نوری” اور “ناری” کے تذبذب سے قوم کو باہر نکالیں”

جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے توں توں ان ساری جماعتوں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے جو رکاوٹ بن سکتی ہیں ان جماعتوں کی جیت میں جو یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ پاکستان میں ایک ایسی جمہوریت آئے جو اوپر سے تو “وائٹ کالر” ہو لیکن اس کے پیر میں سیفٹی شوز ہوں۔ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کی کوشش عرصہ دراز سے جاری ہے اور اس کشمکش میں پاکستان مسلسل انحطاط کا شکار ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ہر وہ پارٹی جو اقتدار میں ہوتی ہے اس کے خلاف ایک محاذ بنایا جاتا ہے اور جب تک اسے اقتدار سے فارغ نہ کر دیا جائےاس وقت تک اسے ہر سطح پر اس بری طرح گھیرا جاتا ہے کہ وہ ہزار پھڑپھڑا نے کے باوجود بھی نجات کا کوئی راستہ نہیں پاتی۔

مزے کی بات یہ ہے جس پارٹی یا پارٹیوں کی مدد سے کسی اقتدار پر متمکن پارٹی یا پارٹیوں کو ہٹانے کیلئے مربوط اور منظم کیا جاتا ہے وہ وہی پارٹی یا پارٹیاں ہوتی ہیں جن کو اقتدار سے باہر محض یہ کہہ کر کردیا گیا ہوتا ہے کہ وہ ملک و قوم کیلئے سیکیورٹی رسک ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ کچھ ہی مدت بعد ایک نیا محاذ کھولاجاتا ہے اور نئے بنائے جانے والےمحاذ کی روح رواں پارٹی وہی پارٹی ہوتی ہے جس کو ملک دشمن قرار دیکر اقتدار سے فارغ کیا گیا ہوتا ہے۔ چوہے بلی کا یہ گھناؤنا کھیل کئی دھائیوں سے جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اقتدار سے فارغ کردینے یا دوبارہ مرضی کی حکومت تشکیل دیئے جانے اور اس الٹ پھیر میں صرف سول حکومت ہی نشانہ نہیں بنتی آئی ہے بلکہ وردیاں بھی آپس میں ٹکراتی رہی ہیں۔ ایوب خان کو یحییٰ لے بیٹھے تھے اور مشرف کے گلے نہ صرف حاضر ڈیوٹی وردیاں پڑگئیں تھیں بلکہ تمام ریٹائرڈ جنرلوں نے بھی ایک محاذ کھڑا کر دیا تھا اور اس یکجہتی کا انجام مشرف کا اقتدار سے علیحدگی پر ختم ہوا۔ اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھی مشرف کی جان نہیں چھوٹی بلکہ میڈیا اور میڈیا کے سارے جغادری یک زبان ہو گئے اور مشرف کی وردی میں سے وہ وہ کیڑے نکالے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ان سب کاوشوں کے باوجود بھی عام رائے اس پارٹی کے حق میں چلی گئی جس کے متعلق حکومتیں بنانے والی اور بنا کر توڑنے والی قوت کو گمان بھی نہ ہوگا کہ نتائج ان کی مرضی و منشا کے خلاف نکلیں گے۔ مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ نتائج اس کی مرضی و منشا کے مطابق نہ نکل سکے لیکن لیڈنگ پارٹی بہت مضبوطی کے ساتھ کامیابی حاصل نہیں کرسکی تھی اس لئے اس میں سے “پیتریاٹ” کا پارچہ کاٹ لینا دشوار نہیں تھا سو اس کا تڑکا یا بھنگار پانچ سال باآسانی گزار گیا۔ اگلے الیکشن میں مشرف کو پورا اعتماد تھا کہ وہ 2008 کے الیکشن کے نتائج اپنی مرضی و منشا کے مطابق حاصل کر لیں گے لیکن عوام نے ان کی ساری کاوشوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا اور جس پارٹی پر انھوں نے زیادہ بھروسہ کیا تھا اسی پارٹی نے ان کو وہ ذلت عطا کی کہ آج تک وہ پاکستانی سیاست میں اپنا سروقد ابھارنے کے قابل نہ ہوسکے۔ پی پی پی کی حکومت بنی لیکن حسب روایت اس کے خلاف بھی مسلسل وہی روایتیں سامنے آتی رہیں جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آصف زرداری کی سیاسی کھوپڑی نے پی پی پی کو پانچ سال مکمل کرنے موقعہ فراہم کیا لیکن اس پورے عرصے میں پی پی پی کی حکومت پر بے پناہ داؤرہا اور اس کو کھل کر کام کرنے کا موقعہ نہ مل سکا۔ نواز کی کامیابی نے تو نادیدہ قوتوں کو اس حد تک ہراساں کیا۔ اس کے خلاف بلاجواز ایک محاذ کھڑا کرکے ایک ہی سال گزرنے پر شیدید حملہ کروایا گیا اور اپنے اقتدار کے اوائل ہی میں اس بات کی کوشش کی گئی کہ حکومت کا خاتمہ بالخیر ہوجائے۔ ایسا کیوں نہ ہوسکا؟ یہ ایک الگ بحث ہے لیکن ایسا ہوا کیوں؟، یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب کوئی اور طلب کرے یا نہ کرے تاریخ ضرور طلب کرے گی۔

یہ ساری باتیں دہرانے کا مقصد و مدعا ایک ہی ہے اور وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ہر مرتبہ اور ہر دور میں ایک “سیاسی ونگ” بنا کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوششیں کبھی بارآور ثابت نہ ہو سکیں بلکہ دیکھا گیا ہے کہ عوام نے ایسی تمام کوششوں کو رد کرتے ہوئے اپنے ان ہی لیڈروں اور پارٹیوں کے حق میں اپنی رائے استعمال کی جس کو قانونی یا غیر قانونی طور پر برخاست کیا گیا اور اس طرح سیاسی ونگ کی تشکیل کا ہر نظریہ، خواہش اور کوشش کو مسترد کر دیا گیا۔

2014 سے جس بات کی کوشش کی جارہی تھی کہ ایک مضبوط حکومت کا سورج کسی نہ کسی طرح غروب ہو اس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس کے خلاف میڈیا پر پہرے بٹھانا، ایسے مبصرین کومامور کرنا جو باقائدہ سیاسی پارٹیوں کے کارندے ہوتے ہوئے بھی میڈیا کے ملازم ہوں، پھر میڈیا کے مالکان کو بھی لگامیں دینا اور جو لگام قبول نہ کریں ان کو مجبور کردینا جیسے اقدامات اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ جس کو ہم نظروں سے گرادیں، سب پر لازم ہے کہ اسے راندہ درگاہ کریں۔ اس رویے کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف کا یہ بیانہ ان کے حق میں سم قاتل تو بننا ہی تھا جس میں انھونے ممبئی میں ہونے والے واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے اور اس کو پاکستان کے سیکورٹی کے ملوث ہونے کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ یہ بیان گو نیا نہیں ہے اور اس بیان کو تقریباً پاکستان کے ہر بڑے سیاستدان نے قریب قریب اسی طرح “اون” کیا ہے لیکن کیونکہ فی الحال اس وقت فضا نواز شریف کے خلاف کسی حد تک بہت زیادہ ہموار ہو چکی ہے اس لئے ان پر مزید پابندیاں لگانا اور بھی آسان ہو سکتا ہے۔

ممبئی پر حملوں کے بعد پاکستان میں جو عام رائے تھی وہ وہی تھی جس کا ذکر نواز شریف کے بیانیے میں ملتا ہے۔ اس میں پاکستان کے تمام چوٹی کے رہبران شامل تھے اور اس بات کو نہ صرف انھوں نے پاکستان کے میڈیا کے سامنے دہرایا بلکہ غیر ملکی میڈیا کے سامنے بھی اقرار کیا کہ ایسا سب کچھ پاکستان کی مسترد تنظیموں نے ہی کیا ہے۔ واقعے کا اقرار اس وقت کے جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل بھی کرتے رہے ہیں اور عمران خان بھی۔ عمران خان کے متعلق جمعرات، 8 نومبر 2012،  بی بی سی اردو، رپورٹ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ “وہ ممبئی حملوں کے قصورواروں کو ضرور سزا دلوائیں گے۔یہ بات عمران خان نے بھارٹی اخبار ر میل ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ وزیر اعظم بنے تو ممبئی میں حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹھہرے میں لیکر آئیں گے”۔

یہی نہیں، جیو نے حملے کے ایک دن بعد ہی اجمل قصاب کے گھر تک کا کھوج لگا کر اس بات سے دنیا کو آگاہ کر دیا تھا کہ اجمل قصاب کے گاؤں گوٹھ کا پتہ کیا ہے۔ عمران خان انڈیا میں اور کئی پروگراموؐ میں اور بہت کچھ بھی کہتے رہے ہیں۔ یہ بات عمران خان پر ہی موقوف نہیں بلکہ پاکستان میں اور بھی مقتدر ہستیاں اسی قسم کی باتیں کرتی رہی ہیں لیکن ان کے خلاف نہ تو میڈیا کچھ بولنے کیلئے تیار ہے اور نہ سیکویورٹی ادارے ان کے خلاف کوئی ایکشن لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں یہ کنفیوژن بھی موجود ہے کہ آیا جس طرح میڈیا کسی بیان کی تشہیر میں لگا ہوا ہے، ایسا سب کچھ اسی انداز میں خود میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے یا پھر ان کے کسی انٹرویو یا کسی موقع پر کی گئی کسی تقریر یا بات چیت کا حوالہ ہے۔ اس لئے کہ ان کی پارٹی کا مؤقف ان کے بیان کے بارے میں کچھ اور ہے۔

” پاکستان مسلم لیگ(ن) نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے انٹرویو میں دیے گئے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہے بھارتی میڈیا نے بیان کی غلط تشریح کی اور بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا کے ایک حلقے نے اس کی توثیق کردی۔نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان(ن)لیگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قائد کی جانب سے دیے گئے انٹرویو کی بھارتی میڈیا نے غلط تشریح کی۔حکمران جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کی غلط تشریح کو بدقسمتی سے پاکستان کے الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ایک حلقے نے ارادی یا غیرارادی طور پر نہ صرف بھارتی خبروں کی توثیق کی بلکہ بیان کے مکمل حقائق کو جانے بغیر بھارتی میڈیا کے بدترین پروپیگنڈے کو تقویت دی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ(ن) لیگ ملک کی مقبول ترین قومی سیاسی جماعت ہے اور اس کے قائد کو پاکستان کی قومی سلامتی کے تحفظ اور بہتری کے لیے اپنے عزم اورصلاحیت کے حوالے سے کسی سے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف وزیراعظم تھے جنھوں نے پاکستان کی تاریخ میں تمام دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے مئی 1998 ء میں ایٹمی طاقت بنانے کا قومی سلامتی کا مشکل ترین فیصلہ کیا۔ ترجمان(ن)لیگ نے انتخابی مہم میں پارٹی صدر شہباز شریف کے کردار کے حوالے سے بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بھی(ن)لیگ کے قائد کے بیان کی غلط تشریح کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف(ن)لیگ کے منتخب صدر ہیں اور اسی حیثیت میں پہلے سے ہی پارٹی کی انتخابی مہم میں پیش پیش ہیں اور پارٹی کے پیغام کو ملک کے کونے کونے میں پہنچا رہے ہیں،اس حوالے سے مستقبل میں ان کی ذمے داریوں پر کوئی ابہام نہیں ہے”۔

دوسری جانب قومی سلامتی کے مقتدر اداروں نے ممبئی حملوں سے متعلق سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کے متنازع انٹرویو پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے سیکرٹریٹ نے اس حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو آگاہ بھی کردیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتدر ادارے حیران ہیں کہ نواز شریف نے اس متنازع انٹرویو کی وضاحت 2 روز گزرنے کے باوجود بھی نہیں کی اور اس انٹرویو کے لیے انہوں نے ڈان لیکس کے مرکزی کردار سرل المیڈا کا ہی انتخاب کیا۔ذرائع نے مزیدانکشاف کیا کہ سرل المیڈا کے ذریعے ممبئی حملوں سے متعلق نوازشریف کے انٹر ویو کا فیصلہ مریم نواز اور پرویز رشید کی مشاورت سے ہوا اور ان دونوں پر ڈان لیکس کے حوالے سے سنگین الزامات بھی لگے تھے ،سرل المیڈا کو ملتان ائر پورٹ پر خصوصی انٹر ی پاس جاری کیا گیا،اس کے لیے مشیر ہوا بازی سردار مہتاب کے پی ایس او نے خصوصی طور پر اجازت نامہ جاری کیا اور انٹرویو بھی ملتان ائر پورٹ پرلیا گیا ۔ذر ائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں نے نوازشریف کے انٹرویو کو ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں کھیلنے کے تناظر میں لیا ہے اور ان کے خلاف بھی اسی طرح کے اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا جس طرح کی پابندی الطاف حسین پر لگی تھی۔ قومی سلامتی کے اداروں نے نوازشریف کے اس بیان کو پاکستان کی سلامتی اور بھارت کے حوالے سے پاکستان کے نقطہء نظر کو کمزور کرنے کے تناظر میں دیکھا ہے اور اس معاملے کو ایسے ہی نہیں جانے دیا جائے گا۔

ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ بہت ساری ایسی باتیں جو اور بیشمار پارٹیاں یا ان کے لیڈر کر رہے ہوتے ہیں ان سب کے ساتھ ایک جیسا معاملہ نہیں کیا جاتا۔ اگر تشویش کی اس موجودہ لہر کو سامنے رکھا جائے تو ماضی و حال میں اسی قسم کی باتیں وہ بھی کررہے ہیں جو اس وقت افواج پاکستان کی پالیسیوں اور ان کے اٹھائے گئے ہر قدم کو سراہنے میں پیش پیش ہیں۔ اگر اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے اور کون کس سے اکھڑا اکھڑا ہے، قانون کے مطابق سب کے ساتھ معاملہ کریں تو شاید “ہی کسی کو شکایت کا موقعہ ملے لیکن مصلحتوں کے ہاتھوں مجبور پاکستانی سیاست شاید ہی اس گورکھ دھندے سے باہر آسکے۔ کل کے “برے” آج کے “اچھے” اور آج “برے” آنے والے کل کے “اچھے” کب بن جائیں اس کا علم اللہ کو ہے یا پھر وہ قوتیں جو یہ سمجھ بیٹھی ہیں کہ ان سے اچھا پالیسی ساز اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

ہر آنے والا لمحہ پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں ابہام کو بڑھا تو ضرور رہا ہے لیکن اسے کم کسی بھی سطح پر نہیں کر پا رہا۔ اگر غور کیا جائے تو اس کا بنیادی سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ جس جس کے خلاف اخبارات میں خبریں لگائی جا رہی ہیں، جلسوں میں زور شور سے ان کے بھیانک پہلو گنائے جا رہے ہیں، جن کو پاکستان کا دشمن اور غدار قرار دیا جا رہا ہے ان کے کسی بھی ترجمان کو یہ موقعہ دیا ہی نہیں جا رہا کہ وہ اپنی صفائی میں عوام کے سامنے یا میڈیا پر بیٹھ کر کچھ کہہ سکے۔ بعض اوقات تو یہ بھی حد دیکھنے میں آئی ہے کہ جس بیان پر دنیا کے کسی آزاد چینل یا اخبار میں دیئے گئے انٹر ویو کا حوالہ تنقید نگار دے کر اخبارات اور اپنے اپنے چینلوں پر بیٹھ کر اپنے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہوتے ہیں اس بیان تک کا تذکرہ نہیں کیا جارہا ہوتا کہ آخر کہنے والے نے کہا کیا تھا بس ہر جانب سے محض تنقید اور تبرے بازی کے علاوہ کچھ اور کیا ہی نہیں جارہا ہوتا۔

کراچی میں ایم کیو ایم (لندن) کو لتاڑنے کیلئے تو ہر پارٹی اور لیڈر آرہا ہے لیکن ان کے کسی نمائندے کی شکل تک دیکھنا گوارہ نہیں۔ منظور پشتین کے خلاف محاذ آرائی لیکن وہ خود کیا مؤقف رکھتا ہے، بلیک آوٹ جیسے اقدامات کسی سے نفرت کی بجائے ہمدردی کو پروان چڑھانےکے مترادف ہیں۔ یکطرفہ اظہار خیال کی کوکھ سے یکطرفہ ہمدردیاں جنم لیا کرتی ہیں جس کی تازہ ترین مثال منظور پشتین کا کراچی میں ایک بہت بڑا جلسہ ہے جو بہر حال کوئی اچھی خبریں سناتا نظر نہیں آرہا۔ یہ اس جانب بھی ایک اشارہ ہے کہ قوم جس کو بھی سننا چاہے تو اس کے جلسے یا کسی اور قسم کی سیاسی تگ و دو کو نہ تو ٹی وی کوریج کی ضرورت ہوتی ہے، نہ پوسٹروں کی، نہ جھنڈوں کی بہاروں کی اور نہ ہی کسی اشتہاری مہم کی۔ لوگ خود ہی اس کا اشتہار، پوسٹر، جھنڈے اور بینر بن جایا کرتے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس کے جلسے کو آج جس بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے کل ممکن ہے کہ نظر انداز کرنے والے خواہ وہ نظر آنے والے ہوں یا دکھائی نہ دینے والے ہوں، تہہِ عتاب آرہے ہوں، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عام و خاص کے سامنے ہر فرد کا مؤقف آنا چاہیے اور مجھے اس بات کا یقین ہے لوگ ہر ایک کا مؤقف سننے کے بعد زیادہ بہتر فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

میں آخر میں وسعت اللہ خان کے کالم کے ایک چھوٹے سے پیرا گراف کو ضرور کوڈ کرنا چاہوں گا جس میں وہ کہتے ہیں کہ ” اس ملک میں غفار خان، ولی خان، جی ایم سید، خیر بخش مری، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، فاطمہ جناح، حسین شہید سہروردی، جام ساقی، بے نظیر بھٹو، کیمونسٹ پارٹی، عوامی لیگ، نیپ سمیت کئی غدار اور سیکورٹی رسک قرار پائے مگر تاریخ نے صنعتِ غدار سازی کا کبھی ساتھ نہیں دیا۔ دو ہزار اٹھارہ میں اس فلم کا چلنا اور مشکل ہے”۔

میں بھی ایسا ہی خیال کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ہر فیصلے کو عوام پر ہی چھوڑدیا جائے تو بہتر ہے ورنہ کسی نے کب منع کیا ہے کہ مسند اقتدار پر بالجبر قبضہ کر لیا جائے۔ ماضی میں ایسا ہی کچھ متعدد بار ہو چکا ہے۔ لوہا اب بھی خوب گرم ہے بجائے وار پشت سے کیا جائے اور مستقبل میں خانہ جنگی کے امکانات کو بڑھایا جائے جن کو اقتدار پسند ہے وہ بڑے شوق سے آئیں اور ان کی نظر میں جو جو بھی ملک دشمن، کرپٹ، بدکردار اور ناپسندیدہ افراد ہیں ان کا صفایا کر دیں مگر اب اگر آئیں تو پھر جمہوریت اور انتخابات کا نام تک نہ لیں کیونکہ لوگ ہر بار کی طرح انھیں کرپٹ، بد کردار اور ملک دشمنوں ہی کو منتخب کرنے سے باز نہیں آئیں گے جو آپ کی نظروں میں روز ازل سے کھٹکتے چلے آرہیں ہیں۔ قوم کو اس تذبذب سے باہر نکالیں کہ حکومت کے لائق “نوری” ہیں یا “ناری”۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں