا منصوبہ بنایا اور ملکہ سے کہا کہ فرار ہو کر نکل چلتے ہیں اور قریب ہی جلال الدین تاتاریوں سے نبرد آزما ہے اس کی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہے۔
مگر ملکہ ترکان خاتون نے جواب دیا کہ جلال الدین کی پناہ میں جانے سے بہتر ہے کہ چنگیز خان کی قید میں رہ لیا جائے ۔ آخر کار اس قید میں بیچارگی کی حالت میں ملکہ ترکان خاتون کا انتقال ہوگیا۔
فَاعْتَبِرُوْ ایَآاُولِی الْاَبْصَارِ
*۔۔۔*۔۔۔*

حصہ
mm
عدیل سلیم ایک منجھے ہوئے قلم کار ہیں،تاریخ اسلام سے انہیں خاص دلچسپی ہیں،تاریخی موضوعات کوعام فہم انداز میں قلم بند کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

6 تبصرے

  1. ماشاءاللہ ہمیشہ کی طرح بہت تفصیل سے لکھا ہے عدیل بھائی نے۔۔۔۔
    حوالہ جات نے تحریر میں مذید جان ڈال دی ہے ۔۔۔

  2. بہت عمدہ مضمون لکھا ھے آپ نے ماشاء اللہ عدیل سلیم صاحب ، سلامت رہیں

  3. پچھلے مضامین کی مانند عدیل جملانہ صاحب نے ایک عمدہ مضموں لکھا ہے امید ہے کہ آئندہ بھی اسی طرح کے تاریخی مضامیں پڑھنے کو ملتے رہیں گے۔

  4. ماشاءاللہ، عدیل سلیم ایک منجھے ہوئے قلم کار کی صورت میں سامنے آئے ہیں اور بہت مختصر وقت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔آپ تاریخ پہ کمال عبور رکھتے ہیں اور دریا کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ انشاءاللہ اسی طرح ہم آپ کے مضامین سے فیضیاب ہوتے رہیں گے۔

  5. تاتاری حملوں پر بہت آسان اور جامع تحریریں ہیں یہ، کچھ چنگیز خان کی اولاد کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بھی لکھیں عدیل بھائی!

جواب چھوڑ دیں