حسنِ اتفاق

حسن اتفاق ہے کہ ٹیپو سلطان ، ملا عمر و اسامہ کا یوم وفات کچھ دنوں کے فرق سے اریپ قریب آتا ہے اور قدر یہ مشترک ہے کہ ٹیپو و اسامہ غداری کے سبب شہید ہوئے ملا عمر کی موت بیماری سے ہوئی لیکن اسکی وجہ بھی اس سے ملتی جلتی ہے کہ علاج میسر نہیں آسکا ۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح ان شخصیات کے یوم وفات خاموشی سے گزر جاتے ہیں حالانکہ نظریہ یکساں نہ ہو تو بھی بہادری مشترکہ وصف ہے ، خیر اوروں سے کیا گلہ عمر و اسامہ کا ذکر تو وہ بھی نہیں کرتے جنہوں نے انکے نام پہ چندے کیے گاڑیاں خریدیں، گھر کاروبار جما ئے، ووٹ لیے اور آج آل سعود کے تلوے چاٹ کر ٹائم پاس کرتے ہیں۔ فتوے داغتے ہیں ۔ انصار امہ کے فضل الرحمن خلیل بھی انہی میں سے ایک ہیں جنہوں نے یزید و حسین سے بیک وقت مراسم رکھ کراپنا الو ہمیشہ سیدھا رکھا ، اچھے اچھوں کو ششدر کردیا کہ کیا ہی کمال مہارت ہے ۔۔۔
اسامہ یوں بھی مختلف تھا کہ امریکی سامراج کے خلاف صرف دوسروں کے بچوں کو ہی نہیں نکالا بلکہ اپنی آل اولاد بھی اس رستے میں کٹوا دی ، اسے تو کوئی یہ طعنہ بھی نہیں دے سکتا کہ خود نکلا نہ اولاد نکالی ۔۔۔
اسامہ ہمارے عہد کا بڑا آدمی تھا ، نہیں رہا ۔۔۔۔ ہم بھی نہیں رہیں گے کوئی بھی نہیں رہے گا لیکن تاریخ طے کرے گی کہ ذلتوں کے گھونٹ بھری زندگی بہتر تھی یا جبر کے اندھیروں میں مشعلیں روشن کرتی زندگیاں ۔۔۔۔۔
یہ ارب پتی ، ہزاروں ارب پتی عربوں سے اس واسطے بھی منفرد رہا کہ موت کے خوف سے نظریات بیچے نہ یو ٹرن لیا ۔۔۔ کچھ دن پہلے محمد بن سلمان نے کہا” فلسطینی بکواس بند کریں یاٹرمپ کی تجاویز تسلیم ” تو مچھلیوں کا رزق بنا وہ شخص بہت یاد آیا جس نے صرف فلسطینیوں کا مقدمہ لڑنے کی خاطر پرتعیش زندگی چھوڑی مشکلات اور موت کا سامنا کیا ۔۔۔
جو زندگی اسامہ ساٹھ کی دھائی میں بسر کرتا تھا ہمارے اچھے اچھے حکمران سرمایہ دار یا برگر کلاس بھی اسکا تصور نہیں کرسکتے ، ذاتی جہاز سوئٹزرلینڈ میں تفریح وغیرہ وغیرہ ، لیکن اس شخص نے مشکل راستہ چنا بہادروں کا راستہ مزاحمت کا راستہ ۔۔۔
ہم چی گویرا کو بہادر ہونے کی وجہ سے پسند کرتے ہیں نظریاتی اختلاف اپنی جگہ ، اسامہ بھی بہادروں کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جس نے عالمی سامراج کو للکارا ۔۔۔
ملاعمر جدید تاریخ ایسا پر اسرار کردار ہے جس نے درجنوں طاقتور ممالک کی عسکری ہیبت ٹکنالوجی قوت فضائیہ اور استخبارات کا فہم فراست شجاعت اور استقامت سے سامنا کیا سینکڑوں صلیبی جرنیلوں کے سامنے وہ شخص تنہا ڈٹا رہا ، یہاں تک کے بے گناہوں کا لہو بہاتی اس جنگ کا ہر فریق اسکے پیروکاروں سے مذاکرات کا آرزومند ہوا ۔۔۔۔
مرعوبیت مسلمانوں کے نصیب میں عرصہ ہوا جڑ پکڑ چکی ، ورنہ اسامہ و عمر پہ سینکڑوں فلمیں کتابیں مضامین قلمند ہوسکتے ہیں ۔۔۔
فتح و شکست ثانوی چیز ہے ، اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ نے مشکل حالات کا سامنا کیسے کیا ؟؟؟؟
کبھی کبھی خیال آتا ہے جلال الدین خوارزم شاہ اور اسامہ بن لادن میں بہت کچھ مشترک تھا نازو نعم تعیشات میں گھری زندگی مال و دولت اقتدار اور پھر مقاصد کے حصول کے سب کچھ چھوڑچھاڑ کر وہ راہ اختیار کرنا کہ جس کا نتیجہ یقینی موت تھا اتفاق سے دونوں کے آخری دن بھی دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہے خوارزم شاہ کا کیا بنا کچھ نہیں پتہ لیکن اسامہ کی بابت ابامہ بتلاتا ہے کہ اسے ہم نے سمندر کے سپرد کردیا ۔۔۔
بےشک وہ سمندر جیسی وسعتوں کا حامل تھا بھلا زمین کہاں اسے سمو سکتی تھی ؟؟؟؟؟

حصہ
mm
فیض اللہ خان معروف صحافی ہیں۔۔صحافیانہ تجسس انہیں افغانستان تک لے گیاجہاں انہوں نے پانچ ماہ تک جرم بے گناہی کی سزا کاٹی۔۔بہت تتیکھا مگر دل کی آواز بن کر لکھتے ہیں۔کراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل س وابستہ ہیں

جواب چھوڑ دیں