’’شب برأت ،عظیم رات‘‘

برأت کا معنیٰ ہے نجات ،اور شب برأت کا معنیٰ گناہوں سے نجات کی رات۔یہ رات مسلمانوں کے لیے آہ وگریہ وزاری کی رات ہے۔یہ رات شیطانی خواہشات اور نفس سے جہاد کی رات ہے۔یہ رات اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفاروتوبہ کرنے کی رات ہے۔اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہدکیا جاتا ہے ۔اور یہ رات دل میں موجود گناہوں کے زنگ کو ختم کرنے کا موجب ہے۔اللہ پاک کا ارشاد ہے:’’اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں، اس (رات )میں ہر جگہ حکمت والے کا کام (جد اجدا )کر دیا جاتا ہے۔‘‘(الدخان)
نصف شعبان کی رت کے چار نام ہیں ۔لیلۃ المبارکۃ ۔لیلۃ البراۃ۔لیلۃ الصک ۔لیلۃ الرحمہ۔اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بخشش کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔شب برأت اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہے۔یہ رات پانچ خصوصیتوں کی حامل ہے۔ایک ،اس میں ہر کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔دو ،اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے۔تین ،اس میں رحمت کا نزول ہوتا ہے۔چار ،اس میں شفاعت کا اتمام ہوتا ہے ۔پانچ، اس رات میں اللہ تعالیٰ کی یہ عادت کریمہ ہے کہ آب زم زم میں ظاہراََ زیادتی فرماتے ہیں۔امام بغوی ؒ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’شعبا ن سے شعبان تک اموات لکھی جاتی ہیں یہاں تک کہ آدمی نکاح کرتا ہے ،اور اس کے گھر اولاد پید اہوتی ہے،حالانکہ اس کا نام مُردوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔(تفسیر الانکشاف)
امام سیوطی ؒ ’’تفسیر در منثور‘‘ میں لکھتے ہیں کہ خطیب بغدادی اور ابن نجار نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام شعبان کے روزے رکھ کر اس کورمضان سے ملا دیتے تھے ۔اور آپ کسی بھی ماہ کے تمام دنوں کے روزے نہ رکھتے تھے ،سوائے شعبان کے۔میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ ﷺ شعبان کا مہینہ آپ کو بڑا پسند ہے کہ آپ اس کے تمام روزے رکھتے ہیں۔فرمایا ہاں ! اے عائشہؓ کوئی نفس بھی پورے سال میں فوت نہیں ہوتا مگر اس کی اجل شعبان میں لکھ دی جاتی ہے ۔تو میں پسند کرتا ہوں کہ جب میری اجل لکھی جائے تو میں اللہ کی عبادت اور عمل صالح میں مصروف ہوں ۔(تفسیر در منثور)
حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’نصف شعبان کی رات رحمت خداوندی آسمان دنیا پر نازل ہوتی ہے ،پس ہر شخص کو بخش دیا جاتا ہے سوائے مشرک شخص کے یا جس کے دل میں کینہ ہو۔شب برات ہمارے احوال کو بدل دیتی ہے ۔اگر انسان احسن طور پر اس کے لوازما ت پورے کرے تو یہ رات گناہوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اگر اس رات میں اپنے رب کے حضور ندامت اور اشک کے آنسو بہایے جائیں ،نالہ و فریاد کی جایے ،اپنے صغائر وکبائر گناہوں کی معافی کا خواست گار بنا جایے ،پھرتوبد حالی،خوشحالی میں ،اور تنگی آسانی میں بدل جایے گی ۔بنی اسرائیل کے ایک بہت گناہگار آدمی نے صرف توبہ کا ارادہ کیا، ابھی توبہ مکمل بھی نہ کی تھی کہ تقدیر بدل دی گئی۔اگر آج حضور ﷺ کی افضل امت کا ادنیٰ سا سرکش و گناہ گار انسان توبہ کرے تو کیا اس کی تقدیر نہیں بدل سکتی ؟بالخصوص شب برات کا تو افضل مقام ہے ،جہاں حضور ﷺ کے ارشاد گرامی کی رو سے اپنے رب کے سامنے شب وروز کے گناہوں کی معافی مانگنا ،اور آہ زاری کر کے ائندہ کے گناہوں سے بچنے کی سچی توبہ کرنا ہے ۔شب برات ہمیں اس عمل کی دعوت دیتی ہے ،کہ اس رات محاسبہ نفس ،توبہ، تجدید عہد کے ذریعے دنیاوی واخروی فلاح کا ساماں تیار کریں ۔
شب برات کا دوسرے دنوں و راتوں سے موازنہ کیا جایے، تو شب برات دوسرے شب و روز سے بالکل مختلف ہے ۔اسی طرح اگر ہم ہماری روز مرہ زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں احساس کرنا چاہیے،اور عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ یہ رات ہماری زندگی میں کئی دفعہ اپنی تمام تر فضائل وبرکات کے ساتھ آتی ہے۔لیکن ہم اپنے گناہوں کی دلدل میں سرکشی کرتے رہتے ہیں۔دنیاوی زندگی کے گورکھ دھندوں میں برہ طرح پھنسے رہتے ہیں ۔اس رات میں جب کہ اللہ کی طرف آنے اور اس کے سامنے بیٹھ کر اللہ کو منانا چاہیے ،لیکن ہم دنیا کے کاموں میں اس رات کے انعام واکرام کا حق ادا نہیں کرتے۔اس عظیم رات کا حق ہے کہ اس میں اپنے گناہوں کی سیاہی کو مٹا دیا جائے۔اور تقدیر کے لکھے فیصلوں میں اپنا نام نیکو کاروں کے خانے میں لکھوائیں۔بلا شک و شبہ شب برأت ایک عظیم رات ہے۔اور یہ عظیم رات کہیں ہر سال کی طرح اس سال بھی اپنی فیوض وثمرات سے ہمیں محروم نہ کر دے۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں