ووٹ کو عزت ، ووٹر کو ۔۔۔؟

                نواز شریف کو عدالت نے جب سے نااہل قرار دیا ہے تب سے وہ وہ عوام الناس کو اس بات پر ابھار رہے ہیں کہ ووٹ کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ وہ نااہل کیوں قرار پائے، ان کا نااہل قرار پانا درست ہے یا غلط، جس جرم میں ان کو نااہل کیا گیا ہے کیا وہ اتنا بڑا جرم ہے جس پر وہ ساری عمر کیلئے نااہل قرار دیدیئے جائیں؟، میں جو بات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کیا ان کے نااہل قرار دیئے جانے سے پہلے ”ووٹ“ کی کوئی عزت ہوا کرتی تھی؟۔ کیا اس سے قبل خود ان کو دو مرتبہ اور بینظیر کو بھی دو مرتبہ اقتدارچھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا؟۔ کیا ان سے قبل ماضی میں شیخ مجیب کو اقتدار منتقل کرنے میں پس و پیش نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا۔ کیا بھٹو کا یہ کہنا کہ “تم اُدھر ہم اِدھر” والی بات ووٹ کی عزت تھی؟۔ کیا بھٹو کا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ قبول کرلینا ووٹ کی عزت تھی؟۔ کیا بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے میں فوجی حکومت کا ممد ومعاون بننا ووٹ کی عزت تھی؟۔ کیا جونیجو جو ووٹ کی قوت سے اقتدار میں آیا تھا،  اس کو کرپشن کا الزام لگا کر اقتدار سے دھتکار دینا ووٹ کی عزت تھی؟۔ کیا ایک فوجی حکومت کی جانب سے گورنر بن جانے کی پیشکش کو قبول کرنا ووٹ کی عزت تھی؟۔ اگر ان سب کے جوابات ”نہیں“ میں آتے ہیں توپھر عوام کا یہ پوچھنا تو لازماً بنتا ہے کہ ووٹ کی عزت کا خیال ٹھیک اس وقت کیوں آیا جب عدالت عظمیٰ نے آپ پر اقتدار میں آنے کے سارے دروازے بند کر دیئے؟۔

                اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا آپ نواز شریف کے نکالے جانے پر خوش ہیں تو میں بلا توقف کہونگا کہ نہیں۔ کسی بھی ملک کیلئے یہ بات کہ اس کی حکومت کے سب سے بڑے عہدے پر متمکن فرد اس ملک کے آئین و قانون کے مطابق حکمرانی کا اہل ہی نہیں ہے، اس سے بڑھ کر اس ملک کی کیا تذلیل ہو سکتی ہے۔ پاکستانی ہونے کے ناطے میں ساری دنیا میں منھ دکھانے کے قابل کم از کم 1958 سے آج تک ہوں ہی نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت سے تاحال کوئی حکمران بھی ایسا نہیں آیا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کو ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو، ملک ٹوٹا، حکمرانوں کو الزامات لگا کر فارغ کیا گیا، ملک میں جہادیوں کو (نام نہاد) کو پروموٹ کیا گیا، اپنے عوام کو فروخت کیا گیا یہاں تک کے خواتین تک کو بیچا گیااور کبھی عدالتوں کے ہاتھوں ان کو تذلیل کا سامنا رہا۔ پاکستان کو چھوڑیے، اگر ایسی صورت حال جو پاکستان میں حکمرانوں کی رہی ہے، کسی بھی ملک کی یہی صورت حال ہو تو کیا اس ملک کے وقار پر آنچ نہیں آئے گی؟۔ اس دلیل کو سامنے رکھیں تو اس میں کوئی شبہ نہیں نواز شریف کا ہٹایا جانا( خواہ وجوہات کچھ بھی ہوں) کسی بھی طرح ملک کی عزت و وقار کیلئے اچھا نہیں لیکن فیصلے کے بعد شاید جو کچھ سامنے آرہا ہے وہ بھی اچھا نہیں ہے۔ ایسا سب کچھ بیرونی دنیا میں بھی بہت اچھی نظر سے نہیں دیکھا جارہا ہوگا۔

                بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ ہم اپنے اٹھائے گئے کسی فرعونی قدم کو محسوس نہیں کر رہے ہوتے کیونکہ اس وقت اقتدار کی سلاخیں گردن کو خم نہیں ہونے دیتیں لیکن غور کیا جائے کہ ایک انسان کی ایک دوسرے انسان کے ساتھ کی جانے والی تذلیل خود اسی کی ذلت و رسوائی کا سبب بن جاتی ہے۔ نواز شریف کسی بڑی خطا کے تحت نااہل قرار دیدیئے جاتے تو شاید میں اس وقت کچھ واقعات نہ دہراتا لیکن کیونکہ وہ ایک بہت معمولی وجہ کی بہت بڑی سزا پا رہے پارہے ہیں اس لئے میں معمولی معمولی لغزشوں پر بڑی بڑی اور کڑی کڑی سزا دینے کے واقعات کو کس طرح فراموش کرسکتا ہوں۔

                واقعہ ہے 7 فروری 2016 کا، اسلامی مملکت کے خلیفة، حضرت میاں محمد نواز شریف مری سے اسلام آباد بذریعہ سڑک تشریف لیکر آرہے تھے، اس قافلے کو پائلٹ کر رہے تھے ایس پی حسیب، وہ اپنے آپ کو کتنا خوش قسمت سمجھ رہے ہونگے جب ان کو یہ معلوم ہوا ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے ملک کے خلیفہ کے قافلے کو پائلٹ کریں گے لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ اس دوران خلیفة المسلمین کی گاڑی رش میں پھنس جائے گی۔ ادھر گاڑی رش میں پھنسی ادھر ان کی خوش بختی بد بختی میں تبدیل ہو گئی اورایس ایس پی حسیب کو اس سنگین جرم کی وجہ سے بیک جنبش قلم معطل کر دیا گیا۔

                اگلے ہی دن یعنی 8 فروری 2016کو اسی طرح کا واقعہ لاہور میں کلب چوک پر پیش آیا، یعنی خلیفة المسلمین کی گاڑی پھر رش میں پھنس گئی اور اتنے سنگین جرم کے ارتکاب پر ایس پی میمونہ رشید اور انسپکٹر فخر زمان کی خوش بختی کا فخر و غرور بھی معطلی کی خاک میں ملیا میٹ ہو کر رہ گیا۔

                اللہ تعالیٰ ہر فرد کو احسان کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور جو ملک کا سربراہ ہوتا ہے اس پر اس ہدایت کا اطلاق عام انسانوں سے بہت ہی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس کا درجہ قوم کے ”باپ“ کا سا ہوتا ہے لیکن دیکھا گیا ہے اقتدار کا نشہ جب تک سر چڑھ کر نہ بولے، مسند اقتدار پر بیٹھے ہوئے افراد کی تند خوئی کی سیریابی ہوتی ہی نہیں۔ غور کریں، دونوں مقامات پر کوتاہیاں تھیں لیکن اتنی بڑی نہ تھیں کہ رد عمل کے طور پر تعطلی کا ہی حکم سنایا جاتا، ایک حکمران کے ناطے اگر انھیں احسن طریقے سے سمجھادیا جاتا کہ ایسا ہونے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں اس لئے آئندہ محتاط رہا جائے تو تنبیہ بھی ہوجاتی اور جوانوں کے حوصلے بھی سوا ہو جاتے لیکن اپنے تاج و تخت کے آگے عفو و درگزر کا خیال کسی کو کم ہی آتا ہے۔

                ان دو واقعات کو سامنے رکھ کر اگر عدالت کی سنائی گئی سزا کو سامنے رکھا جائے تو کچھ ایسا ہی نواز شریف کے ساتھ بھی ہو گیا۔ بظاہر جس معاملے پر وہ عمر بھر کیلئے نااہل ہوئے وہ معمولی ہے اس سزا کے مقابلے میں جو ان کو ملی ہے لیکن موازنہ کیا جائے تو جو سزا وہ اپنے ہی محافظوں کو دیتے رہے وہ بھی بہت زیادہ تھی ان کی کوتاہیوں کے مقابلے میں۔

                ہوتا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ لاتعداد احسانات کو بھول جاتا ہے لیکن سرپر کوئی مصیبت آن پڑے تو اتنا شور مچاتا ہے جیسے اس سے مظلوم دنیا میں کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہی حال میاں محمد نواز شریف کا ہے کہ وہ اللہ کے سارے احسانات کو بھولے ہوئے ہیں اور اللہ کی ذرا سی گرفت پر آسمان سر پر اٹھائے پھر رہے ہیں۔ کیا یہ اللہ کی عنایت، احسان عظیم نہیں کہ جنرل ضیاالحق کی نگاہ نے ان ہی کوچنا اور انھیں پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ کیا ان کا بیک گراونڈسیاسی تھا؟، وہ اور ان کا خاندان ہندوستان اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی جانا پہچانا مقام رکھتا تھا؟، دونوں باتوں کا جواب ”نہیں“ سے بھی کوئی اور نچلے درجے کا لفظ ہوتا تو اس میں آتا۔ یکایکی وہ اور ان کا خاندان پاکستانی سیاست کے افق پر ایسا ابھرا کہ وہ تیسری بار پاکستان کی حکومت کے سب سے اعلیٰ عہدے فائز ہوئے لیکن وہ اس عزت کو نہ جانے کیوں سنبھالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ انسان بالکل ہی ہاتھ پاوں چھوڑ کر بیٹھ جائے لیکن میں اس بات کا بھی قائل نہیں کہ جب اپنے سر پر کوئی مصیبت ٹوٹے تب اس کو خیال آئین کا بھی آئے اور قانون کا بھی احساس ہونے لگے۔

                اس میں کوئی شک نہیں ووٹ کو پاکستان میں کبھی عزت نہیں مل سکی۔ عوام کی آرا کو ہر مرتبہ بڑی بیدردی کے ساتھ ٹھکرایا گیاجس کی وجہ سے پاکستان ہر دور میں مشکلات میں گھرا رہا اور فی الوقت وہ تاریخ کے نازک ترین دور سے گزررہا ہے لیکن ووٹ کی عزت کا شور آج تک کسی سیاسی رہنما نے نہیں مجایا۔ اب جو ہاہاکار مچی ہوئی ہے اس سے یہ تاثر ابھررہا ہے کہ جب تک خود اپنی دم پر پاوں نہ پڑے اس وقت تک کسی کو ووٹ قابل تعظیم اور لائق عزت و وقار نہیں لگتا۔

                ویسے یونہی برسر تذکرہ، کیا ووٹ کی عزت بس اتنی کچھ ہے کہ جو حکومت تشکیل پائے اس کے خلاف کوئی بات نہ کی جائے، وہ مقررہ وقت تک جو مرضی آئے کرے، ایوان میں جائے نہ جائے، ملک سے باہر اپنا وقت گزارے، ملیں بنائے، کارخانے تعمیر کرے، اولادیں عیش و آرام کی زندگی گزاریں اور وہ اپنے مقررہ وقت کو گزار کر پھر اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کردے یا ووٹ کی عزت یہ ہے کہ جن جن دعوں اور وعدوں کے ساتھ وہ اقتدار تک پہنچا ہے ان دعوں اور وعدوں کو پورا کرے؟۔

                پاکستان ایک ایسا جمہوری اونٹ ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔ آپ ووٹ کی عزت ملاحظہ کریں کہ وہ تمام ممبران صوبائی و قومی اسمبلی جو عوام کے ووٹوں سے اپنی اپنی پارٹی کے منشور کے مطابق منتخب ہوکر آتے ہیں وہ خو ووٹ کی جو بے عزتی اور تذلیل کرارہے ہوتے ہیں وہ بذات خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا عوام کی خاص رائے سے منتخب ہونے والے رکن اپنے حاصل کردہ ووٹ کو یہ عزت دیتا ہے کہ منتخب ہونے کے بعد جس پارٹی میں چاہے چلا جائے۔ جب چاہے وہ اپنی وفاداریاں بدل لے۔ کبھی ہم خیال کہلائے، کبھی ”پیٹریاٹ“ بن جائے، ن لیگ کا پی پی پی میں چلاجائے یا پی ٹی آئی میں ضم ہوجائے۔ کراچی میں تو ساری حدودوقیود کی سرحدیں ہی پامال ہو کر رہ گئیں۔ وہ پارٹیاں جنھوں نے اب تک کوئی الیکشن ہی نہیں لڑا وہ بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے مالک بن بیٹھیں۔ اگر یہی سب کچھ ووٹ کی عزت اور وقار ہے تو پھر ہمیں ووٹ کی بے توقیری اور بے عزتی کیلئے کچھ اور ہی الفاظ تراشنے ہونگے۔

                جب بھی حکمرانوں پر کوئی کڑا وقت آتا ہے تو وہ ایک بات کا ذکر کرتے نہیں تھکتے۔ یہ 22کروڑ عوام کا مسئلہ ہے، یہ 22 کروڑ عوام عزت و ذلت کا سوال ہے وغیرہ لیکن پورے ملک کا وزیر اعظم ہونے کے باوجود اگر کوئی یہ کہے کہ کے پی کے کے عوام یا سندھ کے عوام یا بلوچستان کے عوام میرا ساتھ دیں، مجھے خدمت کا موقع دیں تو میں ان کو پنجاب اور لاہور جیسا بنادونگا۔ یہ بات خادم اعلیٰ کہیں تو کسی نہ کسی طرح ہضم کی جاسکتی ہے لیکن وہ فرد جو پورے ملک کا حاکم ہو وہ ایسی بات کرے تو اظہار تاسف کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ کیا ایسا کہنا اور سمجھنا ووت کی عزت ہے؟۔

                ایک سیدھی سادی سی بات نہ معلوم رہبران قوم کو کیوں نہیں سمجھ میں آتی، ووٹ کی عزت اپنی جگہ لیکن جب تک ووٹر کو عزت نہیں دی جائے گی، اس کی فلاح و بہبود کا خیال نہیں کیا جائے گا، اس کی اشک شوئی نہیں ہوگی، اس کی خوشحالی کا نہیں سوچا جائے گا، اس کی مشکلات اور دکھوں کا مداوا نہیں ہوگا، اس کو انصاف بغیر کسی اجرت اس کی دہلیز پر نہیں ملے گا، اس کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں کیا جائے گا، اس کیلئے روزگار کے مواقع کشادہ نہیں کئے جائیں گے، تعلیم مفت یا سستی نہیں ہوگی، پورے ملک کا تعلیمی معیار بالکل ایک جیسا نہیں ہوگا، اس کو پینے کا صاف پانی اور غیرآلودہ ہوا میسر نہیں ہوگی، اچھے ہسپتال اور قابل ڈاکٹرز اسے میسر نہیں ہونگے اور امن و امان کا ماحول نہیں ہوگا اس وقت تک وہ ایک باعزت اور پر وقار شہری اور ووٹر بن ہی نہیں سکتا۔ وہ اور اس کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اسی طرح بکتے رہیں گے اور لوٹے بنے رہیں گے، بازار مصر سجتا رہے گا تو ووٹر کی کیا عزت و وقار رہ جائے گا، لہٰذا ضروری ہے کہ جو بھی مسند اقتدار پر بیٹھے وہ اپنے ووٹر کے لئے وہ کام کرے جس سے اس کی عزت و وقار میں اضافہ ہو۔ ایسا ہوگیا تو اس ملک میں کسی ادارے کی بھی یہ جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ ووٹ کو بے عزت و بے وقار کر سکے۔ اگر کسی کو اس میں کوئی شک ہے تو وہ ترکی کے عوام سے سبق سیکھے جو توپوں اور طیاروں والوں سے بھی بھڑ گئے اور ان کو اپنی اور اپنے ووٹ کی عزت کروانے پر مجبور کردیا۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں