فضائے بدر اور فرشتے

                کچھ نہیں معلوم کہ کب آسمان زمین پر ٹوٹ پڑے اور کب زمین کا مرتبہ “سدرة المنتہا” سے بھی بلند تر ہو جائے۔

                اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ عزت اور ذلت اس کے ہاتھ میں ہے۔

                جنت میں انسان اس وقت تک نہیں داخل ہو سکتا جب تک اس کا دروازہ نہیں کھولا جائے گا۔۔۔اور ۔۔۔۔ جنت کاراستہ، زینہ اور سیڑھی انسانوں کے دلوں کے ”دروازے“ کھولے بغیر نہیں مل سکتا۔

                جس نے بھی انسانوں کے دل کا در کھٹکھٹایا اور کھولنے والے نے آنے والے مہمان کے لئے بخوشی در واکردیئے، سجھ لو کہ اس نے جنت کے راستے پر اپنا سفر شروع کردیا۔

                بادشاہ ہو یا گدا، سب کو ایسا ہی کرنا ہے اگر اس کی تمنا جنت ہے۔

                چالیس سال حکمرانی کرنے والا شہنشاہ رضا شاہ پہلوی آسمان کی بلندیوں سے ایسا گرا کہ زمین اس پر تنگ ہو گئی۔

                اپنی جان بچانے کے لئے نامعلوم وہ کس کس ملک میں پناہیں ڈھونڈتا رہا۔

                کئی اسلامی ملک بدلے مگر ہر جگہ اسے اپنے لئے غیر محفوظ نظر آئی، امریکہ کی بد قسمتی تھی کہ اس نے شاہ سے نمک حلالی نبھانے کی غلطی کر لی۔ امریکہ کی یہ نمک حلالی امریکہ کو بہت ہی مہنگی پڑی۔

                ایرانی طلبہ نے امریکی سفارت خانے کے سفارت کاروں کو یرغمال بنالیا اور رضا شاہ پہلوی کو مانگ لیا۔

                یہ بات ہے ایک کم اسی (1979) کی ۔ پھر شہنشاہ کا کیابنا، یہ کہانی لمبی ہے، آپ یہ دیکھیں کہ فضائے بدر کی ہلکی سی جھلک نے فرشتوں کو قطار اندر قطارکیسے اتارا۔

                طاقت کا غرورسر چڑھ کر بولتا ہے اور وہ اپنے سے ہر کمزور کو مچھر اور مکھی تک سمجھنے سے انکار کر دیتا ہے۔

                کہاں امریکہ بہادرکہاں ایران اور وہ بھی اس وقت کا ایران جب امام خمینی کے انقلاب کے بعد بہت بحرانی کیفیت کا شکار تھا۔ عراق نے بھی اس کی سرحدوں پر حملہ کیا ہوا تھا اور شاہ کے وفاداربھی اس وقت کی حکومت سے بر سر پیکار تھے۔ ایران کے اندرونی حالات بہت ہی ناگفتہ بہہ تھے اور سرحدیں بہت ہی کشیدہ۔ تربیت یافتہ فوج بھی ابھی تشکیل نہیں دی گئی تھی۔ گویا سرحدوں پر بھی عوام ہی بر سر پیکار تھے۔ یہ مناظر بھی دیکھنے میں آئے کہ بعض مقامات پر ایرانی محافظوں کے پاس مخالفین پر برسانے کیلئے پتھر ہی رہ گئے تھے لیکن اگر جذبوں میں اخلاص ہو تو 313، آٹھ ٹوٹی تلواریں، 2گھوڑے اور 70 اونٹ بھی کایا پلٹ کر رکھ دینے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ ایسے میں ایران امریکہ جیسے ملک کو شاید مچھر اور مکھی سے بھی کوئی حقیر شے دکھائی دے رہا ہو گا۔

                طاقت کے اس گھمنڈ میں امریکہ بہادر نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے کمانڈوز اتارکر ، بزور طاقت اغوا کرنے والوں کا نہ صرف صفایا کرکے ان کو اس گستاخی کا مزا چکھادیں بلکہ اپنے سفارتی عملے کو واگزار کراکے ایک نہایت لاغر اور نحیف ملک میں اپنی چابک دستی کی دھاک بھی بٹھا دیں۔

                اس وقت خلیج فارس میں امریکہ کے دو بحری بیڑے موجود تھے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ اس کے آٹھ ہیلی کواپٹر کمانڈوز کا پورا دستہ لے کر جائیں گے اور اغوا کرنے والوں کا قلع قمع کرکے اپنے سفارتی عملے کو اٹھائیں گے اور فتح و شادمانی کے شادیانے گاتے بجاتے لوٹ آئیں گے۔

                اس واقعہ سے کچھ پہلے ایک اور بھی انوکھا اور ایک بہادر، ایمان سے سرشار قوم کاامتحان ہو چکا تھا جس میں ایران کی پوری قوم اقوام عالم کے سامنے سرخ رو ہو چکی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ جونہی ایرانی طلبہ نے ایران کے سفارت کاروں کو یرغمال بنایا اوراپنے شہنشاہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا، ایران کا ایک طیارہ ہائی جیک کر لیا گیا جس میں مسافروں کی اکثریت کا تعلق ایران سے تھا۔ اغوا کاروں نے ایران پر زور ڈالا کہ وہ سفارتی اہلکاروں کو اغوا کاروں سے رہائی دلوائے ورنہ وہ مسافروں کو ایک ایک کر کے ہلاک کرتے رہیں گے۔ دنیا اس وقت دنگ رہ گئی جب مسافروں کی جانب سے انقلابیوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر ہم سب کو ایک ایک کرکے ہلاک بھی کردیا جائے تو ایرانی حکومت امریکہ کے آگے اپنا سر کبھی خم نہ کرے۔ کیا ایسے عزم و حوصلہ والوں کو شکست دی جا سکتی ہے؟ کیا دنیا ایسے مصمم ارادے والوں کو فرا موش کر سکتی ہے؟۔ یہ بات یونہی جذباتی انداز میں نہیں کہی گئی۔ بزدل ہائی جیکرز نے ڈیڈ لائن کے بعد کئی افراد کو ایک ایک کرکے ہلاک بھی کیا لیکن جہاز کے مسافروں کا عزم و یقین متزلزل نہ ہوا اور دنیا بھر کے دباو کو امریکہ برداشت نہ کرسکا اور جہاز میں سوار باقی سارے ایرانیوں کو رہائی دینی پڑی۔

                کیا لوگ تاریخ کے اس حیران کردینے والے واقعے کو بھی کیسے فراموش کر سکتے ہیں اور اس بات کو بھول سکتے ہیں کہ ان کمانڈوزکے ساتھ کیا ہوا جو آٹھ ہیلی کاپٹروں پر سوار ہو کر اور یہ خیال کرکے آئے تھے کہ وہ ان کیڑے مکوڑوں پر آگ اور گولہ بارود کے شیلوںکا اسپرے کرکے ان کو فنا کی راہ دکھاکر اپنے ملک کے سفارت کاروں کو چھڑاکر شادیانے بجاتے ہوئے روانہ ہو جائیں گے

زمین و آسمان اس بات کے گواہ ہیں کہ آٹھ میں سے فقط پانچ ہیلی کاپٹر تہران میں لینڈ کرسکے ، تین آگ لگ کر راستے میں تباہ ہو گئے، پہنچنے والے پانچ بھی ریت کے طوفان میں پھنس کر اتنے بیکار ہوگئے کہ کاروائی کے قابل ہی نہیں رہ گئے، کمانڈر نے وہیں سے وائر لیس کے ذریعے صورت حال سے آگاہ کیا اور مدد طلب کی، ان کے لئے ایک ہوائی جہاز بھیجا گیا جس میں وہ اپنی جانیں بچا کر لے جانا چاہتے تھے لیکن دوران پرواز اس جہاز میں بھی آگ لگ گی اور وہ راستے میں تباہ ہوگیا

                عراق کوبمباری کرکے کھود ڈالا گیا، افغانستان کو پتھروں کے زمانے میں دکھیل دیا گیا، ایبٹ آبادمیں اسامہ بن لادن کے ٹھانے پر اتر کر اسے مارا بھی اور لے بھی گئے، لیبیا میں کیا ہو رہا ہے، مصر کن حالات سے گزر رہا ہے۔ اور۔پاکستان میں کیاکچھ ہورہاہے اور کیا کچھ ہونے جا رہاہے۔

                کیا آسمان ٹوٹ گیا؟ کیا یہ زمین پھٹ گئی؟۔

                اے عراق، لیبیا، مصر، یمن، ترکی، افغانستان اور پاکستان کے مسلمانوں۔۔۔ مان لو۔۔۔ تمہارا ایمان اہل ایران جیسا پختہ و کامل نہیں ہے بلکہ یہود سے بھی پستہ تر ہے، یہود جن پر اللہ نے لعنت بھیجی ہوئی ہے وہ دن رات تمہاری پٹائی کر رہے ہیں اور امریکہ آہن و فولاد بر سا رہا ہے، افغانستان میں چار چار سو حفاظ مادیئے جاتے ہیں، فلسظین میں اسرائیلیوں کی سیدھی گولی باری کی زد میں ساٹھ سے زیادہ شہادتیں ہوجاتی ہیں، اور تمہارا عالم یہ ہے اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر یمن میں گولہ باری کر رہے ہو، امریکہ کے چرنوں میں بیٹھے ہوئے ہو، اپنے قاتل کو اپنا دوست سمجھ رہے ہو۔ تمہارے اپنے ملک میں گولیاں مار کرنو جوانوں کو شہید کرنے والے ریمنڈیوس کو شکریے کے ساتھ امریکہ بھجوادیتے ہو، کرنل جوزف تمہارے شہریوں کو کچل دینے کے باوجود مونچھوں کو تاو دیتا ہوا ملک سے روانہ ہوجاتا ہے اور تمہاری بیٹی عافیہ امریکہ میں عمر قید گزار رہی ہوتی ہے۔ نہ قاتلوں کو چھوڑتے تم کو کوئی شرم آتی ہے اور نہ ہی اپنی بیٹیاں حوالے کرتے تمہاری غیرت جاگتی ہے۔ فرشتے آج بھی دنیائے آسمان میں قطار اندر قطار کھڑے ہیں لیکن جب تک تم فضائے بدر نہیں پیدا کرو گے وہ کسی صورت آسمان سے تمہاری مدد کو نہیں اتریں گے۔

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں