مردآہن۔۔۔۔۔سر سید احمدخان

مراد علی شاہد صاحب نے سر سید احمد خان کی حیات و خدمات پر یہ تحریر سپرد قلم کی ہے۔اگر کسی قاری کو ان کے خیالات سے اختلاف ہو وہ اپنی رائے کا اظہار جسارت بلاگ پر کر سکتے ہیں۔۔ادارہ

سر سید احمد خان کی حالات زندگی کا اگر بنظر عمیق مطالعہ کیا جائے تو ان کی زندگی دو ادوار میں منقسم دکھائی دیتی ہے۔دور اول ۱۷۔اکتوبر ۱۸۱۷ سال پیدائش سے لیکر ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی(غدر،ہنگامہ یا بقول سر سید احمد چند شرارتی اور آوارہ لونڈوں کی شرارت) ۔اس دور میں سر سید احمد کی ابتدائی زندگی،ابتدائی تعلیم،بھائی سید محمود علی کے اخبار سید الاخبار میں مضمون نویسی،ملازمت اور ۱۸۵۷ سے قبل کی چند تصانیف شامل ہیں۔دور ثانی جو ۱۸۵۷ سے ۱۸۹۸ ان کے سال وفات تک کا ہے۔اور یہی وہ دور ہے جس میں سر سید زندگی کے کمال فن پہ نظر آتے ہیں۔گویا ۱۸۵۷ کے بعد انہوں نے مسلمانان برصغیر کے ذہنوں میں وہ انقلاب برپا کر دیا کہ گویا ٹھہرے ہوئے پانی میں تلاطم پیدا کر دیا اور لوگوں میں ذہنی جمود توڑ کر زندگی کو زندہ دلی اور شان و شوکت سے گزارنے کا حوصلہ بیدار ہونا شروع ہو گیا ہو۔ترقی و کامرانی کے نئے ولولے پیدا ہوئے،جدید تعلیم کا بول بالا ہوا،مذہبی اور اخلاقی زندگی میں نئے رجحان نے جنم لیا،اختلاف برائے اختلاف نہیں بلکہ اختلاف برائے اصلاح کی گنجائش کا ظہور ہوا ۔معاشرت اور حسن زندگی میں جدیدیت کی کلیاں پھوٹیں اور گلستان ہندوستان کو فکر سر سید نے ایسے معطر کیا کہ سر زمین ہندوستان رہتی دنیا تک سر سید کے اس احسان کے سامنے خمیدہ راس رہے گی اور سب سے بڑی تبدیلی میدان ادب میں نمودار ہوئی کہ جسے سر سید نے روائت پرستی ،مسجح و مقفیّ انداز تحریر و گفتار کی زنجیروں کو توڑ کر عام فہم،انشا پردازی،مکاتبہ سے مکالمہ انداز فکر و ادب سے ایسے روشناس کرایا کہ سر سید احمد مضامین و انشاپردازی کے مجدد و امام ٹھہرائے گئے۔
سر سید کی متعدد تصا نیف ہیں جن کا موضوع تاریخ،تفسیر،اخلاقیات،سیاسات،معاشرت اور تعلیم ہے چند مشہور کتب میں شامل ہیں۔آثار الصنادید،جام جم،جلأالقلوب،فوائدالافکار،اسباب بغاوت ہند،تہذیب الاخلاق،تبیئن الکلام،خطبات احمدیہ،لائل محمدنز آف انڈیا،تاریخ ضلع بجنور، احکام طعام اہل کتاب،کلمہ حق،راہ سنت،قول متین کم و بیش تین درجن سے زائد کتب ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔سر سید ان علمی و ادبی کاوشوں کے عوض ہمیں تاج فاخرہ کو ان کے سر کی زینت بنانا چایئے تھا مگر افسوس ان کی خدمات کو سراہنے کی بجائے انہیں طرح طرح کے القابات(اپنوں اور غیروں) سے پکارا گیا مثلاً ملحد،کافر، نیچری، کرسٹان، انگریز کا پٹھو، ابن الوقت، خوشامدی، مردود،ملعون، اور باغی جیسے ۱۶ سے زائد اسماء و القابات بد سے ان کی توہین کی گئی مگر یہ تمام سب سر سید کے راستے کی زنجیر نہ بن سکے بلکہ یہ القابات ان کے لئے نوید صبح کا پیغام و حوصلہ فراہم کرتے رہے۔ان احباب کی نذر سر سید کی شخصیت سے چند واقعات جو دور حاضر میں بھی ان کی شخصیت پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔
ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌایک شخص نے سر سید کو خط لکھا کہ کثیر العیال ہوں،معاش کی فکر میں تنگ رہتا ہوں آپ کسی ریاست یا انگریز سرکار سے میری سفارش کر دیجئے ۔میں نے انگریزی تعلیم نہیں پائی مگر کتب درسیہ پڑھی ہیں۔سر سید نے ان کو لکھ بھیجا کہ:میری عادت کسی کو سفارش کرنے کی نہیں ہے اور وجہ معاش کی تدبیر اس سے بہتر اور کوئی نہیں کہ میری تفسیر کا رد لکھ کر چھپوا دیں خدا نے چاہا تو خوب بکے گی اور آپ کو تنگی معاش کی فکر نہیں رہے گی۔:یہ ہے وہ درد دل انسان کہ جو اپنی محنت کی رد خود لکھوا کر کسی بھوکے کی بھوک اور پیاسے کی پیاس بجھا رہا ہے۔گویا انسانیت ذاتیات سے بڑ ھ کر ہو۔ایک اور واقعہ کہ مولوی مشتاق جو یو۔پی۔میں ملازم تھے ان کے ایک خط جس میں ایک افسر اس کی نماز پڑھنے میں معترض ہوتا ہے جواب میں لکھتے ہیں کہ :نماز جو خدا کا فرض ہے اس کو اپنی شامت اعمال سے، جس خرابی سے ہو ادا کریں یا قضا کریں لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ تم نماز ادا نہ کرو اس کا صبر ایک لمحہ بھی نہیں ہو سکتا ۔میری سمجھ میں نماز نہ پڑھنا گناہ ہے جس کے بخشے جانے کی توقع ہے۔اور کسی شخص کے منع کرنے سے نہ پڑھنا اور سستی کفر ہے جو کبھی نہ بخشا جائے گا۔تڑاق سے استعفی دے دیتا ۔صاف کہہ دیتا کہ اپنے خدا کے حکامات کی اطاعت کروں گا نہ آپ کی۔کیا ہوتا فاقوں سے مر جاتا۔اچھا ہوتا۔سر سید ا حمد جب کبھی اسلام پر، بانی اسلام حضرت محمدﷺ پر ، کبھی بھی کسی نے بھی نکتہ اعتراض اٹھایا فوراً اس کا جواب نوک قلم کرنا اپنے جذبہ ایمان کا وصف خاص خیال کرتے تھے۔ اور فوراً جواب لکھنے بیٹھ جاتے تھے۔ایک مثال تو ولیم میور کی کتاب :دی لائف آف محمد: کا جواب خطبات احمدیہ کی ہے۔جبکہ دوسری مثال مولوی علی بخش مرحوم کی ہے جو سر سید کے رد میں رسالے لکھا کرتے تھے۔حرمین شریفین گئے اور وہاں سے سر سید کے کفر کا فتویٰ لے آئے اس پر انہوں نے ایک موقع پر رسالہ تہذیب الاخلاق میں لکھا کہ:جو صاحب ہماری تکفیر کا فتویٰ لینے کو مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور کفر کی بدولت ان کو حج اکبر نصیب ہوا ۔ان کے لائے ہوئے فتووں کو ہم بھی دیکھنے کے مشتاق ہیں۔سبحان اللہ ہمارا کفر بھی کیا کفر ہے کہ کسی کو حاجی اور کسی کو مسلمان بنا دیتا ہے۔اگرچہ اس واقعہ میں آپ کو شوخی اور ظرافت کی ہلکی سی جھلک بھی نظر آئیگی تاہم تہذیب اور لطافت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا۔ایک اور واقعہ جس کا تذکرہ بہت کم کتابوں میں ہونے کی وجہ سے بہت کم لوگوں کو اس واقعہ سے شناسائی ہے ۔کہ اس زمانے میں ایک عیسائی نے امہات المؤمنین کی شان میں گستاخانہ مواد لکھا ۔بقول مولانا حالیؔ ان پر سکتے کا عالم طاری ہو گیا نالکل نقش دیوار بن گئے۔اسی حالت میں مانند برق اٹھ کھڑے ہوئے اور جواب لکھنا شروع کر دیا۔ابھی جواب مکمل نہ ہو پایا تھا کہ اس دار فانی سے رحلت فر ما گئے۔
یہ وہ چند واقعات ہیں جو ان کی مظبوطی ایمان کی دلیل صریحی ہے۔سر سید کی زندگی کا وصف ایمان راسخ کیوں نہ ہوتا کہ جب بھی میرے ذہن میں سوال کہ ابھرتا کہ ایک سید زادہ کیسے اسلام مخالف ہو سکتا ہے۔کہ اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کئے جائیں اور وہ شخص چپ چاپ برداشت اور تحمل و صبر سے کام لیتا جائے تو میری ناقص تحقیق سے یہ بات عیاں ہوئی کہ سر سید کی رگوں میں خون پیغمبرانہ گردش کر رہا ہے۔یعنی آپ کے والد سید متقی کا سلسلہ نسب ۳۵ واسطوں سے آقاﷺ سے جا ملتا ہے۔
۱۸۵۷ میں سر سید کا سن چالیس برس کا تھااور زندگی کی ان چالیس بہاروں میں زیست کے نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ دنیاوی و مذہبی معاملات کو کافی حد تک سمجھ چکے تھے۔اچھے منظم اور حکومت کے دیانتداور فرض شناس افسر کی حیثیت سے بھی کافی نام کما چکے تھے۔تصنیف و تالیف،تحقیقی و تخلیقی کاوشوں میں بھی اور علمی حلقوں میں بھی داد تحسین حاصل کر چکے تھے۔گویا یہ وہ دور تھا جب سر سید کا دماغ کسی بڑے کام کے لئے تیار ہو رہا تھا۔جنگ آزادی کے بعد بھی سر سید کو چالیس سال اور زندہ رہنے کی مہلت خداوندی نصیب ہوئی ۔تاہم ان چالیس برسوں میں اس مرد آہن نے چالیس صدیوں کے برابر کام سر انجام دئے کہ جس نے مسلمانوں کی ہمت بندھائی اور سیاسی ،سماجی،تعلیمی حالت کو نقطہ عروج نصیب ہوا۔اور مسلمانان برصغیر کو عزت و وقار،شان و شوکت سے جینے کا فن سکھا دیا۔سر سید کی چالیس برسوں پہ محیط خدمات کا تذکرہ اس لئے ضروری ہے کہ یہی کارنامے ان کے عنوان زندگی کی علامت بن گئے۔
۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے بعد اقلیتی مسلمانوں کو سیاسی اور مذہبی طور پہ انگریز حکومت کے قریب کرنا اور پیدا شدہ غلط فہمیوں کو دور کرنا تاکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے سرکار کے دل میں ہمدردی اور تعاون کے جذبات بیدار کئے جا سکیں۔مسلمانان برصغیر کو جدید تعلیمی انقلاب کے لئے تیار کرنا۔
جدید خطوط پر مسلمانوں کی معاشی ،تعلیمی اور مذہبی اصلاح کا کام سر انجام دینا۔
سائینٹیفک سوسائٹی کا قیام اور قدیم کتابوں کی نئی ترتیب اور جدید علوم کے تراجم کروانا۔
اسباب بغاوت ہند ۱۸۵۹ میں لکھ کر حکومت وقت کو جنگ کی صحیح حقیقت سے روشناس کرایا۔
تہذیب الاخلاق کے اجرا سے مسلمانوں میں نئی ادبی و علمی فکر پیدا کرنا۔
۱۸۷۵ میں مدرستہ العلوم ،۱۸۷۷ میں ایم۔اے۔او کالج جو کہ اب علی گڑھ یونیورسٹی کے نام سے دنیا میں الگ مقام رکھتی ہے۔کہ جس کے بارے میں قائد اعظم کہا کرتے تھے کی یہ ایک منی پاکستان ہے۔یہ وہ دارالعلوم ہے کہ جس کی خشت اول سر سید نے رکھی ،نہ صرف یہ کہ وہ ایک ادارہ ثابت ہوا بلکہ سر سید نے قوت ارادی اور عمل سے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ صحیح معنوں میں حقیقی پاکستان کے حقیقی بانی ہیں۔اور خشت اول رکھنے والے با کردار سیاسی شخص ہیں۔تاہم ان تمام اوصاف پر جس کام کر تمام کام پر فوقیت حاصل ہے ۔وہ ہے آل نڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس جس کی بنیاد ۱۸۸۶ میں کانگریس کے ایک سال بعد رکھی گئی۔یہی وہ تنظیم ہے جس نے آگے چل کر مسلمانان برصغیر کے لئے ایک سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام اور پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔۔۔۔سر سید آخری سانس تک قومی کاموں میں منہمک رہے۔اور ۱۷۔اکتوبر ۱۸۱۷ کو جلنے والا یہ چراغ اپنی شبانہ روز ،ان تھک محنت سے شمع مسلمانان ہند کو ضوفشاں کر کے ۲۷۔مارچ ۱۸۹۸ میں آخری ہچکی لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گل ہو گیا۔

جواب چھوڑ دیں