ہمٹی ڈمٹی

“ہمٹی ڈمٹی” دیوارپر بیٹھا ہی کیوں تھا، پہلے تو کوئی یہ بتائے کہ وہ دیوار پر چڑھ کیسے گیا تھا، مجھے تو یہ شبہ ہے کہ “ہمٹی ڈمٹی” خود سے دیوار پر نہیں چڑھا ہوگا کیونکہ وہ تھا ہی اتنا عجیب الخلقت کہ خود سے دیوار پر چڑھ ہی نہیں سکتا تھا، یقیناً اس کو کسی نے آنکھ بچاکر نہایت چابک دستی اور خاموشی کے ساتھ دیوار پر بٹھایا ہوگا اور سلیمانی ٹوپی پہن کرہوا ہو گیا ہوگا۔

اس بات کا امکان بھی پایا جاتا ہے کہ “ہمٹی ڈمٹی” کو کسی نہ کسی طرح اس بات کا علم ہوگیا ہو گا کہ اس کو “بانس” کی بجائے “دیوار” پر چڑھانے والا کون تھا اس لئے “ہمٹی ڈمٹی” کو دیوار پر بٹھا نے والے نے سوچا کہ کیوں نہ اس کو دیوار سے نیچے گرادیا جائے اس طرح کئی مقاصد ایک ساتھ حاصل ہوجائیں گے، اول تو “ہمٹی ڈمٹی” زندہ ہی نہیں بچ سکے گا اور اگر بچ بھی گیا تو شاید ہی کچھ بتانے کے قابل رہے، پھر یہ بھی ہوگا کہ اس کو بچانے کے لئے “سارے کنگ ہارسز اور کنگ مین” دوڑ پڑیں گے اور پھر وہ طوفان بد تمیزی مچے گا کہ “الاماں الحفیظ” ۔۔۔۔۔۔ اور ہم خلائی اسٹیشن پر بیٹھ کر نظارے کریں گے۔

فی زمانہ ، ہر ملک کے لئے بہت بڑے مسئلوں میں ایک بہت بڑا مسئلہ اپنے ”کچرے“ کو ٹھکانے لگانا ہوتا ہے، کیا آپ کو اندازہ ہے کہ پاکستان کے شہر کراچی سے صرف وہ ”کچرا“ جو ہم روزانہ اپنے گھروں سے یا تو پڑوسی کے گھر کی جانب دھکیل دیتے ہیں یا کسی “مقامی” نظام کے تحت کوئی “جمعدار” اٹھا کر لیجاتا ہے اس کا وزن روزانہ کی بنیاد پر کتنا ہو گا، جی ہاں بارہ ہزار ٹن۔ یہ تخمینہ بھی پانچ سال پرانہ ہے اس لئے اب یہ سولہ ہزار ٹن سے بھی زیادہ کا ہو گیا ہوگا۔

اب رہی اور بیشمار پرانی اشیاء، پرانا فرنیچر، گھریلو استعمال کی انواع و اقسام کی چیزیں، الیکٹرونک اور بجلی کے آلات، عمارتی سامان، لاکھوں موٹر گاڑیاں اور نہ معلوم کیا کیا ، اگر ان سب کا حساب لگانے بیٹھ جائیں تو دماغ کی رگیں ہاتھ جوڑکر کہنے لگیں گی کہ کیا آپ ہم سب کو پھاڑ دینا چاہتے ہیں۔

بہت ساری اشیا ایسی بھی ہوتی ہیں جو ہوتی تو نئی اور کسی حد تک جدید بھی لیکن ان سے بہتر آجانے کی وجہ سے وہ “سرپلس” میں شمار ہونے لگتی ہیں اور ان سے بھی دل نہ چاہنے کے باوجود، پیچھا چھڑانا ضروری ہو جاتا ہے۔

جدید اور ترقیافتہ ممالک ایسا کرتے ہیں ہیں کہ وہ اپنی ایسی تمام اشیا ان ممالک کی جانب منتقل کردیتے ہیں جہاں ابھی ترقی کی کرنیں” نہیں پہنچی ہوتیں، سلے سلائے کپڑے، جوتے، بیشمار کمپیوٹرز، مانیٹرز، ایل سی دیز، موٹر کاریں اور نہ جانے کیا کیا جو کھرب ہا کھرب ٹن کچرا (ان کی نظر میں) وہ اپنے ملک میں ٹھکانے لگاتے تو شاید ان کی عقل ہی ٹھکانے لگ جاتی، اس طرح انھوں نے اپنی عقل ٹھکانے لگنے سے بھی بچالی اور اس سے مالی منفعت بھی حاصل کر لی۔ ایسا صرف جدید اور ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں کرتے بلکہ ہر وہ فرد، گروہ یا متوول طبقہ کر رہا ہوتا ہے جس کو اپنے گھر، آفس، کمپنی یا محل نما گھروں میں رکھی اور سجائی گئی اشیا پرانی، آوٹ آف دیٹ یا بد صورت نظر آنے لگتی ہیں لہٰذا وہ ایسی تمام اشیا سال بہ سال تبدیل کر لیا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قسم کی پرانی اشیابشمول فرنیچر مارکیٹ میں نظرآتا ہے جو کم حیثیت گھرانوں کے کام آتا ہے اور اپنی “طبعی” زندگی پوری کرنے کے بعد کسی کچرا کنڈی کی نذر ہوتا ہے۔

انھیں ممالک نے قسم قسم کے اسلحوں کے پہاڑ پر پہاڑ کھڑے کئے ہوئے ہیں، ہر “حربِ جنگ” کی ایک معیاد ہوتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ جب آپ اس ے بہتر ٹیکنا لوجی کی جانب بڑھتے ہیں تو پہلی والی ساری کھیپ بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔

ہتھیار کوئی روپے دو روپے کے تو بنتے نہیں اس لئے بے معنی ہونے کے باوجود (ان ممالک کے لئے) بھی بہر حال یونہی پھینک دینے کی چیز تو نہیں ہوتے، تو کیا کریں؟، کسی دوسرے ملک کے ہاتھوں فروخت کر دو ، مگر کوئی کیوں بلا ضرورت خریدنے لگا ؟، یہ کیا بات ہوئی، ابھی دیکھو، ہاتھوں ہاتھ بکے گا ، لیجئے ! کوئی اور تو ملانہیں ”مسلے“ (مسلمان) مل گئے۔ بہت دلچسپ اور عجیب و غریب قوم ہے۔ لڑنے کی اتنی شوقین ہے کہ اگر کوئی لڑنے والا نہیں ملے تو آپس میں ہی شروع ہوجاتے ہیں۔ انھیں یہ بھی کہتے سنا ہے کہ

جو ہم آپس میں لڑتے ہیں یہ خصلت ہے دلیروں کی

کہ مل کر بیٹھنا عادت نہیں ہوتی ہے شیروں کی

سو یہ طے ہوا کہ قبیلوں کو قبیلوں سے لڑا دو، مسالک سے مسالک کو الجھادو، رنگ کو نسل کے ساتھ اور نسل کو رنگ کے ساتھ خلط ملط کردو، حکومتوں کے کے خلاف باغیوں کو کمر بستہ کردو، کسی ملک میں کسی کا ساتھ دو اور کسی ملک میں کسی اور کے ساتھ کھڑے ہوجاو۔

اب لڑائی لا توں اور گھونسوں سے تو ہونے سے رہی، چاقو چھری اور تلواروں کا زمانہ بھی گیا، لڑنے کے لئے تو ہتھیار ہی چاہیے ہونگے اور وہ بھی ایسے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مقاصد یعنی تباہی مچانے والے ہوں۔

اب ہر چہارسو ہتھیار پر ہتھیار فرخت ہو رہے ہیں، حکومتوں کو اپنی حکومت بچانے کے لئے اور باغیوں کو اپنی پوزیشنیں مستحکم کرنے کے لئے، کسی نے کسی کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور کوئی کسی اور کا کاندھا تھپتھپائے جارہا ہے، دونوں بانس پر چڑھائے جارہے ہیں اور چڑھنے والے اور جوش و جذبے (وحشیانہ جذبے) کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

ہتھیاروں کی کارکردگی کی جانچ بھی بے حد ضروری تھی۔ اب تباہی پھیلانے والے ہتھیا اپنے ہی ملک پر تو برسائے نہیں جا سکتے تھے لہٰذا ان ہتھیاروں کو حسب روایت کسی اور ملک میں پھاڑے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایٹم بم کو بھی امریکہ نے اپنے ملک میں تھوڑی برسایا تھا، جاپان کو نشانہ بناکر اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ یہ ایک نہایت تباہ کن اور بھیانک ہتھیار ہے اور اس سے شہر کے شہر راکھ کا ڈھیر بنائے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کے ہتھیار پہلے افغانستان میں از خود آزمائے اور چلائے گئے پھر افغانستان میں ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ نکالی، بڑی کامیابی حاصل ہوئی، پھر عرب ممالک میں خلفشار برپا کیا اور دونوں ہاتھوں سے ”ڈالر“ سمیٹے ۔ اور ۔ اب “ہمٹی ڈمٹی” کو دھڑام کر کے گرا دیا۔

دیکھ لیں “ہمٹی ڈمٹی” کیا گرا کہ تمام “بادشاہوں” اور باد شاہتوں میں ہا ہا کار مچ گئی، وہ ادھر سے دوڑ رہا ہے ، وہ ادھر سے چیخ رہا ہے۔

سعودیہ کی سلامتی کو خطرہ ہو گیا ہے، تمام عرب ممالک کی “فوج” بنائی جائے، پاکستان کو صبح شام فون پر فون کھڑک رہے ہیں، یہاں کے حکمرانوں کی پتلیوں میں “ڈالر” چمک رہے ہیں، تیل کی بر سات نظر آرہی ہے، مارے خوشی کے راتوں کی نید حرام اور دن کا چین بردباد ۔

یہ مشتر کہ فوج کیا ہوتی ہے نہیں معلوم، کیا یہ سب اسرائیل پر حملہ کریں گے؟ کیا یہ فلسطین اور کشمیر کے دفاع کے لئے فوج بنے گی؟ کیا اس مشترکہ فوج میں شیعہ (عرب) ممالک بھی ہونگے؟ کیا یہ صرف ”سنیوں“ (عرب) کی فوج ہوگی؟۔

مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہونے والا ہے میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ “ہمٹی ڈمٹی” کو جس نے چپکے سے دیوار پر بٹھا کر گرا یا تھا اس نے اپنے مقاصد حاصل کرلئے ہیں، “ہمٹی ڈمٹی” کے لئے “سارے کنگ ہارسز اور ان کے سپاہی” جتنا بھی زور لگالیں، وہ اب واپس کبھی نہیں آئے گا کیونکہ جو کتاب میں لکھ دیا جاتا ہے وہی سچ ہوتا ہے، البتہ اسلحہ (فرسودہ و پرانا) خوب فروخت ہوگا، اسلحہ بنانے والے ممالک اس کو تلف کرنے سے بھی بچ جائیں گے اور ”نوٹ بھی خوب بنائیں گے اور تیل بھی سارے کا ساراپی جائیں گے“۔

 

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں