جنسی مساوات

آج کے دور میں ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ عورتوں کو مردوں کے برابری کی بنیاد پر مساوی حقوق دیئے جائیں میں بھی یہی چاہتی ہوں آپ بھی یہی چاہتے ہیں ساری دْنیا کی بھی یہی تمنا ہے۔ لیکن شاید ہم ایک بات بھول جاتے ہیں اور اس پر بالکل توجہ نہیں دیتے کہ ہمارا معاشرہ کیا چاہتا ہے؟
ہمارا معاشرہ اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں ؟
اگر اجازت دیتا ہے تو کس حد تک؟
اگراجازت نہیں دیتا تو کیوں نہیں دیتا؟
یہاں پر ایک دلچسپ بات اور بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کو کس حد تک آزادی میسر ہے جو عورتوں کو نہیں ؟
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے ؟
مثال کے طور پر اگر ایک باشعور نوجوان اپنے علاقے میں صرف انٹرنیشنل لباس پہنے کی کوشش کرے توسارا معاشرہ سراپا احتجاج ہوگا ہر طرف سے اْس پر الزام تراشیاں شروع ہوں گی کہ یہ نوجوان معاشرے کو خراب کر رہا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسی باتیں ہمارے وہ گریجویٹس کرتے ہیں جو تبدیلی چاہتے ہیں چاہے وہ کسی ادارے کا آفیسرہی کیوں نہ ہو اْن کو یہ چیز پسند نہیں آتی کہ ہمارے معاشرے میں کوئی پینٹ شرٹ پہنیں۔ اگر ان باتوں پر ہم تھوڑی سی توجہ دیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہوگاکہ ہمارے معاشرے میں مردوں کوبھی آزادی میسر نہیں آپ تو عورتوں کی باتیں کر رہے ہیں ویسے تو یہاں پر بہت سیNGOs کئی سالوں سے کام کر رہی ہیں(None Formal Education)کi مثال لیجئے۔ کتنے پیسے ہوا میں اْڑا دیئے مگر فائدہ کس کوہوا ۔یہ رازشاید کسی کو پتہ نہ ہو۔ کیونکہ کچھ لوگ تو یہاں کے عوام کے نام پر کاروبار بھی تو کررہے ہیں میں اْس طرف جانا نہیں چاہتی کیونکہ اس طرف چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نام و نشان ہی نہیں۔
اگر ہم واقعی معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایمانداری سے اس بات پر زیادہ توجہ دینا چاہیے کہ اس معاشرے میں نوجوان طبقہ میں شعور کیسے پیدا کیا جائے؟کیونکہ یہاں پر سب سے بڑی جنگ شعور اور لاشعورکی ہے اور ہمیں نوجوانوں کو ذہنی شعور کی طرف راغب کرنے کے لیئے زیادہ توجہ دینا چاہیے۔مثال کے طور پر آپ کسی شیشے کے برتن میں ایک پودا رکھیں اور بعد میں ہر دن شیشے کے اوپر پانی ڈالتے جائیں تو کیا مستقبل میں آپ کو اسی پودے سے کچھ فائدہ حاصل ہوگا؟
یہ ابھی آپ کو سوچنا چاہیے !
میں برٹرنیڈرسل کی دو بات آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہوں۔ رسل کا کہنا ہے کہ انسان اپنے طور طریقوں اور رواجوں کے عادی ہوجاتے ہیں اور ان کو مثالی سمجھنے لگتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب وہ مختلف قسم کے طور طریقے اور رواج کو دیکھتے ہیں تو ان سے نفرت کرتے ہیں اور ان کو گھٹیا خیال کرتے ہیں یہ رد عمل انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے اسی طرح جن لوگوں نے جسمانی یا ذہنی طور پر کبھی سفر نہ کیا ہو۔ وہ اپنے عقیدوں اور رسموں کے غلام ہوتے ہیں اور جب کبھی اْن کو اپنے سے مختلف عقیدوں اور طور طریقوں سے پالا پڑتاہے تو ان کو برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے وہ ان کو فوراََ گھٹیا، احمقانہ، کافرانہ اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہیں‘‘
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگرواقعی ہم مخلص ہیں اورمعاشرے میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں عورتوں کو مردوں کے برابر لانا چاہتے ہیں تو رسل کی باتوں پر تھوڑا توجہ دینا چاہیے اس کا مطلب یہ ہے کہ’’ یہاں کے باشعور نوجوانوں کو اسکالر شپ کے ذریعے بیرون ملک پڑھنے کیلئے بھیجا جائے تاکہ وہ اپنے معاشرے کے خول سے نکل کر ترقی یافتہ اقوام کی رسم و رواج میں قدم رکھ کر اْن سے آگاہی حاصل کریں سوچیں ، سمجھیں اور تجزیہ کریں اپنے معاشرے اور دوسرے اقوام کے معاشرے میں فرق ڈھونڈیں تب اْن کو اپنے معاشرے کے خامیوں کا احساس ہوگا۔ اس لئے تو کہتے ہیں کہ’’ سو بار سنو ایک بار دیکھو ‘‘
جنسی مساوات کی میں خود ایک زندہ مثال ہوں، یتیم تھی، ماں نے نرسنگ پیشہ میں زندگی گزاری اور مْجھے اس قابل کیا کہ میں زندگی کی دوڑ میں شامل ہو جاؤں، محنت کی، تعلیم حاصل کی، ماڈلنگ کا پیشہ اختیار کیا اور زندگی کی اونچ نیچ سے ثابت قدمی سے گْزرتی ہوئی ڈانس اینڈ میوزک میں پی ایچ ڈی کر کے پہلی ڈانس اینڈ میوزک پی ایچ ڈی ہولڈر بنی، اور آج پْرتگال میں آرام کی زندگی گْزار رہی ہوں۔
میں بین الاقوامی اداروں کے رہنماؤں سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ باشعور نوجوانوں کے ذہنوں پر کام کیا جائے یقیناًجب یہ باشعور نوجوان بیرون ملک یعنی ترقی یافتہ ملکوں میں رہ کر کچھ سیکھیں گے وہاں سے Skill (یعنی مہارت) حاصل کر کے آئیں گے یہی نوجوان ترقی یعنی تبدیلی اور عورتوں کے مساوی حقوق کے علمبردار ہوں گے جو کام یہاں پر لاکھوں ڈالر خرچ کرکے حاصل نہیں کیا جاسکتا وہی کام یہاں پر رہنے والا ایک باشعور نوجوان مفت میں سرانجام دے سکتا ہے

حصہ

جواب چھوڑ دیں