راہزن۔۔کامیابی کی رات 5

ایمان مغازی الشرقاوی
ترجمہ: ڈاکٹرمیمونہ حمزہ
(۵)
کیا آپ نے تجربہ کیا کہ آپ ساری رات جاگ کر گزارتے ہیں، اور سارا دن مشقت اٹھاتے ہیں، مگر کیوں؟ تاکہ ہر دن اور رات کے بدلے آپ کو چند روپے مل جائیں، جن سے آپ اپنی کمر سیدھی کر سکیں، اپنے نفس کا بچاؤ کر سکیں، اور اپنے بال بچوں کی ضروریات پوری کر سکیں؟ آپ نے اتنی محنت اور مشقت کے بعد کامیابی کی مٹھاس کو بھی چکھا ہو گا، اور اتنا امتیاز اور تفوق حاصل کرنے کے بعد، عزت افزائی اور تکریم کی لذت کو بھی محسوس کیا ہو گا، اور اہلِ خانہ اور دوستوں نے بڑا پر تپاک استقبال کیا ہو گا؟ آپ نے محسوس کیا کہ مشقت کے بعد راحت میں مزا ہے، اور محنت کا ثمر کام ختم ہونے کے بعد ملتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی کسان کو نہیں دیکھا، کہ وہ بیج بوتا ہے، اور اس سے کونپل نکلتی ہے، اور وہ پورا سال اسکی دیکھ بھال کرتا رہتا ہے، وہ اسے آفات اور کیڑوں مکوڑوں سے بچاتا ہے، اور ہر وقت اسی کے لئے محنت اور مشقت میں لگا رہتا ہے، حتی کہ اسکا باغ سرسبز و شاداب اور تروتازہ ہو جاتا ہے، اور وہ اسے مختلف پھل پیش کرتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی شہد کی مکھی کو غور سے دیکھا ہے، اور اس سے سبق حاصل کیا ہے؟ وہ کس طرح ایک شاخ سے دوسری، اور ایک پھول سے دوسرے پھول کی طرف سفر کرتی ہے، وہ اسکی خوشبو سونگھتی ہے اور اچھے پھولوں ہی پر بیٹھتی ہے، اور اﷲ کی سکھائی ہوئی راہوں پر چلتی رہتی ہے، اور اپنے سفر کے اختتام پر صاف ستھرے مشروب ’’شہد‘‘ کا تحفہ دیتی ہے، جسکی لذت مختلف ہوتی ہے ، اور اس میں شفاء ہے۔ آپ نے کبھی چیونٹی کو دیکھا ہے، اور غذا کے بوجھل حصّے اٹھا کر گرم دوپہر میں چلتی ہے، لیکن یہ بوجھ اسکی مشقت کم کر دیتا ہے، اور اسکا اثر زائل ہو جاتا ہے، اور اسکی پریشانی ہلکی ہو جاتی ہے، جب وہ اسکا پھل پاتی ہے، اور وہ سردی کے موسم میں اپنے خزانے کو مزے لے لیکر کھاتی ہے؟
۔ یہ سب صورتیں بہت مختلف ہیں، انکا باہم مقابلہ بھی مشکل ہے، لیکن یہ تمام مثالیں بڑی عاجزی سے ہمیں رمضان کے مہینے میں روزے داروں کے میدان میں لے جاتی ہیں، جہاں وہ اپنے روزے مکمل کر چکے ہیں، اور یہ مہینہ کوچ کر رہا ہے، وہ اس مہینے میں اپنے دشمنوں پر غالب آچکے ہیں، اور نماز، روزے، قرأت، قیام، نیکی اور احسان، سے اﷲ کے طریقے کو پا گئے ہیں، انہیں قرآن کا ادب کرنا بھی آگیا ہے، اور اس سے اپنی محفلوں کو زینت دینا بھی، پس انکے آنسو بہتے ہیں، انکی آہیں بلند ہوتی ہیں، انکے ہاتھ اﷲ رب العزت کے سامنے پھیلتے ہیں، خوف اور رغبت کے ساتھ، وہ اسکی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اسکے عذاب سے ڈرتے ہیں، اﷲ انکی سعی و کوشش ہرگز رائیگاں نہ جانے دے گا، اور نہ انکے اعمال ضائع کرے گا، بلکہ وہ انہیں انکی کارگزاری کا بہترین اجر عطا فرمائے گا، اور اس مہربان مہینے کے اختتام پر انہیں خدمت کا بہترین بدلہ دے گا، اور انہیں درجہ ممتاز بلکہ اے پلس سے نوازے گا، وہ کتنے طویل دنوں میں اسکے آگے سرجھکائے تمام دن کھڑے رہے، اور رات کی تاریکی میں اسکے آگے سجدہ ریز رہے، (تتجافی جنوبھم ھن المضاجع یدعون ربھم خوفاً وطمعاً ومما رزقناھم ینفقون ۰ فلا تعلم نفس ما أخفی لھم من قرۃ أعین جزاء بما کانوا یعملون۰) (السجدۃ، ۱۶۔۱۷) (انکی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو رزق ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان انکے اعمال کی جزا میں انکے لئے چھپا کر رکھا گیا ہے اسکی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے۔)
مغفرت کا تحفہ:
واہ، اس تحفے کا کیا کہنا، جو کامیاب و کامران ہونے والوں کو انکے رب کی جانب سے بھیجا گیا ہے، جنہوں نے اس عظیم مہینے میں اپنی ھوی اور شہوات پر غلبہ حاصل کیا، اﷲ تعالی نے اسکے حاصل کرنے کی شرائط وضاحت سے بیان فرمائی ہیں، اور اسکے حق داروں کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے، تاکہ بندہ اسے پانے کے لئے تیاری کرے، اور اپنے آپ کو اسکا مصداق بنانے کے لئے چوکس رہے، تاکہ وہ ان لوگوں میں شامل ہو جائے، (وما یلقا ھا الا الذین صبروا و ما یلقاھا الا ذو حظ عظیم) (حم السجدۃ، فصلت، ۳۵) (یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔)
رمضان کے امتحان کے مکمل ہونے کے بعد، اور جدو جہد کے معرکے میں کامیابی کے بعد، ایک اور معرکہ درپیش رہے گا، اور وہ ہے انسان کے ہمیشہ سے منتظر دشمن ۔۔ ابلیس اور اسکی ذریت ۔۔ جاذب نظر دنیا ۔۔ اور برائی پر اکسانے والے نفسِ امارہ ۔۔ اور اﷲ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت سے روکنے والی ھوی (خواہشِ نفس)اور انکے علاوہ کئی راہزن جو اس دنیا کے طول پر پھیلے، انسان کا شکار کرنے کے منتظر ہیں۔
یہ رمضان کی راتوں کی آخری رات ہے، نبی اکرم ﷺ نے تاکیداً فرمایا: اور وہ انہیں آخری رات میں معاف فرما دیتا ہے‘‘۔ پوچھا گیا: یا رسول اﷲ ﷺ، کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ فرمایا: ’’نہیں، بلکہ اس میں کام کرنے والے کو مزدوری دی جاتی ہے، جب وہ کام مکمل کر لیتا ہے‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا)۔
اور یہ اجر کتنا بڑا ہے، اور اس انعام کا کیا کہنا!! یہ انعام ہر اس روزہ دار کے لئے ہے، جس نے روزے کی حکمت جان کر اسے اپنے اوپر لازم کر لیا، اور اسکے دل نے اس کے پیٹ سے بھی پہلے روزہ رکھا، اور اسکی زبان نے اسکے دانتوں سے پہلے، اور اسکے اعضاء میں سے آنکھیں، ہاتھ اور پاؤں، کان، عقل اور دل ، سب روزے میں شریک رہے، اور آخرت کے لئے زادِ راہ اکٹھا کیا، اور وہ رمضان سے اپنی روح پاک کر کے نکلا، ایک نئے پاک اور نادر نفس کے ساتھ، اور قوی اور شدید عزم کے ساتھ، گویا اسکا روزہ اسکا قلعہ اور اسکے لئے بچاؤ بن گیا، اور ھدایت کی راہوں کا مدد گار، اور کامیابی پانے کا راستہ۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ’’روزہ ڈھال ہے، اور وہ مومن کے قلعوں میں سے ایک قلعہ ہے‘‘ (اسے طبرانی نے بیان کیا، اور سیوطی نے اسے صحیخ قرار دیا)۔
غفور ۔۔وشکور
اﷲسبحانہ وتعالی بہت سی برائیوں کو بخش دیتا ہے، اور آسان نیکیوں کی بھی بہت قدر دانی فرماتا ہے، اور یہ نعمت بھی ہم سے بہت شکر گزاری اور طویل سجدوں کا مطالبہ کرتی ہے، اسکے سوا کون ذات ہے جو گناہگاروں کو معاف کر سکتی ہو، اور توبہ کرنے والے قصور واروں کی عزت افزائی کرتی ہو، اور اپنا پردہ عطا کر کے انکی سترپوشی کرتی ہو؟ وہ اﷲ ہی ہے الغفار، الغفور والشکور، جو تھوڑے سے عمل پر ڈھیروں اجر عطا فرماتا ہے، جو اپنے اطاعت گزار بندوں کی خود تعریف کرتا ہے، اور وہ سبحانہ وتعالی ہم سے فرماتا ہے: اے بندو، تم دن رات خطائیں کرتے ہو، اور میں تمام گناہ معاف فرما دیتا ہوں، پس مجھ سے مغفرت مانگو، میں تمہیں معاف کر دوں گا ۔۔ اے میرے بندوں، تم میرے نقصان پر قادر نہیں ہو کہ مجھے کوئی نقصان پہنچا سکو، اور نہ میرے نفعے پر کہ مجھے کچھ نفع پہنچا سکو ۔۔ اے میرے بندو، اگر تمہاے پہلے اور پچھلے اور تمہارے انس اور جن سب سے متقی دل والے بن جائیں، تو یہ میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہ کرے گی ۔۔ اے میرے بندو، اگر تمہارے تمام پہلے اور پچھلے، اور تمہارے انسان اور جن سب سے فاجر دل والے شخص جیسے ہو جائیں، تو یہ میری بادشاہت میں کچھ بھی کمی نہ کرے گی‘‘ (مسلم نے روایت کیا)، اور اسکے ساتھ وہ سبحانہ وتعالی ہمیں یہ مغفرت حاصل کرنے کی جانب بلاتا ہے، اور اپنے قرب کی لذت سے آشنا کرتا ہے ۔۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: جب رات کا تین چوتھائی حصّہ باقی رہ جاتا ہے، ہمارا رب ہر رات آسمانِ دنیا پر آتا ہے، اور پکارتا ہے، کون ہے جومجھ سے دعا مانگے اور میں اسے قبول کروں، کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اسکو عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے بخشش چاہے اور میں اسے بخش دوں (اسے ابو داود نے روایت کیا)۔
رمضان قرب کا مہینہ اور مغفرت کا مہینہ ہے، جس میں عمل کرنے والے مجاہدہ کرتے ہیں، اور مخلصین اسکے لئے کوشاں رہتے ہیں، اور اس بے پرواہ بادشاہ سے درجہ قرب حاصل کرنے کے لئے وہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، پس وہ قیامت کے روز وہ اپنی عظیم تمنا کو مجسم دیکھیں گے، اور وہ انہیں ڈھانپے ہوئے ہو گی، اور یہ مغفرت کی آرزو ہے، جب وہ قدر دان آقا انکو بخش دے گا، اور وہ سبحانہ وتعالی صرف بخش ہی نہ دے گا بلکہ وہ انہیں اپنی وہ نعمت عطا فرمائے گا، جس کو بیان بھی نہیں کیاجا سکتا، جو نہ عمل سے حاصل کی جا سکتی ہے نہ شکر سے، اسی لئے وہ پکار اٹھیں گے: (وقالوا الحمد ﷲ الذی أذھب عنا الحزن ان ربنا لغفور شکور۰ الذی احل لنا دار المقامۃ من فضلہ لا یمسنا فیھانصب ولا یمسنا فیھا لغوب) (فاطر، ۲۴۔۲۵) (اور وہ کہیں گے کہ ’’شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کر دیا، یقیناً ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے، جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھیرا دیا، اب یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے‘‘۔)
دو فرحتیں:
یہ اطاعت کی فرحت ہے، اوراﷲ سے امید کی فرحت، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’روزے دار کے لئے دو فرحتیں ہیں، جو اسے خوش رکھتی ہیں، جب روزہ کھولتا ہے تو افطار کی فرحت ہوتی ہے، اور جب اپنے رب سے ملے گا، اپنے روزے پر خوش ہوگا‘‘ (نسائی نے اسے اسے روایت کیا، اور البانی نے صحیح قرار دیا)۔
رمضان مبارک کا مہینہ ہمارے لئے بہترین تحفے اور عظیم انعام چھوڑ کر رخصت ہوتا ہے، کیونکہ اﷲ تعالی مخلص روزہ داروں کو بخش دیتا ہے، اور روزہ دار کے بارے میں فرماتا ہے: ’’اس نے اپنا کھانا پینا اور شہوت کو میرے لئے چھوڑ دیا‘‘ (اسے بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے)، گویا کہ مغفرت اس ثواب کا جزء ہے، جسے اﷲ نے اسکے لئے مخصوص کیا ہے، جب وہ فرماتا ہے: ’’روزہ میرے لئے ہے، اور میں اسکی جزا دوں گا‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے)، کیونکہ یہ عبادات کا مجموعہ ہے جو صبر اور شکر کے گرد گھومتا ہے، اور یہی دو اسکے حاصل ہیں۔
اور ہاں یہ مسلمان ہی ہیں، انکی اکثریت روزہ رکھتی ہے، اور انکے روزے میں اﷲ سبحانہ وتعالی کے احکامات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، انکی سیری کی نعمت کو یاد کیجئے، اور وہ کس طرح ھوائے نفس کی پیروی کے لئے تیار رہتے تھے، اور حق کی موفقت اسکی مخالفت کر کے کرتے تھے، اور اسکی محبوب چیزوں کو ترک کرتے تھے، اور اس نفس کی ریاضت مالوف و پسندیدہ چیزوں کو ترک کرنے میں ہے، اور شہوات کو چھوڑنے میں، اور اعضاء کی حفاظت کرنے میں، اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو’’ انکے لئے دو فرحتیں ہیں، ایک فرحت افطار کے وقت کی، اور ایک رب سے ملاقات کے وقت کی‘‘ (ترمذی کی روایت، البانی نے اسے صحیح قرار دیا)، قرطبی نے فرمایا: اسکے معنی ہیں، جب اس کے لئے افطار جائز ہو گیا، اور اسکی بھوک اور پیاس زائل ہو گئی، تو اسے فرحت ملی، اور یہ فطری خوشی ہے، اور پہلے مفہوم کے مطابق ہے، اور کہا جاتا ہے: یہ اسکے افطار کی فرحت ہے، کیونکہ اس نے روزہ مکمل کیا، اور اپنی عبادت کا اختتام کیا، یہ رب کی جانب سے تخفیف اور اسکے آئندہ روزے کے لئے مدد ہے۔
علماء کہتے ہیں: رب سے ملاقات کے وقت کی فرحت کا سبب وہ جزا بھی ہے جو وہ دیکھتا ہے، اور رب کی اس نعمت کو یاد کرتا ہے کہ اس نے اسے توفیق عطا کی، اور روزے کے اختتام پر عبادت کے پورا ہونے اور اسکے مفسدات سے محفوظ رہنے کی خوشی ہے، اور اس ثواب کی جسکا وہ امیدوار ہے ۔۔ پس جس نے خلوص سے عبادات اور دوسرے اعمال بجا لائے، اور وہ ریا یا شہرت کے لئے نہیں بلکہ اﷲ کی رضامندی کے لئے سب اعمال بجا لا رہا تھا؛ اسے اﷲ دنیا اور آخرت میں پورا بدلہ عطا کرے گا۔
آؤ مغفرت کی طرف
اﷲ اپنے سب بندوں کو مغفرت کے لئے پکارتا ہے، وہ فرماتا ہے: (وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا السماوات والارض اعدت للمتقین ) (آل عمران، ۱۳۳) (دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمان جیسی ہے، اور وہ خدا ترس انسانوں کے لئے مہیا کی گئی ہے)، (سابقوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا کعرض السماء والارض)(الحدید، ۲۱)(دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے۔)، پس مغفرت جنت کی طرف جانے کا راستہ ہے، تو کیا ہم میں سے ہر ایک اس مغفرت کی طرف جانے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں؟ رمضان اسکا سبب بھی ہے اور اسکی طرف جانے کا طریقہ بھی، پس رمضان کا درمیانی حصّہ مغفرت ہے، اور اسکی آخری راتوں میں مغفرت ہے، وہ پورا ماہ دن بھی اور رات بھی اپنا توشہ تیار کرتا رہتا ہے، تو رمضان کے بعد ہم اﷲ سے مغفرت کیسے مانگیں گے؟
اﷲ تعالی اپنی کتابِ کریم میں فرماتا ہے، اور وہ جانتا ہے کہ ہم خطاکار بندے ہیں، اور پھسل جاتے ہیں، خواہ ہم ایمان کے کسی درجے پر پہنچ جائیں، اور اسکی حرارت ہمارے دلوں کو کتنا بھی گرما دے، ہم کبھی درست کرتے ہیں اور کبھی خطا، اسی لئے اﷲ اس جانب ہماری رہنمائی فرماتا ہے، اور وہ اس جانب خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے: (وانی لغفار لمن تاب وآمن وعمل صالحاً ثم اھتدی) (طہ، ۸۲) (البتہ جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے اسکے لئے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔)
پس مغفرت توبہ کرنے والوں کو نصیب ہوتی ہے، جس نے توبہ کی اور جس کفر یا شرک یا معصیت یا نفاق میں وہ تھا اس سے لوٹ آیا، ،واہ اسکے گناہ کتنے بھی زیادہ ہو جائیں اور بڑھ جائیں، وہ دل سے ایمان لے آئے، نیک عمل کرے، اور رب کے فرائض ادا کرے، جو اس پر لازم کئے گئے ہیں، اور معصیت سے اجتناب کرے، ’’پھر ھدایت کو اختیار کرلے‘‘، یعنی اسکو خود پر لازم کر لے، اور ان میں سے کسی عمل کو ضائع نہ کرے، اور سنت اور جماعت کے ساتھ رہے، اور اسلام پر مرتے دم تک قائم رہے، اور جان لے کہ یہی ثواب اور نیک عمل ہے؛ مغفرت اسکا انعام ہے، اور جنت اسکا ٹھکانا ہے، اور وہ بہترین لوگوں میں سے ہے، جیسا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے خطاؤں کے بعد استغفار کر لیا، اور جب انہوں نے نیکیاں کیں ، انہیں خوشخبری ملی‘‘ (اسے طبرانی نے روایت کیا، اور سیوطی نے اسے حسن قرار دیا)۔
ظاہری سبق:
آپ نبی کریم ﷺ کی مغفرت کی رات والی حدیث میں دیکھیں گے: اور وہ انہیں آخری رات بخش دیتا ہے‘‘، پوچھا گیا: کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ فرمایا: ’’نہیں، وہ مزدور کو کام مکمل ہونے پر پورا اجر عطا فرماتا ہے‘‘ (احمد)، ان تھوڑے سے الفاظ سے بھی آپ وہ سبق نکال سکتے ہیں، جو آپ کی باقی زندگی کے لئے ایک طریقہ وضع کر دیتا ہے۔
اور اسکے کئی فوائد ہیں: عمل کی اہمیت سے آگاہی، عمل کرنے والے (مزدور) کی فضیلت، اور اسکے اجر کا بیان، ااور اس میں پختگی اور زیادتی کے اثرات، اور اس میں مجرد مزدور کی مزدوری ہی اسکے عمل میں انتہائی افزائش کر دیتی ہے، خواہ وہ خادم ہو یا معلم یا مزدور، جب تک اس قبلے کے لئے وہ عمل کرتا رہے گا، اور اور معاہدے کے مطابق دیے گئے کام پر کاربند رہے گا، خواہ وہ افراد کی سطح پر یہ کام کرے یا جماعت کی؛ جیسے کمپنی، اسوسی ایشن، کمیٹی یا حکومت کی سطح پر، نبی اکرم ﷺ کا فرمان سب کے لئے رہنما ہے: ’’مزدور کو اسکی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو‘‘ (البانی، صحیح ابنِ ماجہ)، تو کیا ہم بھی سوچتے ہیں کہ کہ وہ اپنے خادم اور اجیر کو پوری اجرت دیں، اس میں ذرہ برابر بھی کمی نہ کریں، نہ اسے ٹالیں نہ لمبی تاریخیں دیں؟ اور کبھی ہم نے کوشش کی کہ ہم اس اجر کو سخاوت اور کرم سے بڑھا دیں؟ اور کیا ہم میں بھی کبھی خواہش پیدا ہوئی کہ ہم اسکی اجرت بغیر احسان چڑھائے اور اذیت دیے اسے اسوقت ادا کر دیں جب اسکی پیشانی پر پسینہ خشک نہ ہوا ہو؟
اور ایک اہم سبق، ان لوگوں سے درگزر کرنے کے معاملے میں جو آپ کے حق میں برائی کرے، اور اسے اﷲ کی خاطر معاف کر دینا، اسکی پردہ پوشی بھی کرنا، اور انکو ڈھانپ دینا، آپ اسے معاف کرتے رہیں حتی کہ آپ کو اﷲ معاف فرما دے، اور آپ کو اس جنس کا بدلہ بھی دیا جائے ۔۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے: (ولیصفحوا الا تحبون ان یغفرلکم واﷲ غفور رحیم) (النور، ۲۲)، پس اگر تو اسے معاف کر دیتا ہے جو تیرے ساتھ زیادتی کرے، تو اﷲ تجھے معاف کرے گا، اور جب تو درگزر کرے گا تو تجھ سے درگزر کیا جائے گا، اور جس طرح تو پسند کرتا ہے کہ اﷲ تیرے گناہوں سے درگزر کرے، اسی طرح تو بھی دوسروں کو معاف کر دے۔
اور اسی طرح تیرے لئے درست نہیں کہ تو اپنے بھائی کو چھوڑ دے، یا تو اسکے لئے اپنے دل میں بغض اور کینہ رکھے، کیونکہ یہ تجھ سے عفو کو ختم کردے گا، اگرچہ تو گمان کرے اور اسکی موجودگی کا دعوی کرے، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین راتوں سے زائد کے لئے چھوڑ دے، وہ دونوں ملتے ہیں تو ایک اس جانب مڑ جاتا ہے اور دوسرا اس جانب، ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کی ابتدا کرے‘‘ (مسلم) رمضان ناراض دلوں کے لئے اصلاح کا موقع ہے، اور لوگوں کی دشمنیوں کی برف پگھلانے کا وقت ہے۔
اور جس طرح اجر اور ثواب حاصل کرنے کے لئے رمضان کے مکمل روزے رکھنا ضروری ہے، اسی طرح اعمال کی بہتری اور پختگی کا موقع بھی ہے، تاکہ آپ اس اجر کے اہل اور مستحق بن جائیں، ورنہ آپ اپنے مالک کو مزدوری کا محض دھوکہ دے رہے ہیں، اور اپنی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں، پھر ہر عمل کے مکمل ہونے پراﷲ عزوجل کے سامنے استغفار بھی کریں، اور اپنے قصوروں کی خواہ وہ عمداً سرزد ہوئے ہوں یاسہواً معافی مانگ لیں (واستغفروا اﷲ ان اﷲ غفور رحیم) (المزمل، ۲۰) (اﷲ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اﷲ بڑا غفور رحیم ہے۔)
اﷲ کے غضب سے ڈریے:
اور آخری بات ۔۔ رمضان کے بعد فخر کے دھوکے سے ڈریے، آپ یہ نہ کہیں: اﷲ نے مجھے معاف کر دیا ہے، اور اس کے بعد جو چاہیں کرنا شروع کر دیں، یا تو آپ اعمال میں کمی کا مظاہرہ شروع کر دیں، یا رب کی نافرمانی کرنے لگیں، یا عبادت کو بوجھ سمجھنے لگ جائیں، یا اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنا شروع کر دیں، بلکہ آپ کوشش کریں کہ اب سے دائما آپ رب کی مغفرت میں رہیں، اور اﷲ کے غضب اور اسکی ناراضی سے ڈرتے رہیں، اﷲ سبحانہ وتعالی ہم سے فرماتا ہے: (اعلموا ان اﷲ شدید العقاب وان اﷲ غفور رحیم) (المائدہ، ۹۸)(رسول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا اﷲ ہے۔)
اور یہ بھی : (غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول) (غافر، ۳) (گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحبِ فضل ہے۔) اور اس نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: (نبیء عبادی انی انا الغفور الرحیم۰ وان عذابی ھو العذاب الالیم) (الحجر، ۴۹ ۔ ۵۰) (اے نبیؐ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں، مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے۔)

حصہ

جواب چھوڑ دیں