راہزن۔۔۔ابلیس۔2

ایمان مغازی الشرقاوی
ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ
(۲)
یہ اس دنیا کی زندگی کا سب سے بڑا راہزن ہے؛ بلکہ وہ اس طویل راستے پر راہزنوں کا لیڈر اور انکا رہنما ہے،اس نے اس پر قسم کھائی ہے، اور بار بار کوشش کی ہے، بلکہ وہ اب تک ہر بنی آدم کے لئے اس کی کوشش کر رہا ہے، خواہ انکا کوئی بھی رنگ، شکل، زبان اور طبقہ ہو؛ تاکہ وہ انکے دلوں میں محفوظ ایمان چرا لے، وہ انکی پہلی پیدائش کے دن سے انکی پہلی فطرت چرانے کے لئے کوشاں ہے ۔۔ وہ چاہتا ہے کہ انکی اس فطرت کو مسخ کر ڈالے، تاکہ اسکا وجود تک باقی نہ رہے، یا وہ اسکی جگہ کچھ اور طریقہ اپنا لیں، یاوہ اسے بدل ڈالے، تاکہ وہ اور بنی آدم ایک ساتھ برابر ہو جائیں، وہ انکے بھلائی کے راستے کو کاٹتا ہے، جو سیدھا مالک الملک تک پہنچتا ہے، اس کی کوشش کچھ لوگوں کے ساتھ کامیاب ہو جاتی ہے اور کچھ کے مقابلے میں ناکام، لیکن وہ خود اس سفر کے اختتام پر پریشان حال اور مغلوب ہو گا، اس پر لعنت چسپاں ہو گی، اور وہ کھلے نقصان میں گھرا ہوا ہو گا، کیونکہ اسکے اندر تکبر تھا، اور ٹیڑھ اور گمراہی تھی اور وہ دھوکے باز تھا۔
تو کیا ہم پسند کریں گے کہ یہ ملعون ہمارا راستہ کاٹے، جبکہ ہم دنیا کی اس زندگی میں اﷲ عزوجل کی جانب چل رہے ہوں؟ اور کیا ہم اس راستے پر بلا کسی حفاظت اور بلا اسلحہ نکل کھڑے ہوں گے؟!
وہ جن لوگوں کا اغواء کرتا ہے، اسکی ذمہ داری بھی قبول نہیں کرتا، اور جوابدہی کے احساس سے نکلنا چاہتا ہے، اسکی اس گفتگو کو قرآن نے بھی بیان کیا ہے: (وقال الشیطن لما قضی الامر ان اﷲ وعدکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم وما کان الا ان دعوتکم فاستجبکم لی فلا تلومونی ولوموا انفسکم ما انا بمصرخکم وما انتم بمصرخی انی کفرت بما اشرکتمونی من قبل ان الظالمین لھم عذاب الیم) (ابراہیم، ۲۲) (اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا ’’حقیقت یہ ہے کہ اﷲ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں میں نہ تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھامیں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے۔‘‘ )
اور تمہارا کیا حال ہو گا اے انسان جب تمہارے گھر کے راستے میں تمہیں ایک مکاردشمن مل جائے، اور تمہارے گھر جانے کا ہر راستہ بند کر دے، اور تمہارے لئے انتہائی سرکش اور عنادی اور لڑاکا دشمن بن جائے، اسکی ظاہری اور خفیہ فوج کا اتنا بڑا لشکر ہو کہ شمار بھی نہ ہو سکے، اسکے پاس دل کی تباہی کا ہر نوع اور ہر شکل کا اسلحہ ہو، اسکا لشکر طویل جنگ سے اکتاتا اور گھبراتا بھی نہ ہو، اور مسلسل استعمال کے باوجود اسکا اسلحہ کند نہ ہوتا ہو، اسے آپ سے پہلے موت بھی نہ آئے گی، کہ آپ کو اس سے سکون مل جائے ۔۔ اسکے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی، اور نہ ہی وہ تعریف سے متاثر ہوتا ہے، نہ آپ کرم سے اسے مسحور کر سکتے ہیں، نہ باتوں سے نرم کر سکتے ہیں، نہ ملامت سے اسے جھکا سکتے ہیں، نہ صلح پر مجبور کر سکتے ہیں ۔۔ کیا آپ کسی کشمکش کے بغیر ہی اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے، یا بڑے چوکنا ہو کر اسکی بات سنیں گے؟؟
اور کیا ہو گا اگر اس نے آپ کو آپکے گھر ہی میں داخل ہونے سے روک دیا، اور آپ کو اس سے روکنے کے لئے مکمل اصرار کیا، ایسے میں کیا آپ کے لئے مناسب نہ ہو گا کہ بادشاہوں کے بادشاہ سے مدد حاصل کر لیں، اور اس پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے اسکی پناہ میں آجائیں، پھر پوری قوت اور پورا زور لگا دیں اور طویل کشمکش کے بعد آخر کار اپنے گھر میں داخل ہو جائیں، خواہ اس کو روکنے میں کتنی ہی مشقت اور محنت کیوں نہ لگانی پڑے، آپ نے صبر بھی کیا اور جمے بھی رہے، جہدِ مسلسل جاری رکھی، آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ پیدا ہوئی، آپ نے اپنے جہاد پر پوری توجہ مرکوز رکھی، حتی کہ آپ نے اپنی مراد پا لی۔
اور اس ساری قوت کے باوجود، آپ جب تک مومن ہیں وہ آپ کے سامنے کمزور ہے، جب تک آپ مجاہدہ کرتے رہتے ہیں وہ آپ سے ڈرتا رہتا ہے، اور جب تک اس جنگ میں آپ اﷲ سے مدد حاصل کرتے رہتے ہیں وہ شکست خوردہ رہتا ہے، کیونکہ اس نے اس بادشاہِ عظیم کی نافرمانی کی ہے، اور اس قوی اور غالب عزوجل کے اطاعت سے فاسقانہ انداز میں نکل گیا ہے۔
اسکی چالیں کمزور ہیں:
اے انسان تو اس سے لڑائی میں متردد مت ہونا، اسکے سامنے تن کر کھڑا ہو جا، اور اسکی طاقت سے خوفزدہ نہ ہونا، وہ جتنی مرضی طاقت حاصل کر لے، حقیقت میں وہ کمزور ہی رہے گا، جتنا مرضی بلند ہو جائے، نامراد ہی رہے گا، اور کامیاب بھی ہو جائے تو شکست خوردہ ہی رہے گا ۔۔ کیونکہ یہ قوت اسکے مقرب دوستوں کی طرف نہیں پلٹتی، جو اسکی سچی بادشاہت سے نکل گئے ہیں، اور اسکے حکم سے باہر ہیں، اس دشمن کی حکمرانی تو صرف ان دلوں پر ہے، جن کو وہ دھوکہ دیتا ہے، اور وہ اسے اﷲ کو چھوڑ کر اپنا ولی بنا لیتے ہیں، اور اسکے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ انکے لئے خائن ہی ہے، اگرچہ وہ ان پر اپنی خیرخواہی اور ذہانت ثابت کرتا رہتا ہے، اور جب بھی اپنی محبت اور دوستی کا اظہار کرتا ہے تو فراڈ ہی کرتا ہے، کیونکہ اسکی قوت بھی دھوکہ ہے، اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اور اسکے اولیاء اور دوستوں پر جب بھی اس کی قلعی کھلتی ہے وہ جان لیتے ہیں کہ وہ ان کے حق میں کتنی خیانت کرتا رہا، تو وہ اس سے دور ہٹ جاتے ہیں، وہ نہ اسکے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور نہ اسکی نصیحت قبول کرتے ہیں، وہ اسی لمحے رشد اور صواب کی جانب پلٹ جاتے ہیں، اور اپنا معاملہ اپنے آقا اور اپنی زندگیوں کے مالک سے درست کر لیتے ہیں، جو انکا حقیقی مالک اور رب ذو الجلال والاکرام ہے؛ تاکہ وہ اسکی حفاظت میں عزت اور امن کی زندگی بسر کریں۔
اس دشمن کی قوت اس لحاظ سے بھی کمزور ہے کیونکہ انسانوں ہی کی ایک صنف قلبی طور پر اس سے زیادہ قوی ہے، وہ اس سے بڑے جنگجو ہیں، اسکے چالیں ان پر اثر نہیں کرتیں، وہ نہ اسکی ترغیبات سے متاثر ہوتے ہیں نہ اسکی مکاریوں کے جال میں پھنستے ہیں، بلکہ اسکی مکاریوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں، اور اسکی چالوں کا بھید کھول دیتے ہیں، اور اسکی ٹیڑھ کا اظہار کر دیتے ہیں، اور دوسرے لوگوں کے سامنے اسکے جھوٹ اور مکر کا پول کھول دیتے ہیں۔
اﷲ تعالی نے ہمیں شیطان مردود سے بچنے کی تعلیم دی ہے، اور قرآن پاک میں کئی جگہ اسکا ذکر اسکی تعظیم کے لئے نہیں کیا، بلکہ اس سے چوکنا کرنے کے لئے کیا ہے، پس ابلیس کا ذکر (۱۱) گیارہ مقامات پر کیا گیا، اور شیطان (واحد) کا ذکر (۶۳) تریسٹھ مرتبہ کیا، اور شیاطین (جمع) کا ذکر (۱۳) تیرہ مرتبہ کیا ۔۔ اور یہ انسان اور اسکے اس دشمن کے تعلقات کی اہمیت کی دلیل ہے ، جو انسان کی پیدائش سے لیکر اسکی زندگی کے آخری لمحے یعنی موت تک مسلسل اس سے دشمنی کرتا ہے، اور اسے اﷲ کے راستے سے روکنے کے لئے سرگرم رہتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: بنی آدم کا جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اسکی پیدائش کے ساتھ ہی شیطان اسے چھو لیتا ہے، پس وہ شیطان کے چھونے سے چلانے لگتا ہے، سوائے مریم اور انکے بیٹے کے‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے)۔ اور مزید فرمایا: ’’شیطان کہتا ہے: اے رب تیری عزت کی قسم، میں تیرے بندوں کو اسوقت تک گمراہ کرتا رہوں گا، جب تک انکے جسموں میں روحیں موجود ہیں ۔۔ ‘‘۔(اسے احمد نے روایت کیا، اور سیوطی نے اسے درست کیا)۔ اور حسن بصری سے سوال کیا گیا: کیا ابلیس سوتا بھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر سوتا تو ہمیں راحت مل جاتی۔
ہمارے اور شیطان کے درمیان معرکے کی ابتدا اسوقت ہوئی جب ہمارے باپ آدم ؑ کو تخلیق کیا گیا، اور ابلیس نے ان سے جنگ کا اعلان کیا، اور اسے فیصلے کے دن تک بلا توقف ہرقیمت پر مستقل جاری رکھنے پر اصرار کیا، اور اسے ذرا حیا نہ آئی جب اس نے اپنے عزوجل رب کی نافرمانی کی، اور انکار اور تکبر کیا، اور اسکے حکم سے روگردانی کی ۔۔ وہیں اﷲ نے اپنے بندے آدم کو اس دشمن سے چوکنا کر دیا تھا، اور اس سے فرمایا تھا: (فقلنا یا آدم ان ھذا عدو لک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی) (طہ، ۱۱۷) (ہم نے آدم سے کہا کہ ’’دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔)
لیکن یہ دشمن دھوکے، بددیانتی، جھوٹ اور غلط بیانی سے لیس ہو کر آدم کے سامنے آیا، اور ان سے مکاری کی، حتی کہ انہیں اور انکی بیوی کو جنت سے نکلوا دیا، اور انکے ساتھ ہی نیچے اترا، اور اولادِ آدم کے ساتھ اس کا قبیح کردار شروع ہو گیا، تاکہ قیمت کی گھڑی کے آنے تک انکو تختہء مشق بناتا رہے، وہ مسلسل اپنے مشن پر رہتا ہے اگرچہ اسکے اغوا اور دھوکے کے انداز بدلتے رہتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکی ابتلاء اور امتحان کے طریقے بدل گئے ہیں ۔۔ پس ہمیں ایمان کی حقیقی زرہ پہن لینی چاہیے، اور اطاعت کو بھی دوگنا کر دینا چاہیے، اور دائمی عبادات سے قوت حاصل کرنی چاہیے تاکہ اﷲشروع میں ہی اسکی چال کو اسی پر لوٹا دے، اور اسکا راستہ بند ہو جائے۔
اقدامات اور مراتب:
شیطان انسان کے پیچھے پڑا رہتا ہے، اور اسوقت تک سائے کی طرح اس کا تعاقب کرتا رہتا ہے جب تک وہ اسکی پارٹی میں شامل نہ ہو جائے، اور اسکا طریقہ بڑا آسان ہے، وہ ایک ایک قدم آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، حتی کہ اسکا ہدف پورا ہو جائے۔ اس کو امام غزالی اس طرح بیان کرتے ہیں: ’’شیطان ابنِ آدم کے پاس اسکے گناہوں کی جانب سے آتا ہے، پھر اگر وہ رک جائے تو وہ خیرخواہی کی جانب سے اس کے پاس آتا ہے، اور اسے بدعت میں ڈال دیتا ہے، اگر وہ اس سے بھی انکار کردے تو وہ اسے رکنے کا حکم دے دیتا ہے تاکہ وہ پوری شدت سے ان چیزوں کو حرام بنا لے جو حرام نہیں ہیں، اگر وہ اس سے بھی انکار کر دے تو وہ اسے اسکے وضو اور نماز میں شک میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ وہ علم سے نکل جائے، اگر وہ اس سے بھی انکار کر دے تو وہ اسکے لئے نیکیاں کرنا آسان کر دیتا ہے تاکہ لوگ اسے دیکھیں کہ وہ کتنا صابر اور بچنے والا ہے، پس وہ بھی لوگوں کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے، اور اسے خود بھی (اپنے یہ اعمال) اچھے لگتے ہیں، اور وہ انہیں کے ذریعے اسے ہلاک کر دیتا ہے‘‘۔
اور شیطان مختلف مراتب میں ایک کے بعد دوسرا وار کر کے (انسانوں کا) اغوا کرتا ہے، اگر انسان اسے کسی ایک میں عاجز کر دے تو وہ اس سے نچلے پر آجاتا ہے، اور ابنِ القیم ۔ رحمہ اﷲ ۔نے اسے چھ مراتب میں تقسیم کیا ہے:
پہلا : کفر اور شرک اور اﷲ اور اسکے رسول کی برابری۔
دوسرا: بدعت، اور یہ اسے فسق اور معاصی سے بھی زیادہ پسند ہے؛ کیونکہ اسکا دین کو ایسا ہی نقصان ہے جیسا کسی چھوتی مرض سے ہوتا ہے۔
تیسرا: ہر طرح کے کبائر۔
چوتھا: صغیرہ گناہ جو اگر جمع ہو جائیں تو انکا ارتکاب کرنے والا ہلاکت میں پڑ سکتا ہے۔
پانچواں: بندے کا ایسے مباح کاموں میں مشغول رہنا جن میں نہ کوئی سزا ہے نہ جزا، بلکہ انجام کار ثواب کا ضیاع ہے جو وہ کسی اور کام میں مشغول ہو کر حاصل کر سکتا تھا۔
چھٹا: یہ کہ اسے بڑے درجے کی نیکی سے ہٹا کر کم فضیلت کی نیکی میں لگا دے۔
اور اگر وہ انسان کو ان چھ مراتب میں بھٹکانے سے عاجز آجائے تو وہ اس پر جن و انس کے شیطانی گروہ مسلط کر دیتا ہے، جو اسے مختلف اذیت میں مبتلا کرتے ہیں، اور اسکی تکفیر اور تضلیل کرتے ہیں۔
اﷲ تعالی نے ہمیں ان سب سے ڈرایا ہے، پس فرمایا: (یا ایھا الذین آمنوا لا تتبعوا خطوات الشیطان فانہ یامر بالفحشاء والمنکر ولو لا فضل اﷲ علیکم ورحمتہ ما زکی منکم من احد ابداً ولکن اﷲ یزکی من یشاء واﷲ سمیع علیم) (النور، ۲۱) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، اسکی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ اگر اﷲ کا فضل اور اسکا رحم وکرم نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہو سکتا، مگر اﷲ ہی جسے چاہتا ہے، پاک کر دیتا ہے اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔)
اور اﷲ کی ہر نافرمانی شیطان کی پیروی سے عبارت ہے، جو وہ شہوات اور شبہات سے بھرے راستے پر قدم اٹھاتا ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے، اور یہ اسکے اقدامات کی طرح متنوع اور کثرت سے ہیں، ان میں بعض یہ ہیں:
نافرمانوں کی نگاہوں میں باطل کو مزین بنا کر پیش کرنا: وہ اﷲ عزوجل سے کہتاہے: (قال رب بما اغویتنی لازینن لھم فی الارض ولاغوینھم اجمعین) (الحجر، ۳۹) (بولا ’’میرے رب جیسا تو نے مجھے بہکایااسی طرح اب میں زمین میں انکے لئے دل فریبیاں پیدا کر کے ان سب کو بہکا دوں گا)۔ یعنی پہلے (برے اعمال کو) زینت دینا، پھر اغواء۔
بچاؤ کے منصوبے:
حدیثِ قدسی میں آیا ہے: ’’۔۔ اور میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو پیدا کیا تھا، شیاطین انکے پاس آتے ہیں اور انہیں انکے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیتے ہیں، اور جو میں نے انکے لئے حلال کیا ہے اسے حرام ٹھہرا دیتے ہیں، اور انہیں حکم دیتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ ان کو شریک ٹھہرائیں، جن کے بارے میں میں نے کوئی سند نازل نہیں کی‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔
جب آپ کو معلوم ہو گیا کہ شیطان آپ کا اولین دشمن ہے، جب سے آپ کے باپ آدم کی تخلیق ہوئی، اور وہ عمل کرنے والے انسانوں کا راہزنی کا لیڈر ہے، تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ اسکے مقابلے سے فرار مت حاصل کریں، آپ پر لازم ہے کہ آپ اسکے منصوبوں سے آگاہ ہوں، تاکہ اسکے منصوبے چوپٹ کر سکیں، اور اسکے داخل ہونے کے دروازوں سے آگاہ ہوں تاکہ وہ آپ کے دل کی دیوار میں شگاف نہ ڈال سکے، اور نہ آپ کی روح کی دیوار کو پاٹ سکے، اس لئے بندگی کا پہلے سے علم ہونا چاہیے، اور اس پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
پھر جب آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کے راستے میں کھڑا ہو کر آپکا راستہ کاٹے گا، اور جہالت کے دروازے سے آپ تک پہنچے گا تو آپ بلا تردد اسے علم کے دروازے سے بند کر دیں، اور تمام راہگزر پر آپ اسی طرح اسکے لئے ایک ایک دروازہ بند کرتے چلے جائیں، تو اسکے لئے تمام داخلی دروازے بند ہو جائیں گے، اور آپ ان سے اس کے برعکس چیزوں کا دفاع کریں گے؛ پس آپ غصّے کام دفاع تحمل اور اسکے اسباب سے کیجئے، او رتکبر کا دفاع عاجزی اور کندھے جھکا کر کیجئے، اور حبِ دنیا کا زہد، قناعت سے، لمبی آرزؤوں کا موت کی یاد سے، حرص کا عطا اور بخشش سے، بخل کا انفاق اور کرم سے، ریا کا اخلاص سے، جزع اور بے صبری کا صبر سے اور اسی طرح دوسرے تمام احوال کا دفاع انکے برعکس سے کیجئے ۔۔ اور یہ کام آپ سے شدید حفاظت، مکمل بیداری اور اﷲ سے استعانت کا مطالبہ کرتے ہیں: (وقل رب اعوذبک من ھمزات الشیاطین ۰ واعوذبک رب ان یحضرون ۰)(المومنون، ۹۷۔۹۸)(اور دعا کرو ’’پروردگار میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بلکہ اے میرے رب، میں تو اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں‘‘)
قرآنِ کریم کی تنبیہات:
قرآن کریم میں شیطان کے کئی اخلاق اور اعمال کا ذکر ہے، جیسا کہ فرمایا:
۔کبر، حسد، خوش پسندی اور جھوٹ ۔۔
(قال انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین) (ص،۶ ۷) (اس نے کہا، ’’میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے‘‘)
(یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطان الا غروراً) (النساء، ۱۲۰) (وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے، اور انہیں امیدیں دلاتا ہے، مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے کچھ نہیں ہیں۔)
۔ انسان دشمنی اور اسکی گمراہی ۔۔
(ان الشیطان لکم عدو مبین) (یوسف، ۵) (حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔)
(ویرید الشیطان ان یضلھم ضلالا بعیداً) (النساء، ۶۰) (شیطان انہیں بھٹکا کر راہِ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے۔۔)
۔خوف دلانا اور معصیت کا حکم دینا ۔۔
(انما ذلکم الشیطان یخوف اولیاء ہ فلا تخافوھم وخافون ان کنتم مومنین) (آل عمران، ۱۷۵) (اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ وہ دراصل شیطان تھا، جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرا زہا تھا، لہذا تم آئندہ سے انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحبِ ایمان ہو۔)
(الشیطان یعدکم الفقر ویامرکم بالفحشاء واﷲ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلاً واﷲ واسع علیم) (البقرۃ، ۲۶۸) (شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے، اور شرمناک طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اﷲ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امیددلاتا ہے۔)
۔ دشمنی بھڑکانا ۔۔
(وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن ان الشیطان کان للانسان عدواً مبیناً) (الاسراء، ۵۳) (اور اے نبیؐ ؐ، میرے بندوں یعنی مومن بندوں سے کہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو، دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوو شش کرتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔)
۔ ستر پر حملہ ۔۔
(یا بنی آدم لا یفتننکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ ینزع عنھما لباسھما لیریھما سوء اتھما) (الاعراف، ۲۷) (اے اولادِ آدم، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اس طرح قتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور انکے لباس ان پر سے اتروا دیے تھے تاکہ انکی شرم گاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے۔)
۔ اﷲ کی تخلیق میں تغییر کا حکم ۔۔
(ولاضلنھم ولامنینھم ولآمرنھم فلیبتکن آذان الانعام ولآمرنھم فلیغیرن خلق اﷲ ومن یتخذ الشیطان ولیاً من دون اﷲ فقد خسر خسراناً مبیناً) (النساء، ۱۱۹) (میں انہیں بہکاؤں گا، میں انہیں آرزؤوں میں الجھاؤں گا، میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے، اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں رد وبدل کریں گے، ’’اس شیطان کو جس نے اﷲ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا۔)
۔ اﷲ کے ذکر سے روکنا ۔۔
(انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اﷲ وعن الصلاۃ فھل انتم منتہون) (المائدہ، ۹۱) (شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے، اور تمہیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے، پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟)
نبی اکرم ﷺ کی تحذیرات:
’’شیطان ابنِ آدم (کے جسم) میں خون کی طرح گردش کرتا ہے‘‘ (متفق علیہ)۔ ’’غصّہ شیطان سے ہے‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا، اور سیوطی نے اسے حسن قرار دیا)۔ ’’بے شک شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ کہ نمازی اسکی بندگی کریں، لیکن انہیں ایک دوسرے کے خلاف لڑانے سے (مایوس نہیں ہوا)‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا)۔ ’’شیطان ابنِ آدم سے مستعار لیتا ہے، اور بادشاہت سے مستعار لیتا ہے، پس شیطان جو کچھ مستعار لیتا ہے، اس کے ذریعے شر سے دھمکاتا ہے، اور حق کی تکذیب کرتا ہے‘‘ (ترمذی نے اسے روایت کیا، اور سیوطی نے اسے صحیح قرار دیا)۔ ’’شیطان ایک اور دو کو قلق میں مبتلا کرتا ہے، اور جب وہ تین ہوں تو انہیں قلق میں مبتلا نہیں کر سکتا‘‘ (اسے براز نے روایت کیا، اور سیوطی نے صحیح قرار دیا)۔ ’’شیطان انسان کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے، وہ دور رہنے والی اور کنارہ اختیار کرنے والی بھیڑ کا شکار کر لیتا ہے، پس بچو اور گروہ میں رہو، اور تم پر لازم ہے جماعت اختیار کرنا، عام لوگوں میں رہنا اور مسجد (میں جانا)‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا، اور سیوطی نے اسے حسن قرار دیا)۔’’شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس ہر چیز کے وقت موجود ہوتا ہے، حتی کہ وہ اسکے کھانے کے وقت بھی اسکے پاس ہوتا ہے‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے)۔ ’’شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز میں موجود ہوتا ہے، تو وہ اسے شک میں ڈال دیتا ہے، حتی کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی (رکعتیں) پڑھی ہیں‘‘ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے، اور سیوطی نے اسے حسن قرار دیا ہے)۔
شیطان سے بچاؤ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’کہو: اللھم فاطر السموات والارض، عالم الغیب والشھادۃ، رب کل شیء وملیکہ، اشھد ان لا الہ الاانت، اعوذبک من شر نفسی، ومن شر الشیطان، وشرکہ، قلھا اذا اصبحت، واذا امسیت، واذا اخذت مضجعک‘‘ (احمد نے اسے روایت کیا، اور سیوطی نے اسے صحیح قرار دیا)۔(اے اﷲ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور موجود کے جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور شیطان کے شر سے، اور اسکے شریکوں کے، اسے پڑھو صبح کے وقت اور شام کے وقت، اور اسوقت جب تم اپنے بستر پر لیٹو)۔
اور فرمایا: ’’جس نے کہا: لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیر فی یوم مءۃ مرۃ ، کانت لہ عدل عشر رقاب، وکتبت لہ مءۃ حسنۃ، ومحیت عنہ ماءۃ سیءۃ، وکانت لہ حرزاً من الشیطان یومہ ذلک حتی یمسی، ولم یأت احد بافضل مما جاء بہ الا رجل عمل اکثر منہ‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا)۔ (اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے، اور حمد اسی کے لئے ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، جس نے یہ ایک دن میں سو مرتبہ پڑھا ، اسے دس گردنیں چھڑانے کے برابر اجر ملے گا، اور اسکے لئے سو نیکیاں لکی جائیں گی، اور اسکی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور وہ اس دن اسے شیطان سے بچانے کے لئے کافی ہو جائے گا، چتی کہ شام ہو جائے، اور اس سے افضل کوئی چیز نہیں جو آدمی کو اس سے زیادہ دلا سکے‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا)۔

حصہ

2 تبصرے

  1. بہت اہم یاد دہانی — شیطان کی چالیں اور ان سے بچا و کی تدابیر
    احسن انداز میں سمجھائ گئ ہیں

  2. بہت ھی بہترین مضمون اسان وسہل انداز میں لکھا گیا ھے ۔۔ڈاکٹر صاحبہ کی بہترین کاوش ھے۔۔۔اللہ ھم شطان کا ہر مقام پر بہترین مقابلہ کرنے والے ثابت ھوں۔اور قخرت میں سرخرو ھو جائیں۔۔۔اس تھریر کا یہ ھی کل حا صل ھو گا۔ان شاء اللہ
    ۔۔جزاک اللہ

جواب چھوڑ دیں