پاکستان ایسوسی ایشن قطر لائف ٹائم ایوارڈ و عالمی مشاعرہ2018

پاکستان ایسوسی ایشن قطرواحد تنظیم ہے جس نے اپنے منشور میں چند بڑے مقاصددوحہ کی تمام بڑی تنظیموں سے ہٹ کر نہ صرف شامل کئے بلکہ ا ن مقاصد کے حصول کی عمل پیرائی کو بھی باقاعدگی سے ممکن بنا رہی ہے۔تنظیم سماجی،ثقافتی،تعلیمی ،ادبی اور تشویقی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوان نسل میں جذبہ شوق اور کچھ کرنے کا جنون پیدا کرنے میں مصروفِ عمل دکھائی دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یومِ تاسیس سے ہی پاکستان ایسو سی ایشن نے عزمِ صمیم کر لیا تھا کہ ہم اپنے آنے والے کل ،نسلِ آئندہ کو تابندہ و جاوداں مستقبل مہیا کرنے کی کوشش کریں گے۔جس پر بطور وارث ہماری نوجوان نسل فخرو نازاں ہو گی۔اس سلسلہ میں پاکستان ایسوسی ایشن ہر ماہ درج ذیل حوالوں سے باقاعدگی سے پروگرامزو تقریبات منعقد کروا رہی ہے،تقریباتِ کتب رونمائی،جشنِ پاکستان تقریبات،سائنس ریسرچ لیکچر،لیڈرشپ سیمینار،کیریئیر کونسلنگ،ادبی و ثقافتی پروگرامز اور اعترافِ خدمات ایوارڈز و بین الاقوامی مشاعرے۔۔اس سلسلہ میں پاکستان ایسو سی ایشن نے ایک بین الاقوامی مشاعرہ و لائف ٹائم ایوارڈ کا ہوٹل سفائر میں انعقاد کیا۔جس میں تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی بشمول سید فہیم الدین،اعجاز حیدر،شوکت علی نازؔ ،تجمل آفتاب چیمہ اور عتیق الرشید کے فیصلہ کے مطابق پاکستان سی کہنہ مشق شاعر،اینکر،سماجی کارکن اور کالم نویس فرحت عباس شاہ او ر دوحہ سے اردو سے محبت اور ادبی سرپرستی کرنے والے محمد صبیح بخاری اور معروف سماجی کارکن محمد اجمل چوہدری کو انکی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم ایوارڈ دیا گیا۔فرحت عباس کم و بیش ستر کتابوں کے مصنف ہیں،فرض فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ چلا رہے ہیں،اخبارات میں معیشت،سیاست اور قیادت کے عنوان سے کالم نویسی بھی کرتے ہیں۔جبکہ دوحہ میں ادب نوازی،ادب سے محبت اور ادبی خدمات میں صبیح بخاری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔جن کا کہنا ہے کہ اردو مجھے اپنی ماں کی طرح پیاری ہے کہ یہ میری ماں کی زبان ہے۔ایسے ہی اجمل چوہدری بھی دوحہ کی ادبی تنظیموں کے روحِ رواں اور کمیونٹی خدمات میں ہراول دستہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔مذکور تمام شخصیات کو حاصلِ حیات ایوارڈ ان کے کمالِ فن و خدمات کا اعتراف ہے۔تقریب دو حصوں میں منقسم تھی۔پہلا حصہ تقریب ایوارڈ اور دوسرا دور عالمی مشاعرہ پر مشتمل تھا۔تلاوتِ قرآن مجید فرقان حمید کے بعد ایوارڈ ز کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پہلا اعترافِ فن و خدمات لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ محمد اجمل چوہدری کو بدست حافظ جنید سیال کلچر اٹیچی سفارت خانہ پاکستان عطا کیا۔ان کی سماجی خدمات پر طاہر جمیل نے تعارفی مضمون پیش کیا۔اجمل چوہدری نے حرفِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ میں تنظیم کے شکریہ کے ساتھ پوری پاکستانی کمیونٹی کے نام کرتا ہوں۔اس موقع پر پاکستانی کمیونٹی کے سرکردہ افراد محمد ادریس،عدیل اکبر،محمد ریاض اور طاہر چوہدری بھی موجود تھے۔دوسرا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پاکستان سے تشریف لائے ہوئے معروف شاعر سید فرحت عباس شاہ کو بدست حافظ جنید سیال سفارت خانہ پاکستان عطا کیا۔شاہ جی کے لئے تعارفی مقالہ راقم الحروف کو پیش کرنے کا موقع ملا۔شاہ جی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں تہہ دل سے مشکور ہوں جناب سید فہیم الدین چئیرمین پاکستان ایسو سی ایشن،اعجاز حیدر،شوکت علی نازؔ اور مراد علی شاہدؔ کا کہ انہوں نے مجھے اس لائق سمجھا ۔میرے لئے یہ ایوارڈ کسی طور بھی نوبل انعام سے اس لئے کم نہیں کہ سچے اور مخلص لوگوں نے ایک سچے انسان کو اس عزت سے نوازا۔یہ تنظیم کی مجھ ناچیز سے،ادب،اردو زبان،پاکستانی ثقافت،اور پاکستان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔میں اس پر وقار تقریب کے انعقاد پر منتظمین اور دوحہ میں پاکستانی کمیونٹی کا احسان مند ہوں۔تیسرا ایوارڈ فصیح الدین بخاری کو بھی کلچرل اٹیچی سفارت خانہ پاکستان کے ہاتھوں سے عطا کیا گیا۔جن پر تفصیلی مقالہ شوکت علی نازؔ پروگرام مینجر اور تنظیم کے چیف ایڈوائزر نے پیش کیا۔سید فصیح بخاری نے اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسو سی ایشن قطر میری نظر میں اس لئے سب سے زیادہ مبارکباد کی مستحق ہے کہ صرف ایک سال کے عرصہ میں انہوں نے ادب نوازی اور نوجوان نسل کی وہ ذہنی آبیاری اور کردار سازی کی ہے جوکوئی اور نہ کر سکا ۔مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ مجھے لائف ٹائم اچیومنت ایوارڈ کے لئے منتخب کر کے میرا مان بڑھایا اور اردو سے محبت اور ادب دوستی کا ثبوت دیا۔بلا شبہ اردو مجھے اپنی جان کی طرح پیاری ہے کیونکہ میری جان میری ماں ہے۔اور اردو میری ماں کی زبان ہے۔
تقریب کا دوسرا حصہ بین الاقوامی مشاعرہ پر مشتمل تھا۔جس میں پاکستان سے مہمان شعرا توقیر احمد شریفی،ڈاکٹر سعید اقبال سعدی،محمد ممتاز راشد،سید ضیا حسین،راشدہ ماہین ملک،اور کویت سے ظہیر مشتاق راناکو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔جبکہ مقامی شعرا میں سید فہیم الدین ہاشمی۔اعجاز حیدر،شوکت علی نازؔ ،محمد شفیق اختر،آصف شفیع،منصور اعظمی،اشفاق دیش مکھ،طاہر جمیل،شاہد رفیق نازؔ نے اپنی سخن وری سے سامعین کو محظوظ کیا۔مشاعرہ کی صدارت فرحت عباس شاہ نے فرمائی،جبکہ مہمانِ خصوصی کی شہ نشین کو حافظ جنید سیال اور تجمل آفتاب چیمہ نائب سرپرست ایسو سی ایشن نے رونق بخشی۔نظامت کے فرائض سر زمینِ دوحہ کے معروف ،کہنہ مشق شاعر اور د س کتابوں کے مصنف سید فہیم الدین چئیرمین پاکستان ایسو سی ایشن نے ادا کئے۔جن شعرا نے اپنے کلام سے سامعین سے داد و تحسین وصول کی ان کے نمونہ کلام قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
جلاتے یوں ہو،کہ جیسے ثواب ملتا ہے۔۔۔۔یہ میرا دل کسی دربار کا چراغ نہیں (شاہد رفیق نازؔ )
یہ محتسب یہ عدالت تو اک بہانہ ہے۔۔۔۔جو طے شدہ ہے وہی فیصلہ سنانا ہے (طاہر جمیل)
اشفاق تیرے اشک ہیں نمکین اس لئے۔۔۔چھڑکا گیا ہے زخم پہ بے انتہا نمک (اشفاق دیش مکھ)
نفرت کی تیز آندھیوں کے درمیان ہم۔۔۔شمعیں جلا رہے ہیں محبت کے نام پر ( سید ضیا حسین)
عمر کے سال اور غم حیدرؔ ۔۔۔۔بڑھتے رہتے ہیں کم نہیں ہوتے (اعجاز حیدر)
اہل قلم کے ساتھ افکار نے مجھے۔۔۔۔بعد اس کے سر بلند کیا دار نے مجھے ( شفیق اختر)
آج پھر اس نے کیا فون کہ گھر آجاؤ۔۔۔۔۔آج پھر میں نے کھلونوں کی خریداری کی (منصور اعظمی)
یہ جنون ہے جو مجھے دشت میں لے جاتا ہے۔۔۔ ورنہ پیاسے تو سمندر کی طرف جاتے ہیں ( شوکت علی نازؔ )
عارض و لب بھی خوب ہیں لیکن۔۔۔اس کی آنکھیں تو گہری جھیل سی ہیں (ممتاز راشد)
صرف اوروں کے بتا دینے سے کب آتا ہے۔۔۔پاؤں زخمی ہوں تو پھر چلنے کا ڈھب آتا ہے (ظہیر مشتاق رانا۹
دید کو بھگو لوں گا موتیوں کی گاگر میں۔۔۔۔پھر اداس ہونٹوں سے قہقہہ نکالوں گا (توقیر شریفی)
خوشبو کو میں کس طرح نہ پہچانتی ماہینؔ ۔۔۔پھولوں نے بہت وقت گزارا ہے مرے ساتھ (راشدہ ماہین)
تجھے ہے زعم تو واعظ ثواب تو لے لے۔۔۔ مجھے نہ چھوڑ خدا پر ثواب تو لے لے (سید فہیم الدین)
تم رہو گے ابھی نقاب میں کیا۔۔۔۔۔اچھا لگتا ہوں اضطراب میں کیا (سید فرحت عباس شاہ)

جواب چھوڑ دیں