پیرانِ سیاست کے پیر،گرو گرمیت رام رحیم

                پاکستان اور انڈیا میں صدیوں سے بہت سے لوگ جعلی گرو، پیر، بابے وغیرہ بن کر اپنے چیلوں اور مریدوں کی درگت بناتے چلے آرہے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آئیے ہم ”جوش ملیح آبادی“ سے اس کی حقیقت معلوم کرتے ہیں وہ(مرحوم) ایک پیر خانقاہ کی اپنے حق میں کی جانے والی دعا کے حوالے سے فرماتے ہیں

عقل کی جن پہ بند ہیں راہیں

وہ بشر ہیں مری چراگاہیں

ہر چراگاہ ان میں اے اللہ

لہلہاتی رہے بہ عزت و جاہ

                انڈیا میں کچھ ماہ پہلے شدید ہنگامے ہو ئے تھے جن میں قیمتی جانوں کا ضیاع ایک نہایت افسوسناک اور ظالمانہ فعل تھا، وہیں ایک عجیب قسم کا احساس بھی ہو رہا تھا کہ ایک گرو جی کو مجرم قرار دینے پر ایسے خوفناک ہنگامے ہو گئے جب کہ یہاں ایک وزیرِ اعظم کو قصوروار ٹھہرایا گیا لیکن لوگ اس طرح گھروں سے باہر نہیں نکلے جس طرح ایک جعلی پیر کیلئے سڑکوں پر نکل پڑے تھے۔

                پیر فرتوت، پیرانِ سیاست کے پیر،گرو گرمیت رام رحیم پر یہ الزام قریب 15 سال پہلے لگایا گیا تھا مگر فیصلہ چند ماہ قبل ہوا۔ گرو جی کنہیا بن کے گوپیوں کے ساتھ خوش وقتی فرما رہے تھے اور اگر آپ ان کے چیلوں سے پوچھیں گے تو ان کے پاس ایک ہزار ایک عذر موجود ہوں گے۔ پچھلے دنوں پاکستان میں ایک جعلی پیر نے اپنے کئی مریدوں کو قتل کر دیا تھا۔ مریدوں کی خواتین کے ساتھ بدسلوکی تو ایک عام بات بن چکی ہے۔ ہندوستان پاکستان کے چپے چپے پر پھیلے ہوئے ان جعلی پیروں کے ڈیروں اور خانقاہوں میں اصلی تصوف کی رمق بھی باقی نہیں۔ اور ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ میں جوش ملیح آبادی کی زبانی اوپر تحریر کر ہی چکا ہوں۔

                ایسے ڈیروں کی بڑی تعداد نشے اور بدفعلی کے مراکز بن چکے ہیں لیکن دونوں ملکوں میں ان کی طرف سے کان اور آنکھیں بند کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ جو لوگ ان ڈبہ پیروں کے سجادہ نشین ہیں، ان کا تو مت ہی پوچھیں۔ میرے ساتھ سکول میں ایک نہایت میلا، بدتمیز، غبی اور احمق لڑکا پڑھتا تھا۔ پچھلے دنوں کسی تقریب میں ملاقات ہوئی۔ باقی حلیہ اور ذہنی معیار وہی تھا بلکہ مزید پست ہو چکا تھا، فر ق صرف اتنا تھا کہ اب موصوف ایک گدی پہ متمکن تھے۔ چونکہ نسبت بہت بڑی تھی اس لیے کوئی کچھ کہتا نہیں تھا۔ ورنہ پیر صاحب مدظلہ عقل سے آج بھی پیدل ہیں۔

                حیدرآباد میں میں ایک بچی جس کی عمر بصد مشکل دس بارہ سال رہی ہوگی، پیدائشی عقل سے کوری تھی اور بہت خراب حالت میں گلیوں اور سڑکوں پر گھوما کرتی تھی۔ والدین اتنے غریب تھے کہ اس کی مناسب دیکھ بھال بھی نہیں کر سکتے تھے۔ لوگ اسے ”اللہ والی“ کہنے لگے اور مرادیں پانے لگے۔ ایک دن یہ اللہ والی اللہ کو پیاری ہو گئی۔ مزار بن گیا اور آج کل ان غریب ماں باپ کی بچی جس کی وہ دیکھ بھال بھی نہیں کر سکتے تھے، کروڑوں کی ہو گئی۔ عرس ہوتے ہیں، چادریں چڑھتی ہیں اور ہن برستا ہے۔

                ہندوستان اور پاکستان میں ایسے مزارات ہزاروں کی تعداد میں ۔۔ کیوں ہیں ۔۔ جوش ملیح آبادی کو سلام

                پیر فرتوت، پیرانِ سیاست کے پیر،گرو گرمیت رام رحیم جس کسی کے لیے دعا کرتے ہیں اس کا منہ کھلوا کر اس میں تھوکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جا اب نہ صرف تیرا مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ میں نے اپنی زبان تجھے دے دی تو بھی جس کے حق میں دعا کرے گا اس کا بیڑہ پار۔یہ پڑھ کر آپ کو یقیناً الٹی تو ضرور آگئی ہوگی، میں نے زیادہ سنجیدگی سے سوچ لیا اس لئے الٹی کے ساتھ ”سیدھی“ کا آجانا تو بنتا تھا۔

                 ایک اور بزرگ کو لوگ پیر پھنبہ پکارتے تھے۔ وجہ تسمیہ یہ تھی کہ حضرت دن رات کان میں پھیرنے کو پھریریاں بٹتے تھے اور پھر ان سے کانوں کا میل نکالتے تھے۔ یہ میلی پھریریاں حاصل کرنے کو مریدوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے رہتے تھے۔ استعمال شدہ پھریری کو تبرک کے بطور مرید اپنے گھر میں رکھتے تھے کہ اس سے گھر میں برکت ہو گی۔

                بعض پیر ایسے بھی ہیں کہ اپنے مریدوں کو جلال میں آ کر بری طرح دھمکاتے ہیں، بعض تو ڈنڈے ونڈے بھی مارتے ہیں۔ کچھ پیر جھاڑو سے ٹھکائی لگاتے ہیں۔ جن نکالنے کے لیے مرچوں کی دھونی دینا ایک عام عمل ہے۔ کبھی یہ گرو اتنے بڑے نذرانے مانگتے ہیں کہ مریدوں کی کمریں دہری ہو جاتی ہیں لیکن وہ بخوشی پیر صاحب کی فرمائش پوری کرنے میں جت جاتے ہیں۔ گھر میں کھانے کو ہو نہ ہو مگر مزار کی شیرینی اور پیر صاحب کی نذر کا پیسہ کہیں نہ کہیں سے ضرور حاصل کیا جاتا ہے۔

                ملازمت کے سلسلے میں میری پوسٹنگ ضلع اٹک کے ایک دور افتادہ دیہات میں ہوئی، ایک دوست نے بتایا کہ میری پاس دو بکریاں ہیں ان میں سے ایک پر فالج گرگیا ہے۔ پیرصاحب نے میری دوسری تندرست بکری مانگی ہے کہ اس کے خون سے تعویز لکھ کر دیں گے۔ میں نے بُہتیرا سمجھایا کہ جوفالج کا شکار ہوئی ہے وہ شاید ہی بچے لیکن تمہاری تندرست بکری خوامخواہ ماری جائے گی اس لئے صبر کرو اور تندرست کو بچالو مگر وہ نہ مانا۔ دوسرے دن اس کی تندرست بکری تو ”حلال“ ہوئی جس کے خون سے لکھا تعویز تو اسے مل گیا لیکن فالج زدہ بکری کو زندگی نہ مل سکی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اوپر بیان کر ہی چکا ہوں(جوش ملیح آبادی زندہ باد)۔

                ہندوستان پاکستان کے چپے چپے پر پھیلے ہوئے ان ڈیروں اور خانقاہوں میں اصلی تصوف کی رمق بھی باقی نہیں۔دونوں ملکوں میں جماعت کا بھی رواج ہے۔ یہ ملنگوں کی پارٹی ہوتی ہے جو منت پوری ہونے پہ ہر سال عرس کے دنوں میں خود چیلے کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ ناچتے کودتے بھی ہیں، کھانا بھی کھاتے ہیں اور مزار کے لنگر کے لیے کچا راشن بھی لے کر جاتے ہیں۔

                سوال یہ ہے کہ یہ ڈبہ پیر ایسا کیوں کرتے ہیں اور مرید یا چیلے اپنی یہ گت کیوں بنواتے ہیں؟ انسان کے اندر ابتدائے آفرینش سے ہدایت کی خواہش چھپی ہوئی ہے۔ ہر شخص ایک رہنما، لیڈر یا ایسی ہستی کی تلاش میں رہتا ہے جسے کسی بھی مشکل وقت میں ہدایت و رہنمائی کے لیے پکارا جا سکے۔ تقریباً تمام مذاہب کے ٹھیکیداروں نے خدا کو بندے کی پہنچ سے بہت دور کر دیا ہے۔ مالک اور بندے کے درمیان اس قدر دوریاں پیدا کر دی ہیں اور راستہ اتنا طویل کر دیا ہے کہ انسان یا تو گھبرا کے لادین ہو جاتا ہے یا کوئی شارٹ کٹ اختیار کرتا ہے۔ شارٹ کٹ پہ تمام ڈبہ پیروں اور جعلی گرووں کا قبضہ ہے۔مرید آنکھیں بند کر کے اپنے آپ کو ڈبہ پیر کے حوالے کرتا ہے اور پیر اس کی بے بسی سے تسکین پاتا ہے۔ ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ یہ پیر یا گرو اپنے بھگتوں کی تذلیل کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ رام رحیم کے معاملے میں ہوا۔

ہمارے ہاں پنجاب میں کسی کو ”بے مرشدا“یا ”بے پیرا“کہنا گالی ہے۔ یعنی ایک ایسا شخص جس کے لیے دعا کرنے والا اور اسے سیدھا راستہ دکھانے والا بھی کوئی نہیں۔ گویا ان کے خیال میں انھیں ڈیروں پر قبضہ جمائے لوگ، یا باالفاظ دیگر جعلی پیر ہی ہیں جو ان کے حق میں دعا کر سکتے ہیں اور ان کو راہ حق دکھا سکتے ہیں۔ یہ عقل کے اندھے وہ لوگ ہیں جن کو اپنی ماں نظر نہیں آتی جس کے قدموں تلے جنت ہے، آس پاس موجود وہ عزیز و اقارب ہیں جو ان کی امداد کے مستحق ہیں اگر نظر آتے ہیں تو وہ پیر صاحبان جن کو شاید پانچ وقت کی نماز تک کی توفیق نہیں ہوتی۔ ایسے تمام عقل کے اندھوں کیلئےعلامہ محمد اقبالؒ کی ایک نہایت مختصر نظم بعنوان”پنجابی مسلمان“ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ اگر کسی کو ناگوار گزرے تو وہ ”حکیم الامت“ کے مزار پر اپنا درد کہہ آئے مجھے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ اقبالؒ فرماتے ہیں

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت

کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا

ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندہ کوئی صیاد لگادے

یہ شاخ نشیمن سے اترتا بہت بہت جلد

مذہب ہو یا سیاست، “تازہ پسندی” اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اسی لئے یہاں سے “کنوینشن، فنکشنل، پیٹریاٹ، ق، ض، ن اور اس کے بعد ش” بنانے میں کبھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی بس شرط یہ ہے کہ تاویل کے پھندے میں چمکنے والی جو بھی شے ہو اس کی چمک چاند ستاروں کو شرمانے والی ہونی چاہیے۔ چمک اگر سورج کی طرح روشن ہو تو یہ شاخ نشیمن سے اتر میں لمحہ بھر بھی تاخیر نہیں کیا کرتا (جوش ملیح آبادی زندہ باد)۔

                میری تو دعا یہ ہی کہ یا اللہ عمر بھر بے مرشدا رکھاہے تو آگے بھی ایسا ہی رکھنا، اس وقت جس طرح کے پیر سامنے آ رہے ہیں، ان سے تو یہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں